Swabi: Water flooding in various areas due to recent rains

صوابی: حالیہ بارشوں کے باعث مختلف علاقوں میں پانی کی طغیانی

صوابی: حالیہ بارشوں کے باعث مختلف علاقوں میں پانی کی طغیانی کے نتیجے میں ریسکیو 1122 صوابی کے اہلکار فوری طور پر متحرک ہوگئے۔ ریسکیو ٹیموں نے متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر بروقت کارروائیاں کرتے ہوئے درجنوں متاثرہ افراد کو بحفاظت محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ ایمرجنسی آفیسر صوابی نعمان خان کی نگرانی میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور اہلکار کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح الرٹ ہیں۔ ریسکیو 1122 صوابی عوام سے اپیل کرتا ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر متاثرہ علاقوں کی طرف جانے سے گریز کریں اور ایمرجنسی کی صورت میں فوراً ہیلپ لائن 1122 پر رابطہ کریں۔

Peshawar: In view of the recent rains, relief operations are underway

پشاور: حالیہ بارشوں کے پیش نظر امدادی کارروائیاں جاری

پشاور: حالیہ بارشوں کے پیش نظر ریسکیو 1122 پشاور کی ٹیمیں نشتر آباد، گلبہار، کوہاٹ روڈ، یونیورسٹی روڈ، پریس کلب روڈ اور حیات آباد سمیت مختلف مقامات پر تعینات کر دی گئی ہیں۔ اس وقت 70 سے زائد اہلکار امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، جن کے ساتھ، 8 ایمبولینسز، 2 ڈیزاسٹر گاڑیاں، 6 ڈی واٹرنگ پمپس بھی آپریشن میں شامل ہیں۔ ریسکیو 1122 کی ڈیزاسٹر ٹیم شہر کے مختلف علاقوں میں مسلسل پٹرولنگ کر رہی ہے تاکہ بارش کے باعث سڑکوں پر جمع پانی کو بروقت نکالا جا سکے۔ ٹیمیں پانی میں پھنسے شہریوں اور گاڑیوں کو بھی بحفاظت نکالنے میں مصروف ہیں۔ اس وقت مختلف مقامات پر ڈی واٹرنگ کا عمل جاری ہے جبکہ ریسکیو 1122 کی ایمبولینسز اور ڈیزاسٹر ٹیمیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

Heavy rains started in Abbottabad Gulyat with strong winds

ایبٹ آباد گلیات میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارشوں کا سلسلہ شروع

ایبٹ آباد گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا عملہ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔ ایبٹ آباد توحید آباد، چھانگا گلی، ایوبیہ سمیت متعدد روڈ پر لینڈ سلائیڈنگ، ایبٹ آباد ٹیکنیکل سٹاف تمام سڑکیں بحال کرنے میں مصروف عمل ہے۔ ایبٹ آباد گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی ہیوئی مشنری کے زریع سڑکیں بحالی کرنے میں مصروف ہیں۔ ایبٹ آباد گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے عملہ کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی۔ ایبٹ آباد سیاح گلیات اتے وقت اختیاط تدابیر پر عمل درآمد کریں۔

