Wisal Muhammad Khan

خیبرپختونخواراؤنڈاَپ

وصال محمدخان
صوبے میں ایک بارپھرگورنرراج کی خبریں گرم،گورنرکی رخصتی کابھی امکان؟
خیبرپختونخوامیں گزشتہ ہفتے ایک بارپھرگورنرراج کی قیاس آرائیوں نے جنم لیا۔سوشل اورقومی میڈیاپرصوبے کے تین سابق وزرائے اعلیٰ آفتاب شیرپاؤ،حیدرہوتی اورپرویزخٹک جبکہ تین سابق فوجی افسران کے نام بھی بطورگورنرلئے جانے لگے اے این پی کی جانب سے گورنر راج سے لاتعلقی جبکہ آفتاب شیرپاؤنے اس معاملے سے لاعلمی کااظہارکیا۔ صوبے میں گورنرراج کی افواہوں نے اس وقت بھی جنم لیا تھا جب گزشتہ برس جون میں علی امین گنڈاپورنے بجٹ منظورکروانے میں پس وپیش سے کام لیا۔اس وقت بھی اسی طرح کچھ سیاستدانوں اور چندفوجی افسران کے نام سامنے آئے تھے۔صوبے میں جب بھی گورنرراج کی افواہیں جنم لیتی ہیں گورنرفیصل کریم کنڈی کی رخصتی کاذکر بھی ہوتاہے جس سے واضح ہورہاہے کہ فیصل کریم کنڈی وفاقی حکومت کیلئے قابل قبول نہیں اسی لئے وزیراعلیٰ کی رخصتی سے قبل ہی گورنر کی رخصتی اورنئے گورنرکی تعیناتی پرتبصرے شروع ہوجاتے ہیں۔کچھ ذرائع کادعویٰ ہے کہ ن لیگ اورپی پی کے درمیان وفاق میں پاور شیئر نگ کا جو فارمولاطے پایاتھااس میں دوصوبوں کی گورنرشپ پیپلزپارٹی کودی گئی تھی مگرآزادکشمیرمیں اس کی حکومت قائم ہونے سے ن لیگ اس فارمو لے پرنظرثانی کاخواہاں ہے جس کے تحت پی پی کوخیبرپختونخواکی گورنرشپ سے ہاتھ دھونے پڑسکتے ہیں۔ممکن ہے کہ جلد یا بدیر فیصل کریم کنڈی کی جگہ کوئی دوسراگورنرآجائے گزشتہ ماہ بھی آفتاب شیرپاؤکوگورنربنائے جانے کی خبریں سامنے آئی تھیں کچھ ذرائع نے دعویٰ تھاکہ افغانستان کیساتھ تعلقات کی خرابی اورجنگ کی صورت میں آفتاب شیرپاؤاہم کرداراداکرسکتے ہیں اسلئے انہیں گورنرتعینات کیاجارہاہے مگر یہ خبربھی وقت کی گردمیں دب گئی اب ایک بارپھرگورنرراج اورگورنرکی تبدیلی کی خبریں چل رہی ہیں گورنرراج کے نفاذسے یقیناًوزیراعلیٰ اور گورنردونوں فارغ ہونگے۔ گورنرراج کے بعدوالی صورتحال کوکنٹرول کرنے کیلئے وفاق کوکسی موزوں شخص کی تلاش ہے۔ ذرائع کے مطابق گورنرراج کاحالیہ شوشہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کواڈیالہ جیل کے باہراحتجاج سے بازرکھنے کیلئے چھوڑاگیااگرواقعی اس کا مقصدیہی تھا تویقیناً یہ مقصد پورا ہو چکاہے سہیل آفریدی نے گزشتہ منگل کواڈیالہ جیل کے باہراحتجاج کااعلان کیاتھامگرمقررہ دن وزیراعلیٰ اڈیالہ جیل کے باہر جانے کی بجائے پشاورمیں موجودرہے۔اپنے اعلان کردہ احتجاج میں عدم شرکت کوگورنرراج کی دھمکی سے جوڑاجارہا ہے۔ پی ٹی آئی کے ایک دھڑے نے صوابی کے مقام پرموٹروے بندکرکے احتجاج کیاجسے صوبے کے سیاسی،سماجی،صحافتی اورعوامی حلقوں نے کڑی تنقیدکا نشانہ بنایااس سے عوام ہی متاثرہوئے احتجاج جہاں ہوناچاہئے تھاوہاں کی بجائے صوابی میں کیاگیا۔دوسری جانب پارٹی کی صوبائی تنظیم بھی احتجاج سے لاتعلق رہی جس سے واضح ہورہاہے کہ پارٹی تنظیمی طورپرمنتشر ہے وزیراعلیٰ احتجاج کااعلان کرتے ہیں جبکہ صوبائی صدر اسکی تائید کر تے نظرنہیں آتے 26نومبرکوپشاورمیں گزشتہ برس ڈی چوک واقعے کے حوالے سے یادگاری دن منانے کااعلان کیاگیا تھا مگر اس میں شرکاء کی تعدادخاصی کم رہی جسے وزیراعلیٰ نے بھی نہ صرف محسوس کیابلکہ ناراضگی کااظہاربھی کیا۔وزیراعلیٰ کوعہدہ سنبھا لے دوماہ کا عرصہ ہونے کوہے مگراس دوران انہوں نے بیشتروقت راولپنڈی اوراسلام آبادمیں گزارا۔وہ ہفتے کے پانچ دن صوبے سے باہررہتے ہیں اگر اس روش پرنظرثانی نہ کی گئی اوروزیراعلیٰ نے اپنی ذمہ داریاں اداکرنے پرتوجہ نہ دی توصوبے میں گورنرراج خارج از امکا ن نہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق اس بارگورنرراج کاشوشہ محض شوشہ نہیں تھابلکہ وفاق اس حوالے سے سنجیدگی سے سوچ بچارکررہاہے وفاق کو خیبر پختو نخوا میں گورنرراج جیسے انتہائی اقدام کیلئے خاصامواد دستیاب ہے

