عقیل یوسفزئی
خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ کی واضح ہدایات کے نتیجے میں سوات ، نوشہرہ اور خیبرپختونخوا کے متعدد دیگر علاقوں میں تجاوزات اور قبضہ مافیاز کے خلاف آپریشن شروع کئے گئے ہیں اور بعض اہم حکومتی اور سیاسی شخصیات کی جائیدادوں پر بھی ” ہاتھ ” ڈالا گیا ہے ۔ سوات میں گزشتہ دو تین دنوں کے دوران دو پکنک اسپاٹس یا پارکوں سمیت دریا کنارے واقع ان درجنوں ہوٹلز اور مارکیٹوں کے ان حصوں کو گرایا گیا جو کہ خلاف قانون تجاوزات کے زمرے میں آتے تھے ۔ ڈپٹی کمشنر سوات کے مطابق وفاقی وزیر امیر مقام کے ایک ہوٹل کا ایک حصہ بھی مسمار کردیا گیا ہے اور یہ کہ تجاوزات کے خاتمے کی اس مہم میں نہ تو کے ساتھ رعایت برتی جائے گی اور نہ ہی کسی دباؤ کو خاطر میں لایا جائے گا ۔ امیر مقام کے ایک رشتہ دار سمیت متعدد دیگر ” متاثرین” نے ان اقدامات کو سیاسی انتقام کا نام دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کی تعمیرات یا عمارات عین قانون کے مطابق ہیں اور یہ کہ ان کے پاس درکار این او سیز موجود ہیں۔
یہاں تک تو بات ٹھیک ہو سکتی ہے کہ ان سب کے پاس این او سیز اور دیگر دستاویزات موجود ہوں گی تاہم اس بات سے کیسے اور کیونکر اتفاق کیا جاسکتا ہے قبضہ مافیاز کے ان طاقتور عناصر نے واقعتاً قانونی تقاضوں کے مطابق ہی این او سیز حاصل کی ہوں گی یا ریور اور بلڈنگز ایکٹ کے تقاضوں کو پورا کیا ہوگا ۔ عمارات کی ساخت اور حدود کو دیکھ کر کوئی ” اندھا” بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ ہوٹل مافیاز نے طاقت اور دولت کے زور پر قوانین کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی ہیں اور وقت آگیا ہے کہ بلا تفریق ان عناصر پر ہاتھ ڈالا جائے اور یہ مہم محض سوات یا نوشہرہ تک محدود نہ رکھی جائے۔
ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ ماضی میں جن بیوروکریٹس نے سفارش ، دباؤ یا رشوت کے نتیجے میں درجنوں ہوٹلز اور بلڈنگز کو این او سیز جاری کی ہیں ان پر مضبوط ہاتھ ڈالا جائے اور ساتھ میں ٹمبر مافیا اور کرش مافیا کو بھی نشان عبرت بنادیا جائے کیونکہ یہ تمام عناصر خود کو کسی کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھتے اور یہ سب ان معصوم سیاحوں کے ” قاتل” ہیں جن کو فضا گٹ کے مقام پر گزشتہ روز دریائے سوات بہاکر لے گیا ہے۔
موجودہ صوبائی حکومت کی نااہلی اور غفلت اپنی جگہ اور ذمہ داران کا تعین بہت ضروری مگر اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ مافیاز کو کسی قیمت پر معاف نہیں کیا جائے کیونکہ ان لوگوں نے سیاحت کے اس بڑے مرکز کو برباد اور بدنام کرکے رکھ دیا ہے اور یہ عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔
مشاہدہ میں آرہا ہے کہ ہوٹلز ایسوسی ایشن اور بعض دیگر بلیک میلرز کے ذریعے جاری مہم کے خلاف کاروبار کے دفاع کے نام پر بیانات آنا شروع ہوگئے ہیں اور اس معاملے پر پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ بھی جاری ہے تاہم ان تمام کوششوں اور ہتھکنڈوں کو خاطر میں لائے بغیر آپریشن جاری رکھنے کی ضرورت ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو اس مہم کے دوران حکومت کا ساتھ دینا چاہیے کیونکہ ایسا کرنا مافیاز کو کنٹرول کرنے اور سیاحت ، سیاحوں کے تحفظ اور فروغ کے لیے اب ناگزیر ہوگیا ہے۔
مخصوص نشستوں کا نظرثانی فیصلہ
وصال محمد خان
سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے مخصوص نشستوں کے کیس میں نظرثانی کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے 12 جولائی 2024 کو کیا گیا فل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا اور پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ جس سے پی ٹی آئی قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں سے محروم ہوگئی ہے۔ 8 فروری 2024 انتخابات کے بعد مخصوص نشستوں کیلئے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا۔ ہائیکورٹ نے مخصوص نشستوں پر پی ٹی آئی یا سنی اتحاد کونسل کا مؤقف تسلیم نہیں کیا کیونکہ یہ صورتحال بالکل واضح اور غیر مبہم تھی کہ گزشتہ انتخابات کے دوران پی ٹی آئی سے انٹرا پارٹی انتخابات نہ کروانے کی پاداش میں صرف انتخابی نشان واپس لیا گیا تھا، انتخابات میں اس کی شمولیت پر پابندی نہیں تھی۔ مگر پی ٹی آئی نے اپنے آزاد ارکان کو سنی اتحاد کونسل میں شامل کروایا، جس کا مطلب یہی لیا جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی کو سنی اتحاد کونسل میں ضم کر لیا گیا۔
دوسری جانب جس سنی اتحاد کونسل میں پی ٹی آئی کو ضم کیا گیا اس نے بذات خود انتخابات میں حصہ نہیں لیا اور نہ ہی الیکشن کمیشن کے پاس مخصوص نشستوں کیلئے نام جمع کروائے۔ جس سے آئینی طور پر سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں تھی۔ مگر پی ٹی آئی بضد تھی کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دی جائیں چاہے اس نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا، اس کا ایک بھی ٹکٹ ہولڈر اسمبلی نہیں پہنچا، حتیٰ کہ اس کے سربراہ نے بھی آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا۔ اس صورتحال میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ بالکل درست اور قانون کے عین مطابق تھا کہ سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں۔
اس فیصلے کے خلاف سنی اتحاد کونسل نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جہاں حیرت انگیز طور پر اس کی سماعت کیلئے فل کورٹ تشکیل دیا گیا جس نے سنی اتحاد کونسل کی درخواست تو مسترد کر دی مگر مخصوص سمیت جنرل نشستیں بھی پی ٹی آئی کو دے دی۔ حالانکہ اس کیس میں پی ٹی آئی فریق ہی نہیں تھی۔ اپیل سنی اتحاد کونسل کی تھی جو مسترد کر دی گئی اور تمام ارکان کو پندرہ دن کا وقت دیا گیا کہ وہ پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر لیں۔ جس پر ماہرین آئین و قانون نے تعجب کا اظہار کیا کہ ایک تو اس کیس میں جو جماعت درخواست گزار نہیں تھی اسے ریلیف فراہم کیا گیا، دوسرے آزاد ارکان کو آئین تین دن میں کسی بھی سیاسی جماعت میں شمولیت کا پابند بناتا ہے مگر یہاں سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کرنے والوں کو چھ ماہ بعد ایک اور موقع دیا گیا کہ وہ کسی جماعت میں پندرہ دن کے اندر شامل ہو جائیں۔ جسے آئین کو دوبارہ تحریر کرنا یا سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو پھیلانے سے تعبیر کیا گیا۔
اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دی گئی جسے 26ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے سننا تھا۔ آئینی بنچ طویل سماعتوں اور وکلا کے دلائل کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ پی ٹی آئی نے جان بوجھ کر آئینی تقاضوں سے انحراف کیا کیونکہ اس سے محض نشان واپس لیا گیا تھا، انتخابات میں حصہ لینے پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ اس کے ارکان منتخب ہونے کے بعد اپنی ہی پارٹی میں شمولیت اختیار کر سکتے تھے، جیسا کہ 2021 سینیٹ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) سے نشان لیا گیا تھا مگر اس کے ارکان آزاد حیثیت سے کامیاب ہو کر اپنی جماعت کا حصہ بن گئے۔
مگر پی ٹی آئی نے حیرت انگیز طور پر اپنے ارکان کیلئے ایک دوسری جماعت کرایہ پر حاصل کر لی۔ تحریک انصاف بضد ہے کہ مخصوص نشستیں اس کا حق ہیں مگر اس کیلئے اس کے پاس کوئی دلیل یا آئینی جواز موجود نہیں۔ بس اس کی شدید خواہش ہے کہ مخصوص نشستیں اسے دی جائیں۔ اس کی خواہش تو یہ بھی ہے کہ گزشتہ انتخابات میں اس نے 180 نشستیں جیتی ہیں اور یہ تمام نشستیں اسے دی جائیں۔ مگر فیصلے خواہشوں پر نہیں، آئین کے تحت دئیے جاتے ہیں۔ نظرثانی کیس میں سپریم کورٹ آئینی بنچ کے دئیے گئے فیصلے سے قومی اسمبلی میں حکومتی اتحاد کو واضح طور پر دو تہائی اکثریت حاصل ہو چکی ہے جبکہ اس سے خیبرپختونخوا اسمبلی میں بھی دلچسپ صورتحال نے جنم لیا ہے۔
پختونخوا اسمبلی میں حکمران جماعت کو 93 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ 145 رکنی ایوان میں سادہ اکثریت کیلئے 73 ارکان درکار ہیں۔ پی ٹی آئی کو جن 93 ارکان کی حمایت حاصل ہے ان میں 58 کا تعلق اسی جماعت سے ہے جبکہ 35 ارکان اگرچہ اسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں سابق سپیکر، موجودہ ڈپٹی سپیکر، کئی وزرا، مشیر اور معاونین خصوصی بھی شامل ہیں، جو تحریک انصاف کے ساتھ دیرینہ وابستگی رکھتے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں حکومت کی تبدیلی کے بارے میں افواہیں گرم ہیں مگر یہ تب ممکن ہے جب 35 آزاد ارکان حکومتی تعاون سے ہاتھ کھینچ لیں۔ اس صورت میں حکومت اپنی اکثریت کھو دے گی اور اگر یہی ارکان اپوزیشن سے جا ملتے ہیں تو اپوزیشن، جسے نظرثانی فیصلے سے قبل 27 ارکان کی حمایت حاصل تھی، اگر 21 خواتین اور 4 اقلیتی ارکان کی مخصوص نشستیں بھی اپوزیشن کو الاٹ کی جاتی ہیں تو اس کے حامی ارکان کی تعداد 52 تک پہنچ جائے گی، جسے حکومت سازی کیلئے مزید 21 ارکان درکار ہوں گے۔ 35 آزاد میں سے اگر 21 ارکان حکومت سے اپنا رشتہ ختم کرتے ہیں تو اس صورت میں علی امین گنڈاپور کی حکومت کا خاتمہ ممکن ہے۔
مگر نظر بظاہر تو اس کے امکانات خاصے کم ہیں کیونکہ 35 آزاد ارکان میں بیشتر تحریک انصاف کے نظریاتی ارکان سمجھے جاتے ہیں، ان میں سے کچھ مسلسل تیسری بار وزارت سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ جن میں منسٹر ہائر ایجوکیشن مینا خان، سوات سے ڈاکٹر امجد اور فضل حکیم، نوشہرہ سے خلیق الرحمان، سابق سپیکر مشتاق غنی، ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی اور اس طرح کے دیگر بہت سے ارکان ہیں، جن کے بارے میں دعوے سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ تحریک انصاف حکومت گرانے میں شامل ہوں گے۔
مگر اپوزیشن جماعتیں خصوصاً مسلم لیگ ن کے ڈاکٹر عباداللہ، جو صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بھی ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ وہ حکومت گرانے کی پوزیشن میں آ چکے ہیں۔ اسی طرح جے یو آئی کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ نئی حکومت کے اتحاد میں شامل ہونے کیلئے تیار ہے۔ اگر یہ تمام دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو علی امین گنڈاپور چند ہفتوں کے مہمان ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو یہ پاکستانی سیاسی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہو گا۔
اس کی ذمہ داری اگرچہ پی ٹی آئی قائدین وفاقی حکومت، عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ پر ڈال رہی ہے مگر یہ کوتاہی اس کی اپنی ہے۔ اس کے پاس نہ ماہرین آئین موجود تھے، نہ سیاسی کھلاڑیوں کا ساتھ حاصل تھا، اور نہ ہی اس کے قائدین الیکشن رولز سے آگاہ تھے۔ اپنی کوتاہیوں کو دوسروں پر الزامات سے پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے، مگر اب پچھتاتے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔
اس میں دو رائے نہیں کہ سپریم کورٹ آئینی بنچ کی جانب سے مخصوص نشستوں کا نظرثانی فیصلہ آئین کے عین مطابق ہے۔
خیبرپختونخوا کے وزیر کھیل سے انڈر 23 ورلڈ سکواش چیمپیئن نور زمان کی ملاقات
خیبرپختونخوا کے وزیر کھیل سے انڈر 23 ورلڈ سکواش چیمپیئن نور زمان نے ملاقات کی۔ وزیر کھیل سید فخر جہان نے نور زمان کو 5 لاکھ روپے نقد انعام سے نوازا۔ نور زمان نے عالمی سطح پر پاکستان کا پرچم بلند کیا، وزیر کھیل نے مبارکباد
نور زمان جیسے کھلاڑی قوم کا فخر ہیں۔ خیبرپختونخوا حکومت باصلاحیت کھلاڑیوں کی سرپرستی جاری رکھے گی۔ کھلاڑیوں کو قومی و عالمی سطح پر مواقع دینا حکومت کی ترجیح ہے۔ عمران خان اور وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے وژن کے مطابق کھیلوں کا فروغ یقینی بنائیں گے۔ نوجوان کھلاڑی ملک کا نام روشن کریں، حکومت بھرپور معاونت جاری رکھے گی۔ سید فخر جہان
تین روزہ لائف اسکلز سمر کیمپ اختتام پذیر
ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ افیئرز خیبرپختونخوا کے تعاون سے ایوبیہ کی خوبصورت وادیوں میں تین روزہ لائف اسکلز سمر کیمپ کا کامیاب انعقاد کیا گیا۔ اس کیمپ میں خیبر پختونخوا بالخصوص ضم اضلاع سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے شرکت کی جنہیں فطرت سے بھرپور ماحول میں اپنی ذاتی و پیشہ ورانہ مہارتوں کو نکھارنے کا نایاب اور قیمتی موقع فراہم کیا گیا۔ یہ سمر کیمپ نوجوان تبدیلی لانے والوں (چینج میکرز) کی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا جس میں مختلف اشتراکی سیشنز اور ورکشاپ شامل تھے۔ کیمپ میں ذہنی صحت و تندرستی، ماحولیاتی شعور، کاروباری صلاحیت اور اختراعی سوچ، پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) سے آگاہی پر خصوصی نشستیں منعقد کی گئیں۔ڈائریکٹر یوتھ افیئرز خیبرپختونخوا ڈاکٹر نعمان مجاہد نے کیمپ میں نوجوانوں کے جوش و جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ افیئرز ضم شدہ اضلاع کے نوجوانوں کے لیے ایسے مثبت اور بامقصد اقدامات کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھے گا تاکہ انہیں قومی ترقی کے دھارے میں مؤثر کردار ادا کرنے کے مواقع میسر آ سکیں. شرکاء نے گروہی سرگرمیوں، مکالماتی نشستوں اور عملی مشقوں میں بھرپور حصہ لیا جن کا مقصد نوجوانوں کی خود اعتمادی، سماجی شعور اور مستقبل کی تیاری کو فروغ دینا تھا۔ ماہر ٹرینرز کی رہنمائی اور قدرتی ماحول کی موجودگی نے نوجوانوں کو نہ صرف سیکھنے کا موقع فراہم کیا بلکہ باہمی تعلقات مضبوط بنانے میں بھی مدد دی۔