sharam

ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن :سکولوں کی تعداد 1900 تک پہنچ گئی

ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی ایک سالہ کارکردگی تقریب پشاور کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا جس کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر تعلیم شہرام خان ترکئی تھے۔ تقریب میں سیکرٹری ایجوکیشن معتصم باللہ شاہ، مینجنگ ڈائریکٹر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن ظریف المعانی ، ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر جاوید خان تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ پروگرام آفیسر اور والدین وطلباء طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم شہرام خان ترکئی نے کہا کہ سکولوں سے باہر طلباء کو سکولوں میں لانے اور وہ علاقے جہاں پر سرکاری سکولوں کی سہولیات میسر نہیں تھے یہ فاؤنڈیشن قائم کیا گیا تھا۔
انہوں نے موجودہ منیجنگ ڈائریکٹر ظریف المعانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے آنے سے فاؤنڈیشن کی کارکردگی میں بہت بہتری آئی ہے۔ فاؤنڈیشن کے تمام سکولوں میں طلباء و اساتذہ کے ریکارڈ اور درس و تدریس کے نظام کو مکمل ڈیجیٹائز کیا گیا ہے۔ 2سالوں سے تنخواہوں سے محروم اساتذہ کو 837 ملین روپے ادا کیے گئے۔ 68 پارٹنر سکولوں کو 26ملین سے زائد روپے کی ادائیکی کی گئی۔ جبکہ اساتذہ کی تنخواہیں 15 ہزار سے بڑھا کر 21ہزار روپے کردی گئی ہے۔

طلباء و طالبات کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا اور ایک لاکھ 51 ہزار 9سو 46 طلباء و طالبات فاؤنڈیشن کے سکولوں میں زیر تعلیم ہیں۔ جن کو 3 ہزار ایک سو 45 خواتین اساتذہ تعلیم دے رہی ہیں۔ جبکہ امسال مزید ایک ہزار سکول شامل کرکے اسکولوں کی تعداد 1900 تک پہنچ جائے گی۔

وزیر تعلیم شہرام خان ترکئی نے مزید کہا کہ فاؤنڈیشن کی بہترین کارکردگی کو مد منظر رکھ کر فاؤنڈیشن کے ذہین طلباء و طالبات کو صوبائی حکومت کی طرف سے جاری سکالر شپس پروگرامز میں بھی شامل کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فاؤنڈیشن کے طلباء و طالبات مختلف بہترین تعلیمی اداروں میں اعلی تعلیم کے لئے میرٹ پر داخلے لیتے ہیں جبکہ اگلے سال سے فاؤنڈیشن کے سکولوں کو مڈل اور ہائی لیول تک اپ گریڈ کر رہے ہیں۔ جہاں پر چھٹی جماعت سے اوپر کی تعلیم دی جائے گی۔

وزیر تعلیم نے کہا کہ فاؤنڈیشن کے پورے نظام کی ڈیجیٹائزیشن کی وجہ سے اب پوری ڈیٹا آن لائن دستیاب ہے۔ بہترین کارکردگی کی بدولت 22 سو ملین سے زیادہ بجٹ ریلیز کیا جا چکا ہے جب کہ امسال بھی ایک ارب روپے کا بجٹ مختص ہے

وزیر تعلیم شہرام خان ترکئی نے کہا کہ امسال نئے شروع کردہ پروگرام نئے سکول (NSI) کے تحت صوبے کے ہر اس علاقے میں سکول بنائے جائیں گے شراکت داری بنیادوں پر جہاں پر سرکاری سکول موجود نہیں۔ جہاں تعلیم کو فروغ دے کر ان علاقوں میں خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہوگا۔

شہرام خان ترکئی نے وزیراعظم عمران خان کے ویژن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم اور صحت روز اول سے ترجیح رہی ہے اور ہمارے انقلابی اقدامات باقی صوبوں کے لیے مثال ہے۔انہوں نے محکمہ تعلیم کی جاری پروگراموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 6ارب روپے کی لاگت سے تقریبا 24 لاکھ سے زائد طلباء و طالبات کو فرنیچرز دیا جا رہا ہے۔

