Campaign against the Army Chief

 آرمی چیف کے خلاف مہم

آرمی چیف نے گزشتہ دنوں مختلف جامعات کے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ‘‘فسادیوں کوسختی سے کچل دینگے، فتنہ الخوارج دین سے خارج افرادہیں یہ اللہ اوررسولؐ سے جنگ کررہے ہیں اوران سے قرآنی احکامات کے مطابق نمٹا جائیگا۔ پاک فوج روزانہ کی بنیاد پر فتنہ الخوارج سے لڑرہی ہے، قوم اپنی بہادرا فواج کیساتھ کھڑی ہے۔ اسلام نے خواتین کو جو حقوق دئے ہیں وہ دوسرے کسی مذہب نے نہیں دئے۔’’ آرمی چیف کے نوجوانوں سے خطاب کو تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں نے بجاطور پر سراہا ہے جس کی وجہ یہی ہے کہ اس خطاب میں اعتراض والی کوئی بات موجود نہیں بلکہ اس میں ان شرپسندوں کیلئے واضح پیغام ہے جنہیں فتنہ الخوارج کہاجاتاہے اور جو پاکستان کے معصوم شہریوں اور سیکیورٹی فورسز پر بزدلانہ حملوں میں ملوث ہیں اور آگ وخون کا بازار گرم رکھنا ان کا مشغلہ اور وزگار ہے۔

اگر کوئی پاکستانی آرمی چیف فتنہ الخوارج کوسخت پیغام نہیں دینگے تو کس کو دینگے؟ یہ وہ فتنہ ہے جس نے ایک لاکھ کے لگ بھگ پاکستانی شہری اور سیکیورٹی فورسز اہلکاروں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے، ان کا نظریہ خون و خابہ ہے اور بندوق کے زور پر اپنے مذموم ایجنڈے کا نفاذ ہے۔ پاک فوج ان کے مکروہ عزائم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ خطاب فتنہ الخوارج کیلئے واضح پیغام ہے کہ جب تک اس فتنے کا خاتمہ نہیں ہو جاتا، پاک فوج ان کے خلاف لڑرہی ہے اور لڑتی رہے گی۔ پیغام میں چونکہ اعتراض والی کوئی بات نہیں اسلئے ہر مکتبہء فکر نے اسے سراہا مگر ایک سیاسی گروہ یا ٹولہ ایسا ہے جسے نہ ہی آرمی چیف کی دہشت گردوں کو تنبیہ اور للکار اچھی لگتی ہے، نہ ہی ملکی معاشی ترقی ایک آنکھ بھاتی ہے اور نہ ہی آرمی چیف کا کوئی بیرونی دورہ اچھا لگتا ہے بلکہ پاکستان کے حوالے سے کوئی بھی مثبت خبر ان کے سینوں پر مونگ دلنے کیلئے کافی ہے۔

آرمی چیف کے خطاب پر اس سیاسی گروہ یا عرف عام میں انتشاری ٹولے کا ردعمل معقول ہے اور نہ ہی دورۂ برطانیہ پر اس کی جانب سے کئے گئے نام نہاد احتجاج کا کوئی جواز ہے۔ بدقسمتی سے پی ٹی آئی پاکستان کی سیاسی جماعت ہے، اس لحاظ سے اسے اپنی سیاست پاکستان کے اندر کرنا چاہئے جو وہ غلط سلط طریقوں سے کر بھی رہی ہے۔ مگر بیرون ملک احتجاج، خصوصاً آرمی چیف کے دورۂ برطانیہ کے دوران جو احتجاج کیا گیا یہ شرمناک ہے۔ ملک کا کوئی بھی اعلیٰ عہدیدار بیرون ملک پاکستان کا سفیر ہوتا ہے، اسی طرح بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی ملک کے سفیر ہوتے ہیں مگر پی ٹی آئی چونکہ نہ سفارتکاری سے واقف ہے اور نہ ہی اسے سفیر کی اہمیت کا کوئی اندازہ ہے، اسلئے آرمی چیف کے دورۂ برطانیہ کے موقع پر لندن میں احتجاج کا اعلان کیا گیا۔

