Khyber Pakhtunkhwa Flood Devastation and Political Turmoil

خیبرپختونخوا راؤنڈاپ

وصال محمدخان

سیلاب تباہ کاریاں, ریلیف و بحالی سرگرمیاں
خیبرپختونخواکے شمالی اضلاع دیر،سوات،شانگلہ اوربونیر،ضم قبائلی ضلع باجوڑاورصوابی میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعدریلیف اوربحالی کیلئے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بونیرمیں 12بستیاں صفحہء ہستی سے مٹ چکی ہیں۔ابتدائی تخمینے کے مطابق اڑھائی ہزارمکانات مکمل طورپرتباہ ہوچکے ہیں، اموات کی تعدادبھی 300سے تجاوزکرچکی ہے جبکہ 100کے قریب افرادتاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے یہ افرادیقینی طورپرجاں بحق ہوچکے ہیں جن کی لاشیں یاتوملبے تلے دبی ہوئی ہیں یاپھرانہیں سیلابی ریلے بہا کردور لے جاچکے ہیں۔ پیر بابا اورملحقہ علاقوں میں کلاؤڈبرسٹ کی تباہی کے بعدامدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔بیشترآبادیاں کیچڑسے اٹی ہوئی ہیں بعض مقامات پر آٹھ فٹ تک کیچڑاورگھاراموجودہے جسے لوگ اپنی مددآپ کے تحت ہٹانے میں مصروف ہیں۔ نجی فلاحی تنظیمیں، حکومتی ریسکیو اور ریلیف ادارے اورپاک فوج کے دستے امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔سیلاب زدہ علاقوں میں مواصلات کے نظام کو شدیدنقصان پہنچاہے اسکی تعمیرومرمت پر پاک فوج کاانجینئرنگ کورکام کررہاہے۔حکومتی اعلان کے مطابق 90 فیصد جبکہ آزاد ذرائع کے مطابق 60سے70فیصدسڑکیں بحال ہوچکی ہیں۔سوات اورشانگلہ میں بھی سیلاب اورکلاؤڈبرسٹ سے بڑے پیمانے پرجانی اورمالی نقصان ہواہے۔حالیہ قدرتی آفت کے نتیجے میں اموات کی تعداد500سے تجاوزکرچکی ہے۔صوابی کے صنعتی حب گدون کے دورافتادہ بستی الوڑئی پرکلاؤدبرسٹ میں 42افرادجاں بحق ہوچکے ہیں۔مشہورمخہ وال (تیرانداز)انورزیب بھی اپنے خاندان سمیت جان کی بازی ہارگئے۔جبکہ صوابی جوکہ صوبے کازرخیزضلع ہے طوفانی بارشوں اور سیلا ب سے مکئی اورسبزی کی فصلیں شدیدمتاثرہوئی ہیں۔تیزبارشوں سے پشاورکاپوش علاقہ صدربھی متاثرہوئے بغیرنہ رہ سکاوہاں سیلاب کاپانی دوکانوں میں بھرگیاجس سے اربوں روپے کانقصان ہواہے۔مون سون کاحالیہ سیزن خیبرپختونخواپرخاصابھاری رہا۔اس سے صوبے کے انفراسٹرکچرکوشدیدنقصان پہنچاہے۔املاک اورکھڑی فصلیں تباہ ہوئیں اورمواصلات کانظام درہم برہم ہوگیا۔انفراسٹرکچرکی بحالی پرتیزی سے کام جاری ہے۔ریلیف اورامدادی سرگرمیاں بھی زوروشورسے جاری ہیں۔اس سلسلے میں فلاحی تنظیمیں بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔ انتظامیہ انکی راہ میں روڑے اٹکانے کی بجائے انہیں سہولیات فراہم کرے۔رضاکارتنظیمیں ریلیف اوربحالی میں بھرپورہاتھ بٹارہی ہیں۔ جماعت اسلامی کی الخدمت فاؤنڈیشن اوراے این پی کی خدائی خدمتگارتنظیم نہ صرف چندہ مہم کے ذریعے نقدامداداوراشیائے ضروریہ اکھٹی کرکے متاثرین تک پہنچارہے ہیں بلکہ ان تنظیموں کے رضاکارلاشوں کی تلاش،ملبہ ہٹانے اورصحت کی مدات میں بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔تمام رفاہی اورفلاحی تنظیموں کی کاوشیں لائق ستائش ہیں۔جانی نقصان کامداواتوممکن نہیں مگرامیدہے آفت زدہ علاقوں میں بہت جلدزندگی کی رونقیں لوٹ آئیں گی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخواعلی امین گنڈاپورنے بونیراورسوات کادورہ کیاجہاں انہیں سیلاب سے ہونیوالے نقصانات اورریلیف سرگرمیوں پر بریفنگ دی گئی۔انہوں نے سیلاب متاثرین کی ہرممکن مدد اور نقصان کاازالہ کرنیکی یقین دہانی کروائی۔حکومت نے سیلاب میں جاں بحق افراد کیلئے20لاکھ جبکہ زخمیوں کیلئے 5لاکھ روپے امدادکااعلان کیاہے۔وزیراعظم شہبازشریف اورآرمی چیف فیلڈمارشل عاصم منیرنے بھی سیلاب سے متاثرہ اضلاع کادورہ کیا۔وزیراعظم شہبازشریف نے شدیدبارشوں کے نتیجے میں جانی ومالی نقصان کاذمہ دارناجائزتجاوزات اورٹمبر مافیا کوقراردیتے ہوئے انکے خلاف سخت کارروائی کاحکم دیدیا۔ان کاکہناتھاکہ پاک فوج اوروفاقی حکومت مشکل کی اس گھڑی میں سیلاب متاثرین کیساتھ ہرممکن تعاون کیلئے پرعزم ہیں،متاثرہ علاقوں میں بحالی کاعمل تیزکرنے اورمعمولات زندگی بحال کرنے کیلئے تمامتر وسائل بروئے کارلائے جائینگے،انہوں نے وفاقی وزرااورآرمی چیف کے ہمراہ سوات،بونیر،شانگلہ اورصوابی کادورہ بھی کیا۔انہیں متاثرہ علاقوں میں جاری امدادی سرگرمیوں اوربحالی پربریفنگز دی گئیں۔متاثرین سیلاب سے ملاقات کے دوران وزیراعظم نے انہیں ہرممکن تعاون کایقین دلایا۔ انہوں نے ناجائزتجاوزات،ٹمبرمافیااورآبی گزرگاہوں میں کان کنی کی طرف توجہ دلائی جوجانی نقصانات کابڑاسبب بنتی ہیں انہوں نے قوانین پرسختی سے عمل کرنیکی ہدایت دی اورکہاکہ کسی بھی خلاف ورزی پربلاامتیاز کار ر وا ئی کی جائے۔وزیراعظم نے بونیر میں امدادی رقوم کے چیکس بھی تقسیم کئے۔انہوں نے گنڈاپورحکومت کی کوششوں کوسراہااورہرممکن تعاون کایقین دلایا۔آرمی چیف جنرل عاصم منیرنے امدادی سرگرمیوں میں مصروف پاک فوج کے جوانوں،پولیس وسول انتظامیہ کے اہلکاروں سے بات چیت کی اورانکی کارکردگی کوسراہاانہوں نے ہدایت کی کہ اس ذمہ داری کو ایمانداری سے نبھائیں اورمتاثرین کی مشکلات کم کرنے میں کوئی کسرنہ چھوڑیں۔

