Shahbaz Sharif was elected the 16th Leader of the House and the 33rd Prime Minister of the country

شہباز شریف 16 واں قائد ایوان اور ملک کا 33 واں وزیراعظم منتخب

قومی اسمبلی نے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو 16 واں قائد ایوان اور ملک کا 33 واں وزیراعظم منتخب کر لیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے قومی اسمبلی میں وزیراعظم کے لیے ہونے والے انتخاب کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ شہباز شریف 201 ووٹ لیکر وزیراعظم پاکستان منتخب ہو گئے جبکہ ان کے مد مقابل امیدوار عمر ایوب خان نے 92 ووٹ حاصل کیے۔

قبل ازیں اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہی سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے اسپیکر کی ڈائس کے سامنے احتجاج شروع کر دیا تاہم بعد ازاں اپنی نشستوں پر چلے گئے۔ نئے قائد ایوان کے انتخاب کے عمل سے قبل اسپیکر کے حکم پر5 منٹ تک گھنٹیاں بجائی گئیں، گھنٹیاں بجائے جانے کے بعد ایوان کے دروازے بند کر دیے گئے اور اسپیکر کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ شہباز شریف کے حق میں جو اراکین ہیں لابی اے کی طرف چلے جائیں جبکہ عمر ایوب کے حق میں اراکین لابی بی میں چلے جائیں۔

جے یو آئی کے اراکین وزیراعظم کے انتخاب کی کارروائی کا حصہ نہ بنے اور قومی اسمبلی ہال کے دروازے بند ہونے سے قبل جے یو آئی کے اراکین ہال سے باہر چلے گئے جبکہ سردار اختر مینگل ایوان میں بیٹھے رہے اور انہوں نے کسی کو بھی ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔ حکمران اتحاد کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے منصب کیلئے شہباز شریف امیدوار تھے جبکہ ان کے مد مقابل سنی اتحاد کونسل کے عمر ایوب خان تھے۔

۔متاثرہ اضلاع میں امدادی کاروائیاں جاری ہیں۔ پی ڈی ایم اے تمام اضلاع کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے

صوبہ بھرمیں جاری بارشوں اور لینڈسلائیڈنگ سےحادثات، پی ڈی ایم اے رپورٹ جاری

گزشتہ چار دنوں کے دوران صوبہ بھرمیں جاری بارشوں اور لینڈسلائیڈنگ سے حادثات کےنتجے میں ابتک 27 افرادجانبحق جبکہ 38 افرادزخمی ہوئے۔ 129 گھروں کو جزوی جبکہ 33 گھروں کو مکمل نقصان پہنچا۔ ۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر متاثرین میں امدادی سامان تقسیم کیا جارہا ہے۔

۔متاثرہ اضلاع میں امدادی کاروائیاں جاری ہیں۔ پی ڈی ایم اے تمام اضلاع کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے

۔ جاںبحق افرادکے ورثاء اور ذخمیوں کو فوری طور پر امدادی چیکس مہیا کرنے کی ہدایت۔ ۔متاثرہ افراد کو فوری طور پر ریلیف مہیا کرنے کی ہدایت۔ ۔ بند راستوں کو کھولنے کے لیے فوری اقدامات کئے جائیں۔ عوام کو بروقت ریلیف پہچانے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور

وزیراعلی نے تمام متعلقہ اداروں پی ڈی ایم اے،ضلعی انتظامیہ ،ریسکیو1122 کو مکمل الرٹ کی ہدایات جاری کردی۔

PDMA Report

Despite the heavy rains and snowfall, the district administration is always ready to perform its duties

شدید بارشوں اور برفباری کے باوجود ضلع انتظامیہ اپنے فرائض نبھانے کیلئے ہمہ وقت تیار

ضلع بھر میں شدید بارشوں اور برفباری کے باوجود ضلع انتظامیہ اپنے فرائض کو بخوبی نبھانے کیلئے ہمہ وقت تیار یے۔ تحصیل انتظامیہ بحرین نے کالام روڈ پر ٹریفک رواں دواں ہے۔
ڈپٹی کمشنر سوات ڈاکٹر قاسم علی خان کی ہدایات کے مطابق تمام شاہراہوں/سڑکوں کی نگرانی اور بروقت صفائی کا عمل بلا تعطل جاری ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر بحرین سکندر خان کے رپورٹ کے مطابق تمام راستوں/سڑکوں کی نگرانی جاری ہے اور متعلقہ ادارے بروقت ان راستوں کی صفائی میں مصروف ہیں۔ ہر وقت راستوں کو کھلا رکھنے کا سنو کلئیرنس آپریشن دن رات جاری ہے۔تمام ادارے الرٹ کر دیۓ گۓ ہیں۔ ضلعی انتظامیہ سوات اور دیگر محکموں بھاری مشینری نےکالام روڈ، سے برف ہٹا کر ٹریفک کے لیے بحال کردیا. ڈپٹی کمشنر سوات ڈاکٹر قاسم علی خان نے تمام متعلقہ اداروں کے کاوشوں کو سراہا۔ عوام سے اپیل ہے کہ جہاں بھی راستہ لینڈ سلائیڈنگ/ بارشوں/ برفباری کے وجہ سے بند ہو تو بروقت متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر سے رابطہ کریں تاکہ سیاحوں و مقامی لوگوں کے آمد و رفت میں کسی قسم کا خلل پیدا نہ ہو۔