مقام شکر ہے کہ برطانیہ میں مقیم ڈیڑھ ملین پاکستانیوں نے یہ نامعقول احتجاج مسترد کیا۔ پی ٹی آئی کے چند رہنماؤں، خصوصی طور پر پاکستان کے بھگوڑے اور مفرور شہزاد اکبر نے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا کہ برطانیہ میں آرمی چیف کے خلاف کوئی بڑا مظاہرہ ہو جو پاکستان کیلئے خفت اور ندامت کا باعث بنے مگر برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں نے اس بلاجواز احتجاج پر کان نہیں دھرے جس کے نتیجے میں بمشکل پچاس ساٹھ افراد اس نام نہاد احتجاج میں شریک ہوسکے۔

اسی طرح عمران خان، ان کی بہن علیمہ خان اور اہلیہ بشریٰ بی بی اکثر و بیشتر آرمی چیف پر نت نئے الزامات لگاتے رہتے ہیں۔ کبھی عمران خان کو زہر دینے اور انہیں قتل کرنے کے بے ہودہ الزامات لگائے جاتے ہیں تو کبھی بشریٰ بی بی کو اپنے شوہر نامدار سے توڑنے کا غیر معقول بیان سامنے آتا ہے۔ سوشل میڈیا پر پاک فوج اور آرمی چیف کے خلاف بیہودہ مہم چلائی جاتی ہیں، فوج اور اس کے سربراہ کو سیاسی بیان بازی کا نشانہ بنایا جاتا ہے، الٹے سیدھے اور بے بنیاد الزامات لگائے جاتے ہیں، آرمی چیف کو خطوط لکھے جاتے ہیں جن میں ترلے منتیں کی جاتی ہیں کہ فیض حمید کی طرح سہولت کاری کر کے ججوں کو دباؤ میں لایا جائے، الیکشن کمیشن کو مینیج کیا جائے اور حکومت کو رخصت کر کے پی ٹی آئی کو برسر اقتدار لایا جائے۔

جب یہ بچگانہ، غیر جمہوری اور نامعقول مطالبات پورے نہیں کئے جاتے، سیاسی شعبدہ بازیوں کیلئے لکھے گئے خطوط کا جواب نہیں دیا جاتا تو آرمی چیف کے خلاف سوشل میڈیا مہم چلائی جاتی ہیں، ان کی تضحیک کی جاتی ہے، انہیں سیاست میں ملوث کرنے اور امریکہ سمیت یورپی ممالک میں بدنام کرنے کی مذموم کوششیں کی جاتی ہیں۔ سیاست کے نام پر پاک فوج کا مورال گرانے کی کوششیں کی جاتی ہیں جو قابل مذمت ہیں۔ پی ٹی آئی کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ پاک فوج ایک منظم اور مضبوط ادارہ ہے۔ اسے ان اوچھی حرکتوں سے مرعوب کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی امیج پر کوئی برا اثر پڑ سکتا ہے۔

پی ٹی آئی سے قبل دیگر سیاسی رہنماؤں اور جماعتوں پر بھی برا وقت آچکا ہے، دیگر قائدین بھی پابند سلاسل رہے ہیں مگر کسی نے فوج کی امیج پر اس طرح ضرب لگانے کی کوشش نہیں کی۔ اسلئے کہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ فوج ملکی سلامتی کی ضامن ہے۔ بانی پی ٹی آئی کو بھی یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ان حرکات سے پی ٹی آئی کو پہلے کوئی فیض حاصل ہوسکا ہے اور نہ ہی آئندہ اس کا کوئی امکان ہے۔ اسلئے ان مذموم حرکات سے باز آ جانا چاہئے۔