25ہزار سے زائد اساتذہ کی میرٹ پر بھرتی کا عمل جاری ہے اور ضرورت کے مطابق پیرنٹس ٹیچرز کونسل کے زریعے اساتذہ کی بھرتی کا عمل بھی جاری ہے۔ جبکہ 12 سو سے زائد سکولوں میں سیکنڈ شفٹ سکول پروگرام بھی شروع کر رکھا ہے جس میں 25 ہزار سے زائد طلباء وطالبات کو تعلیم دیا جا رہا ہے یہ صرف وہ طلباء ہے جنہوں نے مجبوری یا پھر سکول دور ہونے کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑی تھی۔

وزیر تعلیم شہرام خان ترکئی نے مزید کہا کہ آئی ٹی تعلیم پر بھی خصوصی توجہ دی جارہی ہے ارلی ایج پروگرام اور ٹیبلیٹ ان اے سکول پروگرام کے ذریعے تمام سکولوں کے درس وتدریس کا نظام مکمل ڈیجیٹائز ہو جائے گا۔

gimz

پشاور: ڈی جی سپورٹس خیبر پختونخوا اوپن ٹینس چیمپئن شپ کا آغاز

ڈی جی سپورٹس خیبر پختونخوا اوپن ٹینس چیمپئن شپ گزشتہ روز پشاور سپورٹس کمپلیکس کے ٹینس کورٹس پر شروع ہو گئی۔ اکاؤنٹنٹ جنرل خیبرپختونخوا مرتضیٰ خان نے باقاعدہ طور پر شاٹ لگا کر مقابلوں کاافتتاح کیا۔ چیمپئن شپ میں مختلف ڈیپارٹمنٹس سمیت صوبہ بھر سے 170 سے زائد کھلاڑی شرکت کررہے ہیں۔ جس کے لئے انعامی رقم ایک لاکھ پچاس ہزار روپے رکھی گئی ہے۔

مہمان خصوصی اکاؤنٹنٹ جنرل خیبرپختونخوا مرتضیٰ خان نے میڈیا سے بات چیت کے دوران صوبائی ٹینس ایسوسی ایشن کے پی سپورٹس ڈائریکٹوریٹ کی کاوشوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں سے ٹینس کا یہ میلہ سجایا گیا ہے جس میں ٹاپ رینکنگ پلیئرز شامل ہیں۔ کھلاڑیوں کو اسی طرح مواقع ملتے رہیں تو وہ نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر ملک و قوم کانام روشن کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کو بہترین کوچنگ اور بہترین سہولتوں کیساتھ بہترین ڈائٹ اور خاص طور پر حوصلہ افزائی ملنی چاہیئے سپانسرز کو اس کھیل کے فروغ و ترقی کے لئے بھی آگے آنا چاہئے ۔

چیمپئن شپ کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خیبر پختونخوا ٹینس ایسوسی ایشن کے سیکرٹری عمر آیازخلیل نے کہا کہ چیمپئن شپ میں مینز سنگل، مینز ڈبل، بوائز انڈر 10 سنگل، بوائز انڈر 13 اور بوائز انڈر 18 کیٹگری میں کھلاڑیوں صلاحیتوں کا اظہار کررہے ہیں۔ جس میں خیبر پختونخوا سمیت پاکستان ائیرفورس، پاک واپڈا، ایس این جی پی ایل اور پولیس کے کھلاڑی شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چیمپئن شپ میں حال ہی میں ڈیوس کپ کھیلنے والے کھلاڑی شعیب خان اور خیبر پختونخوا کے بین الا قوامی کھلاڑی برکت اللہ، یوسف علی، اعجاز احمد، ثاقب عمر، عاقب عمر، کاشان عمر، حمزہ رومان، حامد اسرار اور عزیر خان شرکت کررہے ہیں۔ ٹاپ رینکنگ پلیئرز کی موجودگی سے جونیئر کھلاڑیوں کو بھی بہترین کھیل کا موقع ملا ہے اور وہ اس سے اپنے کھیل میں مزید بہتری لا سکتے ہیں جبکہ امید ہے کہ ہمارے صوبے کے ٹاپ رینکنگ ٹینس کھلاڑی مزید ترقی کریں گے اور ملک و قوم کے لئے مزید انٹرنیشنل اعزازات حاصل کریں گے۔

