ڈپٹی کمشنر مردان ڈاکٹر عظمت اللہ وزیر نے 7ویں زراعت مردم شماری کا باضابطہ افتتاح کیا۔ یہ تقریب ڈی سی آفس میں منعقد ہوئی۔ اس دوران ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر ابنِ آمین بھی موجود تھے۔ افتتاحی تقریب کے دوران ای نیومیریٹرز کو ڈیجیٹل ٹیبلیٹس دئے گئے جس میں مردم شماری کے حوالے سے سافٹ ویئر انسٹال ہے۔ زرعی مردم شماری کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا، جو زرعی شعبے کی ترقی کے لیے بنیادی معلومات فراہم کرے گی۔ اس مردم شماری کے ذریعے زرعی پیداوار، وسائل، اور درپیش چیلنجز کے بارے میں اعداد و شمار اکٹھے کیے جائیں گے، جو کہ پالیسی سازی اور فیصلوں میں معاون ثابت ہوں گے۔ ڈپٹی کمشنر مردان ڈاکٹر عظمت اللہ وزیر نے اس اقدام کو علاقے کی زراعت کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔ ڈپٹی کمشنر نے اس موقع پر تمام متعلقہ محکموں اور عملے کو ہدایت کی کہ مردم شماری کے عمل کو شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے مکمل تعاون فراہم کریں۔
زرعی مردم شماری کے یہ نتائج نہ صرف مقامی کسانوں بلکہ زرعی شعبے کی مجموعی ترقی کے لیے بھی انتہائی مفید ثابت ہوں گے۔
پشاور زلمی آج سے پشاور خیبر پختون خواہ میں ٹرائلز کا اغاز کرے گی
نئے سال کی شاندار شروعات، پشاور زلمی آج سے پشاور خیبر پختون خواہ میں ٹرائلز کا اغاز کرے گی۔ پشاور زلمی کل سے پورے خیبر پختو خوا میں کرکٹ پچز کی تیاری کا اغاز بھی کرے گی۔ پاکستان کرکٹ کے بڑے نام سابق کپتان انظمام الحق سابق کپتان محمد یوسف کامران اکمل پشاور زلمی کے ڈائریکٹر کرکٹ محمد اکرم ٹرائلز لیں گے۔ پشاور زلمی کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے ٹرائلز کے لیے ہزاروں نوجوانوں نے رجسٹریشن کی۔
پاکستان سپر لیگ سیزن 10 سے قبل پشاور زلمی نے خیبر پختو نخواہ اور پشاور میں سرگرمیوں کا اغاز کر دیا ۔ پشاور زلمی کے زیر اہتمام آج یکم جنوری سے پشاور میں ٹیلنٹ ہنٹ اور ٹرائلز کا اغاز ہوگا ۔ اوپن ٹرائلز کا آغاز آج ارباب نیاز اسٹیڈیم پشاور میں ہوگا۔ پشاور زلمی پورے خیبر پختو خوا میں کرکٹ پچز کی تیاری کا اغاز بھی کرے گی۔ صوبائی حکومت بھی پشاور زلمی کے ساتھ اس پروگرام میں شراکت داری کر رہی ہے اور صوبائی وزیر کھیل فخر جہاں بھی اس موقع پر موجود ہوں گے۔
اس کے بعد دو اور تین جنوری کو ٹرائلز اور چار اور پانچ جنوری کو شارٹ لسٹ پلئیرز کے میچز حیات آباد اسپورٹس کمپلیکس میں ہوں گے۔ پاکستان کے سابق کپتان انضمام الحق، محمد یوسف ،کامران اکمل اور پشاور زلمی کے ڈائریکٹر کرکٹ محمد اکرم ٹرائلز لیں گے۔ پشاور زلمی کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے ہزاروں نوجوانوں نے ٹرائلز کے رجسٹریشن کروا لی ہے۔ ٹرائلز کے بعد چار اور پانچ جنوری کو شارٹ لسٹ پلیئرز کے میچز بھی کرائے جائیں گے۔