Wisal Muhammad Khan

خیبرپختونخواراؤنڈاَپ

وصال محمدخان
باجوڑکے تحصیل ماموندمیں گزشتہ ماہ سیکیورٹی فورسزنے دہشتگردوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کافیصلہ کیاتھا۔جس پرسیاسی اورغیرسیاسی مقامی عمائدین نے خون خراباروکنے کی کوشش کی۔جرگہ نے سیکیورٹی فورسزسے دودن کاوقت مانگاجوبعدازاں دس دن پرمحیط ہوا۔ جرگہ نے دہشتگردوں کوعلاقہ خالی کرنے یابستیوں سے نکل کرلڑنے کامشورہ دیامگردہشت گردمرنے مارنے پرآمادہ تھے۔ دہشت گرد جانتے ہیں کہ وہ پاک فوج کے سامنے تادیر ٹھہرنے کی سکت سے عاری ہیں اسلئے وہ آبادی سے نکل کردوبدولڑنے کی بجائے بستیوں میں معصوم اور پرامن شہر یوں کی آڑلیتے ہیں۔جرگہ کی ناکامی کے بعدآپریشن کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔مقامی آبادی نے علاقے سے نکلنے کافیصلہ کیاتوان کیلئے باجوڑ کے دیگرعلاقوں میں سرکاری سکول خالی کروالئے گئے۔ اطلاعات کے مطابق تیرہ سوسے زائدخاندان سرکاری سکولوں،نوہزار باجوڑ سپورٹس کمپلیکس جبکہ بیس ہزارکے قریب خاندان اپنے رشتے داروں کے ہاں منتقل ہوچکے ہیں۔صوبائی کابینہ نے باجوڑسپورٹس کمپلیکس میں متاثرین کیلئے عارضی کیمپ قائم کرنیکی منظوری دیتے ہوئے پی ڈی ایم اے کوفوری فنڈزجاری کرنیکی ہدایت کردی ہے۔کابینہ کی 36 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کاکہناتھاکہ”ملک دشمن عناصرعدم استحکام چاہتے ہیں، دہشت گردی سے سب یکساں طورپر متاثرہوتے ہیں یہ کسی صورت قابل برداشت نہیں۔ ہم نے روزاول سے امن کیلئے جرگوں کاسلسہ شروع کیاان کوششوں کامقصددہشتگردی کے خلاف عوام کو اعتمادمیں لیناہے۔ حکومتی عملداری ہرصورت برقرار رکھی جائیگی،آپریشن کی اجازت دی گئی ہے اور نہ ہی کوئی آپریشن ہورہا ہے صرف ٹارگٹڈکارروائیاں ہورہی ہیں جس میں سویلین کانقصان قابل قبول نہیں باجوڑکامعاملہ جرگہ نے حل کرنیکی کوشش کی مگر مذا کرات ناکام ہونے پرٹارگٹڈکارروائیوں کافیصلہ کیاگیا جولوگ رضا کارانہ نقل مکانی کرناچاہتے ہیں انہیں تمام سہولیات فراہم کی جارہی ہیں جو حکومت کی ذمہ داری ہے“۔درحقیقت آپریشن کے نام کوسیاسی طورپر اتنابدنام کیاگیاہے کہ اب کوئی ضروری کارروائی بھی ہورہی ہواسے فوجی آپریشن کانام دیکرمتنازعہ بنادیاجاتاہے۔دہشتگردوں نے بستیوں میں کمین گاہیں قائم کرکے ریاستی رٹ کوچیلنج کیاہے انکے خلاف کارروائی سے عام لوگ ضرورمتاثرہونگے،دہشتگردبھی اسی کافائدہ اٹھانا چاہتے ہیں عام لوگ متاثرہونے سے رائے عامہ ریاست اور حکومت کے خلاف ہوگی جس سے عدم استحکام پیداہوگا۔عوام کوریاست سے بدظن کرنیوالاملک دشمن قوتوں کا یہ ایجنڈابہرصورت ناکامی سے دوچارہوگا۔غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق باجوڑکے تحصیل ماموندمیں لگ بھگ ایک ہزار دہشتگرد موجود ہیں جن میں 80فیصد کاتعلق افغانستان سے ہے سیکیورٹی فورسزکوجلدازجلدان کاقلع قمع کرکے علاقہ کلیئر کروانے پرتوجہ مرکوزکرناہوگی تاکہ متاثرین جلدازجلد اپنے گھرو ں کوواپس جاسکیں۔ صوبائی حکومت اوراپوزیشن جماعتوں کوبھی ذمہ داری کامظاہرہ کرناہوگا۔اگرفورسزعلاقے پرقابض دہشتگردوں کے خلاف آپریشن نہیں کریگی توان سے کیسے نمٹاجائیگا؟ حکومت اوراپوزیشن دونوں کواس معاملے پرسیاست چمکانے کی بجائے ریاست اور سیکورٹی فورسزکابھرپورساتھ دیناچاہئے تاکہ وہ لوگ جو ریاست کے اندراپنی ریاست قائم کرنے کیلئے کوشاں ہیں یاریاستی رٹ کوچیلنج کر رہے ہیں ان کاخاتمہ ہو۔وزیراعلیٰ جرگوں کاکریڈٹ لینے کی کوششوں میں مصروف ہیں مگریہ جرگے تاحال کوئی مثبت تاثرقائم کرنے میں ناکام ہیں۔
پشاورہائیکو رٹ نے قومی اسمبلی اورسینیٹ میں نئے اپوزیشن لیڈرزکی تقرری روکتے ہوئے چیئرمین سینیٹ سپیکرقومی اسمبلی اورمتعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 20اگست تک جواب طلب کرلیاہے۔دورکنی بنچ کے سامنے پی ٹی آئی چیئرمین گوہرخان نے بطوروکیل مؤقف اپنایا کہ سپیکرقومی اسمبلی نے عمرایوب جبکہ چیئرمین سینیٹ نے شبلی فرازکوڈی نوٹیفائی کرکے انکی نشستیں خالی قراردی ہیں۔اس سے قبل الیکشن کمیشن نے دونوں کونااہل قراردیاتھا۔اپوزیشن لیڈرآئینی عہدہ ہے کسی فردکے ممبراسمبلی بننے پرالیکشن کمیشن کاکام ختم ہوجاتاہے۔ سپریم کورٹ کافیصلہ موجودہے کہ الیکشن کمیشن کسی ممبرکونااہل قرارنہیں دے سکتا۔9مئی افسوسناک واقعہ تھاجونہیں ہوناچاہئے تھاہم ان واقعات کی مذمت کرچکے ہیں۔ہم 180نشستیں جیتنے کے باوجود اسمبلی میں 91ارکان کیساتھ گئے مگراب یہ تعدادگھٹ کر77رہ گئی ہے۔ جب تک سپیکرکی جانب سے ریفرنس نہیں آتا الیکشن کمیشن خودسے کارروائی کامجازنہیں یہ غیرقانونی اورغیرآئینی اقدام ہے۔دوسری جانب شبلی فرازنے اپنانام ای سی ایل میں ڈالنے کے خلاف بھی پشاورہائیکورٹ سے رجوع کیا۔درخواست گزارکے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شبلی فرازکانام ای سی ایل سے نکال کراب پی این آئی ایل میں ڈالاگیاہے۔جس پربنچ نے رٹ نمٹاتے ہوئے کہاکہ درخواستگزاراب سزا یافتہ ہے اسلئے رٹ کی کوئی حیثیت نہیں اب یاتووہ جیل جائینگے یاپھرعدالت سے ضمانت لینگے۔دونوں کیسزکی سماعت جسٹس سیدارشدعلی اور جسٹس ڈاکٹر خورشیداقبال پرمشتمل دورکنی بنچ نے کی۔ اعظم سواتی نے بھی بیرون ملک جانے سے روکنے پرعدالت عالیہ سے رجوع کیا ہے۔ پی ٹی آئی راہنماگزشتہ دوبرسوں سے راہداری ضمانتوں اوردیگرمعاملات کیلئے پشاورہائیکورٹ سے رجوع کررہے ہیں جہاں سے انہیں بسااوقات ریلیف بھی مل جاتاہے۔ عمرایوب کوسزافیصل آبادکی انسداددہشتگردی عدالت نے دی ہے مگروہ ریلیف کیلئے لاہورکی بجائے پشاور ہائیکورٹ آتے ہیں۔ باربارایک ہی عدالت سے رجوع اورریلیف سے غیرجانبداری پرزدپڑتی ہے۔