ramadan

ایک ہی دن روزہ و عید کیلئے خیبر پختونخوا حکومت کی کوششیں

تحریر:ارشد اقبال

ملک میں ہر سال کے10ماہ گزرنے کے بعد جیسے ہی اسلامی سال کا ماہ ِشعبان شروع ہوتا ہے تو ملک بھر میں رمضان کی تیاریاں بھی شروع ہو جاتی ہیں ۔ایسے میں ملک کے تمام مسلمان بہنوں اور بھائیوں کے لبوں پر ایک دوسرے سے ایک ہی سوال ہوتا ہے کہ کیا امسال ملک بھر میں ایک ہی دن روزہ اور ایک ہی دن عید ہوگی؟رواں برس بھی جیسے جیسے رمضان کے دن قریب آرہے ہیں تو یہی بہن بھائی ایک دوسرے سے یہی سوال کر رہے ہیں۔اب کی بار اس بڑے مسئلے کے حل کیلئے خیبر پختونخوا حکومت ماہ شعبان کے شروع میں ہی متحرک ہو چکی ہے اور اب اس پر باقاعدہ عمل درآمد بھی ہو چکا ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر سال ملک کے بیشتر علاقوں میں وفاقی حکومت کی ہدایت کے مطابق ایک ہی دن روزہ اور ایک ہی دن عید ہوتی ہے لیکن بدقسمتی سے صوبہ خیبر پختونخوا میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔حالانکہ صوبے کے بیشتر لوگ وفاق کے ساتھ ہی روزہ رکھتے ہیں اور وفاقی کیساتھ ہی عید مناتے ہیں۔ اس کی ایک معقول وجہ بھی ہے ۔ رویت ہلال کمیٹی کے سابق چیئرمین مفتی منیب الرحمان صاحب پر پشاور کی جامع مسجد قاسم علی خان کی انتظامیہ الزام لگاتی تھی کہ مفتی صاحب ان کی شہادتوں کو قبول نہیں کرتے اور یہ کہ مفتی صاحب وفاقی حکومت کے کہنے پر فیصلے تو کرتے ہیں لیکن خیبر پختونخوا کی رویت ہلال کمیٹی کی شہادت کبھی قبول نہیں کی۔ایسا بھی ہوا کہ خیبر پختونخوا کے بیشتر علاقوں میں کبھی کبھی ایک دن روزہ اور ایک ہی دن عید کی خوشیاں مذہبی جوش و جذبے کیساتھ منائی گئیں لیکن بعض قبائلی علاقوں کے لوگ سعودی عرب کے ساتھ روزہ بھی رکھتے رہے ہیں اور ان کے ساتھ عید بھی مناتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی رمضان کی آمد آمد ہوتی ہے تو ملک بھر کے لوگ خیبر پختونخوا پربالعموم اور جامع مسجد قاسم علی خان کی انتظامیہ پر بالخصوص الزامات لگاتے ہیں کہ ان کو روزے اور عید کے چاند بہت جلدی نظر آتے ہیں۔یہ لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ ایسا آخر ہوتا کیوں ہے۔بڑی حد تک یہ بات درست بھی ہے کہ مفتی منیب الرحمان صاحب پشاور کی رویت ہلال کمیٹی کی شہادت قبول نہیں کرتے تھے اور اسی لئے خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں ملک کے دیگر بیشتر علاقوں کے مقابلے میں الگ دن روزہ اور الگ ہی عید کی خوشیاں منائی جاتی رہی ہیں۔

تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی تو شروع میں ہی وفاقی وزیر فواد چودھری اور مفتی صاحب کے درمیان اختلافات نے شدت اختیار کرلی تھی ۔جس کی وجہ سے وفاقی حکومت کو مفتی صاحب کو ہٹا نا پڑا اور ان کی جگہ مولانا عبدالخبیر آزاد کو کمیٹی کا چیئرمین تعینات کیا گیا ۔مولاناعبدالخبیر آزاد نے رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالنے کے فوری بعد اس کمیٹی کو سالوں سے درپیش مذکورہ مسئلے پر توجہ دی اور اس میں ان کو بڑی حد تک ان کو کامیابی بھی ملی۔اور اس کا منہ بولتا ثبوت گزشتہ عید تھی۔یہ مولانا عبدالخبیر آزاد کی کوششیں ہی تھی جس کے باعث گزشتہ سال ملک بھر میں ایک ہی دن چھوٹی عید منائی گئی تھی۔مولانا عبدالخبیر آزاد کی کوششوں ہی کی وجہ سے رواں برس خیبر پختونخوا حکومت نے یہ ذمہ داریاں نبھانا شروع کردی ہیں اور اس سلسلے میں کمشنر پشاور نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی خصوصی ہدایات کے بعد تمام مکاتب فکر کے جید علما کرام سے ملاقات کی ہے ۔ ملاقات میں رمضان المبارک میں امن و امان اور مذہبی ہم آہنگی برقرار رکھنے کےلئے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام نے بھرپور اتفاق کیا ۔