TDPPP

افغانستان سے واپس آنے والے شمالی وزیرستان کے ٹی ڈی پیز کے لئے فنڈز فراہم

شمالی وزیرستان کے افغانستان سے حال ہی میں واپس انے والے متاثرین ضرب عضب کیلئے پی ڈی ایم اے خیبر پختونخواہ نے ساڑھے گیارہ کروڑ روپے کے فنڈز ریلیز کردئے جو کہ 28سو کے قریب نادرا سے تصدیق شدہ خاندانوں میں سم کارڈ کے ذریعے سے تقسیم کئے جا ئینگے۔ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے شریف حسین کے دفتر سے جاری ایک اعلامئے کے مطابق افغانستان سے اب تک پانچ ہزار کے قریب شمالی وزیرستان کے بے گھر افراد کی واپسی ہو ئی ہے جن میں تین ہزار کے لگ بھگ خاندانوں کی نادرا سے تصدیق ہو چکی ہے جن کو فی خاندان کے حساب سے 12ہزار ماہوار مالی امداد جبکہ 8ہزار فی خاندان کے حساب سے راشن کی مد میں جاری کئے جا رہے ہیں۔ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ افغانستان سے جو خاندان واپس ائے ہیں ان میں سے بقیہ خاندانوں کی بھی جلد تصدیق کا عمل مکمل ہو تے ہی ان کو بھی ماہوار امدادی رقوم ریلیز کی جا ئیگی۔ اعلامئے میں مزید کہا گیا ہے کہ اس سے ایک ہفتہ قبل بھی شمالی وزیرستان اور ضلع خیبر کے متائثرین کو اسی مد میں 32کروڑ کے قریب رقوم ریلیز کئے جا چکے ہیں جن کی ترسیل متعلقہ خاندانوں کو کی جا رہی ہے۔ شریف حسین نے بتایا کہ ان رقوم کی ریلیز کا مقصد بے گھر خاندانوں کی مالی مدد اور ان کے معاشی مشکلات کو کم کر نا ہے۔

COVID

Pakistan reports lowest coronavirus deaths

LAHORE : Pakistan has reported 2 deaths in the last 24 hours by novel coronavirus as the number of positive cases has surged to 1,519,154. The nationwide tally of fatalities has jumped to 30,309 on Monday.

According to the latest figures by the National Command and Operation Center (NCOC) 462 persons tested positive for COVID-19 in the past 24 hours.

Punjab remains the worst-hit province in terms of deaths followed by Sindh and Khyber Pakhtunkhwa.

Till now 13,538 individuals have lost their lives to the epidemic in Punjab, 8,091 in Sindh, 6,301 in KP, 1,021 in Islamabad, 790 in Azad Kashmir, 377 in Balochistan and 191 in GB.

cycleee

ایشین روڈ سائیکلنگ چمپئن شپ کے لیے قومی ٹیم کا اعلان

پشاور: پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن نے 41 ایشین روڈ سائیکلنگ چمپئن شپ جو کہ 25 سے 29 مارچ تک دوشنبے تاجکستان میں منعقد ہو رہی ہے قومی ٹیم کے 6 کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کر دیا۔ ٹیم کا چناؤ حالیہ نیشنل روڈ چمپئین شپ گوادر کے دوران کیا گیا تھا اور کھلاڑیوں کی بہترین کارکردگی کی بنیاد پرسلیکشن کی گئی تھی۔

