Field Marshal Syed Asim Munir visits National Defense University Islamabad

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کا دورہ

چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو) اسلام آباد کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے فارغ التحصیل افسران سے خطاب کرتے ہوئے علاقائی سیکیورٹی، پاکستان کی عسکری حکمت عملی اور بھارت کی حالیہ ناکام کارروائیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

فیلڈ مارشل نے اس موقع پر سول و عسکری اداروں کے مابین ہم آہنگی کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے تمام اداروں کا ہم آہنگ کردار ناگزیر ہے۔

Field Marshal Syed Asim Munir visits National Defense University Islamabad

انہوں نے بھارت کے حالیہ “آپریشن سندور” کی ناکامی کو نمایاں کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی اپنی عسکری ناکامیوں کو چھپانے کے لیے غیر منطقی توجیہات پیش کر رہا ہے، جو درحقیقت اس کی کمزور آپریشنل تیاری اور ناقص اسٹریٹجک بصیرت کو بے نقاب کرتا ہے۔

فیلڈ مارشل نے واضح کیا کہ بھارت کی جانب سے “آپریشن بنیان مرصوص” میں پاکستان کی کامیابی کو بیرونی مدد سے جوڑنا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ حقائق کے بھی منافی ہے۔ ایسے بیانات دراصل پاکستان کی دہائیوں پر محیط مقامی تیاری، مضبوط اداروں اور اسٹریٹجک سمجھ بوجھ پر مبنی کامیابیوں کو تسلیم کرنے سے روایتی ہچکچاہٹ کا اظہار ہیں۔

انہوں نے بھارت کی اس کوشش کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ دو طرفہ فوجی تصادم کو بین الاقوامی رنگ دے کر خطے میں خود ساختہ “نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر” کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ یہ ناکام کوشش ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب خطے کے اکثر ممالک بھارت کے جارحانہ اور ہندوتوا پر مبنی نظریات سے نالاں ہیں۔

اس کے برعکس، پاکستان نے ہمیشہ اصولی سفارت کاری، باہمی احترام اور دیرپا امن کی بنیاد پر عالمی برادری سے تعلقات استوار کیے ہیں، اور خود کو ایک “نیٹ ریجنل اسٹیبلائزر” کے طور پر منوایا ہے۔

فیلڈ مارشل نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت یا مہم جوئی کا فوری، شدید اور منہ توڑ جواب دے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کی خودمختاری، آبادی کے مراکز، فوجی اڈوں، اقتصادی اثاثوں یا بندرگاہوں پر کسی بھی حملے کا جواب نہ صرف سخت بلکہ سوچ سے بڑھ کر تکلیف دہ اور گہرا ہوگا۔ اس کشیدگی کی تمام تر ذمہ داری بھارت پر عائد ہوگی، جو ایک ایٹمی ریاست کے خلاف غیر ذمہ دارانہ جارحیت کے ممکنہ تباہ کن نتائج کا ادراک کرنے میں ناکام ہے۔

فیلڈ مارشل نے اپنے خطاب میں کہا کہ جنگیں میڈیا کی بیان بازی، درآمد شدہ ہتھیاروں یا سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ مضبوط یقین، پیشہ ورانہ مہارت، ادارہ جاتی صلاحیت اور قومی عزم سے جیتی جاتی ہیں۔

آخر میں، انہوں نے پاکستان کی مسلح افواج کی جنگی تیاری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور جذبے پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے فارغ التحصیل افسران پر زور دیا کہ وہ دیانتداری، بے لوث خدمت اور قوم سے غیر متزلزل وفاداری کو اپنا شعار بنائیں۔