پشاور زلمی کے چیئرمین جاوید افریدی نے اپنے پیغام میں کہا کہ پشاور زلمی و زلمی فاؤنڈیشن ماضی کی طرح گراس روٹ لیول پر کرکٹ کے فروغ کے لیے کام کرتی رہے گی۔ جاوید آفریدی نے کہا کہ پشاور زلمی ایک بار پھر پشاور میں پی ایس ایل میچز کے انعقاد کا مطالبہ کرتی یے اور اس کے لیے کوشاں یے۔ اوپن ٹرائز اور ٹیلنٹ ہنٹ کے ساتھ پشاور زلمی پورے خیبرپختونخواہ میں پچز بھی بنا رہی ہے جس پر نوجوان کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر رہے ہیں۔
پشاور زلمی کے ڈائریکٹر کرکٹ محمد اکرم نے کہا کہ خیبر پختو نخواہ میں کرکٹ کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے اور ہمیں پورا یقین اور امید ہے کہ اس ٹیلنٹ ہنٹ سے بھی مزید نیا ٹیلنٹ سامنے ائے گا۔ پشاور زلمی کے ابھرتے سپر سٹار اور وکٹ کیپر محمد حارث نے بھی اپنے ویڈیو پیغام میں تمام نوجوانوں سے کہا ہے کہ وہ ٹرائلز میں ضرور شریک ہوں اور اس موقع کا فائدہ اٹھائیں۔
خیبرپختونخوا میں جنوری کے پہلے ہفتے کے دوران بارش اور پہاڑوں پر شدید برفباری کا امکان
صوبہ خیبرپختونخوا کے بالائی اضلاع میں جنوری کے پہلے ہفتے کے دوران گرج چمک کے ساتھ بارش/ اور پہاڑوں پر شدید برفباری کا امکان ہے۔ بارشوں و برفباری کا یہ سلسلہ یکم جنوری سے 6 جنوری تک جاری رہنے کی پیشگوئی۔
یکم جنوری سے 5 جنوری کے دوران چترال، دیر، سوات، کوہستان، شانگلہ، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، مالاکنڈ، بونیر، باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، کرم، وزیرستان، پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، صوابی، بنوں، کرک اور کوہاٹ میں گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش/ پہاڑوں پر شدید برفباری کا بھی امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے تمام ضلعی انتظامیہ کو بارش/برفباری کے باعث کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے پیشگی نمٹنے کے لیے مراسلہ جاری کیا گیا۔ کسی بھی نا خوشگوار واقعے سے پیشگی نمٹنے کے لئے ضلعی انتظامیہ کو چھوٹی بڑی مشینری کی دستیابی یقینی بنانے کی بھی ہدایت۔ پی ڈی ایم اے مراسلہ کیا گیا۔ بارشوں کے دوران عوام بجلی کی تاروں، بوسیدہ عمارتوں و تعمیرات، سایئن بورڈز اور بل بورڈز سے دور رہے۔
کسان حضرات موسمیاتی پیش گوئی کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے معمولات ترتیب دیں۔ ۔حساس بالائی علاقوں میں سیاحوں اور مقامی آبادی کو موسمی حالات سے باخبر رہنے کے لیے احتیاتی تدابیر اپنانے کی ہدایت دی گئی۔ حساس اضلاع میں ضلعی انتظامیہ کو مقامی آبادی تک پیغامات مقامی زبانوں میں پہنچائے جائیں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں تمام متعلقہ ادارے روڈ لنکس کی بحالی میں چوکس رہیں اور سڑک کی بندش کی صورت میں ٹریفک کے لئے متبادل راستے فراہم کئے جائیں۔
سیاح موسمی صورتحال اور سڑکوں کی بندش کے پیش نظر سیاحتی مقامات کا رخ کرنے سے پہلے پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن پر رابطہ کریں۔ پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سنٹر مکمل طور پر فعال ہے عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع پی ڈی ایم اے کی فری ہیلپ لاءین 1700 پر دیں۔