سلیکشن کمیٹی نے 12 کھلاڑیوں میں سے 6 کھلاڑیوں کا انتخاب کیا۔

اس میں ایلیٹ ،انڈر 23 اور جونیئر کھلاڑی شامل ہیں۔ پاکستان کی ٹیم ان تین ایونٹ میں شرکت کرے گی جسمیں انفرادی ٹائم ٹرائل اور روڈ ریسز شامل ہیں۔ ٹیم میں علی الیاس، محسن خان، شاہ ولی، افنان عزیز, علی آغا اور یوسف شامل ہیں۔

ٹیم کا کمیپ کراچی میں جاری ہے ٹیم کے ساتھ منیجر کم کوچ نثار احمد اور ساجد ٹیم کے مکینک کے طور پر جائیںگے۔ ایشن سائیکلنگ کنفیڈریشن کا اجلاس جوکہ اس چمپئن شپ کے دوران ہو گا اس میں پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن کی جانب سے سید اظہر علی شاہ صدر اور معظم خان جنرل سکریٹری پاکستان کی نمائندگی کریںگے۔ قومی ٹیم 22 مارچ کو دوشنبے تاجکستان کے لئے روانہ ہو گی۔

pashtun qaumi jirga bannu

افغان نرگسیت، پشتون قوم پرست اور زمینی حقائق

بعض پشتون قوم پرست تاحال افغانستان میں ڈاکٹر اشرف غنی کی حکومت کے غیر متوقع خاتمے کے صدمے سے نہیں نکل پا رہے اور اس وقت وہ پاکستان کو نئے منظر نامے یا نئی حکومت کے قیام کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں حالانکہ اشرف غنی کے بھائی سمیت بہت سے سابق وزراء نہ صرف ان کی حکومت کے خاتمے کو اُن کی نااہلی قرار دے رہے ہیں بلکہ درجنوں یا تو نئی حکومت کی کھل کر حمایت کرنے لگے ہیں یا اس کے ساتھ رابطوں میں ہیں۔
Pashtun qaumi jirga bannuبنوں میں ایک اجتماع سے اپنے خطاب میں افراسیاب خٹک نے کہا کہ پاکستان نے معید یوسف )مشیر برائے قومی سلامتی(کو افغانستان اور اس کی حکومت کے لیے وائسراے مقرر کر دیا ہے اور یہ کہ پاکستان نے پہلے مجاہدین اور پھر طالبان کے ذریعے افغانستان پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ جناب خٹک کو یہ معلوم ہی ہوگا کہ ہر ملک نے افغانستان کے لیے اپنے خصوصی نمائندے مقرر کیے ہیں اور پاکستان کے نمائندہ خصوصی معید یوسف نہیں بلکہ محمد صادق خان ہیں۔ معید یوسف صرف ایک بار افغانستان گئے ہیں اور ان کے دورے کا مقصد بعض دو طرفہ معاملات پر اپنے مینڈیٹ کے مطابق افغان حکام سے تبادلہ خیال کرنا تھا۔
جناب خٹک سے یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ آپ کئی برسوں تک ببرک کامل اور ڈاکٹر نجیب اللہ کے ادوار حکومت میں جب سرکاری وسائل پر اکبر خان کے فرضی نام سے کابل میں ساتھیوں سمیت قیام پذیر تھے تو آپ کس ملک کے وائسرائے یا نمائندہ تھے؟ ان سمیت بعض دیگر سے یہ بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ اشرف غنی کا بھائی اب پاکستان کیوں منتقل ہوگئے ہیں اور اس سے قبل ان کے والد پشاور کے یونیورسٹی روڈ پر جب ٹرانسپورٹ اور ٹائرز کا کاروبار کر رہے تھے اور کروڑوں کما رہے تھے تو وہ بھی پاکستان کے ایجنٹ تھے؟
اور تو اور موصوف دیگر اس سوال کا بھی جواب دیں کہ جب ڈاکٹر نجیب اللہ اور ان کے بھائی کو مارا گیا تو ان کی والدہ اور بہن پشاور میں تھی یا افغانستان کے کسی شہر میں ؟
وہ اس الزام کا بھی جواب دیں کہ ڈاکٹر نجیب اللہ کی وہ ڈائری کس کے پاس ہے جس میں انہوں نے دوران پناہ پاکستان کے قوم پرستوں کے بارے میں اپنے تاثرات اور یادداشت لکھی تھیں۔