کسی سیاسی جماعت نے سیاست کرنی ہے تو ملک میں ایشوز کی کمی نہیں۔ آرمی چیف کے نام کو سیاست کیلئے استعمال کرنا قابل مذمت فعل ہے۔ اس قسم کی اوچھی حرکتوں سے اجتناب برتنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو بھی آرمی چیف کے خلاف سوشل میڈیا مہم اور سیاسی بیان بازیوں کا نوٹس لے کر ان مذموم حرکات میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہئے۔ قوم اپنی بہادر افواج سے بے پناہ محبت کرتی ہے اور آرمی چیف کے خلاف مہم چلانے والوں کا محاسبہ چاہتی ہے۔ امید ہے حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر توجہ دے گی اور ملک دشمن عناصر کی سرکوبی کیلئے اپنا بہترین کردار ادا کرے گی۔

وصال محمد خان

Abu Dhabi Crown Prince Sheikh Khalid bin Muhammad bin Zayed Al Nahyan arrived in Pakistan

ابو ظبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان پاکستان پہنچ گئے 

ابو ظبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان سرکارے دورے پر پاکستان پہنچے ہیں جہاں نور خان ائیربیس پر وزیراعظم شہباز شریف، صدر آصف زرداری اور خاتون اول آصفہ بھٹو نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔ ابوظبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان کو وزیراعظم ہاؤس میں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔ ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان کے ہمراہ اعلیٰ سطحی وفد بھی دورے پر آیا ہے۔ اس دورے کے دوران مفاہمت کی یادداشتوں اور دیگر کاروباری معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے۔

Organization of academic session and exhibition on Sirat-ul-Nabi at KMU

کے ایم یو میں سیرت النبیﷺ پرعلمی نشست اور نمائش کاانعقاد

خیبر میڈیکل یونیورسٹی (کے ایم یو)پشاور میں سیرت النبیﷺ پر ایک علمی و فکری نشست منعقد ہوئی جس میں اسلامی اقدار کے فروغ اور طلبہ کی جذباتی و روحانی تربیت کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر خیبر میڈیکل یونیورسٹی اور البُرہان کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پربھی دستخط کیے گئےجس کا مقصد دونوں اداروں کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد اسلامی اقدار کی ترویج، سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں اخلاقی ترقی اور طلبہ کی جذباتی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔مفاہمتی یادداشت پر کے ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق اور البرہان کے سربراہ مفتی عدنان کاکاخیل نے اپنے اپنے اداروں کی جانب سے دستخط کیئے۔ واضح رہے کہ البُرہان ایک نمایاں علمی، اخلاقی اور اسلامی ادارہ ہےجسے معروف عالم دین مفتی سید عدنان کاکا خیل نے 2016 میں قائم کیاتھا۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد تعلیم، تزکیہ نفس، اخلاقی اصلاح اور خدمت خلق ہے۔ البُرہان مختلف تعلیمی اور تربیتی شعبے چلاتا ہے جن میں مجلسِ تعلیم، مجلسِ سیرت، مجلسِ شباب اور مجلسِ علماء شامل ہیں۔ ادارے کی پاکستان کے 15 شہروں میں شاخیں موجود ہیں جہاں ایک سالہ اسلامیات کورس، اعلیٰ درجے کے کورسز، درسِ نظامی اور مختلف دینی و اصلاحی تربیتی نشستیں کامیابی سے منعقد کی جاتی ہیں۔ بعد ازاں یونیورسٹی کے ڈاکٹر حفیظ اللہ ہال میں طلباء،اساتذہ اور ایڈمن سٹاف کی ایک بڑی تعداد سے بطورمہمان مقرر سیرت النبیﷺ پرخطاب میں معروف اسلامی اسکالر مفتی سید عدنان کاکا خیل نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں موجودہ دور کے چیلنجز پر گفتگو کی اور طلبہ کو زندگی کے مختلف پہلوؤں میں دینی اصولوں کو اپنانے کی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانیت کے لیے بہترین نمونہ ہیں اور آپ کی سیرت ہر طبقے کے افراد کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے مغربی معاشروں کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہاں دین کو ترک کر دیا گیا ہے اور ذاتی خواہشات کو اجتماعی اخلاقی و روحانی اقدار پر ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام محض چند عبادات یا رسومات کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ انہوں نے قرآن کریم کی آیت “ادخلوا فی السلم کافة” (البقرہ: 208) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصولوں کو اپنانا ناگزیر ہے۔ مفتی سید عدنان کاکا خیل نے کہا کہ طب ایک مقدس پیشہ ہے اور اس کے ذریعے انسانیت کی بے لوث خدمت کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے ڈاکٹروں پر زور دیا کہ وہ صرف جسمانی علاج تک محدود نہ رہیں بلکہ روحانی رہنمائی میں بھی کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ لوگ طبی ماہرین کی باتوں کو خصوصی توجہ سے سنتے ہیں اس لیے ڈاکٹر معاشرتی اصلاح اور دینی اقدار کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر یہ پیشہ محض مالی منفعت کے لیے اختیار کیا جائے تو یہ دنیا اور آخرت میں مشکلات کا سبب بن سکتا ہےلیکن اگر خدمتِ خلق کی نیت سے اپنایا جائے تو یہ دائمی کامیابی اور اجر کا ذریعہ بن سکتا ہے۔دریں اثناء یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے کہاہے کہ خیبر میڈیکل یونیورسٹی اور البُرہان کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کا بنیادی مقصد طلبہ اور اساتذہ کو دین کی صحیح تفہیم فراہم کرنا، اسلامی تعلیمات کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کی ترغیب دینا اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں جذباتی و روحانی نشوونما کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت کے ایم یو میں مختلف تعلیمی، اصلاحی اور فکری نشستوں کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ طلبہ کو دینی اور دنیاوی علوم میں توازن قائم رکھنے کی رہنمائی فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس شراکت داری سے کے ایم یو کے طلبہ اور اساتذہ بھرپور فائدہ اٹھائیں گےاور وہ اپنے علم، اخلاق اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید نکھاریں گے اور معاشرے کی بہتری میں ایک تعمیری کردار ادا کریں گے۔ اس موقع پر یونویورسٹی میں سیرت النبیﷺ سے متعلق مختلف سٹالز بھی لگائے تھے جس میں طلباء نے خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بڑی تعداد میں شرکت کی۔#

