A grand flag hoisting ceremony was held at Police Line Khyber on the occasion of Independence Day

یوم آزادی کی مناسبت سے پولیس لائن خیبر میں پُروقار پرچم کشائی کی تقریب منعقد

ملک بھر کی طرح ضلع خیبر میں بھی یوم آزادی کی مناسبت سے پولیس لائن خیبر شاکس میں پُروقار پرچم کشائی کی تقریب منعقد کی گئی۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خیبر رائے مظہر اقبال نے قومی پرچم بلند کرتے ہوئے سلامی دی اور ملک و قوم کی ترقی، سلامتی اور امن و استحکام کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔ تقریب میں ایس پی انویسٹیگیشن روح الامین، ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر، سرکل افسران سمیت دیگر پولیس افسران و جوانوں نے شرکت کی۔اس موقع پر ڈی پی او خیبر نے تمام اہل وطن خصوصاً ضلع خیبر کے غیور عوام کو جشن آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ قبائلی عوام نے ہر سال کی طرح اس بار بھی قومی جذبے کے ساتھ یوم آزادی میں بھرپور حصہ لیا ہے۔ یہ دن اس عہد کی تجدید کا دن ہے کہ ہم دیانتداری، کفایت شعاری اور ایمان داری کو اپنا کر وطن عزیز کی خدمت کریں۔

ڈی پی او نے کہا کہ پاکستان برصغیر کے مسلمانوں کی طویل جدوجہد اور بے مثال قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ آزادی کے حصول اور اس کے بعد ملک کے دفاع میں پولیس، پاک فوج اور دیگر سیکیورٹی فورسز نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جن میں قبائلی عوام کا کردار ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا۔ یہ قربانیاں ہماری آزادی، امن اور سلامتی کی ضمانت ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور تعمیر و ترقی اس ملک میں بسنے والے تمام شہریوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے وطن کو تا قیامت قائم و دائم رکھے اور ہمارے شہداء کے درجات بلند فرمائے۔