سیاست اور عوامی ردعمل
حکمران جماعت کے صوبائی قائدین نے سیلاب کی تباہ کاریوں کے دوران کوہستان میں جلسہ منعقدکیا جسے صوبے کے طول وعرض میں نا پسند یدگی کی نگاہ سے دیکھاگیاایک جانب صوبہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے نبردآزماہے تو دوسری جانب حکمران جماعت متاثرین کے زخموں پرمرہم رکھنے کی بجائے سیاست بازی میں مصروف ہے۔اے این پی نے دیگرجماعتوں کے ہمراہ 23اگست کواسلام آبادکیلئے جس امن مارچ کااعلان کیاتھااسے سیلاب کے پیش نظرملتوی کیاگیاہے۔میاں افتخار حسین کااس حوالے سے کہنا تھاکہ ہمارے کارکن خدائی خدمتگارو ں کی روپ میں سیلاب متاثرین کی امداداوربحالی کے کاموں میں مصروف ہیں، صو بے کے کئی اضلاع سیلاب سے شدید متاثر ہوئے ہیں اسلئے اسلام آبادکی جانب امن مارچ اتفاق رائے سے ملتوی کیاجارہاہے۔عوامی حلقوں میں اس فیصلے کوسراہاگیاہے۔

عدلیہ اور سیاسی تنازعات
حکمران جماعت کے چیئرمین گوہرخان نے پشاور ہائیکورٹ میں عمرایوب اورشبلی فرازکی نااہلی کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران کہاکہ ملک میں عدلیہ اورجمہوریت کابہت نقصان ہواہے اب بس ہوناچاہئے، فیصلے انصاف اور میرٹ پرہونے چاہئیں،ہم تمام اداروں کااحترام کرتے ہیں،ہم وزیراعظم اورفیلڈمارشل کے دورۂ بونیرپران کاشکریہ ادا کرتے ہیں، خیبر پختونخوامیں سیلاب کی حالیہ تباہ کاریوں کے بعدوفاقی حکومت،پاک فوج اورامدادی سرگر میو ں میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں کے مشکورہیں۔عدالت میں انہوں نے مؤقف اپنایاکہ الیکشن کمیشن کے پاس بغیرسنے کسی رکن کونااہل کرنے کااختیارنہیں،الیکشن کمیشن سپیکر کی ریفرنس کاپابندہے،،عمرایوب اورشبلی فرازکی نااہلی اورعہدوں سے برطرفی غیرآئینی ہے۔عدالت عالیہ نے قومی اسمبلی اورسینیٹ میں نئے قائدحزب اختلاف کی تقرری پرحکم امتناع میں توسیع کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے نوٹس کے ذریعے جواب طلب کرلیاہے۔ محمودخان اچکزئی کوقومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف نامزد کرنے کے حوالے سے عمرایوب کاکہناتھاکہ عمران خان جس کونامزدکرینگے وہی ہمارے اپوزیشن لیڈرہونگے۔محمودخان اچکزئی کی بطور قائد حزب اختلاف نامزدگی پرپی ٹی آئی کوکڑی تنقید کا سامنا ہے پارٹی کے اپنے77ارکان کی موجودگی میں یہ اہم عہدہ محموداچکزئی کودینے پرسوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