Approval of Ramadan and Eid package for deserving families of Khyber Pakhtunkhwa

خیبرپختونخوا کے مستحق خاندانوں کیلئے رمضان اور عید پیکیج کی منظوری

خیبر پختونخوا حکومت نے گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی رمضان اور عید پیکج دینے کا فیصلہ کیا ہے. یہ پیکج صوبے کے مستحق خاندانوں کو فراہم کیا جائے گا. ہر مستحق خاندان کو 10 ہزار روپے دیے جائیں گے. صوبے کے 10 لاکھ سے زائد مستحق خاندانوں کو امدادی پیکج فراہم کیا جائے گا. امدادی پیکج 15 رمضان سے پہلے بینکوں اور ایزی پیسہ کے ذریعے شفاف طریقے سے مستحق خاندانوں تک پہنچائی جائے گی. بینک اور ڈسبرسنگ چارجز صوبائی حکومت خود برداشت کرے گی تاکہ مستحق افراد کو پوری رقم ملے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ امدادی پیکج مکمل شفافیت کے ساتھ مستحق افراد تک پہنچایا جائے۔ وزیراعلی نے یتیم اور دہشت گردی سے متاثرہ افراد کو ترجیحی بنیادوں پر پیکج فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ صوبے کے تمام خواجہ سراوں کو بھی ترجیحی بنیادوں پر امدادی پیکج فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

Peshawar: Spring planting campaign begins

پشاور: موسم بہار کی شجرکاری مہم کا آغاز

صوبائی حکومت کی ہدایات کے تحت پشاور میں موسم بہار شجرکاری مہم زور و شور سے جاری ہے۔ ڈپٹی کمشنر پشاور کی سربراہی میں انڈسٹریل اسٹیٹ حیات آباد میں 1400 سے زائد پودے لگائے گئے۔ اس موقع پر ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر حسینہ خان، محکمہ جنگلات کے افسران، اکنامک زون حکام، اساتذہ، طلبہ، تاجر، عوامی نمائندگان اور مقامی افراد کی بڑی تعداد موجود تھی، جنہوں نے شجرکاری مہم میں بھرپور حصہ لیا۔ ڈپٹی کمشنر پشاور نے شجرکاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پشاور کو سرسبز بنانے کیلئے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔ May be an image of 4 people and text

