Mardan police strict crackdown on criminal elements

مردان پولیس کا جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کریک ڈاؤن

 ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مردان ظہور بابر آفریدی کی زیرِ صدارت کرائم کنٹرول میٹنگ منعقد ہوئی جس میں ایس پی انوسٹی گیشن نثار خان، تمام ڈویژنل ایس پیز، ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز نے شرکت کی۔ میٹنگ میں جرائم کے خاتمے، عوامی مسائل کے فوری حل اور سیکیورٹی کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ ڈی پی او مردان نے واضح کیا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی اور کسی بھی صورت میں رعایت نہیں دی جائے گی۔ ویزہ مافیا جو معصوم شہریوں کو بیرونِ ملک روزگار کے جھوٹے خواب دکھا کر لوٹتے ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ اسلحہ کی نمائش، سود اور کالے دھندے ہرگز برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ شریف شہریوں کو عزت دی جائے گی جبکہ جرائم پیشہ کو قانون کے مطابق سختی سے کچلا جائے گا۔

عوامی شکایات کے حل کے لیے ہر ایس ایچ او روزانہ 2 گھنٹے تھانے میں موجود رہے گا۔ تھانوں اور بینکوں کی سیکیورٹی مزید سخت کرنے اور حساس مقامات پر پولیس کی موجودگی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔ دوسرے اضلاع کے ساتھ قریبی کوآرڈینیشن کے ذریعے سنگین جرائم میں کمی لائی جائے گی۔ منشیات فروشوں، قبضہ مافیا اور اشتہاری مجرمان کے خلاف ٹارگٹڈ ریڈز کیے جائیں گے۔ ٹریفک کے مسائل کو حل کرنے کے لیے بھی مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ ڈی پی او مردان نے کہا کہ پولیس فورس عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت سرگرم ہے اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ پولیس کے ساتھ تعاون کریں تاکہ ضلع مردان کو جرائم سے پاک، پرامن اور محفوظ بنایا جا سکے۔

Pakistan Prime Minister Shahbaz Sharif left for Qatar on an emergency visit

وزیراعظم شہباز شریف ہنگامی دورے پر قطر روانہ ہوگئے

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف ہنگامی دورے پر قطر روانہ ہوگئے. وزیر اعظم شہباز شریف کا دورے قطر اہم بتایا جائے رہا ہیں. وزیرِ اعظم قطر پر اسرائیلی جارحیت کے تناظر میں اظہار یکجہتی کے لیے ایک روزہ دورے پر دوحہ روانہ ہوئے ہیں۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللّٰہ تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ ہیں۔ وزیر اعظم کی دوحہ میں قطری شیخ تمیم بن حماد الثانی سے ملاقات ہو گی۔ وزیر اعظم دوحہ پر بلاجواز اسرائیلی جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کے حملے کے تناظر میں قطری امیر اور عوام سے اظہار یکجہتی کریں گے۔