kp-cm-ali-amin-gandapur-reaffirms-solidarity-with-kashmiri-1738747635-5838

کیا گنڈاپور حکومت خطرے میں ہے؟

کیا گنڈاپور حکومت خطرے میں ہے؟

جب سے سپریم کورٹ آئینی بنچ نے مخصوص نشستوں کا نظرثانی فیصلہ جاری کیا ہے تب سے خیبرپختونخوا میں حکومت کی تبدیلی بارے افواہیں تسلسل سے پھیل رہی ہیں۔ اس سلسلے میں صوبائی اسمبلی کی اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن اور گورنر فیصل کریم کنڈی کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔ اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباداللہ کی جانب سے متعدد بار دعویٰ کیا گیا ہے کہ مخصوص نشستوں کا فیصلہ آنے کے بعد صوبائی اسمبلی میں حکومتی جماعت اکثریت کا اعتماد کھو چکی ہے اور اب ارکان کی اکثریت ہمارے پاس ہے۔ جبکہ گورنر اور وزیراعلیٰ کے درمیان چپقلش گزشتہ سال ڈیڑھ سال سے جاری ہے۔ دونوں اعلیٰ عہدیدار اکثر و بیشتر ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی سے دل کا بھڑاس نکالتے ہیں۔ اس سلسلے میں کبھی کبھار شدت بھی آ جاتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں گورنر انیکسی سے گورنر کو بے دخل کیا اور یہ حصہ تحریک انصاف کے ارکان پارلیمان کو دیدیا گیا جبکہ ان کی جانب سے ایسے بیانات بھی سامنے آئے کہ وہ گورنر ہاؤس سے بھی فیصل کریم کنڈی کو بے دخل کر سکتے ہیں، ان کے فنڈز بند کیے جائیں گے، انہیں پٹرول کے لیے پیسے نہیں دیے جائیں گے یا اس طرح کے دیگر ان گنت بڑھک نما بیانات جاری ہوتے رہتے ہیں جس سے دونوں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے روایتی حریف ہیں اور ایک دوسرے کی صورتیں دیکھنے کے بھی روادار نہیں۔

مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ آئینی بنچ نے جو فیصلہ دیا ہے اس کے تحت سنی اتحاد کونسل اور پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کے حقدار نہیں۔ جس کے بعد صوبائی اسمبلی کی 25 مخصوص نشستیں اسمبلی میں موجود دیگر جماعتوں میں تقسیم کر دی گئیں۔ جس پر اپوزیشن جماعتیں آپس میں بھی دست و گریباں ہیں اور تاحال تین جماعتیں پی ٹی آئی پارلمنٹیرینز، اے این پی اور مسلم لیگ ن پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کر چکی ہیں کہ ہمیں مخصوص نشستوں میں حصہ بقدر جثہ نہیں ملا۔ عام انتخابات کے بعد جب مخصوص نشستیں اپوزیشن کو الاٹ کرنے کی باری آئی تو اے این پی کو اس کی جیتی ہوئی ایک نشست پر ایک مخصوص نشست جبکہ پی ٹی آئی پی کو دو نشستوں پر ایک نشست دے دی گئی۔ ازاں بعد مخصوص نشستوں کے حوالے سے سنی اتحاد کونسل نے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا جہاں سے فیصلہ خلاف آنے پر بات سپریم کورٹ تک پہنچی۔ سپریم کورٹ آئینی بنچ کا فیصلہ آنے پر اے این پی نے دو نشستوں پر دو مخصوص نشستوں کے دعوے کے لیے جبکہ پی ٹی آئی پی نے ایک نشست کی جگہ دو نشستوں کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کیا بعد میں یہ درخواستیں واپس لے لی گئیں۔ مگر اب مسلم لیگ ن نے کم نشستیں ملنے پر ہائیکورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ ن لیگ کا مؤقف ہے کہ اسے سات نشستوں پر آٹھ مخصوص نشستیں دی گئی جبکہ جے یو آئی کو سات نشستوں پر دس نشستیں الاٹ کر دی گئی ہیں۔ نظر بظاہر واقعی یہ کھلا تضاد ہے جب دونوں جماعتوں کے ارکان برابر ہیں تو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے میں اتنا بڑا اور واضح فرق کیونکر ہے؟ اس معاملے پر ہائیکورٹ سے کیا جواب ملتا ہے یا الیکشن کمیشن سے کیا توجیح پیش کی جاتی ہے یہ تو چند دن میں واضح ہو جائے گا۔