یہ بڑی خوش آئند اور قابل ستائش بات ہے کہ متعلقہ حکام اس سلسلے میں عوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔اس کی جتنی ستائش کی جائے کم ہے۔نہ تو خیبر پختونخوا کی زونل کمیٹی کی شہادتوں سے انکار ہوگا اور نہ ہی ایک ہی ملک میں الگ الگ دنوں میں روزہ اور عید ہوگی۔خیبر پختونخوا کے جس بھی علاقے کے لوگ ایک دن قبل روزہ یا عید مناتے ہونگے یقیناََ وہ بھی اپنے فیصلے پر خوش نہیں ہونگے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ اس حوالے سے جو بھی فیصلے ہوں وہ باہمی مشاورت اور گفت و شنید سے کئے جائیں ۔کیونکہ اللہ جل شانہ نے مشاورت میں خیر کو پنہاں رکھا ہے۔

images

پختونخواہ میں بلدیاتی الیکشن کا انعقاد اور نتائج

گزشتہ روز یعنی 31مارچ کو صوبہ خیبرپختونخوا کے 14 اضلاع میں بلدیاتی الیکشن کے دوسرے مرحلے کیلئے پولنگ ہوئی جس میں ووٹرز نے بہت پرامن طریقے سے اپنے نمائندوں کا انتخاب کیا اور کہیں پر بھی کوئی ناخوشگوار واقع پیش نہیں ہوا۔ 20820 امیدواروں نے اس الیکشن میں حصہ لیا جن میں میئر شپ اور تحصیل نظامت کے لئے 651 امیدوار بھی شامل تھے۔

اس موقع پر ان اضلاع میں 6176 پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے تھے جن میں 1646 کو حساس قرار دیا گیا تھا تاہم کہیں پر بھی نہ تو کوئی تصادم ہوا اور نہ ہی کوئی بدمزگی سامنے آئی۔

جن علاقوں میں الیکشن ہوئے ان میں ضم شدہ علاقوں کے پانچ اضلاع بھی شامل تھے۔ ان علاقوں میں حالات پرامن رہے اور ووٹرز بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے نکل آئے جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قبائلی علاقوں کے عوام سیاسی اور جمہوری عمل پر یقین رکھتے ہیں اور یہ باشعور لوگ ہیں۔

نتائج کے مطابق اس الیکشن میں حکمران جماعت تحریک انصاف کے سب سے زیادہ امیدوار کامیاب ہوئے جبکہ جے یو آئی(ف) نے دوسری پوزیشن حاصل کر لی۔ پی ٹی آئی 65 تحصیلوں میں 32 پر کامیاب ہوئی جبکہ جے یو آئی(ف) کے حصے میں 13 نشستیں آئی ہیں۔ 12 آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوئے تاہم مسلم لیگ(ن)، پیپلز پارٹی اور اے این پی کو خلاف توقع بہت کم ووٹ ملے اور سوات کی تمام سیٹوں پر تحریک انصاف نے شاندار کامیابی حاصل کرکے ریکارڈ قائم کیا۔

حسب توقع جے یو آئی(ف) نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا 5 قبائلی اضلاع میں اکثر امیدوار جے یو آئی کے جیت گئے تاہم یاد رہے کہ فیز ون کے دوران جے یو آئی نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی تھی اور تحریک انصاف دوسرے نمبر پر رہی تھی۔

اب کے بار تحریک انصاف نے لیڈنگ پوزیشن حاصل کرکے پیغام دیا کہ یہ پارٹی اب بھی صوبے کی سب سے بڑی پارلیمانی قوت ہے اگرچہ اس کامیابی کو اپوزیشن حکومت کی مداخلت اور سرکاری وسائل کے بے دریغ استعمال کا نتیجہ قرار دے رہی ہے تاہم برسرزمین حقیقت تو یہ ہے کہ فیز ون کے دوران اے این پی، مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی نے جو کم بیک کیا تھا فیز 2 کے دوران ان پارٹیوں کی کارکردگی اسی طرح سامنے نہیں آئی اور ن لیگ ہزارہ ڈویژن میں بھی شکست کھا گئی۔

دوسری طرف ملاکنڈ ڈویژن میں بھی یہ پارٹیاں ناکامی سے دوچار ہوئی ہیں۔

نتائج جو بھی ہو یہ بات خوش آئند ہے کہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی الیکشن کا عمل مکمل ہوچکا ہے اور اب کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ملک کی سیاسی کشیدگی کے باوجود صوبائی حکومت نئے بلدیاتی اداروں اور ان کے نمائندوں کو اختیارات منتقل کریں اور سب کو ساتھ لے کر چلاجائے۔