ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن بنوں کے تعاون سے “فری لانسنگ سیمینار” کا انعقاد
اہم عسکری تبدیلیاں
عقیل یوسفزئی
وفاقی حکومت نے پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے چیف آف ڈیفنس فورسز کا باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے جبکہ ائیر چیف ظہیر احمد بابر سدھو کی مدت ملازمت میں دو برسوں کی توسیع کی گئی ہے۔ اس پیشرفت کے بعد ایک مخصوص پارٹی کے علاؤہ ان تمام ” تجزیہ کاروں” اور یوٹیوبرز وہ تمام دعوے اور تبصرے غلط ثابت ہوئے جن کے ذریعے یہ تاثر دینے کی مسلسل کوشش کی جاتی رہی کہ گویا پاکستان کی اعلٰی عسکری قیادت اور سول حکومت کے درمیان کوئی کشیدگی پائی جاتی ہے ۔
پی ٹی آئی نے اس تمام معاملے کے دوران فیلڈ مارشل کے خلاف جس بھونڈے انداز میں ” پروپیگنڈا گردی” کی وہ نہ صرف قابل افسوس تھی بلکہ اس مہم جوئی نے پی ٹی آئی اور ریاست کے درمیان پہلے سے موجود فاصلوں کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے جس کا خمیازہ اس پارٹی کو یقینی طور پر کسی نہ کسی شکل میں بھگتنا پڑے گا کیونکہ فیلڈ مارشل حالیہ نوٹیفکیشن کے بعد مزید طاقتور اور بااختیار ہوگئے ہیں ۔
نوٹیفکیشن کے ایک رسمی کارروائی کو مذکورہ سیاسی ” مخلوق” کے علاوہ مین سٹریم میڈیا کے اکثر ” شاہ سواروں” اور بعض وفاقی وزراء کے بیانات نے جس بھونڈے انداز میں کنفیوژن پیدا کرنے کے لیے کئی روز تک استعمال کیا اس کے نتیجے میں یہ بات پھر سے سچ ثابت ہوگئی ہے کہ پاکستان میں اظہار رائے کے معاملات پر سخت نظر ثانی اور مشاورت کی ضرورت ہے اور اداروں کے درمیان کشیدگی بڑھانے والے عناصر کو مزید چھوٹ نہیں دی جاسکتی ۔
یہ ثابت کرنے کی مسلسل کوشش کی گئی کہ شاید مذکورہ نوٹیفکیشن ہی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے حالانکہ یہ بات سب کو معلوم تھی کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد یہ سب کچھ ہونا ہی تھا اور فوج کی ٹاپ قیادت ہی نے بعض دیگر اعلیٰ افسران کو طریقہ کار اور روایات کے مطابق ترقی دینی یا تعیناتی کرنی تھیں ۔
بیرون ملک ” براجمان” ایک مخصوص گروپ نے جھوٹے پروپگنڈے کے ذریعے پھر سے مصنوعی ہیجان پیدا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی حالانکہ عام پاکستانیوں کی اس معاملے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی ۔
دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کی دو بہنوں نے اسی دوران پاکستان مخالف انڈین چینلز کو انٹرویوز دیتے ہوئے نہ صرف فیلڈ مارشل کی ذات ، شخصیت اور نظریات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی بلکہ انڈین میڈیا کو غیر ضروری مواد فراہم کرنے کا موقع بھی دیا جس پر دوسروں کے علاوہ پی ٹی آئی کے سنجیدہ حلقوں نے بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ۔
اس تمام تر مہم جوئی اور صورت حال نے اس بات پر پھر سے سنجیدہ حلقوں اور متعلقہ ریاستی اداروں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ عدم استحکام پیدا کرنے والے عناصر ایک منظم پلاننگ کے ذریعے پاکستان مخالف پروپیگنڈا میں مصروف ہیں اس لیے ان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا جائے ۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز تعینات، ایئر چیف کی مدت میں دو سال توسیع
اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بطور چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز تقرری کی منظوری دے دی ہے۔ ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بھجوائی گئی سمری کی منظوری کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر کو پانچ سال کے لیے پاکستان کا پہلا چیف آف ڈیفنس فورسز تعینات کر دیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کے بعد متعارف کرائے گئے اس نئے عہدے نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی جگہ لے لی ہے، جو 27 نومبر کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا گیا تھا۔
صدر نے اس موقع پر ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی مدتِ ملازمت میں دو سال کی توسیع کی بھی منظوری دی، جس کا اطلاق ان کی موجودہ مدت ختم ہونے کے بعد 19 مارچ 2026ء سے ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو پاکستان کا پہلا چیف آف ڈیفنس فورسز بننے پر مبارکباد دیتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ جدید جنگی تقاضوں کے مطابق یہ تقرری ایک اہم قدم ہے اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی بہادر افواج نے ہمیشہ ملک کا وقار بلند رکھا ہے۔ وزیراعظم نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کو بھی مدتِ ملازمت میں توسیع پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان فضائیہ نے ان کی قیادت میں اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے عزائم ناکام بنائے۔ واضح رہے کہ جمعرات کے روز مقامی میڈیا پر اس تقرری سے متعلق ایک نوٹیفکیشن سامنے آیا تھا، تاہم چند لمحوں بعد اسے جعلی قرار دے کر واپس لے لیا گیا۔ بعدازاں ایوانِ صدر اور وزیراعظم آفس کی جانب سے باضابطہ منظوری کا اعلان کر دیا گیا۔