Wisal Muhammad Khan

رائزنگ انڈیااور بکھرتابھارت

وصال محمدخان
رواں برس 23اپریل کوبھارت کی جانب سے واویلامچایاگیاکہ پہلگام (مقبوضہ کشمیر)میں 28سیاحوں کوگولیاں مارہلاک کردیاگیا ہے۔ جس کاالزام فوراًسے پہلے پاکستان پرلگادیاگیا۔پاکستان نے اس بے بنیادالزام کومستردکیا مگرجب بھارت تواترسے الزامات لگاتارہا تو پاکستان نے کسی غیرجانبدارادارے یاافرادکے ذریعے تحقیقات کی پیشکش کردی۔مگربھارت کے ارادے چونکہ کچھ اورتھے اسلئے وہ کسی بھی معقول بات کوسننے یاماننے پرآمادہ نہیں تھااورمسلسل پاکستان کوجنگ کی دھمکیاں دیتارہا۔پاکستان نے بھارت کوباورکروایاکہ وہ پہلگام واقعے میں کسی طورملوث نہیں اسکی ہرسطح پرتحقیقات کیلئے تیارہے لیکن اسکے باوجوداگراسکی سلامتی پرحملہ کیاگیاتواسے اپنے دفاع کاپوراحق حاصل ہے۔پہلگام واقعہ ہوایانہیں اس بارے میں تاحال کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی حتیٰ کہ بھارتی پولیس یادیگرکسی ایجنسی نے بھی اس حوالے سے تفتیش کرکے کوئی رپورٹ شائع کی اورنہ ہی سامنے لائی گئی۔بس انتہاپسندہندوسرکارنے ازخودواقعے کاواویلامچایااورخودہی جج منصف اورمدعی بن کرپاکستان کوسزاکی ٹھان لی۔پہلگام واقعے کے واقع ہونے پرتاحال شکوک وشبہات کے بادل چھائے ہوئے ہیں مگر بھارت نے اسکی آڑمیں 6اور7مئی کی درمیانی شب پاکستان پرحملہ کردیا۔پاکستان چونکہ پہلے سے ہی بھارتی عزائم سے بخوبی آگاہ تھا اور وہ اپنے اس کینہ پروردشمن کواچھی طرح جانتاہے اسلئے دشمن کے وارکوناکام بنانے کیلئے اسکی فوجی تیاری مکمل تھی اورجیسے ہی بھارت نے پاکستا ن پرحملے کاسوچاپاکستان نے منہ توڑجواب دیکراسکے کئی جنگی جہازمارگرائے۔بھارت کواس دندان شکن جواب کی توقع نہیں تھی اسلئے اس نے خواس باختگی کے عالم میں الٹے سیدھے اقدامات لئے اورپاکستان کواشتعال دلانے کیلئے شرارتوں کاسلسلہ جاری رکھا۔ 10 مئی کو علی الصبح پاکستان نے بھارتی شرانگیزیوں کاایسابھرپورجواب دیاکہ اسکے چودہ طبق روشن ہوگئے اوروہ حسب سابق امریکہ کے درپر سجدہ ریز ہواکہ اسے پاکستان سے بچایاجائے۔پاکستان چونکہ جنگ کی تباہ کاریوں سے بخوبی آگاہ ہے کہ دوایٹمی قوتوں کے درمیان جنگ کے کیاتباہ کن نتائج نکل سکتے ہیں اسلئے امریکی مداخلت پرجنگ بندی کی گئی۔امریکی صدرٹرمپ کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کاپاکستان نے مثبت جواب دیامگرساتھ ہی مسائل کی حل کیلئے کچھ شرائط پیش کی جنہیں صدرٹرمپ سمیت بھارتی قیادت نے تسلیم کیاچونکہ بھارت پاکستانی جواب سے زمیں بوس ہو چکاتھااورامریکہ مداخلت نہ کرتاتواسکی فضائی طاقت کاخاتمہ پاکستان کیلئے چنداں مشکل نہ تھامگراس نے گزشتہ کی طرح اس باربھی ذمہ داری کامظاہرہ کیااورجنگ بندی پرآمادگی ظاہرکردی۔بھارت چونکہ تکبراورغرورکے اونچے پہاڑپرتشریف فرماہے اسلئے وہ کوئی بھی معقول بات سننے پرآمادہ دکھائی نہیں دے رہا۔اس نے ازخودامریکہ کادوروازہ کھٹکھٹایا مگر بعد ازاں تسلیم کی گئی شرائط سے انحراف کیا۔یہ معاملہ امریکی صدرٹرمپ کے اعتمادکاہے اسلئے صدرٹرمپ نے بھارتی کہہ مکرنیوں کاسخت نوٹس لیااور اس نے بھارت پرعائد ٹیرف میں اضافہ کرتے ہوئے اسے50فیصدتک پہنچادیا۔