freelancing-seminar-organized-in-collaboration-with-district-administration-bannu

ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن بنوں کے تعاون سے “فری لانسنگ سیمینار” کا انعقاد

گورنمنٹ ڈگری کالج سکندر خیل بالا، بنوں میں ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن بنوں اور ڈسٹرکٹ یوتھ آفس بنوں تعاون سے “فری لانسنگ سیمینار” کا کامیاب انعقاد کیا گیا۔ اس سیمینار کا مقصد نوجوانوں کو آن لائن روزگار کے مواقع، فری لانسنگ اسکلز اور عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ میں کام کرنے کے عملی طریقوں سے روشناس کرانا تھا۔ طلبہ و طالبات کو مختلف پلیٹ فارمز، اسکل ڈویلپمنٹ اور مارکیٹ کے تقاضوں کے بارے میں جامع آگاہی فراہم کی گئی۔
معزز مہمانِ خصوصی مسٹر شکیل احمد (اسسٹنٹ کمشنر بنوں) نے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی کے لیے نہایت مفید گفتگو کی۔ اسی طرح ہمارے معزز مہمانِ گرامی ڈاکٹر شوکت (اسسٹنٹ پروفیسر) نے بھی فری لانسنگ، کیریئر پلاننگ اور ڈیجیٹل اسکلز کی اہمیت پر خصوصی لیکچر دیا۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس مفید اور معلوماتی پروگرام کے انعقاد پر ڈسٹرکٹ یوتھ آفیسر جناب محمد زاہد خٹک کا خصوصی شکریہ ادا کیا، جن کی کاوشوں سے نوجوانوں کے لیے اس طرح کی سرگرمیاں ممکن ہو پاتی ہیں۔ ہم تمام مہمانوں، کالج انتظامیہ اور شرکاء کے شکر گزار ہیں۔
ان شاء اللہ مستقبل میں بھی نوجوانوں کی ترقی اور رہنمائی کے لیے ایسے تربیتی پروگرام جاری رہیں گے۔
Aqeel Yousafzai

اہم عسکری تبدیلیاں

عقیل یوسفزئی
وفاقی حکومت نے پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے چیف آف ڈیفنس فورسز کا باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے جبکہ ائیر چیف ظہیر احمد بابر سدھو کی مدت ملازمت میں دو برسوں کی توسیع کی گئی ہے۔ اس پیشرفت کے بعد ایک مخصوص پارٹی کے علاؤہ ان تمام ” تجزیہ کاروں” اور یوٹیوبرز وہ تمام دعوے اور تبصرے غلط ثابت ہوئے جن کے ذریعے یہ تاثر دینے کی مسلسل کوشش کی جاتی رہی کہ گویا پاکستان کی اعلٰی عسکری قیادت اور سول حکومت کے درمیان کوئی کشیدگی پائی جاتی ہے ۔
پی ٹی آئی نے اس تمام معاملے کے دوران فیلڈ مارشل کے خلاف جس بھونڈے انداز میں ” پروپیگنڈا گردی” کی وہ نہ صرف قابل افسوس تھی بلکہ اس مہم جوئی نے پی ٹی آئی اور ریاست کے درمیان پہلے سے موجود فاصلوں کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے جس کا خمیازہ اس پارٹی کو یقینی طور پر کسی نہ کسی شکل میں بھگتنا پڑے گا کیونکہ فیلڈ مارشل حالیہ نوٹیفکیشن کے بعد مزید طاقتور اور بااختیار ہوگئے ہیں ۔
نوٹیفکیشن کے ایک رسمی کارروائی کو مذکورہ سیاسی ” مخلوق” کے علاوہ مین سٹریم میڈیا کے اکثر ” شاہ سواروں” اور بعض وفاقی وزراء کے بیانات نے جس بھونڈے انداز میں کنفیوژن پیدا کرنے کے لیے کئی روز تک استعمال کیا اس کے نتیجے میں یہ بات پھر سے سچ ثابت ہوگئی ہے کہ پاکستان میں اظہار رائے کے معاملات پر سخت نظر ثانی اور مشاورت کی ضرورت ہے اور اداروں کے درمیان کشیدگی بڑھانے والے عناصر کو مزید چھوٹ نہیں دی جاسکتی ۔
یہ ثابت کرنے کی مسلسل کوشش کی گئی کہ شاید مذکورہ نوٹیفکیشن ہی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے حالانکہ یہ بات سب کو معلوم تھی کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد یہ سب کچھ ہونا ہی تھا اور فوج کی ٹاپ قیادت ہی نے بعض دیگر اعلیٰ افسران کو طریقہ کار اور روایات کے مطابق ترقی دینی یا تعیناتی کرنی تھیں ۔
بیرون ملک ” براجمان” ایک مخصوص گروپ نے جھوٹے پروپگنڈے کے ذریعے پھر سے مصنوعی ہیجان پیدا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی حالانکہ عام پاکستانیوں کی اس معاملے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی ۔
دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کی دو بہنوں نے اسی دوران پاکستان مخالف انڈین چینلز کو انٹرویوز دیتے ہوئے نہ صرف فیلڈ مارشل کی ذات ، شخصیت اور نظریات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی بلکہ انڈین میڈیا کو غیر ضروری مواد فراہم کرنے کا موقع بھی دیا جس پر دوسروں کے علاوہ پی ٹی آئی کے سنجیدہ حلقوں نے بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ۔
اس تمام تر مہم جوئی اور صورت حال نے اس بات پر پھر سے سنجیدہ حلقوں اور متعلقہ ریاستی اداروں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ عدم استحکام پیدا کرنے والے عناصر ایک منظم پلاننگ کے ذریعے پاکستان مخالف پروپیگنڈا میں مصروف ہیں اس لیے ان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا جائے ۔

Field Marshal Syed Asim Munir and Chief of Air Staff

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز تعینات، ایئر چیف کی مدت میں دو سال توسیع

اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بطور چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز تقرری کی منظوری دے دی ہے۔ ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بھجوائی گئی سمری کی منظوری کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر کو پانچ سال کے لیے پاکستان کا پہلا چیف آف ڈیفنس فورسز تعینات کر دیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کے بعد متعارف کرائے گئے اس نئے عہدے نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی جگہ لے لی ہے، جو 27 نومبر کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا گیا تھا۔

صدر نے اس موقع پر ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی مدتِ ملازمت میں دو سال کی توسیع کی بھی منظوری دی، جس کا اطلاق ان کی موجودہ مدت ختم ہونے کے بعد 19 مارچ 2026ء سے ہوگا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو پاکستان کا پہلا چیف آف ڈیفنس فورسز بننے پر مبارکباد دیتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیراعظم  نے کہا کہ جدید جنگی تقاضوں کے مطابق یہ تقرری ایک اہم قدم ہے اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی بہادر افواج نے ہمیشہ ملک کا وقار بلند رکھا ہے۔ وزیراعظم نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کو بھی مدتِ ملازمت میں توسیع پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان فضائیہ نے ان کی قیادت میں اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے عزائم ناکام بنائے۔ واضح رہے کہ جمعرات کے روز مقامی میڈیا پر اس تقرری سے متعلق ایک نوٹیفکیشن سامنے آیا تھا، تاہم چند لمحوں بعد اسے جعلی قرار دے کر واپس لے لیا گیا۔ بعدازاں ایوانِ صدر اور وزیراعظم آفس کی جانب سے باضابطہ منظوری کا اعلان کر دیا گیا۔