Special session of National Workshop Khyber Pakhtunkhwa participants with the DG ISPR.

نیشنل ورکشاپ خیبرپختونخوا کے شرکاء کی ڈی جی آئی ایس پی آر سے خصوصی نشست

نیشنل ورکشاپ خیبرپختونخوا کے شرکاء نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے ساتھ ایک خصوصی اور بامقصد نشست میں شرکت کی، جس میں قومی سلامتی کی موجودہ صورتحال، گمراہ کن پروپیگنڈا کے پھیلاؤ اور اس کے تدارک سمیت دیگر اہم قومی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ نشست کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے شرکاء کو قومی سلامتی کے درپیش چیلنجز سے آگاہ کیا اور میڈیا و سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائے جانے والے منفی اور گمراہ کن بیانیے پر کھل کر گفتگو کی۔ اس موقع پر شرکاء کی جانب سے کیے گئے سوالات کے ڈی جی آئی ایس پی آر نے مدلل، جامع اور مفصل جوابات دیے۔

شرکاء نے معرکۂ حق میں تاریخی کامیابی پر افواجِ پاکستان کو شاندار خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج نے مادرِ وطن کے دفاع میں لازوال قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیوں اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو بھی زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ گمراہ کن پروپیگنڈا کے تدارک کے لیے انفرادی اور اجتماعی سطح پر ذمہ داری کا مظاہرہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے پاک فوج کے ساتھ غیرمتزلزل یکجہتی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ قوم اور افواجِ پاکستان کا مضبوط رشتہ ہی ملک کے استحکام اور سلامتی کی ضمانت ہے۔

Nowshera: U.S. Embassy Chargé d’Affaires Natalie A. Baker’s brief visit.

نوشہرہ: امریکی سفارتخانے کی ناظمِ امور کا مختصر دورہ

نوشہرہ امریکی سفاتخانے کے ناظم امورنیٹلی اے بیکر(Natialie A. Baker) نے نوشہرہ کا مختصر دورہ کیا جہاں پر انہوں نے قوت سماعت سے محروم بچوں کے سکول ڈیف ریچ نوشہرہ کمپس کا دورہ کیا جہا پر انہوں نے سکول کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور سکو ل میں بچوں کو بین الاقوامی معیار پر تعلیم فراہم کرنے پر انتظامیہ کو سراہا نتالی اے بیکر نے نوشہر ہ میں کے ایف سی برانچ کا باضابطہ افتتاح بھی کیا. اس موقع پر امریکی سفارت خانے کی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر کا کہنا تھا کہ دورے کا بنیادی مقصد یہ باور کرانا تھا کہ امریکی کمپنیاں محض منافع کے لیے نہیں بلکہ مقامی کمیونٹی کی تقدیر بدلنے کے لیے کام کر رہی ہیں انہوں نے کہا کہڈیف ریچ اسکول نہ صرف بہرے بچوں کو تعلیم اور فنی تربیت فراہم کر رہا ہے بلکہ انہیں معاشرے کا فعال حصہ بنانے میں بھی مصروف عمل ہے انہوں نے مزید کہا کہ امریکی برانڈز اور پاکستانی شراکت داروں کا یہ ملاپ مقامی معیشت کی مضبوطی کے لیے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے

Rain and snowfall expected in upper KP; flash flood advisory issued.

خیبرپختونخوا: بالائی علاقوں میں بارش و برفباری کا امکان، فلیش فلڈ ایڈوائزری جاری

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے 21 سے 24 جنوری 2026 کے دوران خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں میں بارش اور برفباری کے پیش نظر فلیش فلڈ ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق مغربی ہواؤں کا ایک طاقتور سلسلہ ملک کے بالائی حصوں کو متاثر کرے گا، جس کے نتیجے میں دریائے کابل اور اس سے منسلک ندی نالوں میں پانی کی سطح میں اضافے کا خدشہ ہے۔ سوات، چترال، دیر، بونیر، شانگلہ اور دیگر اضلاع میں فلیش فلڈ کا خطرہ موجود ہے۔ پی ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو فلیش فلڈ وارننگ جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ نشیبی اور حساس علاقوں میں الرٹ رہیں اور پیشگی حفاظتی اقدامات یقینی بنائیں۔ ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھی ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

اتھارٹی کے مطابق دریائے کابل کے کنارے آباد آبادی کو محتاط رہنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ خطرے سے دوچار علاقوں میں آبادی کی بروقت منتقلی یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ کسانوں اور مویشی پال حضرات کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کریں، جبکہ نشیبی علاقوں میں غیر ضروری ٹریفک پر پابندی عائد کرنے کی بھی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ پی ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے اور عوام کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

An awards distribution ceremony at the City Traffic Headquarters, Gulbahar.

سٹی ٹریفک ہیڈکوارٹر گلبہار میں تقریب تقسیمِ انعامات

سٹی ٹریفک پولیس پشاور کے زیر اہتمام ٹریفک ہیڈکوارٹر گلبہار میں تقریبِ تقسیمِ انعامات کا انعقاد کیا گیا، جس میں چیف ٹریفک آفیسر ڈاکٹر زاہد اللہ، ٹریفک افسران اور اہلکاروں نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران چیف ٹریفک آفیسر ڈاکٹر زاہد اللہ نے بہترین کارکردگی دکھانے والے اہلکاروں میں توصیفی اسناد اور نقد انعامات تقسیم کیے۔ اس موقع پر انہوں نے ٹریفک عملے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ افسران اور اہلکار “پہلے سلام، پھر کلام” کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے شہریوں سے خوش اخلاقی کے ساتھ فرائض انجام دیں اور ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔

ڈاکٹر زاہد اللہ نے کہا کہ سٹی ٹریفک پولیس پشاور میں سزا و جزا کا عمل جاری رہے گا، بہتر کارکردگی دکھانے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جبکہ غفلت برتنے والوں کے خلاف محکمانہ اور تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ شہر میں نو پارکنگ زون میں گاڑیاں کھڑی کرنے والوں اور تجاوزات مافیا کے خلاف بلا تعطل آپریشن جاری رکھا جائے اور کسی کے ساتھ کوئی نرمی نہ برتی جائے۔چیف ٹریفک آفیسر نے مزید کہا کہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا اور شہریوں میں روڈ سیفٹی سے متعلق شعور اجاگر کرنا سٹی ٹریفک پولیس کی اولین ترجیح ہے، جس کے لیے تمام افسران اور اہلکار پوری جانفشانی سے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔

A two-day international conference held at the University of Lakki Marwat

یونیورسٹی آف لکی مروت میں دو روزہ بین الا قوامی کانفرنس اختتام پذیر

یونیورسٹی آف لکی مروت نے علمی و تحقیقی میدان میں اپنی درخشاں روایت کو برقرار رکھتے ہوئے دوسری دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس ICMICA کا کامیابی سے انعقاد کیا، جسے تعلیمی سرگرمیوں میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ کانفرنس کا مقصد جدید تحقیق، اختراعی خیالات اور عالمی سطح پر درپیش سائنسی و علمی چیلنجز پر ماہرین کے درمیان تبادلۂ خیال کو فروغ دینا تھا۔

کانفرنس میں ماہرین تعلیم، محققین، اسکالرز اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ سائنسی سیشنز میں ریاضیات، کمپیوٹیشنل سائنس، ایڈوانسڈ میٹریلز اور انجینئرنگ کے پیچیدہ مسائل کے جدید حل پر تفصیلی بحث کی گئی۔ دو روزہ کانفرنس کا ایک اہم مقصد ضلع لکی مروت اور گردونواح کے طلبہ کو عالمی معیار کے ماہرین سے براہِ راست سیکھنے اور جدید تحقیق سے روشناس کرانا تھا، خصوصاً ایڈوانسڈ میٹریلز کی تیاری میں ریاضی اور کمپیوٹر سائنس کے کردار کو اجاگر کرنا۔

افتتاحی تقریب میں ڈائریکٹر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر تازہ گل نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ کانفرنس میں ممتاز ماہرین تعلیم نے بھی شرکت کی جن میں پروفیسر ڈاکٹر ولی خان مشوانی (ڈین آف سائنسز، یو ایس ٹی کوہاٹ)، پروفیسر ڈاکٹر دلنواز خان مروت (ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ آف میتھمیٹکس، اسلامیہ یونیورسٹی پشاور)، ڈاکٹر عامر سدا خان، ڈاکٹر حمید اللہ جان، ڈاکٹر فرہاد علی اور ڈاکٹر ناصر گل شامل تھے۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اورنگزیب خان نے کہا کہ یونیورسٹی کا بنیادی مقصد پسماندہ علاقے کے نوجوانوں کو جدید سائنسی علوم سے آراستہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ICMICA کانفرنس اس بات کا ثبوت ہے کہ لکی مروت کے طلبہ عالمی سطح پر مقابلے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایسی بین الاقوامی کانفرنسیں نہ صرف اساتذہ اور طلبہ کے لیے سیکھنے کے مواقع فراہم کرتی ہیں بلکہ یونیورسٹی کی علمی شناخت کو بھی عالمی سطح پر اجاگر کرتی ہیں۔

کانفرنس کے دوران شرکاء نے تحقیقی مقالے پیش کیے جن میں نینو میٹریلز، کمپوزٹس، سمارٹ مواد، ریاضیاتی ماڈلنگ اور کمپیوٹیشنل تکنیکوں پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ مقررین نے جامعات کے مابین بین الاقوامی تعاون، تحقیق کے معیار میں بہتری اور سائنس و صنعت کے درمیان روابط مضبوط بنانے پر زور دیا۔ اختتامی سیشن میں شرکاء میں اسناد تقسیم کی گئیں جبکہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اورنگزیب خان اور منتظمین کی کاوشوں کو سراہا گیا۔ شرکاء نے کانفرنس کو علمی لحاظ سے نہایت مفید قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی اس نوعیت کے علمی و تحقیقی اجتماعات کا تسلسل جاری رہے گا۔

KP Education Department instructs district education officers to update data.

محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کی جانب سے ضلعی تعلیمی افسران کو ڈیٹا اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت

ڈائریکٹوریٹ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن خیبر پختونخوا نے صوبے بھر کے تمام ضلعی تعلیمی افسران کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ HRIS اور IEMIS میں اساتذہ اور تعلیمی عملے کا مکمل ریکارڈ 21 جنوری 2026 تک ہر صورت اپ ڈیٹ کریں۔ ہدایات کے مطابق مقررہ تاریخ تک ڈیٹا کی تکمیل نہ کرنے کی صورت میں ذمہ دار افسران کے خلاف ضابطے کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ BPS-12 سے BPS-16 تک کی تدریسی اسامیوں کی درست خالی پوزیشنز کی تفصیلات آئندہ بھرتی کے عمل کے لیے فوری طور پر فراہم کی جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ضلعی تعلیمی افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خالی آسامیوں کی تصدیق کے لیے باقاعدہ تصدیقی سرٹیفکیٹ بھی جمع کرائیں۔ محکمہ تعلیم کے مطابق HRIS اور IEMIS میں درست اور بروقت ڈیٹا اپ ڈیٹ کرنے کا مقصد تعلیمی نظام میں شفافیت، مؤثر منصوبہ بندی اور آئندہ بھرتیوں کو میرٹ کی بنیاد پر یقینی بنانا ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ اس عمل میں کسی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