The 37th meeting of the Provincial Cabinet chaired by Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa

وزیراعلی خیبر پختونخوا کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 37 واں اجلاس

وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 37 واں اجلاس ہوا ۔ سیلاب سے شہید ہونے والوں کی درجات کی بلندی کے دعا اور فاتحہ خوانی۔ کابینہ کو سیلاب سے ہونے والی نقصانات،  ریلیف اور بحالی کی سرگرمیوں پر تفصیلی بریفنگ۔حالیہ سیلاب میں ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں نے بہترین ریسکیو آپریشن کیا۔دیگر تمام متعلقہ محکموں اور اداروں نے بروقت اور بہترین رسپانس دیا۔ اس بہترین کارکردگی پر تمام ادارے اور محکمے تعریف کے حقدار ہیں۔ پہلے مرحلے میں ریسکیو آپریشن مکمل ہوگیا ہے، تاہم لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ شہداء کے اہل خانہ اور زخمیوں کو معاوضوں کی ادائیگی جاری ہے۔ متاثرین اطمینان رکھیں، سب کو معاوضے ملیں گی، کوئی بھی محروم نہیں رہے گا۔ متاثرہ علاقوں میں مراکز صحت کو فوری طور پر فعال بنایا جائے۔ ان مراکز صحت ضروری ادویات کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔ ان علاقوں میں موبائل ہسپتالوں کی دستیابی بھی یقینی بنائی جائے۔ متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھیلنے کے ممکنہ خدشے کے پیش نظر پیشگی احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں۔ ان علاقوں میں مال مویشیوں کے لئے چارہ کی فراہمی اور انہیں بیماریوں سے بچانے کے لئے بھی اقدامات کئے جائیں۔ متاثرہ علاقوں میں مکمل صفائی کے لئے خصوصی مہم شروع کیا جائے۔

سیلاب زدہ علاقوں میں پینے کے پانی ٹیوب ویلز وغیرہ کو جلد بحال کیا جائے۔ان علاقوں تک تمام رابطہ سڑکوں کی بحالی کے کام کو تیز کیا جائے۔متاثرہ علاقوں میں املاک کے نقصانات کا ڈیٹا اکھٹا کیا جا رہا ہے۔جن جن کے گھر تباہ ہوئے ہیں،  انہیں گھر بنا کر دیں گے۔لائیو اسٹاک کے نقصانات کا بھی معاوضہ دیا جائے گا۔اسی طرح جن کے کاروبار متاثر ہوئے ہیں،  انہیں بھی بھر پور پیکیج دیا جائے گا۔متاثرہ اضلاع میں ریلیف اور بحالی کے کاموں کو تیز کرنے کے لئے مزید افسران تعینات کئے جائیں۔صوبائی حکومت اس پوزیشن میں ہے کہ اپنے لوگوں کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کر سکے۔ تاہم لوگ متاثرین کی مدد کے لئے صوبائی حکومت سے رابطہ کر رہے ہیں۔ لوگوں کے عطیات کو حقداروں تک پہنچانے اور اس میں بھر پور شفافیت کے لئے خصوصی اکاونٹ کھولا جارہا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں بحالی اور امداد کے لئے تین ارب روپے کے علاوہ مزید دو ارب روپے جاری کئے گئے۔

Chairperson Benazir Income Support Program Senator Rubina Khalid's visit to Buner district

چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد کا ضلع بونیر کا دورہ

چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد کا ضلع بونیر کا ہنگامی دورہ کیا۔ سینیٹر روبینہ خالد نے بونیر میں پیر بابا مقام کے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لیا جہاں حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل BISP خیبرپختونخوا اور ان کی ٹیم بھی ہمراہ تھی تاکہ متاثرہ خاندانوں کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔ چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے ہدایت دی کہ مستحق خاندانوں کو پہنچنے والے نقصانات کا فوری تخمینہ لگایا جائے اور بروقت ریلیف کیلئے لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ BISP ہمیشہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گا اور کسی بھی آفت میں متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔
Deputy Prime Minister Ishaq Dar reached Kabul to participate in the tripartite talks

سہ فریقی مذاکرات میں شرکت کیلئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کابل پہنچ گئے

