مردان :پولیس چوکی کے قریب دھماکا، ایک اہلکار شہید
مردان کے علاقے چمتار گیٹ میں پولیس چوکی کے قریب بم دھماکے میں ایک پولیس اہلکار شہید ہوگیا۔
دھماکا بارودی مواد کا تھا مین گیٹ کے قریب رکھا گیا تھا، اور اس میں 2 پولیس اہلکار اور 2 عام شہری زخمی بھی ہوئے ہیں، جب کہ دھماکے سے چوکی کے مین گیٹ اور وین کو نقصان پہنچا۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر آپریشن شروع کردیا۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کی پولیس کے اعلی حکام کو واقعے کی تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے اور حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کے لئے ضروری کاروائی کی ۔ انھوں نے وزیراعلی واقعے میں ایک پولیس اہلکار کی شہادت پر اظہار تعزیت کیا اور شہید اہلکار کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار۔
شمالی وزیرستان :عید الاضحٰی پر امن و امان برقرار رکھنے کیلئے دفعہ 144 نافذ

میرانشاہ : ضلع شمالی وزیرستان میں عید الاضحٰی کے موقع پر امن و امان برقرار رکھنے کیلئے دفعہ 144 نافذ کردیا گیا ہے ۔
ڈپٹی کمشنر شاہد علی خان نے ضلع بھر میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 کے نفاذ کا حکم نامہ جاری کردیا ہے ۔
ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے نفاذ کے تحت ضلع بھر میں غیر قانونی ون ویلنگ ، غیر قانونی مویشی منڈیاں لگانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے ۔
حکمنامے کے مطابق پبلک مقامات پر ہر قسم کے اسلحہ کی نمائش اور فائر کریکرز (پٹاخوں) کی خرید و فروخت پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔امن وامان میں خلل پیدا کرنے کے ایسے اعمال پر پابندی کے حوالے سے پولیس کو خصوصی اختیارات تفویض کر دئیے گئے ہیں ۔
ضلع بھر میں دفعہ 144 آج سے غیر معینہ مدت کیلئے نافذالعمل ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں کسی رعایت کے بغیر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔
ضلع بھر میں امن و امان برقرار رکھنے اور ناخوشگوار واقعات کی تدارک کے پیش نظرعوام بھی قانون نافذ کرنے والے اور ضلعی انتظامیہ کیساتھ بھر پور تعاون یقینی بنانے میں اپنی شہری زمہ داریاں پوری کریں ۔
فوجی فلاحی اداروں کے خلاف پروپیگنڈے کی اصلیت
گزشتہ کچھ ایام سے سوشل میڈیا پہ ایک پوسٹ گردش کر رہی ہے جس میں بے شمار خود ساختہ اعدادوشمار کے ذریعے عسکری فلاحی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لئے مبالغہ آمیز اور قیاس آرائیوں پہ مشتمل ایک نام نہاد تجزیہ پیش کیا گیا، جن میں فوجی فاؤنڈیشن، آرمی ویلفئیر ٹرسٹ، بحریہ فاؤنڈیشن اور شاہین فاؤنڈیش شامل ہیں۔ اس نام نہاد تجزیے میں دھڑلے سے افواجِ پاکستان کو نشانہ بنانے کے لیے بے بنیاد الزامات کا سہارہ لیا گیا- آئیے کچھ حقائق کی مدد سے جائزہ لیں کہ ان فلاحی اداروں کی حقیقت کیا ہے :
تاریخی جائزہ
▪️فوجی فلاحی اداروں کی تاریخ کو جانچا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی جڑیں 1945 میں جنگ عظیم میں حصہ لینے والے سابق فوجیوں کی تعمیر نو کے لیے قائم کیے گئے فنڈ (PWSRF) سے ملتی ہیں- پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد فوجیوں کی تعداد کے تناسب سے اس فنڈ کا ایک حصہ پاکستان کو منتقل کیا گیا جس سے فلاحی نظام کی داغ بیل ڈالی گئ۔