ڈپٹی کمشنر پشاورکا کہناتھا کہ موسم بہار شجرکاری مہم کے دوران پشاور بھر میں آٹھ لاکھ سے زائد پودے لگائے جائیں گے تاکہ ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے اور شہر کو مزید خوبصورت بنانے میں مدد ملے۔ درخت نہ صرف آلودگی کم کرنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ آکسیجن فراہم کرنے اور درجہ حرارت متوازن رکھنے میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔ طلبہ اور نوجوانوں کو شجرکاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ترغیب دیتے ہوئے۔ “ہم سب کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ نہ صرف زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں گے بلکہ ان کی حفاظت بھی یقینی بنائیں گے تاکہ پشاور ایک سرسبز اور خوبصورت شہر بن سکے۔” مقامی افراد کو بھی گھروں، دفاتر اور گلی محلوں میں درخت لگانے کی روایت کو فروغ دینے پر زور دیا اور کہا کہ عوامی شمولیت کے بغیر کسی بھی ماحولیاتی مہم کی کامیابی ممکن نہیں۔ ڈپٹی کمشنر پشاور نے محکمہ جنگلات، ریونیو اہلکاروں، اساتذہ اور طلبہ کے جوش و خروش کو سراہا اور کہا کہ ضلعی انتظامیہ پشاور شجرکاری مہم کی کامیابی کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔

بلین پلس ٹری مہم

بلین پلس ٹری مہم; نوشہرہ کو 10ہزار سے زاٸد مختلف اقسام کے پودے فراہم

بلین پلس ٹری مہم کے تحت موسم بہار شجرکاری کے سلسلے میں ضلعی انتظامیہ نوشہرہ کی جانب سے محکمہ تعلیم نوشہرہ کو 10ہزار سے زاٸد مختلف اقسام کے پودے فراہم کٸے گٸے۔ ڈپٹی کمشنرنوشہرہ عرفان اللہ محسود نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر میل شاہجہان اور اسسٹنٹ ڈی ای او نوشہرہ کو پانچ پانچ ہزار مختلف انواع واقسام پودے حوالے کٸے۔ بلین ٹری پلس مہم کے تحت امسال موسم بہار میں یہ پودے پراٸمری, مڈل, ہاٸی اور ہاٸیر سیکنڈری سکولزمیں لگاٸے جاٸیں گے۔ اس موقع ڈپٹی کمشنر نوشہرہ کا کہنا تھا کہ شجرکاری کی اس مہم میں اپنے آنے والے محفوظ مستقبل کیلٸے اپنے حصے کا کم از کم ایک ایک پودا ضرور لگانا چاہٸے کیونکہ اس سے نہ صرف ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے بلکہ آلودگی کم کرنے، زمین کے کٹاؤ کو روکنے اور حیاتیاتی تنوع کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے سکولز میں زیر تعلیم بچوں اور بچیوں کیلٸے اپنے پیغام میں کہا کہ شجرکاری مہم میں حصہ لے کر ہم خود اور اپنی آنے والی نسلوں کو ایک صحت مند اور سرسبز ماحول دے سکتے ہیں۔ اس لیے ہمیں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے اور ان کی حفاظت کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ لگایا گیا پودا بڑھ کر ایک تناور درخت بن سکے۔