A new era of Pakistan's diplomacy

پاکستان کی سفارتکاری کا نیا سفر

عقیل یوسفزئی
پاکستان عالمی طاقتوں اور پڑوسی ممالک کی دلچسپی کا مرکز بنا ہوا ہے اور رواں برس متعدد سربراہان مملکت سمیت مختلف ممالک کے ریکارڈ تعداد میں وفود نے پاکستان کا دورہ کیا جن میں امریکہ ، روس ، چین ، ترکی ، سعودی عرب ، ایران ، یو اے ای ، آذر بائیجان ، بنگلہ دیش ، سنگاپور ، برطانیہ اور متعدد دیگر اہم ممالک کے سربراہان مملکت ، وزرائے خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں ۔
گزشتہ روز چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے پاکستان کا دورہ کیا جس کے دوران وہ اہم حکومتی شخصیات کے علاؤہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بھی ملے ۔ اس ملاقات کو خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور یہاں جاری ” ری انگیجمنٹ ” کے تناظر میں بہت اہمیت دی جارہی ہے کیونکہ بعض لوگ یہ پروپیگنڈا کرتے رہے کہ پاکستان اور چین کے تعلقات میں امریکن فیکٹر کے باعث پہلی والی گرمجوشی نہیں رہی ہے ۔ اس دورے نے ان تمام مفروضوں کو غلط ثابت کردیا ۔ اس سے ایک روز قبل پاکستان ، چین اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان کابل میں اہم مذاکرات ہوئے جس میں سیکیورٹی معاملات کے علاؤہ سی پیک پراجیکٹ میں افغانستان کو شامل کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ۔ اگر منفی پروپیگنڈا کرنے والے ” عناصر” کی افواہوں کو درست مان لیا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ افغانستان کو سی پیک میں شامل کرنے کا اقدام چین کیوں اٹھانے لگا ہے ؟
اسی روز پاکستان میں متعین امریکی ناظم الامور نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے ساتھ اہم ملاقات کی تو دوسری جانب بنگلہ دیش کے اہم فوجی وفد بھی پاکستان پہنچ گیا ۔ اس طرح کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہے کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار آج بروز ہفتہ بنگلہ دیش کا اہم دورہ کرنے والے ہیں ۔
ماہرین کے مطابق بیک وقت پاکستان نہ صرف چین اور امریکہ کے ساتھ بہترین تعلقات قائم رکھنے میں کامیاب ہوگیا ہے بلکہ عرصہ دراز کے بعد پاکستان کے ایران اور سعودی عرب کے ساتھ بھی متوازن تعلقات قائم کئے ہیں ۔ دوسری جانب پاکستان نے پہلی بار سنٹرل ایشین ریاستوں اور روس کے ساتھ بھی تعلقات بڑھانے پر غیر معمولی توجہ دی ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ پاکستان آذر بائیجان ، تاجکستان اور ازبکستان کے ساتھ مختلف اہم پراجیکٹس پر بھی کام کرنے لگا ہے ۔
بھارت سمیت خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان اس وقت عالمی اور علاقائی قوتوں کا مرکز نگاہ بنا ہوا ہے اور اس کی بنیادی وجہ پاکستان کی وہ جغرافیائی اہمیّت ہے جو کہ کسی بھی دوسرے ملک کو حاصل نہیں ہے ۔
اندرونی طور پر پاکستان دہشت گردی اور سیاسی استحکام کے خاتمے پر غیر معمولی توجہ دینے لگا ہے کہ سال 2024 کے مقابلے میں رواں برس معیشت میں بھی کافی بہتری آئی ہوئی ہے ۔ اس تناظر میں بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے استحکام اور ترقی کا نیا سفر شروع ہوگیا ہے اور اگر تمام اسٹیک ہولڈرز اسی طرح ایک پیج پر رہ کر مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے تو مزید بہتر نتائج برآمد ہوں گے ۔