وصال محمدخان
صبح صادق کے وقت شہرکے دروازے میں ایک تھکاہارافقیراس دلی آرزوکے ساتھ داخل ہواکہ کاش یہاں سے گرم گرم حلوہ مل جائے۔ شہرکاحاکم اس دارِفانی سے کوچ کرگیاتھاجس پر روایت کے مطابق زعماء کافیصلہ تھاکہ صبح شہرکے دروازے میں داخل ہونیوالاپہلا فردہمارا بادشاہ ہوگا۔حلوے کا طالب فقیرشہرمیں داخل ہوتے ہی بادشاہ بن گیااوران کاپہلاحکم تھا”حلوہ بناؤ“۔حسب حکم حلوہ بنایاگیاجسے بادشاہ سلامت نے فوراًتناول فرمایا۔اگلاحکم بھی”حلوہ بناؤ“اوراس سے اگلابھی یہی حکم صادرہوا۔اس طرح درباری سرکاری حکم پوچھتے رہے اور بادشاہ سلامت حلوہ بنانے کے احکامات دیتے رہے۔ درباری بھی حلوہ کھاتے رہے اوربعدازاں حکم کے مطابق حلوے کی دیگیں چڑھ گئیں اورپوراملک سرکاری حلوے سے مستفیدہونے لگا۔لوگ کام کاج چھوڑکرسرکاری حلوے کھانے لگے اس طرح مفت کے حلوے کھاکھا کر پوری قوم نکھٹوبن گئی۔ہمسائے سے دیرینہ دشمن ملک نے جب یہ حال دیکھاتواس نے حملہ کردیانکھٹوقوم کیامقابلہ کرتی پوراملک فتح ہوگیاجب شاہی محل کی طرف فوجیں بڑھنے لگیں توبادشاہ سلامت اپنی گدڑی، فقیری لباس اورکشکول وغیرہ اٹھاکرمحل کے پچھلے دروازے سے یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ جس کاملک ہے وہ سنبھالے ہم توحلوہ کھانے آئے تھے۔حلوہ کھاکرجارہے ہیں۔ یہ سبق آموزحکایت یا واقعہ پاکستا نی سیاست پربالکل فٹ بیٹھتاہے۔یہاں اگرچہ میدے یاسوجی سے بنے ہوئے نرم گرم حلوے نہیں کھلائے جاتے بلکہ دور،جدید میں حلو ے کی صورت بھی تبدیل ہوچکی ہے اب یہاں خیالی حلوے کاستعمال عام ہوچکاہے یعنی قوم کے ذہنوں پرکنٹرول حاصل کرکے اسے کسی بھی خیالی حلوے کی جانب لگادیاجاتاہے۔عمران خان نے سیاست میں عروج پانے کیلئے ملک کے تمام سیاستدانوں خصوصاًشریف اورزرداری خاندانوں پرکرپشن کے بڑے بڑے الزامات لگائے اور اس تسلسل سے لگائے، لوگوں کوالزامات کاحلوہ اس کثرت سے کھلایا گیاکہ ایک طبقے کویقین آگیاکہ شہرکے دروازے میں داخل ہونیوالے اس شخص کوبادشاہ بناہی دیاجائے۔اس حلوے سے نہ صرف عام لوگ بلکہ فوج کاایک حلقہ بھی اس قدرمتاثرہواکہ اس نے جائزوناجائزطریقے اپناکرانہیں اقتدارکے سنگھاسن تک پہنچایا۔برسراقتدارآنے کے بعد حلوے کی شکل تبدیل کرکے یہ دعوے کئے گئے کہ پچھلی حکومتوں نے ملک اورمعیشت دوونں کابیڑہ غرق کردیاہے اسلئے اسے درست ٹریک پرلانے کیلئے وقت درکارہوگااسکے ساتھ یہ حلوہ بھی تھاکہ ہمارے پاس 100بندوں کی ایسی ٹیم موجودہے جو ملک کواوپرپہنچادیگی۔ پنجاب میں یہ حلوہ کھلایاگیاکہ عثمان بزدارجیساشخص صدیوں بعدپیداہوتاہے۔خیبرپختونخوامیں محمودخان جیساجینئس لانچ کیاگیاجبکہ وفاق میں دنیاجہاں کے تمام مسخرے اکھٹے کئے گئے جوکوئی کام کئے بغیرروزشام کوپریس کانفرنس میں بیٹھ کر پچھلی حکومتوں کوبرابھلاکہنے اورکاغذ لہرانے کاحلوہ کھاتے اورکھلاتے تھے۔حلوہ کھانے کھلانے کی اس روش نے جب ملک کودیوالیہ پن کے قریب پہنچایاتومقتدرحلقوں کے کان کھڑے ہوگئے اوراس حلوئی سے جان چھڑانے کی فکرشروع کردیگئی۔اقتدارہاتھ سے جاتادیکھ کرامریکہ سے خط کاحلوہ لانچ کیاگیا جسے بھرپورطریقے سے کھلایاگیا۔ مگراقتدارہاتھ سے نکل جانے کے بعدبجائے اسکے کہ بانی پی ٹی آئی کوئی تعمیری سیاست کرتے اقتدارمیں کی گئی غلطیوں اورکوتاہیوں کامحاسبہ کرتے،اپنی بدترین طرزحکمرانی کاتنقیدی جائزہ لیتے اورسابقہ غلطیوں بلکہ مہاغلطیوں سے سیکھ کرپھونک پھونک کرقدم رکھتے۔مگرانہوں نے کوئی بھی معقول راستہ اپنانے کی بجائے نت نئے حلوے ایجادکرنے کی روش اپنائی اب کی باراس خیالی