وہ خان عبدالولی خان کی ایک کتاب میں اپنے بارے میں کہے گئے اس الزام پر بھی کبھی بات کریں جس میں انہوں نے کہا ہے کہ موصوف بیک وقت تین چار ممالک کے لیے مبینہ جاسوسی کا کام کیا کرتا تھا۔
جس جرگے میں موصوف سمیت متعدد دوسروں نے افغانستان کی حالیہ تبدیلی کا سوگ منایا اس میں اے این پی، قومی وطن پارٹی اور بعض دوسری پختونخواہ بیسڈ پاپولر پارٹیوں کی اعلےٰ قیادت شریک نہیں ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ قوم پرست دوسروں پر الزامات لگانے سے قبل خود متحد کیوں نہیں ہوتے اور ڈیڑھ انچ کی مساجد انہوں نے کیوں بنائی ہے؟
ایک سوال تو یہ بھی اٹھتا ہے کہ اس جرگے میں اشرف غنی یا حامد کرزئی وغیرہ کا کوئی نمائندہ یا وفد کیوں شریک نہیں ہوا؟
جہاں تک محمود خان اچکزی کا تعلق ہے ان کی پارٹی پاکستان کی حکومتوں کا ماضی میں نہ صرف حصہ رہی ہیں بلکہ نواز دور حکومت میں موصوف نے کسی سینئر پارٹی لیڈر کی بجائے اپنے بھائی کو بلوچستان کا گورنر بنایا جس پر پارٹی میں اختلافات بھی پیدا ہوئے۔
Aimal Wali Khan ANPدوسری طرف اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں جہاں اس قسم کے جرگوں پر تحفظات کا اظہار کیا وہاں موصوف نے افغان طالبان اور ان کی قیادت کو افغانیت اور پشتونولی ہی سے باہر کر دیا اور کہا کہ وہ ان لوگوں کو نہ تو انسان سمجھتے ہیں نہ افغان اور نا پشتون۔ سوال یہ کیا جا سکتا ہے کہ ان کو یہ مینڈیٹ اور اختیار کس نے دیا ہے کہ وہ دوسروں کی نسل قومیت یا شہریت کا فیصلہ کریں؟
موصوف نے نیا انکشاف یہ بھی کیا ہے کہ اسامہ بن لادن زندہ ہے اور ایبٹ آباد آپریشن ایک ڈرامہ تھا۔ انہوں نے عجب بات یہ بھی کی ہے کہ جس شخص کو مارا گیا تھا وہ ایک کردار یا اداکار تھا۔
عجیب بات یہ ہے کہ اسی ایمل ولی نے چارسدہ میں مزدور کسان پارٹی کے ایک جرگہ میں شرط لگا کر کہا تھا کہ اشرف غنی جان دے دے گا مگر افغانستان نہیں چھوڑے گا۔
موصوف نے چند روز قبل مولانا فضل الرحمن کے بارے میں ایک ایسے وقت میں انتہائی سخت اور نامناسب بیان داغ ڈالا تھا جبکہ اپوزیشن عدم اعتماد کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے۔
یاد رہے کہ اے این پی 2018کے الیکشن کے بعد بلوچستان میں اس حکومت کی کابینہ میں شامل ہے جس کو موصوف اسٹیبلشمنٹ کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کو اتنی ہمت نہیں ہورہی کہ موجودہ صورتحال میں اپنی ڈیڑھ عدد وزارت ہی کی قربانی دے دیں۔
تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان کے قوم پرست پاکستان پر افغانستان میں مداخلت کے ایک نفسیاتی مسئلے اور عادت سے دو چار ہیں حالانکہ سابق افغان حکمران اور سیاستدان متعدد بار آن دی ریکارڈ کہہ چکے ہیں کہ یہ ان سے مالی فوائد حاصل کیا کرتے تھے۔
اسی ایونٹ میں رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے بھی وہی لائن اپنائی جو کہ افراسیاب خٹک نے اپنائی تھی حالانکہ موصوف قومی اسمبلی کے ممبر ہیں اور پارلیمانی سیاست کے اختلافی مسئلے پر پی ٹی ایم میں تنظیم سے الگ ہو کر الگ پارٹی بنا چکے ہیں۔

انہی باتوں کے باعث قوم پرست ماضی میں نہ صرف اپنے کارکنوں کو ریاست کے خلاف اُکساتے رہے ہیں بلکہ بعض شدت پسند قوتوں کو اپنے اوپر حملے کرنے کا جواز بھی فراہم کرتے رہے ہیں۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ یہ ماضی سے نکل کر آج کے زمینی حقائق کا ادراک کریں اور اپنی محدود صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر خطے کے امن کے لیے کام کریں۔

ching

پشاور :غیر قانونی کمرشل گاڑیوں کے خلاف آپریشن جاری

پشاور بھر میں غیر قانونی کمرشل گاڑیوں کے خلاف میگا آپریشن جاری ہے اتوار کے روز ضلعی انتظامیہ پشاور نے محکمہ ریجنل ٹرانسپورت اتھارٹی اور ٹریفک پولیس کے ہمراہ مشترکہ آپریشن کرتے ہوئے مہم کے تیسرے روز مزید 512 غیر قانونی کمرشل گاڑیوں کو سرکاری تحویل میں لے لیا تین روز کی کارروائیوں میں ابتک کل 1321 غیر قانونی کمرشل گاڑیوں کو سرکاری تحویل میں لیا گیا ہے۔ کمشنر پشاور ریاض خان محسود ازخود غیر قانونی کمرشل گاڑیوں کے خلاف مہم کی نگرانی کر رہے ہیں جبکہ ڈپٹی کمشنر پشاور شفیع اللہ خان بھی مسلسل تین روز سے فیلڈ میں ہیں۔ اس حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر عبید ڈوگر، سیکریٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی طارق حسن اور ایس پی ٹریفک محمد سعید خان نے انتظامی افسران کے ہمراہ جی ٹی روڈ اور یونیورسٹی روڈ،ورسک روڈ،سٹی سرکلر روڈ،رنگ روڈ،کوہاٹ روڈ اور نواحی علاقوں میں کریک ڈاؤن کی نگرانی کی۔کاروائیوں کے دوران 3100 سے زائد کمرشل گاڑیوں کا معائنہ کیا گیا اور بغیر رجسٹریشن اور پرمٹ521 رکشوں، چنگچی، لوڈر، ویگن، ٹیکسی اور دیگر کمرشل گاڑیوں کو سرکاری تحویل میں لے لیا گیا۔کمشنر ڈویژن ریاض خان محسود کے مطابق صوبائی دارلحکومت پشاور میں غیر قانونی کمرشل گاڑیوں کے خلاف مہم زور و شور سے جاری ہے اور تین دنوں کے دوران 1321 غیر قانونی گاڑیوں کو سرکاری تحویل میں لیا گیا ہے جنہیں سکریپ کرنے کے لیے اولڈ جی ٹی ایس اڈے منتقل کر دیا گیا کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے روزانہ کی بنیاد پر بلاتعطل آپریشن جاری رکھنے کے لیے تمام تر اداروں کی ہفتہ وارچھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