وزیر اعلی خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت خیبر پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی کا اجلاس۔اجلاس میں سوات موٹروے فیز ٹو اور دیر موٹروے سمیت شاہراہوں کے مختلف منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔بریفینگ میں فیصلہ کیا گیا کہ اگلے ہفتے سوات موٹروے فیز ٹو کا باضابطہ سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔ وزیر اعلی کی متعلقہ حکام کو سوات موٹروے فیز ٹو کا سنگ بنیاد رکھنے اور منصوبے پر عملی کام کا آغاز کرنے کے لئے انتظامات کو حتمی شکل دینے کی ہدایت۔
اٹھاسی کلومیٹر طویل یہ موٹروے چکدرہ تا فتح پور تعمیر کی جائے گی ۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے پر 58 ارب روپے کی تخمینہ لاگت آئے گی۔ سوات موٹروے فیز ٹو کے لئے زمین کی خریداری کے سلسلے میں ساڑھے پانچ ارب روپے جاری کئے گئے ہیں۔وزیر اعلی کی متعلقہ حکام کو دیر موٹروے منصوبے کا بھی سنگ بنیاد رکھنے کے لئے پیشرفت تیز کرنے کی ہدایت۔ دیر موٹروے منصوبے کے لئے زمین کی خریداری کا پی سی ون جلد پراسس کیا جائے۔


حسب توقع نہیں نکلے۔ وزیراعظم عمران خان کی ایڈوائس پر صدر نے قومی اسمبلی توڑ دیں اور اسمبلی کے علاوہ عمران خان بھی وزیراعظم نہیں رہے تو دوسری طرف ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری نے آئین کے آرٹیکل 5 کا سہارا لے کر اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو یہ جواز بنا کر مسترد کردیا کہ اس تحریک کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ یا سازش ہے اس لئے اس پر ووٹنگ نہیں ہو سکتی۔
آن دی ریکارڈ متعلقہ دو امریکی عہدیداران سمیت اپوزیشن نے بھی اس خط یا مبینہ سازش کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تاہم عمران خان نہ صرف اپنے موقف پر ڈٹے رہے بلکہ انہوں نے اسد مجید کی جانب سے بھیجے گئے لیڈ یا مراسلہ کو نیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں بھی پیش کیا اور اس معاملے پر اعلیٰ سطح مشاورت بھی ہوئی۔ بہرحال اس ایشو کو عمران خان نے امریکی سازش سے جوڑ کر اینٹی امریکہ کارڈ کے طور پر استعمال کیا، عوام کی بڑی تعداد کی توجہ بھی حاصل کی اور عدم اعتماد کی کوشش کو بھی سبوتاژ کیا۔