سٹی ٹریفک پولیس پشاورکا ٹریفک قوانین بارے آگاہی دینے کا سلسلہ جاری
سٹی ٹریفک پولیس پشاور کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں میں شہریوں کو ٹریفک قوانین سے متعلق آگاہی دینے کا سلسلہ جاری ہے ۔ سٹی ٹریفک پولیس پشاور کی ایجوکیشن ٹیموں نے شہر کے مختلف سیکٹروں میں شہریوں کو نوپارکنگ’ سیٹ بیلٹ ‘ ہیلمٹ ‘ ون وے ‘ ڈرائیونگ لائسنس کی موجودگی یقینی بنانے سے متعلق آگاہی دی سٹی ٹریفک پولیس پشاور کی ایجوکیشن ٹیم نے شہریوں میں ٹریفک قوانین سے متعلق آگاہی پمفلٹس تقسیم کئے اور انہیں ہدایت کی کہ وہ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد یقینی بنائیں اور دوران سفر سیٹ بیلٹ اور ہیلمٹ کے استعمال کو یقینی بنائیں تاکہ ان کا سفر محفوظ بن سکے ۔ چیف ٹریفک آفیسر ڈاکٹر زاہد اللہ نے کہا ہے کہ شہری ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور دوران سفر ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کا استعمال ضرور کریں کیونکہ اس سے انکی زندگیاں محفوظ بن جاتی ہیں جبکہ دوران سفر موبائل فون کے استعمال کو مکمل طور پر ترک کریں کیونکہ دوران سفر موبائل فون پر بات کرتے تھوڑی سی توجہ ہٹ جانے پر بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے جس میں قیمتی جانوں کے ضیاع کا بھی خدشہ ہوتا ہے کیونکہ حادثہ منٹوں میں نہیں بلکہ سیکنڈوں میں پیش آتا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ گاڑی چلانے والے کی غفلت ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہری کسی بھی غرض سے کہیں بھی جا رہے ہوں ان کو چاہئے کہ وہ مقررہ وقت سے کچھ وقت پہلے نکلیں تو محفوظ طریقے سے سفر کرکے منزل مقصود تک پہنچ سکتے ہیں جبکہ چند منٹوں کی جلد بازی ان کا ہنستا بستا گھر اجاڑ سکتی ہے تاہم شہری ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کرنے سمیت اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کا خاص خیال رکھتے ہوئے غیر محفوظ طریقے سے سفر سے گریز کریں.
9لاکھ سے زائدافغان شہری وطن لوٹ چکے، کارڈر ہولڈر بھی شامل
افغان شہریوں کی وطن واپسی کا عمل جاری، اب تک 9 لاکھ 88 ہزار سے زائد افراد افغانستان روانہ ہوئے ہیں۔ افغان شہریوں کی وطن واپسی کا عمل بدستور جاری ہے، محکمہ داخلہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق مختلف سرحدی راستوں کے ذریعے اب تک مجموعی طور پر 9 لاکھ 88 ہزار 812 افغان شہری افغانستان واپس جا چکے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ واپس بھیجے جانے والوں میں 2 لاکھ 30 ہزار 470 پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈ ہولڈرز شامل ہیں، جبکہ 71 ہزار 570 افغان سٹیزن کارڈ (اے سی سی) رکھنے والے افراد بھی وطن واپس روانہ کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ 6 لاکھ 86 ہزار 772 غیر قانونی افغان تارکین وطن کو بھی پاکستان سے واپس بھجوایا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ کے مطابق گزشتہ روز طورخم بارڈر کے راستے 2312 افغان شہری افغانستان روانہ ہوئے، جن میں 1522 پی او آر کارڈ ہولڈرز، 277 اے سی سی کارڈ ہولڈرز اور 513 غیر قانونی طور پر مقیم افغان تارکین وطن شامل تھے۔ حکام کے مطابق افغان شہریوں کی واپسی کا عمل قانون کے مطابق اور مرحلہ وار جاری ہے، جبکہ سرحدی مقامات پر سیکیورٹی اور انتظامی انتظامات کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے تاکہ واپسی کا عمل منظم اور پُرامن انداز میں مکمل کیا جا سکے۔