پی ڈی ایم اے میڈیا سیل
گورنر خیبرپختونخوا کا نئے سال کی آمد پر قوم کو پیغام
پاکستانی قوم کو نئے سال کی آمد پر بہت ساری دعاؤں کے ساتھ مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ 2024 کا سال ہماری قوم کے لیے آزمائشوں اور کامیابیوں کا سنگ میل ثابت ہوا۔ ہم نے مل کر مشکلات کا مقابلہ کیا اور بے شمار چیلنجز کے باوجود ترقی کی راہیں کھولیں۔ لیکن یہ صرف آغاز ہے، ہمارے سامنے ابھی تکمیل کی منزلیں اور بلند اہداف ہیں۔ ہمیں 2025 میں اپنی مکمل صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھنا ہے، تاکہ ہم اپنے عظیم وطن کو ترقی کی نئی بلندیوں تک لے جا سکیں۔ 2025 کا سال پاکستان کے لیے امید، استحکام اور ترقی کا سال ہے۔ یہ سال ہمارے لیے ایک نیا آغاز اور بہتر مستقبل کی نوید ہے۔ ہمیں اپنے عوام کی فلاح و بہبود، معیشت کی پائیدار ترقی، اور اداروں کی اصلاحات کے لیے بھرپور اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ یہ سال ہمارے نوجوانوں کے لیے مواقع کا سال ہوگا، اور ہمیں مل کر اس قوم کے روشن مستقبل کے لیے راہ ہموار کرنی ہے۔ پاکستان کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ ہم کس طرح اپنے اتحاد، محنت اور وژن سے ایک مضبوط اور خوشحال ملک کی بنیاد رکھتے ہیں۔ فیصل کریم کنڈی
نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے ٹول ٹیکس بڑھا دیا
نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے ٹول ٹیکس بڑھا دیا۔ 5 جنوری سے نئے نرخ کے حساب سے ٹول ٹیکس لیا جائے گا۔ قومی شاہراوں پر موٹرکار سے 60 روپے، ویگن سے 100 روپے اور بس سے 200 روپے ٹول ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ 2 اور 3 ایکسل ٹرک سے 250 روپے اوربڑے ٹرکوں سے 500 روپے ٹول ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ ایم 1، ایم 3، ایم 4 ، ایم 5، ایم 14 اور ای35 پر ٹول ٹیکس میں بھاری اضافہ کردیا گیا۔ اسلام آباد سے پشاور جانے والی ایم ون موٹروے پر کار کا ٹول ٹیکس 460 سے بڑھا 500 روپے کر دیا گیا۔ لاہور سے عبدالحکیم جانے والی ایم تھری پر کار کیلئے ٹول ٹیکس 650 روپے سے بڑھا کر 700 روپے کر دیا گیا۔ پنڈی بھٹیاں سے فیصل آباد اور ملتان جانے والی ایم فور پر کار کیلئے ٹول ٹیکس 850 روپے سے بڑھا کر 950 روپے کر دیا گیا۔ ملتان سے سکھر جانے والی ایم فائیو پر کار کا ٹول ٹیکس ایک ہزار 50 روپے سے بڑھا کر1100 روپے کر دیا گیا۔ ڈی جی خان تا ہکلہ موٹروے ایم چودہ پر ٹول ٹیکس 600 روپے ہوگیا۔ حسن ابدال حویلیاں مانسہرہ ای 35 ٹول ٹیکس 250 روپے ادا کرنا ہوگا۔ ایم 1، ایم 3، ایم 4 ، ایم 5، ایم 14 اور ای35 موٹر وے پر بڑی گاڑیوں کے ٹول ٹیکس 750 سے 5550 روپے کردیا گیا۔
ذو پشاور 2024: 8 کروڑ 65 لاکھ سفر، روزانہ کی بنیاد پر مسافروں کی تعداد 345000
ذو پشاور 2024: 8 کروڑ 65 لاکھ سفر، روزانہ کی بنیاد پر مسافروں کی تعداد 345000
2024 میں 86.5 ملین مسافروں نے ذو پشاور پر سفر کیا، جس میں 30 فیصد خواتین شامل ہیں۔