▪️فوجی فلاحی اداروں کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے ساتھ ساتھ اقتصادی سرگرمیوں میں بھی اضافہ اس لیے کیا گیا تاکہ حکومتی وسائل پر بوجھ بنے بغیر ریٹائرڈ فوجیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، دہشتگردی کے خلاف طویل جنگ میں شہداء کے لواحقین اور دوران جنگ زخمی ہونے والے فوجیوں کی کفالت کا موضوع انتظام کیا جائے۔
▪️ یہ ادارے تمام تر وسائل خود پیدا کر رہے ہیں اور حکومتی بجٹ سے ایک ٹکا بھی امداد نہیں لیتے۔
▪️فوجی فاؤنڈیشن اور ایے ڈبلیو ٹی فلاحی کاموں کے ساتھ ساتھ ٹیکس بھی ادا کرتے ہیں اور لوگوں کو ذریعہ معاش بھی فراہم کرتے ہیں ۔ان اداروں کا تفصیلی جائزہ کچھ اس طرح ہے :-
1) فوجی فاؤنڈیشن
•فوجی فاؤنڈیشن جسے فوجی گروپ بھی کہا جاتا ہے، چیریٹیبل اینڈومنٹ ایکٹ 1890 کے تحت شہداء اور دوران سروس وفات پانے والے افراد کے لواحقین کی فلاح و بہبود کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ جنگ کے دوران زخمی یا معذور ہو جانے والے اور ریٹائرڈ ملازمین کو باعزت روزگار فراہم کر رہا ہے جس کا تخمینہ 10 ارب روپے سالانہ ہے-
• اس بات کو سراہا جانا اشد ضروری ہے کیونکہ اگر فوجی فاؤنڈیشن یہ کام نہ کر رہی ہوتی تو حکومتی بجٹ پر سالانہ 10 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑتا۔
• یہ ادارہ تقریباً 80 فیصد آمدنی فلاح و بہبود اور انسانی خدمت کی سرگرمیوں میں لگاتا ہے۔
روزگار کی فراہمی
27000 سے زیادہ افراد براہ راست فوجی فاؤنڈیشن کے ذریعے روزگار کما رہے ہیں جبکہ اٹھانوے لاکھ سے زیادہ افراد بلواسطہ طور پہ فوجی فاؤنڈیشن سے منسلک تنظیموں سے روزگار حاصل کر رہے ہیں- ان اداروں میں کام کرنے والے 83 فیصد افراد سولین ہیں۔
•صحت کی سہولیات
علاوہ ازیں، فوجی فاؤنڈیشن 74 طبی سہولیات چلاتی ہے جو کہ فوجی ارکان اور ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تقریبا 83 لاکھ افراد کی صحت کی ضروریات کو بھی پورا کرکے حکومت پاکستان کے بوجھ کو کم کررہی ہے۔
تعلیمی سہولیات
اسی طرح فوجی فاؤنڈیشن 117 تعلیمی ادارے اور 8 تکنیکی ادارے چلا رہی ہے جس میں 65000 سے زیادہ مستحق طلبہ و طالبات علم کی روشنی سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔
•فوجی فاؤنڈیشن بحیثیت ٹیکس دہندہ
یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ اپنے وسائل کو فلاحی کاموں میں لگانے کے ساتھ ساتھ یہ ادارہ اپنی آمدنی پر قانون کے مطابق ریاست پاکستان کو ٹیکس بھی ادا کرتا ہے۔
• حکومت پاکستان کی جانب سےاس ادارے کو صرف فلاحی کاموں میں استعمال ہونے والے وسائل اور آمدنی پہ ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے باقی تمام کمرشل سرگرمیوں میں فوجی فاؤنڈیشن کے دیگر کمرشل ادارے باقی تمام کارپوریشنز کی طرح ہی مختص کردہ ٹیکس ادا کرتے ہیں- جیسا کہ
•فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مطابق گزشتہ سال فوجی فاؤنڈیشن نے 150 ارب روپے کا ٹیکس قومی خزانے میں جمع کرایا –
فوجی فاؤنڈیشن نے گزشتہ پانچ سالوں میں حکومت کو ٹیکس اور لیویز کے طور پر 1 ٹریلین روپے ادا کیے ہیں۔
2)آرمی ویلفئیر ٹرسٹ
