خیبر پختونخوا فوڈ اتھارٹی کی کوہاٹ اور ہنگو میں بڑی کارروائیاں
فوڈ سیفٹی ٹیموں کے ہنگو میں دودھ کی دکانوں اور کولڈ ڈرنکس شاپس پر چھاپے. ایک کولڈ ڈرنکس شاپ سے 6000 لیٹر سے زائد زائدالمعیاد مشروبات برآمد کر کے ضبط، دکان سیل۔ ایک دکان سے 50 لیٹر ملاوٹی دودھ برآمد، موقع پر تلف۔ ترجمان فوڈ سیفٹی ٹیم کوہاٹ کا ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ کوہاٹ بازار میں خوراک کے کاروباروں کا معائنہ کیا۔ ایک دکان سے 2000 لیٹر سے زائد غیر معیاری اور ملاوٹی دودھ برآمد، موقع پر تلف، دکان مالک گرفتار۔ حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے عائد، مزید قانونی کارروائی کا آغاز۔ شہری ملاوٹ مافیا جیسے عناصر کی اطلاع فوری فوڈ اتھارٹی کو دیں۔
خیبر پختونخوا کابینہ کا 46 واں اجلاس آج ہوگا
کابینہ اجلاس کی صدرات وزیر اعلی خیبر پختونخوا کرینگے۔ کابینہ اجلاس دوپہر 2:00 بجے ہو گا۔ کابینہ اجلاس کا 34 نکاتی ایجنڈا جاری۔ صوابی جیل فیز ٹو کے لئے سپلینمٹری گرانٹ کی منظوری کابینہ سے لی جائے گی۔ خیبر پختونخوا کی جیلوں کے لئے جیمرز ، کمیونیکشن سسٹم اور سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے لئے فنڈز کی منظوری بھی کابینہ ایجنڈے میں شامل ہیں۔ پشاور میں قبرستان کی تعمیر کی منظوری کابینہ سے لی جائے گی۔ خیبر پختونخوا چائنہ کلچرل سنٹر کے لئے ذمین کی خریداری کی منظوری بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا کاعالمی سیاحتی کانفرنس کی اختتامی سیشن میں شرکت
گورنر خیبرپختونخوا نے کانفرنس کے انعقاد پر پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن، سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورزم اتھارٹی کے مشترکہ اقدام کو سراہا۔ پشاور میں عالمی سیاحتی کانفرنس صوبہ میں سیاحت کے فروغ کیلئے قابل تحسین اقدام ہے۔ موجودہ دور میں سیاحت کو سافٹ پاور اور پائیدار معیشت کا اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔ خیبرپختونخوا میں قدرتی حسن اور ثقافت کے حسین رنگ موجود ہیں۔ خیبرپختونخوا موسمیاتی اعتبار اور دلکش نظاروں کے باعث دنیا بھر میں پرکشش خطہ سمجھا جاتا ہے۔ سیاحت اقوام کے درمیان دوستی، ثقافتی ہم آہنگی، معاشی ترقی اور عوامی روابط کے فروغ کا مؤثر ذریعہ ہے۔
پاکستان بالخصوص خیبرپختونخوا سیاحتی شعبے میں غیر معمولی صلاحیتوں کا حامل ہے۔ سیاحت کے فروغ کیلئے سرکاری و نجی شعبے کا باہمی اشتراک ناگزیر ہے۔ سیاحت کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔خیبرپختونخوا میں سیاحتی شعبہ کی ترقی کیلئے سازگار ماحول و بہترین انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے۔ خیبر پختونخوا میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت سیاحتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ دنیا پاکستان کو ایک محفوظ اور پرکشش سیاحتی منزل کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
یتیم اور بے سہارہ بچوں کے لیے چار روزہ سپورٹس فیسٹیول کا آغاز
محکمہ سپورٹس خیبرپختونخوا کے زیر اہتمام یتیم اور بے سہارا بچوں کے لیے ماڈل انسٹیٹیوٹ فار سٹیٹ چلڈرن زمونگ کور، چارسدہ روڈ پشاور میں چار روزہ سپورٹس فیسٹیول کا شاندار انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف کھیلوں کے مقابلوں اور تفریحی سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا۔سپورٹس فیسٹیول کی افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان تاج محمد ترند تھے۔ اس موقع پر سیکرٹری سپورٹس خیبرپختونخوا محمد آصف خان، ڈائریکٹر جنرل سپورٹس تاشفین حیدر، ڈائریکٹر زمونگ کور صداقت اللہ، ڈپٹی ڈائریکٹر ریاض خان، ایڈیشنل ڈی جی سپورٹس مس رشیدہ غزنوی، ڈائریکٹر آپریشنز جمشید بلوچ سمیت دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔افتتاحی تقریب میں زمونگ کور کے بچوں نے مارشل آرٹس اور روایتی اتنڑ کا شاندار مظاہرہ پیش کیا، جسے شرکاء نے خوب سراہا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان تاج محمد ترند نے کہا کہ بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں موجود تمام بچے ہمارے اپنے بچے ہیں کیونکہ ان کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے اور صوبائی حکومت ان کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں بچوں کو غیر نصابی سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں ان بچوں میں کسی قسم کی صلاحیتوں کی کمی نہیں اور صوبائی حکومت انہیں بھرپور توجہ فراہم کر رہی ہے جو آئندہ بھی جاری رہے گی۔ان کا کہنا تھا کہ کھیلوں کے انعقاد کا بنیادی مقصد بچوں کو تفریح کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ٹیلنٹ کو اجاگر کرنا ہے۔مشیر کھیل نے مزید بتایا کہ مستقبل میں انٹر مدارس گیمز، مائنارٹی گیمز، انڈر 21 گیمز اور ٹرانسجینڈر گیمز کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔اس موقع پر سیکرٹری سپورٹس خیبرپختونخوا اور ڈائریکٹر زمونگ کور نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یتیم اور بے سہارا بچوں پر توجہ دینا نہایت ضروری ہے، کیونکہ یہ بچے بھی معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور انہیں بھی مساوی مواقع ملنے چاہئیں۔چار روزہ سپورٹس فیسٹیول میں زمونگ کور پشاور کے لڑکے اور لڑکیاں، زمونگ کور ایبٹ آباد، سوات کیمپس، ڈی آئی خان کیمپس، اخپل کور سوات، ایس او ایس اور دیگر یتیم بچوں کے اداروں سے تعلق رکھنے والے 500 سے زائد بچے کرکٹ، فٹبال، بیڈمنٹن، کبڈی، باسکٹ بال، رسہ کشی، اتھلیٹکس، والی بال اور میوزیکل چیئر جیسے مقابلوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
وزیرِاعلی خیبرپختونخوا کی زیرِ صدارت شعبہ صحت کا اجلاس
وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیرِ صدارت شعبہ صحت کا اجلاس، جاری اصلاحات پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی۔ ہمیں فائر فائٹنگ کی بجائے ایک جامع اور دیرپا حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ بڑے ہسپتالوں پر بوجھ کم کرنے کیلئے پرائمری اور سیکنڈری ہسپتالوں کی ریویمپنگ پر کام تیز کیا جائے۔ اور غیر ضروری ریفرلز کی حوصلہ شکنی، ناگزیر ریفرلز کیلئے ٹھوس جواز اور بیڈ مینجمنٹ کا سنٹرلائیزڈ نظام قائم کرنے کی ہدایت بھی کی۔
وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخواکاکہنا تھا کہ غیر ضروری ریفرلز کے باعث مریضوں کو مشکلات اور بڑے ہسپتالوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ وزیراعلیٰ کی ایم ٹی آئی ہسپتالوں اور آئی سی یو میں بیڈز بڑھانے کے لیے قابل عمل تجاویز پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔ پیڈیاٹرک سروسز پر خصوصی توجہ اور بچوں کے علاج کے لیے صحت کارڈ میں بجٹ مختص کرنے کی ہدایت کی۔ صحت کارڈ میں شامل نجی ہسپتالوں کے ساتھ برڈن شیئرنگ اور اس سے متعلق قواعد و ضوابط کو جلد حتمی بنانے کی بھی ہدایت۔ ڈاکٹرز کے لیے ہسپتالوں کے قریب ہاسٹل کا انتظام کیا جائے۔ ہسپتال اپنا سسٹم اپگریڈ کریں، لنک ڈاؤن ہونے کی وجہ سے ٹیسٹ نتائج میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ بڑے ہسپتالوں کا مشترکہ ڈیش بورڈ ہونا چاہیے جسے باقاعدگی سے اپڈیٹ کیا جائے۔ صحت اور تعلیم عوام سے براہ راست منسلک ہیں، ان پر خصوصی توجہ دی جائے۔ وزیراعلیٰ کی ہسپتالوں کی بہتری کے لیے تمام تر ممکنہ اقدامات کرنے، دیرپا تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی۔ عوام کی صحت پہلی ترجیح، وسائل کی کمی آڑے نہیں آنے دیں گے۔




