پشاور: صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے خیبرپختونخوا میں اتوار کی رات سے منگل تک مزید بارش اور بالائی اضلاع میں برفباری کے پیشِ نظر موسمی انتباہ جاری کر دیا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق محکمہ موسمیات نے 25 سے 27 جنوری کے دوران مغربی ہواؤں کے ایک نئے سلسلے کی پیشگوئی کی ہے جو صوبے کے بیشتر علاقوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبے کے بالائی اضلاع جن میں چترال، اپر و لوئر دیر، سوات، شانگلہ، کوہستان اور دیگر بالائی علاقے شامل ہیں، وہاں بارش اور برفباری جبکہ بعض مقامات پر شدید اور بھاری برفباری کا بھی امکان ہے، جس کے باعث درجہ حرارت میں نمایاں کمی متوقع ہے۔ دوسری جانب ہری پور، پشاور، مردان، نوشہرہ اور کوہاