ضلع خیبر میں تین سال میں 18ارب سے زائد کے ترقیاتی منصوبےمکمل

ضلعی انتظامیہ خیبر کی زیرنگرانی تحصیل لنڈی کوتل میں ایکسلیریٹڈ ایمپلیمنٹیشن پروگرام فیز ٹو کے بارے میں عوامی مشاروتی سیشن جرگہ ہال لنڈیکوتل میں منعقد ہُوا۔
بریفننگ میں بتایا گیا کہ ضلع خیبر میں تین سالوں میں 18ارب17کروڑ 60 لاکھ روپے خرچ کیئے ہیں اس میں اب تک 57 سکولوں کی سولرائزیشن کی گئی ہے،صحت کے شعبے میں ضلع خیبر میں 34889 لوگ صحت انصاف کارڈ سے مستفید ہوئے جس میں 39 کروڑ کی ادویات مہیا کی ہے اور کئی بنیادی صحت سہولت مراکزقائم کئے گئےہیں۔

 ضلع خیبر میں کل 105540 طلباء میں مفت کتابیں اور سکول بیگ تقسیم کئے گئے اور تمام تحصیلوں میں سکولوں کو فرنیچر مہیا کی گئی ہے جس میں 200 سکولوں کی چار دیواری کی تعمیر سمیت 282 اضافی کمرے تعمیر کی گئی ہیں۔ بریفننگ کے اختتام پر مشران، کاروباری حضرات اور نوجوانوں نے علاقائی مسائل بیان کرتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پر درکار بنیادی ضروریات اور ترقیاتی منصوبوں سے حکومتی نُمائندوں کو آگاہ کیا۔ جس میں صحت، مواصلات ، تعلیم ، زراعت اور خاص کر افغانستان سرحد سے منسلک بارڈر کراسنگ کو تجارتی سرگرمیوں کے لئے اسان بنانے پر خصوصی توجہ مرکوز کر نے پر زور دیا گیا۔


آخر میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت و تجارت و فوکل پرسن برائے سرمایہ کاری عبدالکریم خان نے مشاورتی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت ضم اضلاع میں کام کو جاری رکھتے ہوئےضلع خیبر میں لنڈی کوتل کی تاریخی حثیت کو بحال کریگی اور درہ خیبر کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرکے علاقے میں سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے ،خیبر میں سمال انڈسٹریل اسٹیٹ بنارہی ہیں اور ساتھ افغانستان کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے بارڈر کراسنگ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے معاون خصوصی نے اس موقع پر جرگہ پر زور دیا کہ وہ صوبائی حکومت کی بلاسود قرضوں سے فائدہ اٹھاکر ضلع میں چھوٹے پیمانے پر کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے۔

 آخر میں معاون خصوصی نے مشران کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اُنکے تمام اہم مسائل کو نوٹ کیا گیا ہے اور اس کا مفصل رپورٹ متعلقہ حکام کو پیش کیا جائیگا اور ترقی یافتہ اور خوشحال خیبر کے حوالے سے اپ کی تمام تجاویز پر بات کرکے عملدرامد کو یقینی بنائینگے تاکہ اے آئی پی فیز ۲ کو عوام کی ضروریات کے مطابق ترتیب دیا جاسکیں۔ اخر میں ڈپٹی کمشنر خیبر منصور ارشد نے تجاویز مسائل سننے پر ضلعی انتظامیہ اور خیبر کے عوام کی جانب سے شکریہ ادا کیا۔

قبائلی اضلاع کی طالبات نے پشاور میوزیم کا دورہ کیا

پشاور:یونیسکو اسلام آباد اور ڈائریکٹوریٹ آف آرکیالوجی اینڈ میوزیمز حکومت خیبر پختونخوا کے تعاون سے ضلع مہمند کے مختلف سرکاری سکولز کی طالبات کے لیے ایک تقریب “ثقافتی ورثہ، میرے دل میں آباد ہے” کا انعقاد گزشتہ روز کیاگیا جس صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ قبائلی اضلاع کی طالبات پشاور میوزیم کا دورہ کیا۔ تقریب میں ڈائریکٹر آرکیالوجی ڈاکٹر عبد الصمد ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرضلع مہمنداور یونیسکو اسلام آباد کی سعدیہ بنگش نے شرکت کی یہ تقریب یونیسکو کے علاقائی اقدام، “ہمدردی کے لیے سیکھنے” کا حصہ تھی، جس کی مالی اعانت وزارت خارجہ امور جاپان نے کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر آرکیالوجی اینڈ میوزیمز خیبر پختونخوا ڈاکٹر عبدالصمد نے کہا کہ “ہمدردی کے لیے سیکھنا” یونیسکو کا ایک اہم پراجیکٹ ہے، جو دینی مدارس اور سرکاری اسکولوں کی اہمیت کواجاگر کرنے کے حوالے سے بہت زیادہ اثر ڈال رہا ہے، خاص طور پر پاکستان میں لڑکیوں کے اسکول معاشرے میں امن اور رواداری کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے، یونیسکو اسلام آباد کےمطابق اس پراجیکٹ کا مقصد مدرسہ اور اسکول کے پریکٹیشنرز کی صلاحیت کو مضبوط کرنا ہے تاکہ انہیں صحت مند زندگی گزارنے، پائیداری کو فروغ دینے اور ایک ذمہ دار عالمی شہری بننے کے لیے مطلوبہ علم، مہارت، اقدار اور رویوں سے آراستہ کیا جا سکے۔ یونیسکو ملک کے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کو مواقع کی فراہمی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے،اس موقع پرطالبات نے محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے بنائی گئی ویڈ یو ڈاکومینٹریز میںخصوصی دلچسپی کا اظہار کیا ۔

اس دورے کا اہم مقاصد میں طالبات میں نمائش کے ذریعے سیکھنے میں اضافہ کرنا اور دوسرے مذہب کے احترام کو فروغ دینا تھا۔بعدازاں طالبات اور مہمانان خصوصی کو پشاور میوزیم میں موجود نوادرات جس میں گندھارا، مجسمے، قبل از اسلام کے سکے، ہاتھ سے لکھے ہوئے قرآنی اوراق، تاریخی ہتھیار، کپڑے، زیورات، پتلیاں، مغلیہ دور اور بعد میں پینٹنگز، گھریلو اشیاءشامل کے بارے میں آگاہی دی گئی ۔موقع عملے نے طالبات کے سوالوں کے جوابات دئےے ۔ طالبات اور اساتذہ کا کہنا تھا کہ کہ وہ پہلی بار اس تاریخی میوزیم کا دورہ کر رہے ہیں اور اس موقع پر کافی خوش ہیں یونیسکو کی سعدیہ بنگش نے ڈائریکٹر آرکیالوجی اینڈ میوزیم کا محکمہ کی طرف سے فراہم کردہ تعاون کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم مل کر ثقافتی اقدار کو فروغ دے سکتے ہیں اور نوجوان طلباءبالخصوص لڑکیوں کی ثقافت کو سمجھنے اور تعلیم کے حق کے احترام کے لیے طلباءاور اساتذہ میں ورثے کی نمائش کے پہلو سے صلاحیتوں کو بڑھا سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ تمام محکموں کی مضبوط مربوط کوششوں سے ممکن ہو گا۔پشاور میوزیم کے دورے کے موقع پر طالبات کا کہنا تھا کہ یہ دورہ ان ایک حسین یادگار ہے اور انکی خواہش ہے کہ وہ مستقبل میں اپنی فیملز کے ہمراہ یہاں کا دوربارہ دور کرسکے ایک طلباءکا کہنا تھا اپنے ذہن کو تاریخ اور ثقافت سے مالا مال کرنا میرے لیے سیکھنے کا ایک بہترین تجربہ تھا۔ ہر ثقافت کی اپنی الگ پہچان ہوتی ہے، اور ثقافت کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے، اس دورے نے مجھے نمائش کے ذریعے مطلوبہ علم سے مالا مال کیا۔ ایک اور طالبہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ایسے مواقع ہونے چاہئیں جہاں سرکاری اسکولوں اور دینی مدارس کے طلباء اپنے تجربات کو بانٹنے کے لیے ملیں، اس سے یقیناً بین المذاہب اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے میں مدد ملے گی میوزیم کی گیلری کی طرف بڑھتے ہوئے ان طالبات کے چہروں پر خوشیاں عیاں تھا۔

اورکزئی : اے آئی پی فیز ٹو قبائل کی ترقی کے لئے عوامی مشاورت

:اورکزئی
لوئر اورکزئی لیڑہ ہیڈ کوارٹر میں اے آئی پی فیز ٹو اور قبائل کی ترقی کے لئے عوامی مشاورتی تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔

اے آئی پی مشاورتی پروگرام کے موقع پر ڈپٹی کمشنر محمد آصف رحیم نے اورکزئی میں اے آئی پی فیز ون اور فیز ٹو پر تفصیل سے بریفنگ دی اور قبائلی مشران و جوانوں نے فیز ٹو کے حوالے سے اپنی رائے دی اور قبائل کو درپیش مسائل بیان کئے۔ اے آئی پی فیز ٹو مشاورتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر انور زیب خان نے کہا کہ
مرجر کے بعد علاقہ ترقی کررہا ہے سی ایم کی خصوصی ہدایات پر صوبائی وزراء قبائلی اضلاع کا دورہ کررہے ہیں قبائل سے صلاح و مشورے کرکے قبائل کیلئے ترقی کا ایک نیا باب کھول رہے ہیں یہ مرجر کے ثمرات ہیں۔ مرجر کے بعد کچھ حالات ٹھیک نہیں تھے اب حالات بہتر ہیں سیکیورٹی فورسز اور قبائل نے امن کیلئے قربانیاں دی ہیں ہم امن کو کبھی خراب نہیں کرنے دیں گے۔ ہم آپ لوگوں سے فیز ٹو اے آئی پی پروگرام کیلئے تجاویز لیں گے ۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا مشترکہ عزم ہے کہ 72 سالہ قبائل کی پسماندگی کو ختم کریں اورکزئی میں کالجز بنائیں گے۔

ایف سی آر کے دور میں اجتماعی کام نہیں ہوئے پسماندگی کا یہی بڑی وجہ ہے قبائلیوں کا تقدیر ہم تعلیم پر بدل دیں گے صحت انصاف کارڈ صوبائی حکومت کا کارنامہ ہے غریب عوام کو بہترین صحت سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں قبائل کو شناختی کارڈ پر صحت کارڈ کے ذریعے علاج کررہے ہیں اس کے ساتھ تعلیم اور راشن کارڈ دیں گے قبائل کو کسان کارڈ اور احساس کفالت پروگرام شروع کیا ہے احساس سکالر شپ پروگرام کے ذریعے طلباء کو پیسے دے رہے ہیں پناہ گاہ بنائی ہیں پہلی بار ایک پاکستانی لیڈر نے ریاست مدینہ کے بات کی عملی اقدامات کئے اے ڈی آر وہ جرگہ سسٹم ہے جس کے ذریعے جرگہ کو قانونی سسٹم دیا گیا ہمیں اپنے مسائل اے ڈی آر کے ذریعے حل کرنا ہے ہماری روایات کو برقرار رکھنا ہے۔ کابینہ سے منظوری کے بعد ڈی سی کو اختیارات دیں گے تاکہ مسائل موقع پر حل ہونگے ڈی سی پولیس ڈیپارٹمنٹ سے پوچھ سکتا ہے کہ عوامی مسائل حل کریں ۔قبائل کے مسائل ہم ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے دو ڈگری کالج پر جلد کام شروع کریں گے میڈیکل کالج بنایا جائیگا زنانہ کالج بنایا جائیگا کامیاب جوان پروگرام کے تحت تعلیمی جوانوں کو ماہانہ وظیفہ دیا جائیگا قبائل کے پراجیکٹ ملازمین کو مستقل کیا ہے 3450 افراد مستقل ہوئے قبائل کے 650 ملازمین مزید مستقل ہونگے اورکزئی میں زکوۃ کے مد میں تقسیم یتیموں بیوواں اور غریبوں میں تقسیم کررہے ہیں 2019۔20 1کروڑ سے زائد 2020۔21 میں 6کروڑ سے زائد فنڈ تقسیم ہوا 2 کروڑ 48 لاکھ روپے مزید اس سال آئے ہیں سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ اور ذکوات ڈپارٹمنٹ غریب عوام کیلئے

تقریب میں صوبائی وزیر زکواۃ و عشر انور زیب خان ڈی سی محمد آصف رحیم ڈی پی او نثار احمد خان سابقہ وفاقی وزیر جی جی جمال سمیت قبائلی مشران اور نوجوانوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

خیبرپختونخوا میں تین سال قبل ضم ہونے والے سات اضلاع میں جہاں امن و امان کی بحالی اور ترقی پر بھرپور توجہ دی جا رہی ہے وہاں نئی نسل کی تعلیم، روزگار اور سماجی، ثقافتی سرگرمیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔  خلاف توقع ان سرگرمیوں کے دوران ان علاقوں کے نوجوانوں اور بچوں کی جو صلاحیتیں کھیل کے میدانوں میں سامنے آرہی ہیں وہ نہ صرف حیران کن ہیں بلکہ انتہائی خوش آئند بھی ہیں کیونکہ اس خطے اور یہاں کے عوام کا مستقبل انہی کے ہاتھوں میں ہے۔

حال ہی میں 23 فروری سے 27 فروری کے درمیان ان قبائلی اضلاع کے مختلف علاقوں میں حکومتی انتظامات کے زیراہتمام فٹ بال،  ہاکی،  ولی بال، کبڈی اور ایتھلیٹکس کے مقابلے کرائے گئے جس میں تقریباً 1500 کھلاڑیوں نے حصہ لیا جبکہ ایک اندازے کے مطابق ان مقابلوں سے ایک لاکھ سے زائد شائقین محظوظ ہوئے۔  ان مقابلوں کے دوران جہاں ان کھلاڑیوں، ٹیموں کو نئے سٹیڈیمز میں کھیلنے کے مواقع فراہم کیے گئے وہاں ان کو انعامات اور اعزازات سے بھی نوازا گیا جبکہ ممبران اسمبلی اور بیوروکریٹس نے ان مقابلوں میں شریک ہوکر نئی نسل کے ان باصلاحیت نوجوانوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔

 خوشگوار حیرت کی بات یہ ہیں کہ ان مقابلوں میں مجموعی طور پر جو دو اضلاع بہترین نتائج دینے میں سرفہرست رہے وہ وزیرستان کے وہ دو اضلاع ہیں جو کہ ماضی میں انتہا پسندی، شورش اور دہشت گردی کے لیے مشہور یا بد نام رہے ہیں جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مٹی بڑی زرخیز تھی اور ہے مگر اس کے لئے شرط امن تھا اور اگر یہ امن قائم رہا تو یہ علاقہ دنیا کو حیران کر دیں گے۔

فراہم کردہ معلومات کے مطابق ان مقابلوں کے دوران فٹ بال، ہاکی اور کبڈی کے مقابلے وزیرستان کے ٹیموں نے جیتے ایتھلیٹکس کے مقابلے ضلع خیبر نے جبکہ ولی بال کی جیت ضلع باجوڑ کے حصہ میں آئی۔  کھیلوں کے اختتام پر ٹیموں کے لیے منعقد ہونے والی شاندار تقریب میں ان ٹیموں کو اعزازات، ٹرافیوں اور انعامات سے نوازا گیا جبکہ شمالی وزیرستان کو بیسٹ سپرٹ ایوارڈ دیا گیا۔

 اس چمپئن شپ میں ایف آرز سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی بھی شریک تھے۔ اس کے علاوہ نتیا گلی میں یوتھ فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا جس میں درجنوں افراد شریک ہوئے۔ اس موقع پر معاون خصوصی بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ قبائلی اضلاع کی تعمیر نو اور ترقی پر اربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں جن میں 30 ارب سے زائد نوجوانوں کے لیے مختص ہیں تاکہ ان کو تعلیم، صحت، روزگار، کھیلوں اور دیگر مثبت سرگرمیوں کے مواقع فراہم کیے جائیں اور وہ قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