Local News

خیبرپختونخوا میں محکمہ تعلیم کے ای ٹرانسفر پالیسی سسٹم کا باضابطہ آغاز

پشاور: خیبرپختونخوا کے وزیرِ ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے پشاور میں محکمہ تعلیم کے ای ٹرانسفر پالیسی سسٹم کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔ افتتاحی تقریب میں سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن محمد خالد، اسپیشل سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم مسعود احمد، چیف پلاننگ ایجوکیشن آفیسر زین اللہ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم ارشد ایوب خان نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے کامیاب ای ٹرانسفر پالیسی کو عملی شکل دی ہے، جس کے تحت اساتذہ کی خواہشات اور میرٹ کو مکمل طور پر یقینی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں دو مرتبہ ای ٹرانسفر پالیسی متعارف کرائی گئی تھی تاہم اس میں مختلف خامیاں موجود تھیں، جنہیں اب دور کر دیا گیا ہے۔

وزیر تعلیم نے واضح کیا کہ ای ٹرانسفر پالیسی صوبے میں کامیابی سے جاری رہے گی اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور وزیر اعلیٰ کی ہدایات کی روشنی میں اسے مزید مؤثر اور بہتر بنایا جائے گا تاکہ تعلیمی شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ای ٹرانسفر پالیسی کے اگلے مرحلے میں ٹینور بیسڈ اور باہمی (میوچل) ٹرانسفر کے نظام کو بھی شامل کیا جائے گا، جس سے اساتذہ کو شفاف، منصفانہ اور آسان طریقے سے تبادلوں کی سہولت حاصل ہو سکے گی۔ صوبائی حکومت کے مطابق یہ نظام تعلیم میں شفافیت، نظم و ضبط اور اساتذہ کے مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرے گا۔

Local News

ہیلتھ کیئر کمیشن: 3ماہ میں 7,544 طبی مراکز کا معائنہ، 1,650 مراکز سیل

خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے اپنی تین ماہ کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق صوبے میں طبی مراکز کے خلاف کارروائیوں اور نگرانی کے عمل میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ترجمان ہیلتھ کیئر کمیشن عزم رحمان کے مطابق صرف تین ماہ کے دوران 785 نئے طبی مراکز کو رجسٹر کیا گیا، جس کے بعد صوبے میں مجموعی رجسٹرڈ طبی مراکز کی تعداد 21 ہزار 442 تک پہنچ گئی۔

رپورٹ کے مطابق تین ماہ میں مجموعی طور پر 7,544 طبی مراکز کا انسپیکشن کیا گیا، جن میں سے 3,523 مراکز کو مختلف خلاف ورزیوں پر جواب طلبی کے نوٹس جاری کیے گئے، جبکہ 1,650 طبی مراکز کو قوانین کی خلاف ورزی پر سیل کیا گیا۔ اسی دوران 133 طبی مراکز کی جانچ پڑتال مکمل کی گئی، جس کے نتیجے میں 41 مراکز کو مکمل جبکہ 184 کو عبوری لائسنس جاری کیے گئے۔ سال 2022 میں لائسنسنگ کے عمل کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 509 مراکز کی جانچ پڑتال کی جا چکی ہے، جن میں سے 173 مراکز کو مکمل لائسنس جاری ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران “خدماتِ صحت کے معیار” کے موضوع پر 11 تربیتی سیشنز کا انعقاد کیا گیا، جن سے صوبے کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے 362 طبی عملے نے تربیت حاصل کی۔ لائسنسنگ کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 1,656 طبی عملہ صحت کے معیار سے متعلق تربیت حاصل کر چکا ہے۔

Local News

پشاور میں سیف سٹی منصوبے کا افتتاح 31 جنوری کو ہوگا

پشاور: پشاور میں شہریوں کی حفاظت، جرائم کی روک تھام اور ٹریفک نظام کی بہتری کے لیے سیف سٹی منصوبہ تیزی سے تکمیلی مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔ ایس ایس پی آپریشنز پشاور فرحان خان کے مطابق سیف سٹی پراجیکٹ کا باقاعدہ افتتاح 31 جنوری کو کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ سیف سٹی منصوبے کے تحت شہر بھر میں جدید کیمروں کی تنصیب کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ پہلے مرحلے میں پشاور کے 133 اہم مقامات پر مجموعی طور پر 711 کیمرے نصب کیے جائیں گے، جن میں سے اب تک تقریباً 60 فیصد کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں۔

ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق پولیس لائنز میں قائم کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا 90 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، جہاں سے شہر بھر کی نگرانی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیف سٹی منصوبے سے نہ صرف ملزمان کی نشاندہی اور گرفتاری میں مدد ملے گی بلکہ دہشت گردی کی روک تھام میں بھی مؤثر کردار ادا کیا جا سکے گا۔

فرحان خان نے مزید کہا کہ سیف سٹی پراجیکٹ کے ذریعے ٹریفک نظام کو بھی جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا، جس سے شہریوں کو بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی اور ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے گا۔