اب امریکہ اوربھارت کے درمیان ٹیرف وار کی سی صورتحال پیداہوچکی ہے۔ صدرٹرمپ نے ایک ہی ہفتے کے دوران بھارتی مصنوعات پرٹیرف اس قدربڑھادیاکہ اس سے بھارتی معیشت کواربوں ڈالرزکانقصان ہوگا۔ بھارت جس معاشی طاقت اوردولت کے بل بوتے اچھل رہاتھااورپاکستان کوپرکاہ برابراہمیت دینے پرتیارنہیں تھااسکی یہ طاقت کچھ ہی دنوں میں گردوغبارکی طرح بیٹھ چکی ہے۔بھارت پہلے بھی کوئی معاشی پاورنہیں تھابس یورپی اورامریکی سرمایہ کاری اوربین الاقوامی قرضو ں کے سبب اس نے زرمبادلہ کے ذخائرکواستحکام دیاتھااوربیرونی سرمایہ کاری کی بدولت معیشت کومضبوط بنادیاتھامگرذراسی آندھی چلنے پر اسکی معیشت کے غبارے سے ہوانکل چکی ہے اورا ب وہ اپنی بغلیں جھانکنے پرمجبورہوچکاہے۔ اب امریکہ نے اسکے پیچ کسنے شروع کردئے ہیں اوراسے روس سے تیل کی خریداری بندکرنے کے احکامات صادرکئے جارہے ہیں۔روس پریوکرائن جنگ کے سبب عالمی پابندیاں عائد ہیں اورجس طرح ایران دیگرممالک کواپناتیل فروخت نہیں کرسکتایہی پابندیاں روس پربھی عائدہیں مگرجیساکہ ہم جانتے ہیں دنیامیں سکون سے جینے کیلئے طاقت کاہونالازمی ہے اسی طرح چین ایران سے رعایتی نرخوں پرتیل خریدرہاہے مگرچونکہ چین ایک بڑی طاقت ہے اسلئے اقوام متحدہ اس کاکچھ نہیں بگاڑسکتی اسی طرح بھارت بھی پابندیوں کے باوجودروس سے تیل خریدرہاہے بلکہ اس تیل کویورپی منڈیوں میں فروخت کرکے دولت بھی کمارہاہے۔اب امریکہ نے ٹھان لیاہے کہ بھارت کوروس سے تیل خریدنے یاامریکہ کیساتھ تجارت میں سے ایک کاانتخاب کرناہوگا۔بھارت اگرچہ پاک بھارت جنگ بندی میں امریکی کردارتسلیم کرنے کوتیارنہیں اس کاکہناہے کہ جنگ بندی پاکستان کے مطالبے پرہوئی اگرپاکستانی مطالبے پرہی بھارت نے جنگ بندی کرنی ہوتی توپاکستان جنگ اورحملہ نہ کرنے کامطالبہ کررہاتھااورہرقسم کی تحقیقات میں شامل ہونے کاعندیہ دے رہاتھامگربھارت تکبرمیں آکریہ پیشکش پائے حقارت سے ٹھکراتارہا۔پاکستان کے مطالبے پر جنگ بندی کرنی تھی توحملہ ہی کیوں کیاگیا؟امریکی صدرٹرمپ اب تک تیس سے زائدمرتبہ پاک بھارت جنگ بندی کاکریڈٹ لے چکے ہیں مگرصدرٹرمپ کوجنگ بندی کاکریڈٹ دینے میں بھارت کواپنی سبکی نظرآرہی ہے اسلئے وہ اس کردارسے انکاری ہے۔بھارت کی یورپ کیساتھ بھی معاملات خراب ہورہے ہیں،ایران،سعودی عرب،ترکیہ اورآذربائیجان کیساتھ اسکے تعلقات پہلے سے ہی خراب ہوچکے تھے اس وقت دنیامیں بھارت کے صرف دوحامی باقی بچے ہیں ایک جانب روس ہے جواسکے تیل کاسب سے بڑاخریدارہے جبکہ دوسری جانب غاصب اورظالم اسرائیل ہے جس نے پاکستان کیخلاف جنگ میں مددکی۔بھارت کی دگرگوں حالت دیکھ کرمحسوس ہورہاہے کہ اس نے پہلگام کاجوفالس فلیگ آپریشن کیاتھاان بیگناہوں کاخون بول رہاہے یااس نے پاکستان میں مساجدپرجوحملے کئے اوران حملوں میں معصوم بچے بوڑھے اورخواتین نشانہ بنے ان معصوموں کے خون کااثرہے کہ بھارت روزانہ کے حساب سے دنیامیں رسواہورہاہے۔آج آزادی کے78ویں برس پاکستان چمکتادمکتاملک ہے جبکہ مودی نے اپنے غروروتکبراورانتہاپسندی کے سبب ملک کورائزنگ انڈیاکی بجائے بکھرتے بھارت میں تبدیل کردیاہے۔

