Police Shuhadaa

مہمند میں شہداء کو خراج عقیدت، قبروں پر حاضری، قومی پرچم کشائی

ڈی پی او مہمند اکرام اللہ کی خصوصی ہدایات پر ڈی ایس پی سرکل امبار پشم گل خان کی نگرانی میں پولیس نے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔
ایس ایچ او تھانہ امبار خان رحمان، ایس آئی نیاز گل خان اور دیگر پولیس اہلکاروں نے شہید پولیس اہلکاروں کی قبروں پر حاضری دی، فاتحہ خوانی کی اور قبروں پر پھول چڑھائے۔

اس موقع پر قومی پرچم بھی لہرایا گیا اور شہداء کی قربانیوں کو سراہا گیا۔
ایس ایچ او خان رحمان اور ایس آئی نیاز گل خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ شہداء کی قربانیاں قوم کا فخر ہیں اور ان کی یاد کو ہمیشہ زندہ رکھا جائے گا۔

تقریب کا اختتام معروف قول “شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے” کے ساتھ ہوا۔

Seminar organized by Election Commission in Orakzai emphasizes electoral participation of all classes

اورکزئی میں الیکشن کمیشن کے زیر اہتمام سیمینار، تمام طبقات کی انتخابی شمولیت پر زور

ضلعی الیکشن کمشنر آفس اورکزئی میں “انتخابی عمل میں تمام طبقات کی شرکت” کے موضوع پر ایک اہم سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار کی صدارت الیکشن کمشنر شوکت حسین نے کی، جبکہ تقریب میں سرکاری افسران، طلباء، نوجوان، پیشہ ور افراد اور سول سوسائٹی کے نمائندے بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔

سیمینار میں ووٹر بیداری، پالیسی سازی میں شمولیت اور ووٹر ٹرن آؤٹ بڑھانے کی حکمت عملیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔
ضلعی الیکشن کمشنر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “جمہوریت کے استحکام میں تمام طبقات کا فعال کردار ضروری ہے۔ ان کی انتخابی شمولیت ایک جامع اور نمائندہ طرزِ حکمرانی کی بنیاد رکھتی ہے۔”

تقریب کے اختتام پر شرکاء سے پرزور اپیل کی گئی کہ وہ اپنے ووٹ کے حق کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں اور انتخابی عمل میں دوسروں کو بھی شریک کرنے کے لیے آگاہی پھیلائیں۔
اس موقع پر ضلعی الیکشن کمشنر شوکت حسین نے شرکاء میں ووٹر رجسٹریشن فارم بھی تقسیم کیے اور شکریہ ادا کیا۔

Governor KP

خیبر پختونخوا کو تجارتی گیٹ وے بنانے سے متعلق گورنر ہاؤس پشاور میں اہم کانفرنس

گورنر ہاؤس پشاور میں خیبر پختونخوا کی وسط ایشیائی ممالک اور پڑوسی ریاستوں تک تجارتی استعداد کو فروغ دینے سے متعلق ایک اہم کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔
کانفرنس میں وسط ایشیائی ریاستوں کے سفراء، ایران اور افغانستان کے قونصل جنرلز، خیبر چیمبر آف کامرس کے صدر، TDAP کے ڈائریکٹر، جیمالوجیکل انسٹیٹیوٹ کے چیئرمین، یونائیٹڈ بزنس گروپ کے رہنما ایس ایم تنویر سمیت مختلف کاروباری شخصیات اور سفارتی نمائندوں نے شرکت کی۔

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے کانفرنس سے خطاب کیا اور شرکاء کو گورنر ہاؤس آمد پر خوش آمدید کہا۔
اپنے خطاب میں گورنر نے کانفرنس کے انعقاد پر خیبر چیمبر آف کامرس اور TDAP کو مبارکباد دی اور کہا کہ “آج کی کانفرنس خیبر پختونخوا کی اقتصادی ترقی کیلئے تجارتی راہداریوں کے مواقع پیدا کرنے کا ایک اہم سنگ میل ہے۔”

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کا جغرافیائی محل وقوع اور سات سرحدی بارڈرز اسے تجارتی سرگرمیوں کیلئے خاص اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “وسط ایشیائی ممالک تک تجارتی رسائی صرف خیبرپختونخوا ہی نہیں بلکہ پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔”

گورنر نے کہا کہ سرمایہ کاری اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے حکومت پرعزم ہے اور تمام اداروں کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ تجارتی سہولیات میں بہتری لائی جا سکے۔

