وصال محمدخان
حضرت انسان کوازل سے قدرتی آفات کاسامنارہاہے اوریہ سلسلہ یقینا تاابد جاری رہیگا۔ان آفات کاراستہ روکنایاانکے آگے بند باند ھنا انسان کے بس سے باہرہے۔ازل سے قدرتی آفات انسانوں کی بسی بسائی بستیاں تاخت وتاراج کرتی ہیں کہیں زلزلے آتے ہیں،کہیں طوفانی بارشیں ہوتی ہیں،کہیں بادل پھٹتے ہیں توکہیں انسانی آبادیوں کوآندھی وطوفان کے غیض وغضب کاسامناکرناپڑتاہے۔ جس خطے نے زیادہ ترقی کی ہے وہاں قدرتی آفات کے نتیجے میں بڑی تباہی ہوتی ہے۔ یعنی قدرتی آفات کے سامنے جدیددورکاترقی یافتہ یاپتھرکے زمانے کاغیرترقی یافتہ ہر انسان بے بس ہے۔ خیبرپختونخواکے شمالی اضلاع بونیر،دیر،سوات،شانگلہ،ضم قبائلی ضلع باجوڑ،ہزارہ کے مانسہرہ، بٹگرام اورصوابی میں مون سون کی طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی ہے۔ بونیر،باجوڑاورسوات میں بادل پھٹنے،لینڈسلائیڈنگ،ندی نالوں میں طغیانی اوردیگرحادثات سے تادم تحریر400سے زائدافرادلقمہ ء اجل بن چکے ہیں،سینکڑوں افراد زخمی ہوچکے ہیں،ہزاروں مکانات تباہ ہوئے ہیں اوربعض علاقوں میں پوری کی پوری بستیاں نیست ونابود ہو چکی ہیں۔سب سے زیادہ تباہی بونیرمیں ہوئی ہے جہاں 12سے زائد بستیاں مکمل طورپرپانی میں بہہ چکی ہیں اوران کانام ونشان تک مٹ گیا ہے جہاں کے باسیوں کی اکثریت جاں بحق ہوچکی ہے۔ بونیر میں اموات کے حوالے سے جو اندازے لگائے گئے ہیں انکے مطابق تاحال سینکڑوں لاشیں ملبے اوربھاری پتھروں تلے دبی ہوئی ہیں حقیقی نقصان کااندازہ لگانے میں توخاصاوقت لگ سکتاہے مگر دستیاب معلومات کے مطابق تین300سے زائدافراد کی لاشیں ملی ہیں اور جناز ے پڑھے جاچکے ہیں۔ ابتدائی رپورٹ کیمطابق اڑھائی ہزارسے زائدمکانات مکمل تباہ ہوچکے ہیں جبکہ500گھروں کوجزوی نقصان پہنچاہے۔ کلاؤڈ برسٹ کے باعث سیلابی پانی میں بھاری پتھربہہ جانے سے بہت زیادہ نقصان ہواہے۔مندرجہ بالاعلاقوں میں دلخراش مناظردیکھنے کومل رہے ہیں کہیں کسی بچے کی لاش کیچڑمیں دبی، کہیں کسی خاتون کی میت بھاری پتھرتلے،کہیں کسی بچے کی لاش درختوں اور جھاڑیوں میں پھنسی ہوئی توکہیں کسی جوان کی لاش ملبے تلے دب کرناقابل شناخت بن چکی ہے۔بعض علاقوں میں اموات کی تعدادزیادہ ہونے کے سبب کفن کم پڑگئے جو دیگرعلاقوں سے منگوانے پڑے ہر طرف رقت آمیزاورالمناک مناظرہیں موت کاخاموش رقص ہے لوگ اپنے پیاروں کوپتھروں کے نیچے اورکیچڑمیں تلاش کرتے پھررہے ہیں۔بازارپانی اترجانے کے بعدآٹھ آٹھ فٹ کیچڑ میں دبے ہوئے ہیں۔سڑکیں،پل اورشاہراہیں ٹوٹ پھوٹ چکی ہیں،سکول پانی میں بہہ گئے ہیں ابتدائی معلومات کے مطابق متاثرہ اضلاع میں 385 سکولوں کونقصان پہنچاہے جن میں 61سکول مکمل تباہ ہوئے ہیں ان میں 50پرائمری6مڈل اور2ہائی سکولزشامل ہیں جبکہ 324سکولوں کوجزوی نقصان پہنچاہے جن میں 227پرائمری، 33مڈل،40ہائی اور 12ہائیرسکینڈری سکولزشامل ہیں۔مون سون کی بارشوں کایہ 7 واں سپیل تھااس سے قبل ہونیوالی بارشوں سے بھی نقصانات ہوئے تھے مگروہ اس بڑے پیمانے پرنہیں تھے حالیہ سپیل نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑدئے ہیں ایک جانب بارشیں بے حساب ہوئی ہیں اورابھی یہ سلسلہ جاری ہے۔