7500 شکایات کو حل کیا گیا۔ سسٹینبل ٹرانسپورٹ ایوارڈ میں اعزازی تذکرہ
2 لاکھ 40 ہزار سے زائد ذو کارڈز فروخت
ٹرانس پشاور کی جانب سے ذو پشاور کی سالانہ رپورٹ 2024 جاری کر دی گئی ہے، جس کے مطابق اس سال شہریوں نے ذو پشاور بس سروس کو تقریباً 8 کروڑ 65 لاکھ مرتبہ سفر کے لیے استعمال کیا۔ اب تک اس سروس کو مجموعی طور پر 30 کروڑ سے زائد مرتبہ سفر کے لیے استعمال کیا جا چکا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر مسافروں کی تعداد 3 لاکھ 45 ہزار سے تجاوز کر گئی، جن میں تقریباً 30 فیصد خواتین شامل ہیں۔
ذو پشاور نے 2024 میں تین نئے روٹس کا آغاز کیا، جن میں DR-14 (اسلامیہ کالج تا ریگی ماڈل ٹاؤن)، DR14-A (اسلامیہ کالج تا پروفیسر ماڈل ٹاؤن)، اور DR-13 (سردار گڑھی تا پبی) شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ طلبہ کی سہولت کے لیے ER-09, ER-10, ER-12, ER-16 اور SR-08 روٹس پر یونیورسٹی ایکسپریس سروس فراہم کی گئی۔
اس سال ذو پشاور کے بس انڈسٹری ریسٹرکچرنگ پروگرام کو سسٹینبل ٹرانسپورٹ ایوارڈز میں اعزازی تذکرہ حاصل ہوا، جس سے ذو پشاور کے بین الاقوامی ایوارڈز کی مجموعی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔ اسی طرح، تقریباً 2 لاکھ 40 ہزار ذوکارڈز فروخت کیے گئے، جس سے ذوکارڈز کی مجموعی تعداد 19 لاکھ سے زائد ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ، ذو بایئسائیکل شیئرنگ سسٹم پر 2130 نئی رجسٹریشنز ہوئیں، جن میں 17 خواتین شامل ہیں۔ کل ریجسٹریشنز کی تعداد 8 ہزار 9 سو ہو گئی ہے۔
ذو پشاور بایسایئکل شیئرنگ سسٹم کی نادرا سسٹم کے ساتھ انٹیگریشن مکمل کر دی گئی، جس سے اب مسافر نادرا سروس سنٹر جانے کے بجائے بی آر ٹی سٹیشن پر ہی ریجسٹریشن کا عمل مکمل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ذو بایئسائیکل شیئرنگ سسٹم کو تقریباً 2 لاکھ 24 ہزار ٹرپس کے لیے استعمال کیا گیا۔
ٹرانس پشاور کی ترجمان صدف کامل نے کہا: “اس سال ہمارے کال سینٹر کے عملے نے 20,000 شکایات کو حل کیا جبکہ سوشل میڈیا کے ذریعے 3500 سے زائد صارفین کو مطلوبہ رہنمائی فراہم کی گئی۔ اس کے علاوہ، عالمی پلیٹ فارمز پر بھی ذو پشاور کو سراہا گیا۔ انسٹیٹیوٹ فار ٹرانسپورٹ پالیسی اینڈ ڈیولپمنٹ کے سسٹینیبل ٹرانسپورٹ ایوارڈ ویبینار، IMF اور ورلڈ بینک کے زیر اہتمام امریکہ میں منعقدہ کانفرنس، اور ایشین ڈویلیپمنٹ بینک کے زیر اہتمام منیلا میں ہونے والی “مو بلا یئز یور سٹی” کانفرنس میں اس سسٹم کو بطور ایک ماڈل ٹرانزٹ سسٹم پیش کیا گیا ۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “مسافروں کی سہولت کے لیے سٹیشنز پر تین نئی ٹک شاپس کے قیام کے معاہدے کیے گئے ہیں، جس سے کل ٹک شاپس کی تعداد 25 ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ، خصوصی افراد کی بہتر سہولت کے لیے الخدمت فاؤنڈیشن کے تعاون سے سٹیشنز پر 115 وہیل چیئرز فراہم کی گئی ہیں۔”
ذو پشاور نے پشاور شہر کی خوبصورتی میں اضافے کی غرض سے ہشتنگری، یونیورسٹی ٹاؤن، اسلامیہ کالج اور پی ڈی اے انڈر پاسز پر تزین و آرائش کا کام مکمل کیا، جس سے شہر کی جمالیات میں بہتری آئی ہے۔