ہائیکورٹ نے سپیکرصوبائی اسمبلی کی جانب سے مخصوص نشستوں پرگورنر ہاؤس میں حلف لینے کے خلاف تحریری حکم جاری کرتے ہوئے ایڈوکیٹ جنرل سے مخصوص نشستوں پر حلف کاشیڈول طلب کرلیاہے۔تحریر ی حکم میں کہاگیاہے کہ درخواست میں 20جولائی کے فیصلے پرسوالات اٹھائے گئے ہیں چیف جسٹس ہائیکورٹ نے آرٹیکل255(2) کے تحت ممبران سے حلف کیلئے گورنرکو نامزد کیا گورنرکی جانب سے حلف لینے پرسوالات اٹھائے گئے ہیں۔اے جی نے بتایاکہ آرٹیکل 255 کے تحت ممبران سے حلف صرف سپیکرلے سکتے ہیں سپیکرملک میں موجودنہ ہوں یاحلف لینے سے انکارکریں توچیف جسٹس کسی دیگرفرد کو نامزد کر سکتے ہیں۔ممبران کے وکیل نے بتایاکہ الیکشن کمیشن نے سینیٹ انتخابات کاشیڈول جاری کردیاتھاسپیکرممبران سے حلف لینانہیں چاہتے تھے انہوں نے اجلاس سینیٹ انتخابات کے بعدتک ملتوی کیاجس سے ممبران ووٹ کا حق استعمال کرنے سے قاصرتھے۔ اسلئے چیف جسٹس نے گورنرکونامزدکیا۔
امن وامان پرصوبائی اسمبلی کاطلب کردہ اجلاس حکومتی اوراپوزیشن ارکان کی مخالفانہ بیان بازی تک محدودہوکررہ گیاہے۔لفظی گولہ باری اور الزام تراشیوں نے غیرسنجیدہ ماحول کوجنم دیاہے۔صوبائی وزرا،حکومتی اوراپوزیشن ارکان کی غیرحاضری سے کورم کاٹوٹنااوراجلاس کا التوا معمول بن چکاہے۔اجلاس میں موجودارکان سوشل میڈیاویوزکیلئے منافرت پرمبنی آوازے کستے ہیں۔ جس پرسنجیدہ اورفہمیدہ حلقوں نے نا پسندیدگی کا اظہار کیاہے غیرسنجیدگی سے اسمبلی اجلاس بے وقعت ہوکررہ گیاہے۔ایوان کی تکریم برقراررکھنے کیلئے دونوں جانب کے ارکان کوذمہ داری کامظاہرہ کرناچاہئے۔
سی ٹی ڈی خیبرپختونخواکے مطابق پشاورسے داعش خراسان نیٹ ورک کاخاتمہ کردیاگیاہے۔ڈی ایس پی سردارحسین،مفتی منیر شاکر اور ورسک روڈپر پولیس وین کوتھرمل ٹیکنالوجی سے نشانہ بنانے والے گروہوں تک رسائی جدیدٹیکنالوجی کی بدولت ممکن ہوئی۔پشاورکے مختلف علاقوں میں 18دہشت گرد کارروا ئیوں میں ملوث نیٹ ورک سے بھاری مقدارمیں اسلحہ،گولہ باروداورآئی ای ڈیزبرآمدکی گئی ہیں۔ہائی ویز پرچیک پوسٹیں قائم کرنیوالے گروہوں کاخاتمہ کردیاگیاہے۔سی ٹی ڈی کامتحرک ہونااورغیرمعمولی کارکردگی کا مظا ہرہ کرناخوش آئندہے۔ اس سے فوج پردباؤمیں کمی ہوگی اورسیاسی بیانئے فوجی آپریشنزکی بجائے عوامی مسائل پرترتیب دئے جانے کی راہ ہموارہوگی۔
صوبے میں بارشوں،سیلاب اوربادل پھٹنے سے بدترین صورتحال کاسامناہے۔اب تک کی اطلاعات کے مطابق 214افرادسیلابی ریلوں میں بہنے اورچھتیں گرنے سے جان کی بازی ہارچکے ہیں۔باجوڑمیں امدادی کارروائیوں کے دوران صوبے کاملکیتی ہیلی کاپٹربھی گرکرتباہ ہو گیاہے۔جس میں دوپائلٹوں سمیت 5افرادجاں بحق ہوگئے ہیں۔صوبے میں بروزہفتہ 16اگست کویوم سوگ کااعلان کیاگیاہے۔پاک فوج کے دستے،این ڈی ایم اے اوردیگرادارے ریسکیوسرگرمیوں میں مصروف ہیں۔صوبائی حکومت نے متاثرہ اضلاع کیلئے 50 کروڑ روپے امدادی رقم کااعلان کیاہے۔