تودوسری جانب کلاؤڈبرسٹ اورلینڈسلائیڈنگ نے طوفانی بارشوں کودوآتشہ بنادیاہے۔ بازاروں میں پانی بھرگیا ہے بلکہ کئی شہروں کے بڑے بازارکسی برساتی بپھرے ہوئے نالے کا منظر پیش کررہے تھے بہت سی مارکیٹوں میں دوکانات منہدم ہوئے اور قیمتی سامان یا توپانی میں بہہ گیایاپھرملبے تلے دب کرناقابل استعمال بن گیا۔ مال مویشی سیلابی ریلوں میں بہہ گئے،کھیت کھلیان،کھڑی فصلیں اورباغات کوشدیدنقصان پہنچادیوقامت درخت جڑوں سے اکھڑ گئے اور فلک بوس عمارتوں کاملبہ تک ریلوں میں بہہ گیا۔ ابتدائی تخمینے کے مطابق صرف بونیرمیں املاک اورمال واسباب کی مدمیں 20ارب روپے سے زائدکانقصان ہوچکاہے۔تباہی کے بعدامدادی سرگرمیاں شروع کردی گئی ہیں نجی فلاحی ادارے انتظامیہ کے شانہ بشانہ بلکہ حکومتی اداروں سے دوقدم آگے کام کرہے ہیں پاک فوج بھی ریلیف،ریسکیواوردیگرامدادی سرگرمیوں میں بھرپورحصہ لے رہی ہے۔ حکو مت اور اسکے اداروں کی کارکردگی حالیہ سیلاب کے دوران بھی حسب سابق ڈانواں ڈول رہی۔بیانات کی حدتک توحکومتی ادارے فعال کردار ادا کر رہے ہیں مگردرحقیقت اصل کام غیرسرکاری فلاحی تنظیمیں کررہی ہیں۔اس سلسلے میں الخدمت فاؤنڈیشن اورخدائی خدمتگارتنظیم سمیت ان گنت تنظیمیں متاثرین کی بھرپورمددکررہی ہیں ریلیف اورریسکیوآپریشنزمیں بھی یہی تنظیمیں سرگرم ہیں جوعوام سے چندہ اکھٹا کرکے سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرین تک پہنچارہی ہیں۔ان فلاحی تنظیموں کے علاوہ مردان،نوشہرہ،چارسدہ،پشاوراوردیگرعلاقوں سے نوجوان بھی بطور رضاکاراپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔خیبرپختونخواکے باشندے اگرچہ گوناگوں مسائل سے دوچارہیں مگراپنے مصیبت زدہ بہن بھائیوں کی امدادکیلئے کوشاں ہیں جوسراہنے کے لائق ہے۔وفاق اورصوبائی حکومتیں اپنے طورپراچھا کام کررہی ہیں۔ سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی اورمواصلات کانظام درہم برہم ہے جس کی بحالی کیلئے حکومتی ادارے شب روزکام کررہے ہیں۔تازہ اطلاعا ت کے مطابق اب تک بجلی بحالی کا50فیصدتک کام مکمل ہوچکاہے۔اس طرح سڑکوں اورپلوں کی بحالی اورراستوں کی بندش سے متاثرین تک رسائی مشکل تھی جس پربھرپورکام ہورہاہے آرمی کی انجیئنرنگ کورنے کئی رابطہ پلوں کی جگہ عارضی پل تعمیرکردئے ہیں لینڈسلائیڈنگ سے بندہونیوالی سڑکوں کی بحالی پربھی تندہی سے کام جاری ہے۔حکومتی دعوے کے مطابق 90فیصدمگرآزادذرائع کے مطابق 60فیصدرابطہ سڑکیں بحال ہوچکی ہیں۔جس پرجوش اندازمیں حکومتی ادارے،پاک فوج،فلاحی تنظیمیں اوررضاکارکام کررہے ہیں اس سے توقع کی جاسکتی ہے کہ بہت جلد سیلاب زدہ علاقوں میں زندگی کی رونقیں بحال ہونگیں۔سیلاب ایک قدرتی آفت ہے جسے روکناانسان کے بس کی بات نہیں مگر خدمت اوراخوت کے جس جذبے سے کام کیاجارہاہے اس سے متاثرین کے زخموں پرمرہم رکھناممکن ہے۔حکومتی مشینری کوبھی مزیدفعال کرداراداکرناہوگا تاکہ سیلاب کی تباہ کاریوں کامداواہو۔
خیبر انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کی گریجویشن تقریب