کیسا ہوگا سال 2025؟
سال 2024 پاکستان کو درپیش چیلنجز اور حالات کے تناظر میں کافی ہنگامہ خیز رہا تاہم دنیا کے متعدد دیگر ممالک کو بھی غیر متوقع حالات کا سامنا کرنا پڑا ۔ پاکستان میں 2024 کے دوران جو مسائل موجود رہے ان کی درجہ بندی اس ترتیب کے ساتھ کی جاسکتی ہے۔
1 : سیاسی عدم استحکام اور کشیدگی
2 : اندرونی سیکیورٹی صورتحال
3 : معاشی عدم استحکام کا تسلسل
4 : ڈیجیٹل دہشتگردی کا فروغ اور ریاست مخالف پروپیگنڈا
5 : فارن پالیسی کے چیلنجر اور عالمی دباؤ
6 : بیڈ گورننس کے معاملات اور اثرات
7 : سماجی بے چینی عدالتی بحران
اگر چہ یہ تمام مسایل کافی عرصے سے چلے آرہے تھے اور ان میں سال 2020 کے بعد اضافہ ہوا تاہم 2024 کے دوران کوششیں کی گئیں کہ بعض تلخ فیصلے لیکر معاملات کو درست سمت میں آگے بڑھنے دیا جائے ۔ اس تناظر میں کہا جاسکتا ہے کہ سال 2024 پچھلے برس یعنی 2023 کے مقابلے میں مقابلتاً بہتر رہا اس ضمن میں سال 2024 کے دوران جو اہم معاملات سلجھانے اور چلانے کے اقدامات سامنے آئے وہ کچھ یوں ہیں۔
1 : ملک میں عام انتخابات کا انعقاد اور اقتدار کی منتقلی
2 : پارلیمانی رکاوٹوں کے باوجود بعض اہم قانون سازی
3 : اعلیٰ عدلیہ میں بڑے پیمانے پر اصلاحات
4 : آئی ایم ایف کے ساتھ مناسب پیکجز پر ڈیلنگ
5 : گزشتہ 5 برسوں کے مقابلے میں دہشتگردی کے خلاف ریکارڈ کارروائیاں
6 : پاکستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کی کانفرنس کا انعقاد
7 : غیر ملکی وفود کے ریکارڈ دورے اور معاہدے
8 : فیک نیوز اور پروپیگنڈا مہم جوئی کے خلاف ممکنہ اقدامات
تلخ زمینی حقائق کے تناظر میں دیکھا جائے تو سال 2024 کے آخری چھ مہینوں کے دوران بہت کچھ کیا گیا اور سیاسی ، معاشی استحکام ، معاملات درست کرنے ک کے لیے سنجیدہ کوششیں کی گئیں۔
اس پس منظر کے پیشِ نظر اگر سال 2025 کے خدشات اور امکانات کا جائزہ لیا جائے تو لگ یہ رہا ہے کہ یہ گزشتہ برس یعنی 2024 کا تسلسل دکھائی دے گا کیونکہ بہت سے مسائل اس برس بھی حل طلب رہیں گے اور بعض نئے چیلنجز بھی درپیش ہوں گے ۔ جن چیلنجز کا پاکستان نئے برس کے دوران سامنا کرسکتا ہے وہ گزشتہ تین چار برسوں کے مسائل سے جڑے ہوئے ہوں گے اس لیے کسی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں کی جاسکتی تاہم اگر مناسب اور وسیع البنیاد اصلاحات اور بہتری کی کوششوں کو جاری رکھا گیا تو مسائل اور چیلنجر میں مزید کمی واقع ہوسکتی ہے ۔ اس ضمن میں پاکستان کو نئے سال کے دوران جو مسائل درپیش ہوں گے ان میں سیکورٹی صورتحال کو بہتر بنانے ، سیاسی کشیدگی کے خاتمے کے اقدامات ، معاشی استحکام کی راہ ہموار کرنے کی پالیسیاں ، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مجوزہ منفی عزائم کی روک تھام کو ممکن بنانے ، افغانستان کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے اقدامات اور بیڈ گورننس کے ایشوز پر قابو پانے والے معاملات شامل ہیں۔