آرمی ویلفیئر ٹرسٹ بھی چیریٹیبل اینڈومنٹ ایکٹ 1890 کے تحت معاشی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کو فلاحی سرگرمیوں میں استعمال کرتا ہے –
•تاریخی جائزہ
اے-ڈبلیو-ٹی کا قیام 1971 میں شہیدوں کی بیواؤں ، یتمیوں اور جنگ کے دوران زخمی یا معذور ہو جانے والے افراد کی کفالت اور بحالی کے لیے عمل میں لایا گیا-
ہزاروں بے روزگار افراد کو روزگار فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اور اپنے فلاحی مقصد کے باوجود آرمی ویلفیئر ٹرسٹ حکومت پاکستان کے مختص کردہ تمام ٹیکسز ادا کرتا ہے۔
فیڈرل بیورو آف ریونیو کے مطابق آرمی ویلفیئر ٹرسٹ نے گزشتہ سال تقریباً 2.54 ارب روپے ٹیکس ادا کیا۔
3) بحریہ فاؤنڈیشن
• یہ ادارہ ( جوجنوری 1982 میں حکومت پاکستان نے انڈومنٹ ایکٹ 1890 کے تحت ایک خیراتی ٹرسٹ کے طور پر قائم کیا تھا) اپنے فنڈز خود پیدا کرتا ہے اور اسے کسی بھی قسم کا حکومتی فنڈ یا امداد حاصل نہیں ہے۔ •بحریہ فاؤنڈیشن نے 2005 کے زلزلے کے دوران زبردست کام کر کے اپنی کارکردگی کا لوہا منوایا۔
• یہ شہریوں کی ایک بڑی تعداد کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ایک عوامی فلاحی ادارہ ہے جو نہ صرف شہدا اور جنگ میں زخمی افراد کے لواحقین کی فلاح و بہبود میں کردار ادا کر رہا ہے بلکہ ایک بڑی تعدار میں سویلینز بھی بحریہ سکولوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں-
4) شاہین فاؤنڈیشن
• یہ پاکستان ایئر فورس کا فلاحی ادارہ ہے، جو چیریٹیبل انڈومنٹ ایکٹ کے تحت 1977 میں قائم کیا گیا- اس کا قیام ریٹائرڈ پی اے ایف اہلکاروں، شہداء اور عام شہریوں کی فلاح وبہبود کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا تھا۔
•شاہین فاؤنڈیشن، تعلیم، صحت، انجینئرنگ، خدمات، پیداوار، تعمیراتی کام وغیرہ کے شعبوں اپنا فریضہ انجام دے رہی ہے۔
• اس کے 3000 سے زائد ملازمین میں سے صرف سات سو سابق پی اے ایف اہلکار ہیں جو کل تعداد کا تقریباً 23 فیصد بنتے ہیں۔
اگر ہم مذکورہ بالا حقائق کا تنقیدی جائزہ لیں تو یہ بات عیاں ہے کہ فوجی فلاح و بہبود انظام انتہائی منظم ہے اور فلاحی سرگرمیوں کے علاوہ اگر کوئی بھی تجارتی و صنعتی سرگرمی ہوتی ہے تو ریاست پاکستان کے لاگو کردہ تمام ٹیکسز یہ ادارے ادا کر رہے ہیں۔
ایک نیچ پروپیگنڈے کے تحت ان اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی مسلسل کوشش کی جارہی ہے_ایسا کرنے کا مقصد صرف اربوں لوگوں کی کفالت اور پاکستانی معیشت کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے ۔
دورہ سری لنکا کے لیے 18 رکنی سکواڈ کا اعلان
تحریر: علی حسن ٹکر
پاکستان کرکٹ بورڈ نے سری لنکا کے خلاف رواں سال جولائ ٹیسٹ سیریز کے لیے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا ہے۔
تازہ ترین آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ شیڈول کے لیے نامزد کردہ اسکواڈ میں تین اوپنرز، چار مڈل آرڈر بلے باز، تین آل راؤنڈر، دو وکٹ کیپر، دو اسپنرز اور چار تیز گیند باز شامل ہیں۔
چیف سلیکٹر محمد وسیم کا کہنا ہے کہ انہوں نے سری لنکا کی کنڈیشنز کو دیکھتے ہوئے اس اسکواڈ کا انتخاب کیا ہے اور ٹیم کو بہترین ممکنہ وسائل سے لیس کیا ہے۔
