عقیل یوسفزئی
پاکستان تحریک انصاف کو نہ صرف مختلف گروپوں کے باہمی اختلافات کا سامنا ہے بلکہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سمیت مختلف اہم لیڈرز عسکری قیادت اور فوجی کارروائیوں کے معاملے کے علاؤہ تحریک چلانے کے ایشو پر بھی ابہام کی صورت حال سے دوچار ہیں ۔
مثال کے طور پر وزیر اعلیٰ گزشتہ روز صوبائی کابینہ کا شیڈول
شدہ اجلاس ملتوی کرکے مجوزہ آپریشن تیراہ کے متاثرین سے ملنے گئے اور وہاں وہی بیانیہ دہرایا گیا کہ پی ٹی آئی اور صوبائی حکومت فوجی آپریشنز کی اجازت نہیں دیں گی مگر دوسری جانب صوبائی حکومت نے اربوں کا باقاعدہ بجٹ بھی رکھا ہوا ہے ۔
اس دوران پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی نے یہ کہہ کر سب کو ” حیران ، پریشان” کردیا کہ مجوزہ تیراہ آپریشن اس لیے کیا جارہا ہے کہ ریاست تیراہ کی معدنیات پر قبضہ کرنے اور انہیں امریکہ بھیجا جائے ۔ مختلف حلقوں اور ماہرین نے اس ” انکشاف” پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ تیراہ معدنیات کی بجائے منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ کے لیے مشہور ہے اور یہ کہ تیراہ سے دہشتگردی کے خاتمے کے علاوہ منشیات کے مراکز ختم کرنے کے لیے بھی آپریشن ناگزیر ہے ۔
تلخ حقیقت یہی ہے کہ پی ٹی آئی اہم ایشوز پر جہاں ریاست مخالف سرگرمیوں سے مسلسل ناکامیوں کے باوجود باز نہیں آرہی وہاں اس کی قیادت نے خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کو بھی ” مذاق” بناکر رکھ دیا ہے ۔