مگر مخصوص نشستیں اپوزیشن کو الاٹ ہونے سے اس کے ارکان کی تعداد 27 سے بڑھ کر 52 ہو گئی۔ یعنی 145 رکنی ایوان میں اسے حکومت گرانے کیلئے مزید 21 ارکان کی ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی کے 58 ارکان سنی اتحاد کونسل کا حصہ بن چکے ہیں جبکہ 35 کے لگ بھگ ارکان نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کرنے کی بجائے آزاد رہنا مناسب سمجھا۔ ان 35 ارکان میں بعض تو صوبائی حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز ہیں مگر اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ ان میں بیشتر کی وفاداری اس کے ساتھ وابستہ ہو چکی ہے۔ اپوزیشن کا یہ دعویٰ فی الحال تو بے وقت کی راگنی کے سوا کچھ نہیں کیونکہ اپوزیشن کے پاس تاحال صرف 27 ارکان ہیں۔ مخصوص نشستیں اگرچہ الیکشن کمیشن نے تو الاٹ کر دی ہیں مگر ان ارکان نے تاحال حلف نہیں اٹھایا کیونکہ یکم جولائی کو ہونے والا اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کیا جا چکا ہے جس کا مقصد ہی یہی ہے کہ اپوزیشن کے ارکان حلف نہ اٹھا سکیں۔ مخصوص نشستوں کا فیصلہ آنے پر اپوزیشن کو طاقت کا انجکشن لگ چکا ہے اور اس کے ارکان بیٹھے بٹھائے دوگنے ہو گئے ہیں مگر اس کے باوجود یہ حکومت گرانے کی پوزیشن میں نہیں۔ اس مقصد کیلئے مزید 21 ارکان درکار ہونگے جبکہ اپوزیشن کی اپنی صفوں میں بھی اتحاد کا فقدان نظر آ رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے عمران خان کو جیل میں پیغام بھجوایا ہے کہ وہ ان کی حکومت گرانے میں تعاون نہیں کریں گے۔ اسی طرح اے این پی نے بھی غیر آئینی طریقے یا ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے حکومت گرانے سے خود کو دور رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ بلکہ اے این پی کے سینئر راہنما اور سابق وزیراعلیٰ امیر حیدر ہوتی سے منسوب بیان سامنے آیا ہے کہ مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دی جائیں اور اپنی پارٹی کو یہ نشست لینے سے انکار کا مشورہ دیا گیا ہے۔ جے یو آئی کے پاس 19 جبکہ اے این پی کے پاس 3 ارکان ہیں۔ اپوزیشن اگر ان 22 ارکان کو ساتھ ملانے میں ناکام رہتی ہے تو حکومت گرانا اس کے بس سے باہر ہو جاتا ہے۔ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں بھی بغاوت کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔ آزاد ارکان سمیت سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کرنے والے ارکان متحد نظر آ رہے ہیں۔ گنڈاپور حکومت گرانے میں اپوزیشن بذات خود متحد نہیں تو یہ حکومتی ارکان کو کیا ساتھ ملا سکے گی؟

دوسرے مولانا فضل الرحمان نے بھی اگر عمران خان کو از خود یقین دہانی کروائی ہے تو اس کے بھی کئی پہلو ہو سکتے ہیں۔ صوبائی اسمبلی میں حکومتی ارکان کے اتحاد اور اپوزیشن کے انتشار سے واضح ہو رہا ہے کہ فی الحال گنڈاپور حکومت کو کم از کم صوبائی اپوزیشن سے کوئی سنجیدہ خطرہ لاحق نہیں اسی لئے علی امین گنڈاپور بھی پراعتماد انداز میں اپوزیشن اور گورنر کو چیلنج کر رہے ہیں بلکہ وفاق کو بھی رگید رہے ہیں کہ “کسی میں دم نہیں جو میری حکومت گرا سکے”۔ صوبائی اسمبلی میں پارٹی پوزیشن تو واضح ہے مگر 21 جولائی کو شیڈول سینیٹ انتخابات سے مزید واضح ہو جائے گا کہ کس کو کتنے ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ ویسے تو ارکان سلپ ہونے کے حوالے سے پی ٹی آئی کا سابقہ ریکارڈ خاصا خراب ہے۔ 2018 سینیٹ انتخابات میں اس کے 22 ارکان پر ووٹ فروخت کرنے کا اجتماعی الزام لگا تھا۔ 21 جولائی کو ممکنہ سینیٹ انتخابات گنڈاپور حکومت کیلئے لٹمس پیپر ہے۔ اگر پی ٹی آئی ارکان 2018ء والی تاریخ دہراتے ہیں تو اس سے یقیناً گنڈاپور حکومت خطرے سے دوچار ہو سکتی ہے۔ اور اگر وہ اپنے ارکان کو متحد رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو حکومت کو بھی کوئی خطرہ درپیش نہیں۔

عوامی مجبوری یا سہولت کاری ؟

عوامی مجبوری یا سہولت کاری؟

عقیل یوسفزئی
کالعدم ٹی ٹی پی اور اس کے اتحادی گروپوں نے جون کے ریکارڈ حملوں کے بعد جولائی 2025 کے پہلے ہفتے کے دوران بھی مسلسل حملے جاری رکھے۔ یہاں تک کہ عاشورہ کے دوران 9 محرم کو بھی متعدد کارروائیاں کیں جس کے نتیجے میں نہ صرف فورسز بلکہ بنوں میں ایک جرگے کے سربراہ کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ دوسری جانب پنجاب کے علاقے تونسہ شریف کو رواں برس کے دوران ساتویں بار نشانہ بنایا گیا۔ اس سلسلے میں 5 جولائی کو تونسہ شریف میں ایک جھڑپ کے نتیجے میں 4 حملہ آوروں کو ہلاک کردیا گیا۔ اسی روز خیبرپختونخوا کے بنوں میں ایک مقامی رہنما اور جرگہ کے سربراہ عید نواز خان کو یرغمال بنانے یا اغواء کرنے کے لیے ٹیپو گل گروپ نے حملہ کیا جس کی نہ صرف جرگہ ارکان بلکہ عام لوگوں نے بھی مسلح مزاحمت کی، اس جھڑپ میں ایک شہری جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے مگر اغواء کی کوشش ناکام بنادی گئی ۔ سی روز سرائے نورنگ میں سی ٹی ڈی کی ایک کارروائی میں تین سے چار دہشت گرد ہلاک کیے گئے جبکہ وزیرستان اور بعض دیگر علاقوں سے بھی دو طرفہ کارروائیوں اور جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