سہ فریقی مذاکرات میں شرکت کیلئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کابل پہنچ گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار پاکستان، چین اور افغانستان کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کے تیسرے دور میں شرکت کے لیے کابل پہنچ گئے۔ کابل ایئرپورٹ پر افغانستان کے نائب وزیر خارجہ محمد نعیم، چیف آف اسٹیٹ پروٹوکول فیصل جلالی، ڈائریکٹر جنرل فرسٹ پولیٹیکل مفتی نور احمد اور افغانستان میں پاکستان کے سفیر عبید الرحمان نظامانی نے وزیر خارجہ کا استقبال کیا۔ ترجمان کے مطابق سہ فریقی مذاکرات میں تینوں ممالک کے درمیان تجارت، علاقائی روابط اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کی جائے گی۔
کابل میں قیام کے دوران محمد اسحاق ڈار افغان وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی سے دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر بھی ملاقات کریں گے۔
Prime Minister and Field Marshal visit flood affected areas

وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ

 وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سیلاب زدہ علاقوں کے دورے پر نکل پڑے۔ وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈمارشل عاصم منیر سب سے پہلے سوات پہنچنے جہاں وفاقی وزیر امیرمقام نے دونوں کا استقبال کیا۔ حکام کا بتانا ہے کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سوات کے بعد بونیر روانہ ہوگئے ہیں جہاں وہ سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کریں گے۔ خیال رہے کہ خیبر پختونخوا میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے اب تک 350 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ہیں جن میں 228 کا تعلق بونیر سے ہے۔Prime Minister and Field Marshal visit flood affected areas

دوسری جانب این ڈی ایم اے کی جانب سے خیبر پختونخوا کے سیلاب متاثرہ علاقوں کے لیے امدادی سامان کی ترسیل جاری ہے۔ این ڈی ایم اے کے مطابق آج صبح باجوڑ اور مانسہرہ کے لیے دو الگ الگ امدادی کھیپیں روانہ کی گئیں جن میں خیمے،کمبل، جنریٹر، ڈی واٹرنگ پمپس، راشن بیگز اور ادویات شامل ہیں۔ این ڈی ایم اے مطابق امدادی سامان سیلاب متاثرین میں تقسیم کے لیے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کے حوالے کیا جائے گا، این ڈی ایم اے، مسلح افواج اور فلاحی اداروں کے تعاون سے کے پی اورگلگت بلتستان کے لیے امدادی سامان روانہ کر رہا ہے۔

mardan-inauguration-of-dispute-resolution-council-drc-office-at-londakhur-police-station

مردان: تھانہ لوندخوڑ میں ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسل (ڈی آر سی) دفتر کا افتتاح

 تھانہ لوندخوڑ میں ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسل (ڈی آر سی) کے نئے دفتر کا افتتاح ریجنل پولیس آفیسر مردان جواد قمر (ستارہ شجاعت، کیو پی ایم) نے کر دیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مردان ظہور بابر آفریدی، ایس پی صدر ڈویژن انعام جان خان، دیگر پولیس افسران، ڈی آر سی چیئرمین اور ممبران بھی موجود تھے۔ افتتاحی تقریب کے دوران آر پی او مردان ریجن جواد قمر نے نومنتخب ڈی آر سی کابینہ سے حلف بھی لیا اور ان پر زور دیا کہ وہ عوامی مسائل کے حل میں غیر جانبداری، دیانت داری اور شفافیت کو یقینی بنائیں۔

ریجنل پولیس آفیسر مردان جواد قمر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسل عوامی تنازعات کے حل کا ایک مؤثر فورم ہے، جس کے ذریعے تھانوں اور عدالتوں پر بوجھ کم ہو رہا ہے اور شہریوں کو بروقت انصاف مل رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈی آر سی اپنی کردار اور خدمات کی بدولت آج ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔ ڈی آر سی ممبران کی کاوشوں سے قتل مقاتلوں کی پرانی دشمنیاں اور دیگر سنگین نوعیت کے تنازعات خوش اسلوبی سے حل ہو رہے ہیں، جو نہ صرف علاقائی امن و امان کے ضامن ہیں بلکہ فریقین کے مابین صلح سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی بھی حاصل ہوتی ہے۔

ڈی پی او مردان ظہور بابر آفریدی نے اپنے پیغام میں کہا کہ ڈی آر سی کمیٹیاں پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں، اور اس فورم کے ذریعے چھوٹے چھوٹے تنازعات مقامی سطح پر مشاورت سے حل ہو رہے ہیں۔ شرکاء نے بھی ڈی آر سی دفتر کے قیام اور نومنتخب کابینہ کی تشکیل کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس اقدام سے عوامی مسائل کے حل میں مزید تیزی آئے گی