لکی مروت: سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کرنے کا فیصلہ
لکی مروت: کمانڈر 55 بریگیڈ بریگیڈیئر حیدر علی اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لکی مروت نذیر خان نے صوبہ پنجاب سے متصل سرحدی علاقوں کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے چوکی میر عالمی اور درہ تنگ کا خصوصی معائنہ کیا۔
دورے کے دوران پاک فوج اور پولیس کے افسران نے مجموعی سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا اور پولیس چوکیات پر تعینات جوانوں سے ملاقات کی۔ افسران نے جوانوں کے بلند حوصلے کو سراہتے ہوئے ان میں نقد انعامات بھی تقسیم کیے۔
بریگیڈیئر حیدر علی نے موجودہ حالات کے پیش نظر دورانِ ڈیوٹی الرٹ رہنے، اردگرد کے ماحول پر کڑی نظر رکھنے اور اپنی ذاتی سیکیورٹی کا خاص خیال رکھنے کی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے امن و امان کے لیے پولیس اور پاک فوج کی مشترکہ کاوشیں انتہائی قابلِ ستائش ہیں اور سرحدی علاقوں میں فورسز کا متحرک اور مربوط ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
دورے کے دوران لکی ٹو درہ تنگ روڈ کی سیکیورٹی مزید بڑھانے پر بھی خصوصی غور و خوض کیا گیا۔ بریگیڈیئر حیدر علی کا کہنا تھا کہ ہماری فورسز دن رات اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جا رہا ہے، جبکہ ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔
اس موقع پر ڈی پی او نذیر خان نے کہا کہ پولیس اور پاک فوج ہر محاذ پر چوکس اور الرٹ ہیں اور شرپسند عناصر کی کوئی بھی کوشش جوانوں کے مضبوط حوصلوں کے سامنے کامیاب نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحدی علاقوں اور درہ تنگ روڈ پر سیکیورٹی کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے اور عوام کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شرپسند عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی اور لکی مروت کی سرزمین سے ان کا مکمل صفایا کیا جائے گا۔
نیشنل ورکشاپ خیبرپختونخواکے شرکاء نے منگل کے روزگورنر ہاؤس پشاور کا دورہ
قومی پیغامِ امن کمیٹی کے وفد کی گورنر ہاؤس پشاور آمد
قومی پیغامِ امن کمیٹی کے وفد نے مولانا طاہر محمود اشرفی کی قیادت میں گورنر ہاؤس پشاور کا دورہ کیا اور گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران علماء کرام پر مشتمل وفد نے صوبے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنے بھرپور کردار اور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ وفد نے بتایا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی نے ملک میں اپنا پہلا دورہ خیبرپختونخوا سے شروع کیا ہے۔