تحصیل لنڈی کوتل جرگہ ہال میں خیبر انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کی گریجویشن تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں کمانڈنٹ خیبر رائفلز، کرکٹر شاہد آفریدی اوNAVTCC کے اعلی عہدیداروں نے شرکت کی۔ ایف سی کے پی (نارتھ) اور خیبر رائفلز کی اس بہترین کاوش کو سراہتے ہیں کہ ہمارے علاقے کیلئے زبردست اداراہ قائم کیا۔ جو ہمارے نوجوان نسل کو ہنر کے زیور سے مال مال کر رہا ہے اور اس کا تسلسل جاری ہے۔
شاہ گئی قلعہ میں خیبر انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن ٹو کی افتتاحی تقریب کیا گیا۔ جس سے ہمارے پورے علاقے کے نوجوان مستفید ہو سکیں گے اس طرح کا پراجیکٹ اپنی مثال آپ ہے اور یہی وہ بنیاد ہیں جو اس علاقے کی نوجوان نسل کی قسمت انشاء اللہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بدل کر رکھ دے گی۔ اس کے علاوہ کمانڈنٹ خیبر رائفلز نے ہمارے علاقائی ہیروز جن کی علاقے کا نام روشن کرنے میں بے حد خدمات ہیں ان میں انعامات تقسیم کئے اور ہمارے مقامی ہیروز اور خیبر انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کے ہنر مند طلباء و طالبات کا حوصلہ بڑھایا۔
خیبرپختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے نقصانات کی رپورٹ جاری
خیبرپختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے نقصانات کی رپورٹ جاری۔ مختلف حادثات میں اب تک 393 افراد جاں بحق اور 190 زخمی ہوئے۔ جاں بحق افراد میں 300 مرد، 53 خواتین اور 40 بچے شامل ہیں۔ زخمیوں میں 145 مرد، 27 خواتین اور 18 بچے شامل ہیں۔ سیلاب اور بارشوں سے 1618 گھروں کو نقصان پہنچا۔ 1185 گھر جزوی متاثر اور 433 گھر مکمل منہدم ہوئے۔ ضلع بونیر میں سب سے زیادہ 234 اموات رپورٹ ہوئیں۔ صوابی میں جاں بحق افراد کی تعداد 42 ہو گئی۔ پی ڈی ایم اے کیمطابق حادثات سوات، بونیر، باجوڑ، مانسہرہ، شانگلہ، دیر لوئر اور بٹگرام میں پیش آئے۔ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایت۔ متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت جاری۔ ایمرجنسی آپریشن سنٹر مکمل طور پر فعال ہے۔ ناخوشگوار واقعات اور معلومات کیلئے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔
سیلاب زدہ علاقوں میں ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری
پاک فوج کا بونیر، سوات ، شانگلہ اور صوابی کے سیلاب زدہ علاقوں میں فلڈ ریلیف آپریشن ساتویں روز بھی جاری ہے. پاک فوج کی کور آف انجینئرز کے دستے راستوں کو کھولنے اور ملبے کو ہٹانے میں مصروف ہیں۔ پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز میں راشن اور دیگر سامان مہیا کیا جا رہا ہے اور سیلاب زدہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ کور آف انجینئرز کی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم (USAR) بھی ملبے سے زخمیوں اور لاشوں کو ڈھونڈنے میں مصروفِ عمل۔پاک فوج کے ڈاکٹرز متاثرہ علاقوں میں کیمپس لگا کے مریضوں کے مفت علاج میں مصروف ہیں۔ پاک فوج سیلاب سمیت تمام قدرتی آفات میں اپنی عوام کی خدمت میں پیش پیش، سیلاب زدگان کی بحالی اور مکمل ریسکیو تک پاک فوج کا ریسکیو مشن جاری رہے گا۔
وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کا دورہ خیبرپختونخوا
عقیل یوسفزئی
