عقیل یوسفزئی
گزشتہ دو تین دنوں کے دوران جہاں ایک طرف خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں تقریباً ایک درجن حملے کیے گئے اور تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری رہا وہاں دوسری جانب خیبرپختونخوا کے کرم اور شمالی وزیرستان میں دو بڑی فوجی کارروائیوں میں 11 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا تاہم خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ اور اہم وزراء اس تشویشناک صورتحال میں کراچی اور سندھ کے غیر ضروری دورے میں مصروف عمل رہے جس کو مخالفین اور تجزیہ کار ” سیر سپاٹا” قرار دیتے رہے ۔
کرایے گیے حملوں میں اس واقعے کا سیاسی اور عوامی سطح پر سخت نوٹس لیا گیا جس کے دوران جے ہو آئی کے اہم لیڈر اور وفاق المدارس کے رہنما مولانا سلطان محمد کو جنوبی وزیرستان میں ان کے مدرسے کے قریب بم دھماکہ کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ۔ اس حملے میں وہ متعدد دیگر کے ہمراہ شدید زخمی ہوئے اور بعد ازاں ہسپتال میں دم توڑ گئے ۔
کالعدم ٹی ٹی پی نے اس واقعے سے نہ صرف یہ کہ لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمّت کی ہے بلکہ اس ذمہ داری حکومتی اداروں پر ڈال دی ہے تاہم سیکیورٹی حکام کا موقف ہے کہ مولانا سلطان محمد کو ایک کالعدم گروپ ہی نے نشانہ بنایا ہے ۔ مختلف دیگر علاقوں میں پولیس اور ایف سی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا مگر حسب معمول صوبائی حکومت ان معاملات سمیت تیراہ کے ان باشندوں سے بھی لاتعلق رہی جو کہ مجوزہ آپریشن کے باعث گزشتہ چند روز سے نقل مکانی کرتے آرہے ہیں ۔
وزیر اعلیٰ اس تشویشناک صورتحال اور چیلنجز کے باوجود سندھ کے دورے میں مصروف عمل رہ کر یہ تاثر دیتے رہے کہ گویا خیبرپختونخوا میں حالات بہت نارمل ہیں اور بانی پی ٹی کی رہائی کا انحصار ان کے دوسرے صوبوں کے دوروں پر ہے ۔
سندھ حکومت نے نہ صرف ان کا استقبال کیا بلکہ ہر سہولت مہیا کی تاہم انہوں نے اس کے باوجود صدر مملکت آصف علی زرداری کو طنز اور تنقید کا نشانہ بنانے سے گریز نہیں کیا ۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کی ” سنجیدگی” کا یہ عالم رہا کہ تحفظ آئین پاکستان کے دو مرکزی رہنماؤں محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کے دورہ لاہور سے پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت مکمل طور پر لاتعلق رہی اور شاید اسی تناظر میں محمود اچکزئی کو یہ کہنا پڑا کہ پی ٹی آئی میں ڈسپلن اور کوآرڈی نیشن کا سخت فقدان ہے ۔
مسلم لیگ ن ، اے این پی ، اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں میاں افتخار حسین ، ہمایون خان ، اختیار ولی خان ، حیدر ہوتی ، زاہد خان اور متعدد دیگر کے علاؤہ تجزیہ کاروں اور عوامی حلقوں نے وزیر اعلی کے دورہ سندھ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے صوبے کو درپیش چیلنجز اور مسائل کے تناظر میں غیر ضروری اور لاحاصل قرار دیا اور موقف اختیار کیا کہ یہ پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ کی مہم جوئی کے علاؤہ سیر سپاٹے کا ایک غیر سنجیدہ کوشش ہے تاہم پی ٹی آئی نہ صرف اس دورے کا دفاع کرتی رہی بلکہ اس کے باوجود اسے کامیاب پاور شو قرار دیتی رہی کہ کراچی کے استقبال اور حیدرآباد کے جلسے کے دوران دیگر تو ایک طرف پی ٹی آئی بھی کارکنوں کی کوئی قابل ذکر تعداد باہر نکالنے میں ناکام رہی ۔
میڈیا نمائندوں کیلئے ایکویٹی بجٹنگ پر تربیتی سیشن کا انعقاد
پشاور سنٹر فار پبلک پالیسی ریسرچ (CPPR) اور انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز (IMSciences) پشاور کے اشتراک سے خیبر پختونخوا میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم میں ایکویٹی بجٹنگ کے فروغ سے متعلق منصوبے کے تحت میڈیا نمائندوں کیلئے ایک خصوصی تربیتی سیشن کا انعقاد کیا گیا۔ تربیت کا بنیادی مقصد صحافیوں میں ایکویٹی بجٹنگ کے تصور سے متعلق فہم کو مضبوط بنانا اور تعلیمی فنانسنگ پر ذمہ دار، باخبر اور ایکویٹی پر مبنی میڈیا کوریج کو فروغ دینا تھا۔
اس تربیتی نشست نے میڈیا کے پیشہ ور افراد کو محققین اور تکنیکی ماہرین کے ساتھ مکالمے کا موقع فراہم کیا، جہاں اس امر پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا کہ عوامی تعلیمی بجٹ کس طرح پسماندہ اور کمزور طبقات کو درپیش عدم مساوات کو مؤثر انداز میں کم کر سکتا ہے۔
سی پی پی آر کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر ظفر ظہیر نے ایکویٹی بجٹنگ پراجیکٹ کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے عوامی تعلیم کی مالی اعانت، شمولیتی خلا اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کی اہمیت سے متعلق اہم نتائج پیش کیے۔ انہوں نے زور دیا کہ عوامی بیانیے کی تشکیل اور تعلیمی وسائل کی منصفانہ تقسیم و مؤثر استعمال کیلئے اداروں کو جوابدہ بنانے میں میڈیا کا کردار نہایت کلیدی ہے۔
ٹرینر شمش بی بی نے اپنے خطاب میں نشاندہی کی کہ یکساں بجٹ سازی کا عمومی نقطۂ نظر اکثر لڑکیوں، معذور بچوں، پناہ گزینوں اور دیگر پسماندہ کمیونٹیز کو درپیش ساختی مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ انہوں نے منصفانہ تعلیمی نتائج کے حصول کیلئے ہدفی اور ضرورت پر مبنی بجٹ اقدامات کی ناگزیر اہمیت پر زور دیا۔ تربیتی سیشن کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ تعلیمی بجٹ اور پالیسی سازی کے عمل کو ایکویٹی کے زاویے سے اجاگر کرنے میں اپنا پیشہ ورانہ کردار مزید مؤثر بنائیں گے۔