وفد نے واضح کیا کہ فتنہ الخوارج سمیت ہر قسم کے فتنوں اور دہشتگردوں کے خلاف تمام مکاتبِ فکر کے علماء اپنی ریاست، عوام اور مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ علماء نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بے گناہ شہریوں، پولیس اور مسلح افواج کا خون بہانے والے نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی ان کا اسلام سے کوئی تعلق ہے۔ وفد کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشتگردی کے خلاف بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور آج ایک بار پھر اتحادِ امت کے ذریعے فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے قومی پیغامِ امن کمیٹی کے وفد کا پشاور کا پہلا دورہ کرنے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ علماء کرام کے تعاون اور عوامی طاقت سے صوبے میں دہشتگردی کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خاتمے میں اس کمیٹی کا کردار نہایت اہم ہے، جبکہ علماء اور مذہبی شخصیات معاشرے میں باوقار مقام رکھتی ہیں۔
گورنر نے کہا کہ پڑوسی ملک افغانستان کی سرزمین سے خیبرپختونخوا اور پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے تناظر میں موجودہ حالات میں علاقائی، لسانی اور فرقہ وارانہ نفرت کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پیغامِ پاکستان پر عمل کرتے ہوئے اتحاد، برداشت اور جذبات پر قابو رکھنا ہوگا تاکہ دشمن ہماری صفوں میں دراڑ نہ ڈال سکے اور معاشرتی اقدار کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
مفاہمت اورمخاصمت
وصال محمدخان
دنیاکے جن ممالک میں جمہوری نظام رائج ہے وہاں مفاہمت اور مخاصمت کے مسائل لازمی جنم لیتے ہیں۔جہاں اس نظام کوچلانے والے متعلقہ افرادوسیع القلبی کامظاہرہ کرتے ہیں اورایکدوسرے کوبرداشت کرنے کے روئیے اپناتے ہیں وہاں کے عوام جمہوریت کے ثمرات سے مستفیدہوتے ہیں مگر جہاں جمہوریت صرف اپنی حکومت کوسمجھاجاتاہے،دیگرتمام جماعتوں یاافرادکوقابل گردن زدنی قراردیاجاتاہے اورسیاسی اختلاف کو ذاتی عنادمیں تبدیل کیاجاتاہے وہاں لوگوں کاجمہوریت سے یقین اٹھ جاتاہے ہمارے ہاں بھی لولی لنگڑی جمہور یت موجودہے مگر اسے سب سے زیادہ نقصان سیاسی قوتوں نے ہی پہنچایاہے۔ وطن عزیزپاکستان میں ایک سیاسی جماعت ایسی بھی ہے جس نے تمام جمہوری تقاضوں کوپاؤں تلے روندنے کانارواوطیرہ اپنارکھاہے یہ جماعت خصوصاًاسکے بانی نہ ہی کسی سیاسی مخالف کواہمیت دینے پرتیارہیں اورنہ ہی اپنے سواکسی دوسرے کومحب وطن سمجھتے ہیں۔جس کالازمی نتیجہ یہی نکل رہاہے کہ یہاں سیاسی عدم استحکام ہے اورسیاسی عدم استحکام والے ممالک نہ ہی توترقی کرسکتے ہیں اورنہ ہی دنیامیں کوئی اونچامقام حاصل کرسکتے ہیں۔پی ٹی آئی نے گزشتہ عام انتخابات میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیاایک صوبے میں دوتہائی سے زائداکثریت حاصل کی جبکہ مرکزاورملک کے سب سے بڑے صوبے میں دوسرے نمبر پررہی۔ دانش وتدبر،عقل وفہم کاتقاضاتھاکہ یہ جماعت تعمیری اپوزیشن کاکرداراداکرتی،ملکی مفادمیں حکومت وقت کے اقدا ما ت کاساتھ دیتی اورقومی مفادکیخلاف ہونیوالے فیصلوں پرتنقیدکرتی۔جس صوبے کی حکومت ملی ہے وہاں عوامی فلاح وبہبودکے کام کئے جاتے اوراسے ملک کے دیگرصوبوں میں بطورمثال پیش کیاجاتا۔اگر2018ء کے انتخابات”صاف وشفاف“تھے تو بہترطرزعمل سے 2028ء کے انتخابات میں اسی طرح طوفانی کامیابی حاصل کی جاسکتی تھی اور”فلاح وبہبود“کے جومنصوبے2023ء میں ادھورے رہ گئے تھے انہیں پایہء تکمیل تک پہنچایاجاتا۔ مگریہاں چونکہ شکست تسلیم کرنے کارواج ہی نہیں اسلئے دھاندلی کا واویلا مچامچاکر دو سال گزاردئے گئے اورظاہرکردہ عزائم کے مطابق یاتوخدانخواستہ یہاں عراق،لیبیااورشام کی طرح انقلاب برپا کیاجائیگا یاپھر خیبرپختونخواکے وزیراعلیٰ (پہلے علی امین گنڈاپوراوراب سہیل آفریدی)لاکھوں افرادکے ہمراہ سیڑھی لگاکراڈیالہ جیل سے بانی کی رہائی یقینی بنائیں گے۔ بہتر طرزعمل سے جمہوریت کی خدمت کرنیکی بجائے اسکی جڑیں کاٹنے کی منصوبہ بندیاں ہورہی ہیں مینڈ یٹ چوری کاایک ایسالغوبیانیہ ترتیب دیاگیاہے جسے اگر معیاربناکراس کی کسوٹی پر2018ء کے انتخابات پرکھے جائیں تویہ تیسری سزاکا مؤ جب بھی بن سکتے ہیں۔ شکسپئرکے قول پرعمل پیرا ہوکر جھوٹ اس کثرت سے بولاجاتاہے کہ یہ سچ لگے۔پی ٹی آئی کادعویٰ ہے کہ گزشتہ انتخابا ت میں اسے 180 نشستیں حاصل ہوئی ہیں مگرٹریبونلزمیں محض تیس نشستوں پراعتراضات دائر کئے گئے ہیں جواس دعوے کی تردید اورفارم 45و47کے غبارے سے ہوا نکا لنے کے مترادف ہے۔گزشتہ پونے دوبرسوں میں کئی مرتبہ مذاکرا ت کی کوشش ہوئی جوپی ٹی آئی کی جانب سے یکطرفہ طورپر ناکام بنادی گئی۔ حکومتی کمیٹی کے سامنے تحریری مطالبات پیش کر نیکی بجائے مذاکرات ختم کرنے کااعلان کردیاگیا۔ درحقیقت پی ٹی آئی نامی جماعت کو شدید قحط الرجال کابھی سامناہے کبھی ایک توکبھی دوسرے راہنماکو مذاکرا ت کارمقررکیاجاتاہے مگرمطلوبہ نتائج کے حصول سے پہلے ہی تیسرے فرد کونامزدکردیاجاتاہے جس کمیٹی کومذاکرات کیلئے نامزدکیاجاتاہے وہ شب وروزاڈیالہ میں ملاقات کیلئے بضدرہتی ہے اگر اس کمیٹی نے لمحہ بہ لمحہ جیل سے ہدایات ہی لینی ہیں تویہ مذاکرا ت براہِ راست قیدی سے ہی کیوں نہ کئے جائیں؟۔ایک راہنمامذاکرات کی دعوت دیتاہے تو دوسراتردیدکردیتاہے۔اس طرح گزشتہ دوبرسوں سے کبھی ہاں کبھی ناں والامعاملہ چل رہاہے۔حکومت کومذاکرات کی پیشکش کی جاتی ہے جسے قبول کرکے حکومت کمیٹی تشکیل دیتی ہے مگربہت جلدیہ پیشکش واپس لے لی جاتی ہے۔ملک میں ایک خودساختہ سیاسی بحران کاماحول بنا دیا گیاہے اورمصنوعی طورپریہ تاثرقائم کرنیکی کوشش ہورہی ہے کہ جیسے پورے ملک کامسئلہ نمبرون عمران خان کی رہائی ہے۔حالانکہ یہ حقائق کے برعکس ہے یہ تاثرمحض سوشل میڈیاپروپیگنڈے کی حدتک ہے اصل حقیقت کے مطابق عوام کی غالب اکثریت سمجھتی ہے کہ بانی اپنے مقدمات کاسامنامیرٹ پرکریں۔انکے وکلاہرمقدے میں کوئی صفائی دینے یابیگناہی ثابت کرنیکی بجائے ٹیکنیکل بنیادوں پرکیس کوغلط ثابت کرنیکی کوششوں میں غلطاں رہتے ہیں۔جوبھی عدالتی کار روائی باہرآئی ہے اس میں واضح دیکھا جاسکتاہے کہ وکلا ججز کے سوالات کے جوابات دینے کی بجائے یاتوبغلیں جھانکتے رہتے ہیں،التوامانگتے رہتے ہیں یاپھر ٹیکنیکل معاملات میں الجھے رہتے ہیں۔ انتخابات کے نتیجے میں اسمبلیاں وجودپاچکی ہیں وزیراعظم،وزرائے اعلیٰ اوروزرااپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں اورحکومتیں چل رہی ہیں اسکے باوجودسیاسی بحران اورسیاسی عدم استحکام کاراگ الاپاجارہاہے۔بحران کی گردان کرنیوالوں کاخیال ہے کہ وہ بحران بحران پکارتے رہیں گے توحکومت پردباؤہوگااوروہ نہ ہی کوئی ڈھنگ کاکام کرسکے گی اورنہ ہی ملک کی بہتری کیلئے کوئی منصوبہ ترتیب دے سکے گی۔یعنی سیاسی مفادات کیلئے ملکی مفادات سے کھلواڑ کیاجارہاہے۔ایک قیدی سے ملاقا ت بری بات نہیں مگرملاقات کے بعد انتشارپرمبنی پیغامات سے انارکی پیداکرنیکی کوششیں کی جاتی ہیں۔ جس ملاقات سے ملک میں عدم استحکام کا خدشہ ہویہ ملاقات کیونکر ممکن ہے؟ایک جانب فوج کیخلاف بے جااور بے مقصدبیان بازی کی جاتی ہے دوسری جانب اگرفوجی ترجمان وضاحت کریں توکہاجاتا ہے کہ فوج نے سیاست میں مداخلت کی۔ حالا نکہ فوج کوسیاست میں مداخلت پرمجبورکیاجاتاہے آئے روزفوج کیخلاف بیانات جاری ہوتے ہیں جیل میں ملاقات کے بعداعلیٰ عہدید ا روں کوذہنی مریض،ہٹلر اورنجانے کیاکیاخطابات سے نوازا جاتا ہے مگرجب فوجی ترجمان انتہائی حسین پیرائے میں ان الٹے سیدھے القابا ت کاجواب دیتے ہیں تو سیاست میں مداخلت کاکفرہوجاتاہے۔ ان حرکات وسکنات سے واضح ہورہاہے کہ ایک نام نہادسیاسی جماعت بہرصورت اپنی مخاصمت جاری رکھناچاہتی ہے کیونکہ اسے اپنی سیاسی زندگی مفاہمت میں نہیں مخاصمت میں نظرآتی ہے اسلئے مفاہمت کی ہرپیشکش پائے حقارت سے ٹھکراکرمخاصمت کوہوادی جاتی ہے۔ مفاہمت اورمخاصمت کایہ کھیل ملکی سلامتی کیلئے نقصان دہ ہے۔
اسلام آباد سے نتھیاگلی کے لیے ہیلی کاپٹر سروس کا آغاز
اسلام آباد: پاکستان میں سیاحت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک اہم اقدام کے تحت اسلام آباد اور نتھیاگلی کے درمیان پہلی لگژری ہیلی کاپٹر سروس کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ نجی کمپنییوں کی جانب سے متعارف کئے گئے سروس کا مقصد خصوصا غیر ملکی سیاحوں کو آرام دہ، تیز اور معیاری سفری سہولت فراہم کرنا ہے۔
اس سروس کے ذریعے اسلام آباد سے نتھیاگلی کا تقریباً تین گھنٹے طویل اور تھکا دینے والا زمینی سفر اب صرف 20 سے 30 منٹ کی پُرسکون فضائی پرواز میں طے کیا جا سکے گا۔ ہیلی کاپٹر میں ایک وقت میں 6 مسافروں کی گنجائش موجود ہے، جبکہ راؤنڈ ٹرپ ٹکٹ کی قیمت 1,050 ڈالر فی کس مقرر کی گئی ہے۔ مسافر اس دوران گلیات کے خوبصورت پہاڑی سلسلوں اور قدرتی مناظر کا فضائی نظارہ بھی کر سکیں گے۔
ماہرینِ سیاحت کے مطابق اس نوعیت کے منصوبے نہ صرف پاکستان میں ایڈونچر اور لگژری ٹورازم کو فروغ دیں گے بلکہ ملکی و غیر ملکی اعلیٰ درجے کے سیاحوں کو بھی راغب کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اس سروس کے آغاز سے شمالی علاقہ جات تک رسائی مزید آسان، تیز اور باوقار ہو گئی ہے، جو پاکستان کے سیاحتی شعبے کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔







