ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی ایک سالہ کارکردگی تقریب پشاور کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا جس کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر تعلیم شہرام خان ترکئی تھے۔ تقریب میں سیکرٹری ایجوکیشن معتصم باللہ شاہ، مینجنگ ڈائریکٹر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن ظریف المعانی ، ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر جاوید خان تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ پروگرام آفیسر اور والدین وطلباء طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم شہرام خان ترکئی نے کہا کہ سکولوں سے باہر طلباء کو سکولوں میں لانے اور وہ علاقے جہاں پر سرکاری سکولوں کی سہولیات میسر نہیں تھے یہ فاؤنڈیشن قائم کیا گیا تھا۔
انہوں نے موجودہ منیجنگ ڈائریکٹر ظریف المعانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے آنے سے فاؤنڈیشن کی کارکردگی میں بہت بہتری آئی ہے۔ فاؤنڈیشن کے تمام سکولوں میں طلباء و اساتذہ کے ریکارڈ اور درس و تدریس کے نظام کو مکمل ڈیجیٹائز کیا گیا ہے۔ 2سالوں سے تنخواہوں سے محروم اساتذہ کو 837 ملین روپے ادا کیے گئے۔ 68 پارٹنر سکولوں کو 26ملین سے زائد روپے کی ادائیکی کی گئی۔ جبکہ اساتذہ کی تنخواہیں 15 ہزار سے بڑھا کر 21ہزار روپے کردی گئی ہے۔
طلباء و طالبات کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا اور ایک لاکھ 51 ہزار 9سو 46 طلباء و طالبات فاؤنڈیشن کے سکولوں میں زیر تعلیم ہیں۔ جن کو 3 ہزار ایک سو 45 خواتین اساتذہ تعلیم دے رہی ہیں۔ جبکہ امسال مزید ایک ہزار سکول شامل کرکے اسکولوں کی تعداد 1900 تک پہنچ جائے گی۔
وزیر تعلیم شہرام خان ترکئی نے مزید کہا کہ فاؤنڈیشن کی بہترین کارکردگی کو مد منظر رکھ کر فاؤنڈیشن کے ذہین طلباء و طالبات کو صوبائی حکومت کی طرف سے جاری سکالر شپس پروگرامز میں بھی شامل کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فاؤنڈیشن کے طلباء و طالبات مختلف بہترین تعلیمی اداروں میں اعلی تعلیم کے لئے میرٹ پر داخلے لیتے ہیں جبکہ اگلے سال سے فاؤنڈیشن کے سکولوں کو مڈل اور ہائی لیول تک اپ گریڈ کر رہے ہیں۔ جہاں پر چھٹی جماعت سے اوپر کی تعلیم دی جائے گی۔
وزیر تعلیم نے کہا کہ فاؤنڈیشن کے پورے نظام کی ڈیجیٹائزیشن کی وجہ سے اب پوری ڈیٹا آن لائن دستیاب ہے۔ بہترین کارکردگی کی بدولت 22 سو ملین سے زیادہ بجٹ ریلیز کیا جا چکا ہے جب کہ امسال بھی ایک ارب روپے کا بجٹ مختص ہے
وزیر تعلیم شہرام خان ترکئی نے کہا کہ امسال نئے شروع کردہ پروگرام نئے سکول (NSI) کے تحت صوبے کے ہر اس علاقے میں سکول بنائے جائیں گے شراکت داری بنیادوں پر جہاں پر سرکاری سکول موجود نہیں۔ جہاں تعلیم کو فروغ دے کر ان علاقوں میں خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہوگا۔
شہرام خان ترکئی نے وزیراعظم عمران خان کے ویژن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم اور صحت روز اول سے ترجیح رہی ہے اور ہمارے انقلابی اقدامات باقی صوبوں کے لیے مثال ہے۔انہوں نے محکمہ تعلیم کی جاری پروگراموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 6ارب روپے کی لاگت سے تقریبا 24 لاکھ سے زائد طلباء و طالبات کو فرنیچرز دیا جا رہا ہے۔
25ہزار سے زائد اساتذہ کی میرٹ پر بھرتی کا عمل جاری ہے اور ضرورت کے مطابق پیرنٹس ٹیچرز کونسل کے زریعے اساتذہ کی بھرتی کا عمل بھی جاری ہے۔ جبکہ 12 سو سے زائد سکولوں میں سیکنڈ شفٹ سکول پروگرام بھی شروع کر رکھا ہے جس میں 25 ہزار سے زائد طلباء وطالبات کو تعلیم دیا جا رہا ہے یہ صرف وہ طلباء ہے جنہوں نے مجبوری یا پھر سکول دور ہونے کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑی تھی۔
وزیر تعلیم شہرام خان ترکئی نے مزید کہا کہ آئی ٹی تعلیم پر بھی خصوصی توجہ دی جارہی ہے ارلی ایج پروگرام اور ٹیبلیٹ ان اے سکول پروگرام کے ذریعے تمام سکولوں کے درس وتدریس کا نظام مکمل ڈیجیٹائز ہو جائے گا۔