Inauguration of Bank of Khyber Convenience Desk at Peshawar Chamber

پشاور چیمبر میں بینک آف خیبر سہولت ڈیسک کا افتتاح

پشاور چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹریز میں بینک آف خیبر کی جانب سے تاجربرادری کیلئے خصوصی سہولت ڈیسک قائم کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر چیمبر میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں تاجر رہنماؤں، بینک نمائندوں اور بڑی تعداد میں کاروباری شخصیات نے شرکت کی، سہولت ڈیسک کے قیام کا مقصد تاجروں کو بینکنگ سروسز تک آسان رسائی فراہم کرنا، قرضہ جات کے حصول میں رہنمائی اور اسلامک بینکنگ سے متعلق سہولیات سے آگاہ کرناہے،تقریب کی صدارت گروپ لیڈر ملک مہرالٰہی اور صدر چیمبر شکیل احمد خان صراف نے کی، جبکہ سینئر نائب صدر حاجی طلاء محمد، نائب صدر زوہیب عارف، ترجمان تنظیم تاجران شہزاد احمد صدیقی، ایس ایم سی ٹیم منیجر ارباب محمد خان، سمیڈا کے نمائندے راشد امان اور ایگزیکٹیو ممبران سمیت کثیر تعداد میں تاجر شریک ہوئے،بینک آف خیبر کے حکام نے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سہولت ڈیسک پر تاجر اسلامک بینکنگ، قرضوں کے حصول، اکاؤنٹس کے اجرا اور کاروباری ترقی کے لئے مالی سہولتوں کے بارے میں براہ راست رہنمائی حاصل کر سکیں گے، آئندہ ماہ ایک خصوصی تربیتی ورکشاپ بھی منعقد کی جائے گی جس میں وزیراعظم کے نوجوان روزگار سکیم، جدید کاروباری تقاضوں اور قرضہ جات کے مؤثر استعمال کے طریقوں پر تربیت دی جائے گی،اپنے خطاب میں ملک مہرالٰہی اور صدر چیمبر شکیل احمد خان صراف نے کہا کہ سہولت ڈیسک کے قیام سے تاجروں کو بینکنگ نظام میں درپیش مشکلات کم ہوں گی، اکثر چھوٹے تاجر بینکوں کے پیچیدہ طریقہ کار اور کاغذی کارروائی کی وجہ سے قرضہ جات حاصل نہیں کر پاتے، لیکن یہ ڈیسک ان کیلئے ایک سہل ذریعہ ثابت ہوگا، ان کا کہنا تھا کہ کاروبار میں ترقی کیلئے سرمایہ کاری اور بینکنگ سہولتوں تک رسائی ناگزیر ہے اور یہ اقدام صوبے میں تجارتی سرگرمیوں کو بڑھانے کا باعث بنے گا،تقریب میں شریک تاجر نمائندوں نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ بینک آف خیبر نے ہمیشہ مقامی تاجروں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے سہولیات فراہم کی ہیں،ان کے مطابق چیمبر میں ڈیسک کے قیام سے تاجر برادری اور بینک کے درمیان رابطے مزید مستحکم ہوں گے اور نوجوان کاروباری حضرات کو بھی حوصلہ ملے گا،کاروباری حلقوں نے توقع ظاہر کی کہ اگر اسی طرز پر دیگر مالی ادارے بھی سہولت مراکز قائم کریں تو خطے کی معیشت کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

Actions in Khyber Pakhtunkhwa, 19 Khawarij killed

خیبر پختونخوا میں کارروائیاں، 19 خوارج ہلاک

9 اور 10 ستمبر کو خیبر پختونخوا صوبے میں تین الگ الگ کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے بھارت کے ایجنٹ فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے انیس خوارج کو جہنم واصل کر دیا۔خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر سیکیورٹی فورسز نے ضلع مہمند کے عمومی علاقے گلونو میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا۔ دورانِ کارروائی پاک فوج کے جوانوں نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارت کے سرپرست چودہ خوارج کو جہنم واصل کر دیا گیا۔ایک اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں کیا گیا، جہاں فائرنگ کے تبادلے کے دوران مزید چار خوارج کو سیکیورٹی فورسز نے ہلاک کر دیا۔اسی طرح ضلع بنوں میں ہونے والے ایک اور مقابلے میں ایک خوارج کو انجام تک پہنچا دیا گیا۔بھارت کے سرپرست ان ہلاک شدہ خوارج سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔ یہ خوارج ان علاقوں میں کئی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث رہے تھے۔ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہیں تاکہ کسی بھی باقی خوارج کو ختم کیا جا سکے۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اس بات پر پُرعزم ہیں کہ ملک سے بھارتی سرپرست دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔

South Waziristan: Headquarters Frontier Corps Khyber Pakhtunkhwa (South) organized a historic youth convention.

جنوبی وزیرستان: فرنٹیئر کور خیبرپختونخوا کے زیرِ اہتمام یوتھ کنونشن کا انعقاد

جنوبی وزیرستان کے مرکزی شہر میں ایک شاندار یوتھ کنونشن کا انعقاد کیا گیا۔ کنونشن میں انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور خیبرپختونخوا (ساوتھ) نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر نوجوانوں، اساتذہ، خواتین اور قبائلی عمائدین کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ شرکاء نے تعلیم، مثبت سرگرمیوں اور علاقے کی سماجی ترقی کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا۔ نوجوانوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ اپنی توانائیاں تعلیمی میدان، کھیلوں اور فلاحی کاموں میں صرف کریں گے تاکہ اپنے مستقبل کو بہتر بنا سکیں۔ اس کنونشن کے دوران مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی شخصیات کو اعزازات سے نوازا گیا۔ انسپکٹر جنرل ایف سی (ساوتھ) نے تقریب کے دوران اعلان کیا کہ انگور اڈہ بارڈر ٹرمینل کو 30 ستمبر 2025 تک تجارت کے لئے دوبارہ کھو ل دیا جائے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہونہار طلباء کو آرمی چیف ایجوکیشن پیکیج کے تحت ملک بھر کے آرمی پبلک اسکولز میں تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اسی موقع پر نوجوانوں کے لئے ڈیجیٹل اسکلز کورسز اور طلباء و طالبات کے لئے گرینڈ اسپورٹس فیسٹیول کے انعقاد کا بھی اعلان کیا گیا۔ مقامی شرکاء نے خواتین کی تعلیم، فلاحی منصوبوں اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے پاک فوج اور ایف سی ساوتھ کی کوششوں کو سراہا اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