Aqeel Yousafzai editorial

یوم آزادی اور معرکہ حق کی تقریبات، سرگرمیاں

عقیل یوسفزئی
پاکستان کے تمام علاقوں اور صوبوں میں 78 ویں یوم آزادی اور معرکہ حق کی فتح کی خوشی میں ریکارڈ تعداد میں مختلف نوعیت کی تقریبات ، ایونٹس ، مباحثوں اور ریلیوں کا انعقاد کیا گیا جس میں نہ صرف یہ کہ 14 اگست کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کیا گیا بلکہ 10 مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ کے دوران پاکستان کی فتح اور مستقبل کے منظر نامے پر بھی فوکس کیا گیا ۔
اس سلسلے میں پشاور اور تمام قبائلی علاقوں سمیت خیبر پختونخوا کے تقریباً ہر علاقے میں عوامی ، حکومتی ، سیاسی اور عسکری حلقوں کی جانب سے ریکارڈ تعداد میں ایونٹس کا انعقاد کیا گیا ۔ اگر یہ کہا جائے کہ سب سے زیادہ سرگرمیاں خیبرپختونخوا میں دیکھنے کو ملیں تو غلط نہیں ہوگا ۔ صوبے میں دوسرے صوبوں کے برعکس گزشتہ ایک ہفتے سے روزانہ کی بنیاد پر سرگرمیوں کا سلسلہ جاری تھا حالانکہ اس دوران باجوڑ آپریشن سمیت فورسز پر مختلف علاقوں میں متعدد حملے جاری رہے مگر عوام ، سماجی اور سیاسی جماعتوں نے خطرات کی پرواہ کیے بغیر اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھا ۔
خیبرپختونخوا کی حد تک اس ضمن میں سب سے بڑی تقریب کرنل شیر خان اسٹیڈیم پشاور میں منعقد ہوئی جس میں ہزاروں شہریوں ، فیملیز ، اعلیٰ حکام اور نامور فنکاروں نے شرکت کی ۔ گورنر خیبرپختونخوا ، کور کمانڈر پشاور اور اعلیٰ بیوروکریٹس نے بھی اس ایونٹ میں شرکت کرتے ہوئے معرکہ حق اور جشن آزادی کی خوشی منائی ۔ تمام قبائلی اضلاع میں سیکیورٹی خدشات کے باوجود تقریبات اور ریلیوں کا اہتمام کیا گیا ۔ 14 اگست کی صبح کا آغاز 21 توپوں کی سلامی کے روایتی سلسلہ سے کیا گیا ۔ گورنر ہاؤس پشاور میں بھی ایک بڑی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ہر طبقے کے نمائندوں کے علاؤہ امریکہ سمیت مختلف ممالک کے اہم نمایندے بھی شریک ہوئے ۔
دوسری جانب اسی روز باجوڑ میں فورسز کی کارروائیوں میں تقریباً 10 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا جبکہ پشاور میں بھی 3 مطلوب دہشت گردوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بعض دیگر علاقوں میں بھی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا ۔ اسی تسلسل میں جھڑپوں کے دوران نہ صرف متعدد حملے ناکام بنائے گئے بلکہ 5 پولیس اہلکاروں نے دو تین کارروائیوں کے دوران شہادت بھی پائی۔ اس موقع پر ایوان صدر اور پی ایم ہاؤس اسلام آباد میں مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افراد اور شخصیات کو مختلف ایوارڈز سے نوازنے کی تقریبات کا انعقاد کیا گیا ۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے یوم آزادی اور معرکہ حق کے تناظر میں خصوصی پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسلام کا ایک پرامن مگر ناقابل تسخیر قلعہ ہے اور یہ کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ کی بہت بڑی قیمت ادا کی ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پہلگام واقعے کے بعد پاکستان نے عالمی سطح کی تحقیقات کی پیشکش کی مگر بھارت نے پاکستان پر حملے کئے جس کے جواب میں اسے تاریخی شکست سے دوچار کیا گیا اور یہ کہ پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا ۔