صوبے میں امن امان کی صورتحال مخدوش، اسسٹنٹ کمشنرشاہ ولی وزیردہشتگرد حملے میں شہید
صوبے میں امن وامان کی حالت دگرگوں ہے گزشتہ ہفتے اسسٹنٹ کمشنر میرا نشاہ شاہ ولی وزیرکوبنوں عدالت میں پیشی کیلئے جاتے وقت دہشتگردوں نے فائرنگ کانشانہ بنایاجس سے شاہ ولی وزیر،دوپولیس اہلکار اور ایک شہری شہیدہوگئے۔دہشتگرد دیدہ دلیری سے پولیس اہلکاروں کااسلحہ لے گئے اور گاڑی کوآگ بھی لگادی۔اسکے اگلے روزڈی آئی خان میں پولیس وین کوفائرنگ کانشانہ بنایاگیاجس کے نتیجے میں تین پولیس اہلکارجام شہادت نوش کر گئے دوماہ قبل باجوڑمیں بھی اسسٹنٹ کمشنرناواگئی کودہشتگردی کانشانہ بنایاگیاتھا۔ایک صوبے میں امن وامان کی صورتحال اس قدرمخدوش ہوچکی ہے کہ وہاں سرکاری افسران،
علماء،سیاسی راہنمااورعوام دن دیہاڑے قتل ہورہے ہیں مگرصوبے کے وزیراعلیٰ اس سے لاتعلق ہیں وہ یاتوراولپنڈی جیل کے باہردھرنے دینے میں  مصروف رہتے ہیں یاپھرکے پی ہاؤس میں قیلولہ فرماتے رہتے ہیں۔صحافتی حلقوں کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ہفتے میں 5دن صوبے سے باہررہتے ہیں جبکہ ڈیڑھ دو دن کیلئے پشاور میں چہرہ نمائی فرماتے ہیں۔اس ابترصورتحال کے پیش نظرصوبے میں آئے روزگورنرراج کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں جن کی کبھی توتردیدآجاتی ہے مگراب تردیدکی زحمت بھی گورانہیں کی جاتی اسطرح کی خبروں پرصوبائی حکومت کی جانب سے گلے پھاڑکردھمکیوں وغیرہ سے کام چلالیاجاتاہے۔گورنرراج کی خفت سے صو بے کوبچانے کاواحدطریقہ یہی ہے کہ صوبائی حکومت اوروزیراعلیٰ اپنی منصبی ذمہ داریوں پرتوجہ دیں اورسلگتے ہوئے عوامی مسائل حل کرنیکی کوشش کریں ورنہ بکرے کی ماں کب تک خیرمنائیگی گزشتہ برس افراتفری میں بجٹ منظورکرواکراور آج احتجاج مؤخرکرکے گورنرراج کا راستہ روکا گیا مگرمستقبل میں یہ دھمکی حقیقت کاروپ بھی دھارسکتی ہے جس کی مزاحمت کاامکان نہ ہونے کے برابرہے کیونکہ صوبائی حکومت اپنی غیرسنجیدگی،نااہلیت، بیڈ گورننس،کرپشن اورامن وامان کی مخدوش صورتحال کے سبب عوام میں دن بدن غیرمقبول ہورہی ہے۔