ملاکنڈ میں تیزبارش

ملاکنڈ میں تیزبارش کاسلسلہ تیسرے روزبھی جاری

ملاکنڈ میں تیزبارش کاسلسلہ تیسرے روزبھی جاری ہیں. مختلف مقامات پر مکانات کی چھتیں منہدم ہونے کی وجہ سے خاتون بچی سمیت جاں بحق اور6 افرادزخمی ہوئے. ملاکنڈ کے مرکزی شہربٹ خیلہ میں تیزبارش کے باعث مکان کی چھت گرنے سے ماں کمسن بچی سمیت جاں بحق ہوگئی.جبکہ گھرکاسربراہ دوبچوں سمیت ملبے تلے دب کرزخمی ہوگئے۔جبکہ تحصیل بائزئی کے علاقے الاڈھنڈمیں بھی مکان کی چھت منہدم ہونے سے تین خواتین زحمی ہوئے۔ریسکیوں ٹیموں نے لاشوں اور زخمیوں کوملبے سے نکال کرہیڈکوارٹرہسپتال بٹ خیلہ منتقل کردئے۔ضلع بھرمیں گزشتہ تین دن سے تیزبارش کاسلسلہ جاری ہے۔جس کی وجہ سے مختلف علاقوں میں بجلی بندہونے کے علاوہ کئی مکانات کی چھتیں اور دیواریں گرنے کی اطلاعات ہے.

Challenges facing the province and speech of the Chief Minister

صوبے کو درپیش چیلنجز اور وزیر اعلیٰ کی تقریر

عقیل یوسفزئی
خیبرپختونخوا کے نو منتخب وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اپنی پہلی باضابطہ تقریر میں کہا ہے کہ 9 مئی کے واقعات میں ملوث ” ملزمان” کے ساتھ پولیس نے جو کچھ کیا ہے اگر اس میں سے کچھ ” غلط” نکل آیا تو متعلقہ پولیس افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔ انہوں نے جس دوڈوک الفاظ میں چیف ایگزیکٹیو کے طور پر اپنی پارٹی وابستگی کو صوبے کے اجتماعی مفادات پر ترجیح دینے کی پالیسی اپنائی وہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ آگے جاکر وہ اس جنگ زدہ صوبے کے ساتھ کیا کچھ کرنے والے ہیں ۔ ان کے انداز تخاطب نے پولیس فورس اور دیگر اداروں کے افسران کے علاوہ ان حلقوں کی تشویش میں بھی اضافہ کردیا ہے جو کہ صوبے کے سیکورٹی چیلنجز اور معاشی بدحالی سے پریشان ہیں ۔ وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹیو سے ایک پارٹی کے کارکن زیادہ دکھائی دیے اور شاید عمران خان کی جانب سے ان کی نامزدگی اور پسندیدگی کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ موصوف تصادم اور کشیدگی کا راستہ اختیار کرکے آگے بڑھیں گے ۔ جس پولیس فورس کو انہوں نے اسمبلی فلور پر دھمکیاں دی ہیں اس فورس نے ہزاروں اہلکاروں اور سینکڑوں افسران کی قربانی دے کر اس صوبے میں امن کے قیام کو دیگر فورسز کے ساتھ مل کر ممکن بنایا۔ اس تقریر سے اس فورس کے شہداء کے لواحقین اور فرائض سرانجام دینے والوں کو جو دکھ پہنچا ہوگا اس کا شاید موصوف اور ان کے لیڈر کو احساس نہیں ہورہا ۔ ان کو پہلا کام تو یہ کرنا چاہیے تھا کہ وہ چارسدہ جاکر ایس پی اعجاز خان شہید کے ورثاء سے اظہار تعزیت کرتے مگر انہوں نے الٹا اس فورس کو دھمکیاں دیں۔ یہ تو اچھا ہوا کہ فرنٹیئر کور کے سربراہ اور گورنر پختونخوا نے متاثرہ خاندان کو وزٹ کیا ورنہ دیگر تو لاتعلقی ہی کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں ۔ اس تمام صورتحال کے نتائج اور اثرات صوبے کو بھگتنے پڑیں گے اس میں کوئی شک ہی نہیں ہے۔ عین اسی نوعیت کے خیالات کا اظہار جنید اکبر خان نے قومی اسمبلی کے اپنے خطاب میں بھی کیا ہے۔