The series of payment of compensation to the flood victims under the special package has started

سیلاب متاثرین کو خصوصی پیکج کے تحت معاوضوں کی ادائیگی کا سلسلہ شروع

سیلاب متاثرین کو خصوصی پیکج کے تحت معاوضوں کی ادائیگی کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر معاوضہ کا پیکج ڈبل کردیا گیا ہے۔خصوصی پیکج کے تحت جاں بحق افراد کے معاوضے کا پیکج 10 لاکھ سے بڑھا کر 20 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا کہنا تھا کہ معاوضوں کی ادائیگی کے لیے تمام اضلاع کو 85 کروڑ روپے جاری کر دیے گئے ہیں۔ کل وزیراعلیٰ نے سوات میں سیلاب متاثرین کو معاوضوں کے چیکس تقسیم کیے ہیں۔ آج سے باضابطہ طور پر تمام متاثرہ اضلاع میں معاوضوں کے چیکس کی تقسیم شروع ہو جائے گی۔ مشکل کی اس گھڑی میں صوبائی حکومت سیلاب متاثرین کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ وزیراعلیٰ خود متاثرہ اضلاع کے دورے کر رہے ہیں۔ صوبے میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ عوام سے اپیل ہے کہ ندی نالوں سے دور رہیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع 1700 پر دیں۔

Relief camps set up in flood affected areas of Bitgram

بٹگرام کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریلیف کیمپ قائم

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی ہدایات اور صوبائی حکومت کے احکامات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر بٹگرام اشتیاق احمد کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر شیردل، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر حبیب اللہ اور ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر اور تحصیلدار بٹگرام کی نگرانی میں شملائی کے علاقے میں ریلیف کیمپ قائم کیا گیا ہے۔ کیمپ میں میڈیکل ٹیم، پھل اور ضروری اشیائے خورونوش فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ متاثرہ عوام کو فوری سہارا مل سکے۔ ڈپٹی کمشنر بٹگرام اشتیاق احمد کا کہنا ہے کہ وہ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرہ علاقوں میں عوام الناس کی ہر ممکن مدد کریں گے، اور ریلیف کی فراہمی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک تمام متاثرہ افراد کو بنیادی سہولیات مہیا نہیں ہو جاتیں۔اسی طرح بٹگرام میں حالیہ بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے بند ہونے والی سڑکوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔وزیر اعلی خیبر پختونخوا اور چیف سیکٹری خیبر پختونخوا کے احکامات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر بٹگرام اشتیاق احمد کی نگرانی میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو نے حالیہ بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے متاثرہ سڑکوں پر بحالی کا کام شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں الائی روڈ سے لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے آنے والا ملبہ ہٹا دیا گیا ہے اور اسے ہر قسم کی ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا ہے تاکہ مقامی لوگوں کو آمد و رفت میں آسانی ہو اور ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو۔جبکہ بٹگرام ‘ ڈھیری حلیم نیل بن واقعے کے بعد ریسکیو آپریشن صبح 6:00 بجے دوبارہ شروع کیا گیا۔ضلعی انتظامیہ بٹگرام کی جانب سے ضلع بٹگرام کی حدود میں واقع نالوں میں لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے گزشتہ شب اندھیرے اور دشوار گزار راستوں کے باعث معطل کیا گیا آپریشن صبح سویرے روشنی ہوتے ہی دوبارہ شروع کیا گیا۔آپریشن میں ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر حبیب اللہ اور ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر شیر دل کے زیر نگرانی میں تحصیلدار بٹگرام سعید احمد ، ریونیو عملہ، ریسکیو 1122، پولیس اور ٹی ایم اے بٹگرام کے اہلکار شریک ہیں۔ باقی لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن بدستور جاری ہے۔