سیکورٹی صورتحال کو بہتر بنانا نہ صرف عوام اور جاری کشیدگی کے خاتمے کے لئے ناگزیر ہے بلکہ یہ چین سمیت بعض دیگر دوست ممالک کے ان معاہدوں اور پراجیکٹس کی تکمیل ، سرمایہ کاری کے لئے بھی لازمی ہے جو کہ پاکستان کا ساتھ دیتے رہے ہیں تاہم امریکہ کی جانب سے تصادم پر مبنی رویوں سے نمٹنے کے لیے بھی غیر معمولی اقدامات کرنا پڑیں گے کیونکہ امریکہ نہ صرف یہ کہ 2025 کے دوران پاکستان کے اندرونی سیاسی معاملات میں مداخلت کے اشارے دینے لگا ہے بلکہ وہ پاکستان کے ایٹمی اور میزائل ٹیکنالوجی کے بارے میں بھی سخت رویہ اختیار کرنے کا ارادہ رکھتا نظر آرہا ہے ۔ پاکستان کے بعض سیاسی حلقے کھلے عام امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو مداخلت کی نہ صرف دعوت دے رہے ہیں بلکہ اس کے لیے راستہ ہموار کرنے میں بھی مصروف ہیں اس لیے ریاست کو ان عناصر پر کڑی نظر رکھنی ہوگی ۔ مستقبل قریب میں سیاسی کشیدگی کی آڑ میں 9 مئی جیسے واقعات کے دوبارہ رونما ہونے کے خدشات اس کے باوجود موجود رہیں گے کہ ریاست نے سال 2024 کے دوران ملٹری ٹرائلز سمیت متعدد دیگر سخت اقدامات بھی کئے اور اسے عالمی دباؤ اور تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
فیک نیوز اور منفی پروپیگنڈا کا چیلنج بھی سیکورٹی مسائل اور عالمی دباؤ کی طرح 2025 کے دوران برقرار رہے گا کیونکہ بہت سے معاملات ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور منفی پروپیگنڈا پر اندرونی اور بیرونی طاقتیں بہت سرمایہ کاری کرتی نظر آرہی ہیں ۔ حال ہی میں 26 نومبر کے واقعات ، پاکستان کی جانب سے افغانستان پر ہونے والی ائیر اسٹرایکس اور پاک افغان سرحد پر ہونے والی جھڑپوں جیسے واقعات کو جس انداز میں مختلف اندرونی اور بیرونی طاقتوں نے پروپیگنڈا ٹولز کے ذریعے ڈیل کرنے کی کوششیں کیں اور سول ادارے حسب معمول ایک بار پھر جس ناکامی اور لاتعلقی پر گامزن دکھائی دیے اس سے مزید بچنے کے لیے ناگزیر اقدامات کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے اور مزید کسی کوتاہی کا ملک متحمل نہیں ہوسکتا اس لیے یہ ایشو بھی بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔
خیبرپختونخوا اور بلوچستان کو بدامنی اور بیڈ گورننس کے جن اثرات اور نتائج کا سامنا ہے اس پر بھی غیر معمولی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہوگی کیونکہ ان دو حساس صوبوں میں نہ صرف یہ یہ دو بڑے مسائل موجود ہیں بلکہ ان صوبوں کو عالمی اور علاقائی پراکسیز کا بھی سامنا ہے ۔ اگر چہ بعض سیاسی قوتیں ، برس اقتدار پارٹیاں اور اہم ادارے ان تمام مسایل اور چینجز کے حل کے لیے کوششوں میں مصروف عمل ہیں تاہم مخالف سرگرمیوں اور قوتوں کی تیاری اور عزائم کے تناظر میں مزید فعالیت اور متحرک کرنے کی ضرورت ہوگی اور اگر بعض بنیادی شکایات اور خدشات کے باوجود بنیادی رویوں اور پالیسیوں پر اجتماعی کوششوں کا آغاز کیا گیا تو کوئی وجہ نہیں کہ سال 2025 پچھلے برسوں کے مقابلے میں بہتر ثابت ہوگا اور بہت سے مسائل تیزی کے ساتھ حل ہونا شروع ہو جایئں گے۔
عقیل یوسفزئی