حلوے میں ڈرائی فروٹ اوردیگراشتہاانگیزاجزاکابھی اضافہ کیاگیااوراسے مزیدلذیذبنایاگیاجس سے سوشل میڈیاکے ذریعے اچھاخاصا طبقہ متاثرہوا۔اس دوران مقبولیت کا ایک خودساختہ حلوہ بھی کھلایاگیاجس کے غبارے سے عام انتخابات میں ہوانکل گئی۔مگرعام انتخابات کوہی متنازعہ بنانے کیلئے فارم 45اور47کانیاحلوہ مارکیٹ میں پیش کیاگیا۔ان فارمزکیساتھ جوجعل سازی کی گئی وہ انہی حلوے والوں کاہی کمال ہے اپنے فارم45بنابناکریہ لہرارہے ہیں مگرمجازاتھارٹی یاٹریبونلزمیں یہ جعلی ثابت ہوجاتے ہیں دعویٰ 180نشستیں جیتنے کا کیاجاتاہے مگراعتراضات صرف30حلقوں پرجمع کروائی گئی ہیں۔مخصوص طبقے کوروزحلوے کھلانے کانتیجہ ہے کہ کسی میں سوال اٹھانے کی جرات نہیں اورکوئی حقائق بارے استفسارکرنے کیلئے تیارنہیں بس حلوے ہیں کہ کھائے اورکھلائے جارہے ہیں۔ ایک صوبے کی حکومت مل چکی ہے جسے حلوہ بنانے اورکھانے کھلانے پرلگادیاگیاہے۔گنڈاپورحکومت ڈیڑھ سال تک خان صاحب کی رہائی کاحلوہ کھاتی اورکھلاتی رہی کبھی لانگ مارچزکئے گئے توکبھی پنجاب اوراسلام آبادپرچڑھائی کی کوششیں کی گئیں جوناکام ثابت ہوئیں انکی ناکامی پر حلوے کھانے اورکھلانے کاسلسلہ جاری رکھنے کیلئے سہیل آفریدی کومیدان میں اتاراگیاہے جوگزشتہ تین ماہ سے کوئی کام کئے بغیرحلوے کھانے اورکھلانے میں مصروف عمل نظرآرہے ہیں ان کے اپنے صوبے میں دہشتگردی کے حملے ہورہے ہیں آئے روزپولیس کے گھبروجوان سینوں پرگولیاں کھا کرابدی نیندسوتے ہیں مگروزیراعلیٰ اپنے ووٹرزکومتحرک کرنے کیلئے نت نئے حلوے ایجادکررہے ہیں۔کبھی وہ لاہورکابلاوجہ اورغیرضروری دورہ کرتے ہیں جس کے بارے میں ڈھنڈوراپیٹاجاتاہے کہ دیکھوسہیل آفریدی کتنے بہادراورنڈرہیں جنہوں نے لاہورکادورہ کیا۔اس بے مقصددورے پرقومی خزانے سے بیس کروڑروپے کے قریب رقم خرچ ہوئی کوئی خداکابندہ پوچھنے کی زحمت نہیں کرتاکہ مالی بحران سے دوچارصوبے کے وزیراعلیٰ کواس بے مقصددورے پرخطیررقم خرچ کرکے کیاملا؟اب یہ کراچی کادورہ کرینگے اپناصوبہ آگ میں جل رہاہے اورجدیددورکانیروکراچی جاکربانسری بجائینگے اس سے قبل وہ یہ بانسری لاہورمیں بھی بجاچکے ہیں۔درحقیقت اس حلوہ گروپ نے لوگوں کوحلوے میں الجھاکراپنی تجوریاں بھرنے کاسلسلہ جاری رکھاہواہے قیدی کے خاندان کومبینہ طورپرصوبے سے خراج کی صورت میں ہرماہ ایک بڑی رقم ملتی ہے ایک سینئرصحافی کادعویٰ ہے کہ اگرآج صوبائی حکومت ختم ہوجائے تواڈیالہ کاقیدی ایک ماہ میں ہی ڈیل کرکے کہیں نکل جائیں گے کیونکہ وکلاکی بھاری بھرکم فیسیں اس خانماں بربادصوبے سے ہی اداکی جارہی ہیں۔ایک جانب صوبے کے وسائل حلوے کاوہ دیگ ہے جس میں سردئے گئے ہیں جبکہ دوسری جانب پرستاروں کوخیالی حلوے سے بہلایاجارہاہے حلوہ اورحلوے کھانے کھلانے کاسلسلہ دوام پذیر ہے مگر فقیرکی اپنی فقیری میں واپس جانے کے عمل کاآغازبھی ہوچکاہے۔
لکیر کھینچی گئی