APC by KP CM

حکومتی آل پارٹیز کانفرنس

وصال محمدخان

صوبائی حکومت نے اپنی نگرانی میں ایک آل پارٹیزکانفرنس منعقدکی۔جس میں صوبے کی بڑی اپوزیشن جماعتوں جے یوآئی،مسلم لیگ ن،پیپلزپارٹی اوراے این پی نے شرکت سے معذرت کرلی جبکہ قومی وطن پارٹی،جماعت اسلامی اورجے یوآئی س کے نمائندے شریک ہو ئے۔کانفرنس کے بعدوزیراعلٰی نے جس قسم کااعلامیہ جاری کیایاجوپریس کانفرنس کی اس سے اے پی سی میں شرکت نہ کرنیوالی جماعتوں کامؤقف درست ثابت ہوا۔وزیراعلیٰ نے جس دھمکی آ میزلہجے میں وفاقی حکومت،وفاقی وزرا،فوج اورانٹیلی جنس ایجنسیوں پرتنقیدکی اور  تضادات سے بھرپورگفتگوکی اس سے یقیناًاے پی سی میں شرکت کرنیوالی جماعتیں بھی متفق نہیں ہونگیں مگرشائدیہ دنیاکی واحداے پی سی تھی جس کاکوئی مشترکہ اعلامیہ جاری ہونیکی بجائے وزیراعلیٰ نے پریس کانفرنس کی اوراپنی جماعت کے چیئرمین سمیت چنددیگرافرادکو دائیں با ئیں بٹھایاجنہیں زبان کھولنے کاموقع بھی فراہم کرنیکی زحمت گوارانہیں کی گئی۔وزیراعلیٰ نے گڈاوربیڈطالبان کے حوالے سے جو مؤقف اپنایا یہ حیران کن طورپرمضحکہ خیزہے ایک جانب انہوں نے فرمایاکہ صوبے میں امن وامان کی ذمہ داری ہماری پولیس نبھاسکتی ہے جبکہ دوسر ی جانب کہاگیاکہ وفاق یافوج سرحدوں کوسنبھالیں۔اگرصوبائی حکومت دہشت گردی پرقابوپانے اوراس کاقلع قمع کرنیکی صلاحیت سے مالامال ہے تویہ صلاحیتیں بروئے کارلانے میں کونساامرمانع ہے؟ صوبے میں روزانہ کے حساب سے دہشت گردی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں،سیاسی اورمذہبی شخصیات نشانہ بن رہی ہیں، چیک پوسٹوں پرحملوں اورٹارگٹ کلنگ میں پولیس جوان نشانہ بن رہے ہیں فوجی کانوائے پرحملے ہورہے ہیں،کمشنرز،اسسٹنٹ کمشنرز،تحصیلداراورڈسٹرکٹ پولیس افیسرزتک زخمی اورجاں بحق ہورہے ہیں مگر صوبائی حکومت کے پاس دہشت گردوں سے نمٹنے کی جوصلاحیت ہے اسے بروئے کارنہیں لایاجارہا۔ یہ باورکروانے کیلئے اے پی سی بلائی گئی کہ صوبائی حکومت وفاقی حکومت یافوج کی محتاج نہیں تواگرصوبائی حکومت کے پاس صلاحیتیں موجودہیں اوروہ دہشت گردی پرقابو پا سکتی ہے تو دیرکس بات کی اوراجازت کس کی درکارہے؟غیرسنجیدہ اورلاابالی پن کی بھی حدہوتی ہے ایک صوبائی حکومت فوج اور وفاقی حکومت کو محض بیان بازی کانشانہ بنانے کیلئے اے پی سی منعقد کررہی ہے اوراس میں یہ اعلان ہورہاہے کہ صوبائی حکومت اوراسکی پولیس دہشت گردوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے مگردوسری جانب روزانہ کے حساب سے دہشت گردی کی کارروائیاں جاری ہیں دہشت گردوں کامقابلہ فوجی جوان کررہے ہیں اوران مقابلوں کے دوران ویسے توہزاروں مگرگنڈاپوردورِحکومت میں بھی سینکڑوں جوان اپنی جانیں قربان کرچکے ہیں۔ بقول وزیراعلیٰ یہ قربانیاں رائیگاں جارہی ہیں اور اس سے بہترطریقہ وزیراعلیٰ کے پاس موجودہے جوانہوں نے اپنی جیب خاص میں چھپا کر رکھا ہے۔مذکورہ اے پی سی کاکوئی خاطرخواہ نتیجہ کیابرآمدہوناہے اسکی آڑمیں وزیراعلیٰ نے اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کی اسے اے پی سی کانام دینا اے پی سی کی توہین ہے اس کیلئے نہ توباقاعدہ طورپردیگرسیاسی قوتوں کومدعوکیاگیا،نہ کوئی ایجنڈا جاری کیاگیااورنہ ہی مسائل کا کوئی حل پیش کیاگیا۔واٹس ایپ پوسٹ کے ذریعے بادل نخواستہ طریقے سے قدآورسیاسی راہنماؤں کودعوت دی گئی جس سے واضح ہورہا ہے کہ حکومت دیگرجماعتوں کی شرکت کیلئے سنجیدہ نہیں تھی کیونکہ اگردیگرجماعتیں شرکت کرتیں تواسطرح کابھو نڈاا اوربے مقصدعلامیہ جار ی نہ ہوتا۔فوج اوردیگرسیکیورٹی فورسزکی قربانیوں اورشہادتوں کوخراج تحسین پیش کرنیکی بجائے انٹیلی جنس ایجنسیو ں تنقیدکانشانہ بنایا گیا اوران پرالزامات عائدکئے گئے بلکہ ذراواضح الفاظ میں دہشت گردوں کی ترجمانی کی گئی۔وزیراعلیٰ جوخودبھی نقل وحرکت کیلئے فوج اور سیکیورٹی اداروں کے محتاج ہیں انہوں نے انہی اداروں کوتنقیدکانشانہ بناتے ہوئے کہاکہ یہ کام وہ بخوبی انجام دے سکتے ہیں۔ آپریشن کی اجازت نہ دینے کابیان تودہشت گردوں کی کھلی حمایت ہے کسی وزیراعلیٰ کوزیب نہیں دیتاکہ وہ شہدا کی بجائے دہشت گردوں کی حمایت میں زبان کھولیں نجانے پی ٹی آئی راہنمااورخصوصی طورپروزیراعلیٰ گنڈاپوردہشت گردوں کے حق میں بیان جاری کرکے کیاحاصل کرناچاہتے ہیں۔انہوں نے اعلامئے میں وزیرخارجہ اوروزیرداخلہ دونوں کوبے جاتنقیدکانشانہ بنایا۔یہ امرباعث تعجب ہے کہ وزیراعلٰی ہمیشہ آئینی عہدیدا روں کوبے جاتنقیدکانشانہ بناتے ہیں حالانکہ جس نظام کے تحت وہ ایک صوبے کے چیف ایگزیکٹیوہیں اسی نظام کے طفیل وفاقی وزرا بھی عہدوں پرفائزہیں۔ گورنرتوانکے خصوصی نشانے پررہتے ہیں مگراس کیلئے کہاجاسکتاہے کہ یہ دونوں روایتی حریف ہیں مگروزیرخارجہ کواس وقت تنقیدکانشانہ بنانا جب وہ غیرملکی دورے پرہوں اوریہی روئیہ وزیرداخلہ کے حوالے سے بھی اپناناغیرسنجیدہ اورلاابالی پن ہے۔ وزیر داخلہ نے اپنے ٹویٹ پیغام میں جونپاتلاجواب دیاہے امیدہے اس سے وزیراعلٰی کے چودہ طبق روشن ہوچکے ہونگے۔جووزیراعلٰی اپنے ضلع کے حالات سدھارنے سے قاصرہیں جن پردہشت گردوں کوبھتے دینے کے الزامات ہیں وہ کیمروں اورمائیکس کے سامنے ہوش و حواس کھودیتے ہیں اورفوج سمیت ریاستی عہدیداروں پربھی بلاجوازتنقیدکرتے ہیں اوربے بنیادالزامات لگاتے ہیں۔درحقیقت صوبے کے سب سے بڑے عہدے پرفائزعلی امین گنڈاپور نہ تواس عہدے کے تقاضوں سے واقف ہیں اورنہ ہی انہیں اپنی ذمہ داریوں کااحسا س ہے بلکہ انکی سیاست اب بھی بلدیاتی اورگلی محلے طرزکی سیاست ہے۔آئے روز ریاست مخالف بیانات کوانہوں نے اپناوطیرہ بنالیاہے جو کسی طوردرست طرزعمل نہیں۔اگرآپ کوآپریشن کے حوالے سے تحفظات ہیں تو اس کیلئے متعددفورمزموجودہیں جن میں آپ شرکت بھی کرتے رہتے ہیں وہاں اپنانقطہ نظرپیش کرنے سے کس نے روکاہے؟۔ اے پی سی بلانااوراسکی آڑمیں دشمن کی زبان بولنا کہاں کی عقلمندی ہے؟بیانات بھی دہشتگردی کے خلاف برسرپیکاران فورسزکے خلاف دئے جاتے ہیں جن کے سبب آپ ٹانگیں پھیلاکرآرام فرماتے ہیں۔مقام افسوس ہے کہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ دہشت گردوں کوللکارنے کی بجائے ان سے برسرپیکاراپنے محافظوں کامورال گرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں جواس عہدے کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔

PTI resolution against security forces

سیکیورٹی فورسز کے خلاف پی ٹی آئی کی قرارداد

عقیل یوسفزئی
صوبے کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی نے ایک ہنگامی قرارداد میں مطالبہ کیا ہے کہ پاکستانی فوج کے دستے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے نکل جائیں اور صوبے کی سیکیورٹی معاملات پولیس فورس کے حوالے کیے جائیں ۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج طلب کرنے کے اختیار اور آپشن پر نہ صرف نظر ثانی کرے بلکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ عوامی شکایات کے ازالے کے طور پر فوجی دستوں کی بیرکس میں واپسی کو ممکن بنایا جائے ۔
مذکورہ قرارداد میں فوج کے بارے میں ایسے سخت الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جو کہ شاید کالعدم ٹی ٹی پی اور بلوچ لبریشن آرمی نے بھی کھبی استعمال کئے ہو ۔ قرارداد میں یہاں تک کہا گیا ہے کہ پاک فوج ہی صوبے کی ” بدامنی” کی ذمہ دار ہے ۔ اگر اس ” قرارداد” کو دوسرے الفاظ میں ریاست یا مسلح افواج کے خلاف ایک باقاعدہ ” چارج شیٹ ” کا نام دیا جائے تو غلط نہیں ہوگا ۔ اور غالباً اسی کا ردعمل ہے کہ ماہرین اور تجزیہ کاروں نے اس قرارداد پر نہ صرف یہ کہ حیرت اور تشویش کا اظہار کیا ہے بلکہ وہ اسے ریاست کے خلاف صوبے کی حکمران جماعت کی باقاعدہ بغاوت کا نام بھی دے رہے ہیں کیونکہ جن الفاظ اور الزامات کا استعمال کیا گیا ہے ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی ۔ اس سے قبل جب گزشتہ روز ضلع خیبر کے علاقے تیراہ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا تو متعدد صوبائی وزراء نے پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ کے لیے سوشل میڈیا پر ایسے بیانات پوسٹ کیے جو کہ ” غداری” کے زمرے میں آتے ہیں جبکہ اس پارٹی کے ایک ممبر قومی اسمبلی نے باقاعدہ عوام کو مشتعل کرنے کی کوشش کی ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر ریگولر اور گوریلا وار میں کولیٹرل ڈیمیج کے واقعات ہوتے ہیں اور جاری جنگ میں بھی معتدد بار بعض افسوسناک واقعات ہوئے ہیں تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اپنی فورسز کو سیاسی مخالفت کی آڑ میں اس طرح کٹہرے میں لاکر کھڑا کیا جائے ۔ ایک حساس اور جنگ زدہ صوبے کی حکمران پارٹی کی جانب سے اس قسم کے الزامات اور مطالبات کے سامنے آنے سے ان گروپوں اور قوتوں کے بیانیے کو تقویت ملی ہے جو کہ پاکستان کی ریاست اور عوام کے خلاف لڑائی میں مصروف عمل ہیں اور شاید اسی کا ردعمل ہے کہ بعض سیاسی پارٹیاں آن دی ریکارڈ پی ٹی آئی کو کالعدم ٹی ٹی پی کا ” پولیٹیکل ونگ ” قرار دیتے آرہے ہیں ۔
صوبائی حکومت کی انہی پالیسیوں اور رویوں کے باعث آج آدھا خیبرپختونخوا طالبان اور ان کے اتحادیوں کے مسلسل حملوں کی زد میں ہے اور اب تو جنوبی اضلاع اور قبائلی علاقوں میں طالبان نے مین شاہراہوں پر قبضے بھی شروع کردیے ہیں ۔ صوبے کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کا آبائی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سال 2024 کے بعد بدترین نوعیت کے حملوں کی زد میں ہے مگر صوبائی حکومت وہاں بھی اپنی رٹ بحال نہیں کرسکتی ۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر صوبائی حکومت اور حکمران جماعت پی ٹی آئی کی خواہش اور مطالبے پر فوجی دستوں کو واپس بلایا جاتا ہے تو پولیس اور دیگر سول ادارے اس قابل ہیں کہ صوبے کی بگڑی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کو کنٹرول کیا جاسکے ؟ اس سوال کا جواب نفی میں ہے ۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حالات کی نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور ملٹری اسٹبلشمنٹ کے ساتھ بیٹھ کر کوئی مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا جائے اور ایسے اقدامات اور بیانات سے گریز کیا جائے جن سے ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے کا راستہ ہموار ہونے کا خدشہ ہو ۔ پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ کی بجائے صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس طلب کرکے ان معاملات کو حل کرنے کی عملی کوشش کی جائے اور غیر ضروری محاذ آرائی سے گریز کا راستہ اختیار کیا جائے کیونکہ خیبرپختونخوا مزید تجربات اور کشیدگی کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