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے گزشتہ روز اپنی ٹیمز کے ہمراہ خیبرپختونخوا کے ان مختلف اضلاع کا دورہ کیا جہاں کلاؤڈ برسٹ اور سیلابی صورتحال نے تباہی مچادی ہے ۔ دونوں اہم ریاستی شخصیات نے جن علاقوں کا فضائی اور زمینی دورہ کیا ان میں بونیر ، شانگلہ ، صوابی اور سوات شامل ہیں ۔ اس موقع پر متعدد وفاقی وزراء کے علاؤہ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری ، پشاور کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عمر بخاری اور صوبائی انتظامیہ کے متعدد اہم عہدے دار بھی موجود تھے ۔
کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل عمر بخاری اور چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے مہمانوں کو متاثرہ اضلاع میں ہونے والی جانی اور مالی نقصانات کے بارے میں بریفنگ دی اور ان اقدامات کی تفصیلات پیش کیں جو کہ متاثرین کی مدد اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے اٹھائے گئے ہیں یا اٹھائے جائیں گے ۔
وزیراعظم نے اس موقع پر وفاقی حکومت کی جانب سے بعض متاثرین میں امدادی چیک بھی تقسیم کئے جبکہ فیلڈ مارشل نے فوجی افسران اور دیگر سول اداروں کے اہلکاروں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں متاثرین کی امداد اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے ترجیحی بنیادوں پر مشترکہ کوششوں کو عملی جامہ پہنایا جائے گا اور افواج پاکستان اس ضمن میں کلیدی کردار ادا کریں گی ۔ فیلڈ مارشل نے ایک منعقدہ تقریب میں پاک فوج ، پولیس اور ریسکیو کے افسران اور اہلکاروں سے فرداً فرداً ملتے ہوئے ان کی تعریف کی ۔
یہ بات قابل ستائش ہے کہ دونوں ریاستی شخصیات نے ان متاثرہ علاقوں کا خود دورہ کرکے نہ صرف یہ کہ بحالی کی کوششوں اور سرگرمیوں کا خود جائزہ لیا بلکہ صوبے کے عوام اور متاثرین کو یہ پیغام بھی دیا کہ وہ اس تکلیف میں اکیلے نہیں ہیں اور پوری ریاست ان کے ساتھ کھڑی ہے ۔ یہ اس لیے بھی اہمیت کا حامل دورہ تھا کہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت حسب سابق اس کارکردگی کا مظاہرہ کرتے دکھائی نہیں دیتی جس کی ضرورت ہے ۔ وزیر اعلیٰ مختلف علاقوں میں خود گئے مگر صوبائی کابینہ کے 90 فی صد ارکان اور نام نہاد عوامی نمائندے لاتعلقی پر مبنی رویے پر گامزن ہیں ۔
بعض اطلاعات کے مطابق ان متاثرہ علاقوں کے پی ٹی آئی کارکنان کے علاؤہ پارٹی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی صوبائی کابینہ کے متعلقہ وزراء اور مشیروں کی عدم موجودگی اور عدم دلچسپی پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور انہوں نے بعض کی سرزنش بھی کی ہے کہ وہ اپنے علاقوں سے اس مشکل وقت میں غیر حاضر کیوں ہیں ۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کے اتنے اہم دورے کے دوران خیبرپختونخوا حکومت کے کسی اہم سیاسی یا حکومتی کو مدعو نہ کرنا اس حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار ہے اور اس جانب اشارہ بھی کہ ریاست کے اہم عہدے داران خیبرپختونخوا کو مزید پی ٹی آئی اور اس کی صوبائی حکومت کی ” رحم و کرم” پر چھوڑنے کا رسک لینے تیار نہیں ہیں ۔
( 21 اگست 2025 )