عقیل یوسفزئی
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پی ٹی آئی اور اس کی صوبائی حکومت کو دہشت گردوں کی پشت پناہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کو 2021 کے بعد بدترین دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا مگر صوبائی حکومت نہ صرف فوجی کارروائیوں کی مخالفت اور مزاحمت کرتی آرہی ہے بلکہ یہ حکومت اور پی ٹی آئی افغانستان کی نام نہاد حکومت کی وکالت کرتی رہی ہیں حالانکہ افغانستان کے طالبان پاکستان کے خلاف دہشت گرد گروپوں کی سرپرستی کرتے آرہے ہیں ۔
راولپنڈی میں میڈیا بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت اور کالعدم کے ساتھ ماضی میں مذاکرات اور مفاہمت کی پالیسی سابق وزیراعظم عمران خان کی پالیسی تھی کیونکہ اپنے دعوؤں کے برعکس وہ ایک بااختیار وزیر اعظم تھے جنہوں نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا اور ان کی صوبائی حکومت ریاست کے خلاف بیانیہ اور پالیسی پر گامزن ہے ۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سال 2025 کے دوران تقریباً 2500 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا جبکہ اس سال 1200سے ذاید فورسز کے اہلکاروں اور شہریوں کو شہید کیا گیا ۔ ان کے بقول 2025 کے دوران 16 خود کش حملے کیے گئے جبکہ خیبرپختونخوا کے برعکس بلوچستان کی صوبائی حکومت کی کاؤنٹر ٹیررازم پالیسی زیادہ موثر رہی ۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف موقف اپنانے پر اے این پی ، جے یو آئی ، پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ پر حملے کیے گئے مگر پی ٹی آئی اس قسم کے حملوں سے محفوظ رہی کیونکہ یہ پارٹی دہشت گردوں کی سہولت کاری کرتی رہی ہے ۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی فوجی آپریشن کے لیے قانون اور آئین کے مطابق فوج صوبائی حکومت سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے اس لیے صوبائی حکومت کی مخالفت کے باوجود خیبرپختونخوا میں آپریشن جاری ہیں ۔
ان کی پریس کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر صحافی حسن خان نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے نہ صرف افغان عبوری حکومت کو حکومت کی بجائے قبضہ گروپ اور دہشت گردوں کی سہولت کار قرار دیا بلکہ صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کے خلاف بھی عسکری قیادت کے خلاف سخت موقف بھی اختیار کیا جو اس جانب واضح اشارہ ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کی طرح پی ٹی آئی کے خلاف بھی مزید سخت اقدامات متوقع ہے ۔
سینیر اینکر پرسن عاصمہ شیرازی کے بقول پریس بریفنگ دراصل پی ٹی آئی اور صوبائی حکومت کے خلاف چارج شیٹ تھی ۔ تجزیہ کار حسن ایوب خان کے بقول پی ٹی آئی کے لیے جگہ مزید کم ہوتی دے رہی ہے اور لگ یہ رہا ہے کہ کسی رعایت کا امکان نظر نہیں آتا ۔ ان کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر نے مذاکرات کی اطلاعات کو بھی عملاً مسترد کردیا ہے اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ آئندہ کچھ عرصے میں ریاست کی صف بندی مزید سخت اور مضبوط دکھائی دے گی ۔