Screenshot_1

آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے 6 سال مکمل

مشہور زمانہ آپریشن ” سوفٹ ریٹارٹ ” کو آج 27 فروری کو 6 سال مکمل ہوگئے ہیں اور اس آپریشن پر پاکستانی اور بھارتی میڈیا کے علاوہ عالمی میڈیا میں بھی تبصرے اور تجزیے پیش کیے جارہے ہیں ۔ پاکستان کے ریاستی عہدے داروں اور مختلف سیاسی لیڈروں کے علاوہ اس موقع کی مناسبت سے افواج پاکستان کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے نہ صرف یہ کہ ایک تفصیلی بیان جاری کیا ہے بلکہ ایک نغمہ بھی تیار کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ 6 برس قبل آج ہی کے دن پاکستان کی مسلح افواج خصوصاً پاک فضائیہ نے مہارت اور جرات کا بہترین مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کو بھرپور جواب دیا اور یہ ثابت کیا کہ پاکستان کی افواج اپنی مٹی ، عوام اور سرحدوں کا نہ صرف یہ کہ دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر دشمن کے خلاف ہر قسم کی کامیاب جواب اور ردعمل کی جرات بھی رکھتی ہیں ۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان خطے اور عالمی امن کے قیام اور استحکام میں بھرپور کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے تاہم پاکستان کی افواج 27 فروری کی طرح ہر قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب رکھنے کی طاقت اور صلاحیت بھی رکھتی ہیں ۔ کہا گیا ہے کہ پاک فضائیہ نے اس دن اپنی صلاحیتوں اور مہارت کا بہترین مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف پاکستان کے دفاع کو یقینی بنایا بلکہ اپنے ملک اور عوام کا سر فخر سے بلند کیا۔

6 برس قبل بھارتی قابض کشمیر میں ” پانامہ اٹیک ” کے نام پر ایک حملہ کیا گیا جس کی ذمہ داری مودی سرکار نے فوری طور پر پاکستان پر ڈالنے کی مہم چلائی اور عوام کے علاوہ بھارتی میڈیا نے بھی اپنی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس دباؤ سے نکلنے کے لیے خیبرپختونخوا کے ہزارہ ڈویژن میں ” بالاکوٹ ایئر سٹرایک ” کے نام پر بھارتی طیاروں نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کے جنگی طیاروں نے بالاکوٹ میں موجود ” دہشت گرد کیمپوں” کو نشانہ بنایا ہے۔ بھارت میں اس فالس آپریشن پر بڑا جشن منایا گیا جبکہ پاکستان کا موقف رہا کہ بھارتی طیاروں نے کسی کیمپ یا ابادی کی بجائے اپنے عوام اور میڈیا کی ” تسلی” کے لیے خالی جنگل میں چند بم گرائے اور جب بھارتی فضائیہ کو پاکستان فضائیہ کی نقل و حرکت کی اطلاعات ملیں تو بھارتی طیارے پاکستان کی حدود سے بھاگ گئے اور اس جلد بازی میں انہوں نے اپنے ایک ہیلی کاپٹر کو بھی نشانہ بنایا جس کے تباہ ہونے کی خبر اگلے دن معتبر امریکی اخبار ” نیویارک ٹائمز ” نے مزید دیگر تفصیلات کے ساتھ نمایاں طور پر شامل کی ۔ نیویارک ٹائمز نے یہ بھی لکھا کہ مبینہ بھارتی حملے کا ایک مقصد تو یہ تھا کہ اپنے عوام کا غصہ کم کریں اور دوسرا یہ کہ مودی کی پارٹی کو اس وقت کی جاری انتخابی مہم کے دوران فایدہ پہنچایا جائے۔

