Important security-related meeting convened in Khyber Pakhtunkhwa Assembly on November 3

خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس آج دوپہر 2 بجے طلب

پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس آج دوپہر 2 بجے منعقد ہوگا۔ اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے اجلاس کا باضابطہ ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے۔ ایجنڈے کے مطابق اجلاس کے دوران وقفۂ سوالات، توجہ دلاؤ نوٹس اور دیگر پارلیمانی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اجلاس میں محکمہ مال، ماحولیات و جنگلی حیات، لیبر، جنگلات، آبپاشی اور محاصل سے متعلق سوالات پیش کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ خیبر پختونخوا انڈومنٹ فنڈ برائے کیلاش کمیونٹی سے متعلق بل بھی ایوان میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

“Prime Minister urges global action to end Indian atrocities in Kashmir.”

کشمیر پر بھارتی مظالم کے خاتمے کیلئے عالمی برادری اقدام کرے: وزیراعظم

کشمیر کے یوم حق خور ارادیت کے موقع پر اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ 5 جنوری 1949 کویو این کمیشن برائے بھارت وپاکستان نے تاریخی قرارداد منظورکی۔

شہباز شریف نے کہا کہ قرارداد میں طے پایاکہ ریاست جموں وکشمیرکےمستقبل کا فیصلہ آزادانہ اور غیرجانبدارانہ رائے شماری سے ہوگا، افسوس کہ بھارت کے جموں وکشمیر پر غیرقانونی قبضے کے باعث یہ عہد پورا نہ ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرکے عوام گزشتہ 8 دہائیوں سے بھارتی قابض افواج کے مظالم کا سامنا کر رہے ہیں، مگر بھارتی جبروتشدد کے ہتھکنڈے کشمیری عوام کے عزم کوپست کرنے میں ناکام رہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ بین الاقوامی برادری بھارت کے جابرانہ اقدامات کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے۔ خیال رہے کہ آج پاکستان  اور خطہ کشمیر سمیت پوری دنیا میں بسنے والے کشمیری یوم حق خود ارادیت منا رہے ہیں۔

“Kashmiris’ Right to Self-Determination Day Observed Across Pakistan and Around the World”

پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیریوں کا یومِ حقِ خودارادیت

پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یومِ حقِ خودارادیت منا رہے ہیں۔ اس موقع پر آزاد کشمیر، پاکستان اور مختلف ممالک میں تقریبات، ریلیوں اور احتجاجی مظاہرے منعقد کیے گئے جن میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے مطالبے کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا گیا۔ تقریبات کے دوران مقررین نے کشمیری عوام کی جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا بنیادی حقِ خودارادیت دلوانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ ریلیوں اور مظاہروں میں شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی اور بھارتی مظالم کے خلاف نعرے درج تھے۔

یہ دن  5 جنوری 1949 کو منظور ہونے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی یاد منائی جا رہی ہے، جس کے تحت کشمیری عوام سے ان کے حقِ خودارادیت کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اس قرارداد میں واضح طور پر تسلیم کیا گیا کہ مسئلہ کشمیر نہ تو بھارت کا داخلی معاملہ ہے اور نہ ہی کوئی حل شدہ تنازع، بلکہ یہ ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی مسئلہ ہے جس کا واحد قانونی حل آزاد، شفاف اور غیر جانبدار رائے شماری ہے جو اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونی تھی۔ برصغیر کی تقسیم کے وقت 560 سے زائد نوابی ریاستوں کو پاکستان یا بھارت سے الحاق کا اختیار دیا گیا تھا اور کسی آزاد یا خودمختار ریاست کی کوئی آئینی گنجائش موجود نہیں تھی، اس تناظر میں جموں و کشمیر پر بھی وہی اصول لاگو ہونا تھا کیونکہ خطے کی جغرافیائی حیثیت، معاشی روابط، آبادی کی اکثریت اور سیاسی رجحانات فطری طور پر پاکستان سے وابستہ تھے۔ یہ قرارداد آج بھی اقوام متحدہ کے ریکارڈ کا حصہ ہے، جو نہ منسوخ ہوئی اور نہ ہی اس کی قانونی حیثیت ختم ہوئی، تاہم گزشتہ سات دہائیوں سے اس پر عملدرآمد نہ ہونا اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ مسئلہ کشمیر زمین کا نہیں بلکہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت سے انکار کا معاملہ ہے۔ 5 جنوری اس امر کی یاد دہانی ہے کہ بھارتی قبضہ عوامی مرضی کا متبادل نہیں بن سکتا اور جب تک اقوام متحدہ کی قرارداد پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوتا، یہ دن ایک ادھورے عالمی وعدے کی علامت کے طور پر منایا جاتا رہے گا۔

News

پشاور میں دھند کے باعث پروازوں کی آمد و رفت متاثر

پشاور کے باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر شدید دھند اور خراب موسم کے باعث پروازوں کا شیڈول متاثر ہو گیا۔ پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کم حدِ نگاہ کے باعث متعدد پروازوں کو متبادل ایئرپورٹس منتقل جبکہ بعض پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔

پی اے اے کے مطابق خراب موسم اور کم حدِ نگاہ کے باعث قطر ایئرویز کی پرواز کو اسلام آباد منتقل کیا گیا، جبکہ سلام ایئر کی مسقط سے آنے والی پرواز کو سیالکوٹ اتار لیا گیا۔ اسی طرح فلائی عدیل کی ریاض سے آنے والی پرواز کو کراچی منتقل کیا گیا۔

ایئرپورٹ انتظامیہ کے مطابق سلام ایئر اور ایئر عربیہ کی بعض پروازیں بھی خراب موسم کے باعث تاخیر کا شکار رہیں۔ پی اے اے کے مطابق دھند کے باعث حدِ نگاہ 300 سے 360 میٹر تک محدود رہی، جس کے سبب فلائٹ آپریشن متاثر ہوا۔

ایئرپورٹ حکام کا کہنا ہے کہ موسم بہتر ہوتے ہی پروازوں کا معمول بحال کر دیا جائے گا جبکہ مسافروں کو ایئرلائنز سے رابطے میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