News National

پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان علامہ اقبال اسکالرشپ پروگرام کا معاہدہ

پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان تعلیمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت بنگلادیش کے طلباء پاکستان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ حکومتِ پاکستان کے مطابق اس معاہدے کے تحت اسکالرشپ پروگرام کے پہلے مرحلے میں 500 بنگلادیشی طلباء کو پاکستان کے مختلف شہروں میں قائم جامعات میں داخلے دیے جائیں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ منتخب طلباء کو انڈرگریجویشن پروگرامز میں فلی فنڈڈ اسکالرشپس فراہم کی جائیں گی۔ اسکالرشپ کے لیے بنگلادیشی طلباء کی بڑی تعداد نے انٹری ٹیسٹ میں شرکت کی، جو ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے تحت ڈھاکا، چٹاگانگ اور راج شاہی میں منعقد کیے گئے تھے۔

یہ اسکالرشپ پروگرام شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کے نام سے منسوب کیا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان تعلیمی، ثقافتی اور عوامی روابط کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ حکومت کے مطابق یہ اقدام دونوں ممالک کے نوجوانوں کو تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ باہمی تعلقات کو نئی جہت دینے میں معاون ثابت ہوگا۔

National News

قومی پیغامِ امن کمیٹی کے وفد کی ڈی جی آئی ایس پی آر سے ملاقات

جنرل ہیڈکوارٹر راولپنڈی میں 13 جنوری 2026 کو قومی پیغامِ امن کمیٹی (NPAC) کے وفد نے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹنننٹ جنرل احمد شریف چوہدری سے ملاقات کی، جس میں قومی بیانیے کے فروغ، داخلی سلامتی اور ریاستی استحکام کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔ ملاقات کے دوران پاک افواج کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی اور ریاست دشمن بیانیوں کے خلاف مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا۔

وفد نے فتنہ الخوارج، ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کی واضح الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا۔ نفرت انگیزی، فرقہ واریت اور تکفیری بیانیے کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ قومی سلامتی کے امور میں یکسوئی اور متفقہ بیانیہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ فتنہ الخوارج/ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کے تناظر میں داخلی سلامتی پر جامع گفتگو ہوئی اور مشترکہ مؤقف مزید مضبوط ہوا۔

ملاقات میں کشمیر اور غزہ کے حوالے سے پاکستان کے اصولی مؤقف کی توثیق کرتے ہوئے مظلوموں کی حمایت کو پاکستان کی اخلاقی ذمہ داری قرار دیا گیا۔

نیشنل پیغامِ امن کمیٹی نے منبر و محراب سے اتحادِ امت، سماجی ہم آہنگی اور آئینی برابری کے پیغام کو ملک گیر سطح پر پھیلانے کا اعلان کیا۔ مساجد، مدارس اور جامعات میں ریاستی بیانیے کی ترویج کے لیے آگاہی و رہنمائی نشستیں بڑھانے کی تجویز بھی دی گئی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دشمن کی نفسیاتی جنگ کے مقابلے میں عوامی شعور اور سچائی پر مبنی بیانیہ فیصلہ کن ہتھیار ہے۔

ملاقات کو غیر معمولی طور پر مفید قرار دیتے ہوئے اعتماد، ہم آہنگی اور عملی تعاون کے تسلسل پر اتفاق کیا گیا۔