سہیل آفریدی اڈیالہ جیل کے باہراحتجاج سے دستبردار، صوابی میں موٹروے بندش پرکڑی تنقید
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے این ایف سی اجلاس میں شرکت کے بعدکہاکہ اجلاس کے شرکاء نے انکے مؤقف سے اتفاق کیا ہے۔انہوں نے اجلاس کوبتایاکہ خیبرپختونخوامیں ضم قبائلی اضلاع کاحصہ بھی این ایف سی ایوارڈمیں شامل کیاجائے۔قبائلی انضمام سے قبل صوبے کا حصہ 14.6فیصدتھااب یہ حصہ 19.4فیصدبنتاہے۔شرکانے ایک کمیٹی بنانے کافیصلہ کیاجو6جنوری تک رپورٹ پیش کریگی اوراسکے بعد دو بارہ این ایف سی اجلاس جنوری کے وسط میں منعقدہوگا۔

صوبائی اسمبلی میں صوبہ ہزارہ بنانے کی قراردادمتفقہ طورپرمنظور
صوبائی اسمبلی نے ہزارہ کوصوبہ بنانیکی قراردادمنظورکرلی ہے۔حکومتی رکن نذیرعباسی کی جانب سے پیش کردہ قراردادمیں مطالبہ کیاگیاہے کہ صوبائی حکومت اس حوالے سے سفارشات،درکارمشاورتی اورانتظامی اقدامات بروقت اورمؤثراندازمیں مکمل کرکے وفاق کوارسال کرے،وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 239کے تحت آئینی عمل شروع کرے،دونوں حکومتیں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں تاکہ ہزارہ کے عوام کا دیرینہ مطالبہ پوراہو۔ایک اورقراردادمیں مطالبہ کیاگیاہے کہ ذوالفقارعلی بھٹوکوسرکاری طورپر شہیدقراردیاجائے۔یہ دونوں قراردادیں حکومتی ارکان نے پیش کیں جنہیں متفقہ طورپرمنظورکیاگیا۔

Aqeel Yousafzai

سیاسی کشیدگی کم کرنے کی ضرورت اور پشاور جلسہ

عقیل یوسفزئی
پی ٹی آئی نے حیات آباد پشاور میں گزشتہ روز طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ماضی کے مقابلے میں کافی بہتر ہجوم جمع کرنے کی کوشش کی تاہم صوبائی حکومت کی موجودگی اور سرکاری وسائل کے استعمال کے باوجود اس ایونٹ کو قابل ذکر قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ پی ٹی آئی کے اگر پشاور سے تعلق رکھنے والے ممبران اسمبلی کی بات بھی کی جائے تو ان کی تعداد 20 کی لگ بھگ ہے اس کے ہوتے ہوئے بھی آزاد ذرائع جلسے کے شرکاء کی تعداد زیادہ سے زیادہ 20 ہزار قرار دیتے ہیں حالانکہ یہ پورے صوبے کی سطح پر منعقد ہونے والا جلسہ تھا اور اس سے اہم قائدین کے علاوہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی خطاب کرنا تھا ۔
سینئر صحافی کاشف الدین سید کے مطابق یہ بات دوسروں کے علاوہ پی ٹی آئی کے کارکنوں اور عوام کی سمجھ سے بھی بالاتر ہے کہ اگر پی ٹی آئی اپنے بانی کی رہائی کے لیے کوئی احتجاج کررہی ہے تو یہ احتجاج اس صوبے میں کیوں کیا جاتا ہے جہاں اس پارٹی کی اپنی حکومت ہے اور شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ عوام ایسے معاملات سے لاتعلق ہوتے دکھائی دیتے ہیں ۔
اس جلسے پر تبصرہ کرتے ہوئے پختون ڈیجیٹل نے کہا کہ ایونٹ کو کامیاب بنانے کے لیے سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا گیا ۔ سوشل میڈیا پر بعض ایسی ویڈیوز بھی وایرل ہوئیں جن میں مساجد کی لاؤڈ سپیکروں سے جلسے میں شرکت کے اعلانات کیے گئے ۔
سینئر تجزیہ کار حماد حسن کے بقول اس جلسے میں چند ہزار لوگ شریک ہوئے ان میں بھی اکثریت کا تعلق وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے حلقہ سے تھا ۔ اپنے تبصرے میں انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر کی طرح وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا لہجہ بھی کافی سنجیدہ اور ذمہ دارانہ تھا جس سے اس کشیدگی میں کمی واقع ہونے کا راستہ ہموار ہوتے دکھائی دیا جو کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے نتیجے میں پیدا ہوگئی تھی تاہم رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک اور پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا والے مسلسل درجہ حرارت بڑھانے کی کوشش کرتے رہے ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات میں مزید تلخی متوقع ہے کیونکہ پی ٹی آئی کے اکثر قائدین اور صوبائی حکومت کے ذمہ داران غیر ضروری مزاحمت میں مصروف عمل ہیں اور اس مزاحمت کو ریاست خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال اور صوبائی حکومت کے غیر متوازن پالیسی کے تناظر میں دیکھتی آرہی ہے ۔