نامور بھارتی صحافی اور تجزیہ کار اشوک سوائن سمیت متعدد دیگر نے بھی بھارتی دعووں کو غلط قرار دیکر بری طرح مسترد کردیا جبکہ خطے کی سیکیورٹی معاملات پر گہری نظر رکھنے والی مشہور امریکی صحافی کرسٹینا فیر اور سی این این کے دو اہم میزبانوں نے بھی بھارت کے اس دعوے کو جھوٹ قرار دیا کہ اس کی فضائیہ نے کسی پاکستانی طیارے کو مار گرایا ہے یا یہ کہ اس نے کسی ٹریننگ سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ پاکستان نے رسمی طور پر بھارتی دعووں کے ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا مگر دوسری جانب سے خاموشی اختیار کی گئی۔ اگلے روز پتہ چلا کہ پاکستان فضائیہ نے دو بھارتی جنگی طیاروں کو مار گرایا ہے اور ان میں سے ایک طیارے کے پائلٹ سکواڈرن لیڈر ابھی نندن کو پاکستانی حدود میں اس کے جہاز گرانے کے بعد گرفتار بھی کرلیا ہے۔ مغربی میڈیا نے 27 فروری کو یہ دعویٰ بھی کیا کہ پاکستان ایئر فورس نے مقبوضہ کشمیر میں گھس کر بعض بھارتی ٹھکانوں ، چیک پوسٹوں اور ایر بیسز کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ ابھی نندن کی گرفتاری نے بھارت کو نہ صرف اس کی فضائیہ کی صلاحیت پر سخت ردعمل اور تنقید سے دوچار کیا بلکہ بھارتی ” جشن ” کو ماتم میں تبدیل کردیا اور عالمی سطح پر بھارت کو سخت سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔

بھارت کے اندر حالات اس قدر خراب ہوگئے کہ بھارت کو جنگی طیارے فراہم کرنے والے ممالک اور ان کی مینوفیکچرنگ کمپنیوں پر آن دی ریکارڈ سوالات اٹھائے جانے لگے اور فرانس ، روس نے باقاعدہ وضاحتیں پیش کیں۔ کھلے عام کہا اور لکھا جانے لگا کہ پاکستان کی ائیر فورس بھارت سے بہتر ہے اور یہ کہ بھارتی طیارے ، پایلٹس پاکستان کی فضائی ٹیکنالوجی اور صلاحیت کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔

پاکستان نے ابھی نندن کو پورے عالمی پروٹوکول کے ساتھ علاج کی سہولیات فراہم کیں اور جب بھارتی رابطوں کے نتیجے میں بعض دوست ممالک کی رابطہ کاری اور درخواست پر ابھی نندن کو پورے اعزاز کے ساتھ واہگہ بارڈر کے ذریعے بھارتی حکام کے حوالے کردیا گیا تو عالمی میڈیا نے اس پورے عمل اور رویہ کی کافی ستائش کی۔

بعد میں جو رپورٹس سامنے آئیں ان کے مطابق پاکستان نے امریکی حکومت کے رابطوں کے دوران بھارت کو وارننگ دی تھی کہ اگر اس نے بالاکوٹ حملے کی طرح ابھی نندن کی گرفتاری کے بعد ایسی دوسری کوئی کوشش کی تو پاکستان کی جانب سے اسے باقاعدہ جنگ کا آغاز سمجھ کر جواب دیا جائے گا۔ عالمی میڈیا کی اس وقت کی رپورٹس کے مطابق پاکستان کو مزید کارروائیوں سے امریکہ کے علاوہ دوست ملک چین نے بھی منع کیا تھا کیونکہ مزید کشیدگی کی صورت میں ایٹمی جنگ کے خطرات خطے پر منڈلانے لگے تھے۔ اس تمام پراسیس کے دوران گرفتار ہونے والے سکوارڈن لیڈر ابھی نندن کا وہ بیان پوری دنیا میں مشہور ہوا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ” ٹی واز فنٹاسٹک”۔

حال ہی میں جب نریندر مودی امریکہ کے دورے پر گئے اور انہوں نے وہاں بھارتی فضائیہ کے لیے امریکہ سے جنگی طیارے خریدنے کا اعلان کیا تو بھارتی میڈیا نے اس بیان پر کیے گئے اپنے تجزیوں میں 27 فروری کا بطور خاص ذکر کرتے ہوئے متعدد بار خود اعتراف کیا کہ اس دن بھارتی فضائیہ کی ساکھ ، قوت اور ٹریننگ کو سخت دھچکا لگا تھا اور پاکستانی فضائیہ نے اس ایونٹ کو ” لیڈ ” کیا تھا۔
عقیل یوسفزئی