ان واقعات سے دو دن قبل پشاور کے علاقے ریگی للمہ میں ایک پولیس چوکی کو دو گرینیڈ دھماکوں کا نشانہ بنایا گیا ۔ اس علاقے میں اس سے قبل بھی اس نوعیت کے حملے ہوتے رہے ہیں۔

پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کو جولائی کے پہلے ہفتے میں اس وقت ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی جب شمالی وزیرستان کے علاقے حسن خیل میں فورسز نے کہا کرتے ہوئے افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کرنے والے ایک بڑے گروپ کا راستہ روک کر 2 اہم کمانڈروں سمیت 30 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا جبکہ بعض دیگر آپریشن بھی کیے گئے تاہم حملوں کا سلسلہ پھر بھی جاری رہا اور بعض علاقوں میں حکومت کو کرفیو لگانے کے اقدامات اٹھانے پڑے۔

جولائی ہی کے ابتدائی دنوں میں داعش خراسان نے باجوڑ میں ایک سرکاری گاڑی کو بم دھماکہ سے اڑایا جس کے نتیجے میں اسسٹنٹ کمشنر اسماعیل سمیت تین دیگر سرکاری افسران شہید ہوگئے ۔ اس حملے میں دو راہگیر بھی شہید ہوئے جبکہ 18 دیگر عام شہری زخمی ہوئے ۔ اس تمام عرصے کے دوران صوبے کے مختلف علاقوں میں مسلح طالبان گروپوں کی گشت کی ویڈیوز سامنے آتی رہیں جس کے باعث عوام میں خوف پھیلنا شروع ہوگیا اور اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے وزیرستان اور دو تین دیگر اضلاع میں فل اسکیل آپریشن کرنے کی اطلاعات گردش کرنے لگیں۔ ان اطلاعات اور ممکنہ آپریشنز کے خلاف 4 جولائی کو شمالی وزیرستان کے میر علی میں ایک بڑا عوامی اجتماع منعقد ہوا جس میں ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ بڑی تعداد میں شریک ہوئے ۔ شرکاء نے کسی مجوزہ آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے کہا عوام کو دہشتگردی اور بدامنی سے بچانا ریاست کی ذمہ داری ہے اس لیے وہ عوام کو تحفظ فراہم کرے۔ اس ایونٹ میں بھرپور شرکت اور سوشل میڈیا کمپین چلانے پر پشتون تحفظ موومنٹ پر سیکیورٹی حلقوں کی جانب سے سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا اور موقف اختیار کیا گیا کہ پی ٹی ایم اور بعض دیگر گروپ حملہ اور طالبان گروپوں کو سیاسی سپورٹ اور سہولت کاری فراہم کررہے ہیں ۔ اسی تناظر میں کالعدم ٹی ٹی پی نے ایک بیان جاری کیا جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ قبائلی علاقوں میں آپریشن کرکے یہاں کے وسائل پر قبضہ کرنے کا راستہ ہموار کررہی ہے ۔ کچھ ایسا ہی بیانیہ پی ٹی ایم اور بعض دیگر پارٹیوں کے بیانات میں بھی سامنے آیا۔

اسی دوران اس قسم کی اطلاعات بھی موصول ہونے لگیں کہ پاکستان افغانستان کے بعض سرحدی علاقوں میں مبینہ طور پر موجود بعض ان ٹھکانوں کو ایئر سٹرایکس کے ذریعے حملے کرنے کی پلاننگ کررہا ہے جہاں سے پاکستان پر حملوں کی پلاننگ اور ریکروٹنگ ہوتی ہیں۔

اس تمام صورتحال کے تناظر میں ماہرین خدشہ ظاہر کرنے لگے کہ پاکستانی ریاست اور فوج مستقبل قریب میں بعض سخت اقدامات کرنے پر مشاورت کررہی ہیں اور اس ضمن میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بڑے پیمانے پر فل اسکیل ملٹری آپریشن کیے جاسکتے ہیں ۔ ماہرین اس پیچیدہ اور تشویشناک صورتحال کے دوران پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی ” پرو طالبان” پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ کہتے پائے گئے کہ اس کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر بھی عائد ہوتی ہے تاہم بے شمار سیاسی ورکرز اور میڈیا پرسنز وفاقی حکومت کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھاتے دکھائی دیے ۔
( 6 جولائی 2025 )