ریاستی رٹ کی اہمیت

عقیل یوسفزئی
دنیا کے کئی ممالک بے چینی اور کشیدگی کے علاؤہ اندرونی عدم استحکام اور تصادم کی صورت حال سے دوچار ہیں ۔ یہاں تک کہ گزشتہ روز امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک اہم ساتھی اور اتحادی کو گولیوں کا نشانہ بناکر ہلاک کردیا گیا جبکہ فرانس میں بھی ہزاروں لوگ اچانک حکومت کے خلاف نکل آئے ۔ اس سے قبل جہاں ایک طرف اسرائیل نے امریکہ کے اہم اتحادی ملک قطر پر فضائی حملے کیے وہاں سوشل میڈیا پر پابندیوں کی آڑ میں نیپال میں حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور بنگلہ

دیش کے طرز پر اہم شخصیات اور عمارات کو نشانہ بناکر تشدد کی بدترین مثالیں قائم کی گئیں ۔
اس تمام صورتحال میں ماہرین کا یہ تاثر مزید پختہ ہوگیا ہے کہ طاقتور دفاعی ادارے کسی ملک کی سلامتی کے لیے کتنے اہم ہوتے ہیں ۔ یہ بحث بھی پھر سے شروع ہوگئی کہ سوشل میڈیا کے غیر ذمے دارانہ استعمال کے کیا نتائج برآمد ہوسکتے ہیں اور یہ کہ نام نہاد اظہار رائے کی حدود و قیود کا از سر نو تعین ہونا چاہیے ورنہ بھیڑ نما گروپ اور لوگ اپنی ریاستوں کو نیپال کی طرح برباد کرکے رکھ سکتے ہیں ۔
تشدد کی بڑھتی عالمی لہر نے کمزور دفاع والے ممالک کے مستقبل کو سوالیہ نشان بناکر رکھ دیا ہے جبکہ قطر والے حملے سے اس تاثر کو بھی تقویت ملی ہے کہ کسی مضبوط اتحادی ملک پر اپنی سیکورٹی اور سلامتی کے لیے انحصار نہیں کیا جاسکتا ۔ تاہم جدید دور کے دوران تشدد کے بڑھتے واقعات نے جہاں ریاستی رٹ کی اہمیت کو مزید بڑھایا ہے وہاں بہت سے سماجی اور اخلاقی مسایل بھی پیدا کیے ہیں ۔
پاکستان میں بھی وقتاً فوقتاً کوشش کی جاتی رہی ہے کہ ریاست کے خلاف کارروائیوں اور مزاحمت کا آغاز کیا جائے اور اس ضمن اگر ایک طرف ملک کے دو صوبوں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردی کو فروغ دیا جارہا ہے اور پراکسیز پر پاکستان مخالف قوتوں کی جانب سے سرمایہ کاری ہورہی ہے تو دوسری جانب جمہوریت اور انسانی حقوق کی آڑ میں ریاست سے عام لوگوں کو متنفر کیا جائے ۔ اگر چہ ایک مضبوط دفاعی نظام کے باعث ان تمام منفی عوامل اور قوتوں کو اپنے عزائم کی تکمیل میں کامیابی نہیں ملتی اس کے باوجود یہ تمام کوششیں کسی نہ کسی صورت میں جاری ہیں اور اسی کے تسلسل میں ایک مخصوص پارٹی نے جہاں ایک طرف طالبان وغیرہ کی پھر سے وکالت شروع کردی ہے وہاں نیپال کے طرز پر پاکستان میں نوجوانوں کو بغاوت پر آمادہ کرنے کی کوشش بھی کی گئی جو کہ افسوسناک ہے اور ایسے عناصر کے خلاف مزید سخت اقدامات کی اشد ضرورت ہے ۔