قومی اسکواڈ 25 جون کو اسلام آباد پہنچ کر پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں ٹیسٹ سیریز کی تیاریوں کو حتمی شکل دے گا جس میں سات روزہ کیمپ 26 جون سے 2 جولائی تک جاری رہے گا اور 6 جولائی کو سری لنکا روانہ ہوگا۔
پاکستان 11 سے 13 جولائی تک تین روزہ وارم اپ میچ کھیلے گا۔ پہلا ٹیسٹ 16 جولائی سے گال میں کھیلا جائے گا جبکہ دوسرا ٹیسٹ 24 جولائی سے کولمبو میں کھیلا جائے گا۔
16 رکنی ٹیم میں مایا ناز لیگ اسپنر یاسر شاہ جو 2015 میں سری لنکا کے اپنے آخری دورے پر سری لنکا کے خلاف پاکستان کی 1-2 سے فتح میں اہم کردار ادا کیا، 19.33 کی اوسط سے 24 وکٹیں حاصل کیں۔ وہ مکمل فٹنس حاصل کرنے کے بعد واپس ٹیم میں منتخب ھوا ہے۔ یاسر شاہ نے اپنا 46 واں اور آخری ٹیسٹ اگست 2021 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلا تھا اور حال ہی میں پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین پاکستان میں ھونے والے ھوم سیریز سے بھی انجریز کے باعث باھر رکھا گیا تھا۔
دوسری طرف فرسٹ کلاس میں 4,224 رنز بنانے اور 88 وکٹیں لینے والے سلمان علی آغا ٹیم میں ایک اور اضافہ ہیں۔ جو بہت عرصے سے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے کے لئے پر عزم ہے کیونکہ وہ اس سے پہلے بھی 15 رکنی ٹیم کا حصہ رہا ہے۔
محمد نواز واپس بلائے جانے والے تیسرے اھم کھلاڑی ہیں۔ انہیں گذشتہ سال آسٹریلیا کے ٹیسٹ سیریز کے لیے ٹیم میں شامل کیا گیا تھا لیکن انجری کی وجہ سے واپس کرلیا گیا تھا۔
پاکستان کے قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سیلیکٹر نے کہا ہے کہ یاسر شاہ کی واپسی سے ہمارے اسپن کے شعبے کو تقویت ملی ہے جنہوں نے سری لنکا میں ہمارے آخری دورے میں خود کو ایک میچ ونر کے طور پر ثابت کیا تھا ۔ اسپن ڈپارٹمنٹ میں دو اسپن آل راؤنڈرز محمد نواز اور سلمان علی آغا اور بائیں ہاتھ کے آرتھوڈوکس نعمان علی بھی شامل کئے گئے ہیں۔
سلمان علی آغا کی ٹیم میں شمولیت کا دفاع کرتے ہوئے وسیم نے کہا کہ یہ کھلاڑی پچھلے تین سیزن میں بلے سے مسلسل کارکردگی دکھائی دے رہا ہے ہے اور وہ ایک بہترین آف اسپن باولر بھی ہے جبکہ سرلنکن کنڈیشنڈ میں مفید ثابت ھوسکتا ہے۔
قومی ٹیم جو اس وقت ٹیسٹ رینکنگ میں پانچویں نمبر پر ہے، یہ سیریز ان کی موجودہ آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا آخری بیرون ملک دورہ ہے، جو جولائی 2021 سے جون 2023 تک محدود ہے، اس دورہ پر پاکستان پوائنٹ ٹیبل پر اپنی پوزیشن کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
پاکستان نے حال ہی میں تین سیریز کھیلی ہیں اور تین ٹیسٹ میچوں میں جیت اور دو ڈرا کے ساتھ نو ٹیموں کے ٹیبل میں پانچویں نمبر پر ہے۔
کپتان بابر اعظم کی سربراہی میں ٹیم نے ویسٹ انڈیز میں دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز برابر کر دی، بنگلہ دیش کو بنگلہ دیش ہی میں 0-2 سے شکست دی،جبکہ اسے کے بعد آسٹریلیا کی ٹیم نے پاکستان کے تاریخی دورے میں 1-0 سے فتح حاصل کی۔
آئندہ 23-2022 میں، پاکستان ٹیم ہوم انٹرنیشنل سیزن میں انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کی تین اور دو ٹیسٹ میچوں کی میزبانی کرنے والا ہے۔ اور امید ہے کہ اس ھوم سیریز کا فائدہ اٹھاتے ھوئے قوم ٹیم پوائنٹ ٹیبل پر پہلے اور دوسرے نمبر کے ٹیموں میں اپنا جگہ بنائیں گے۔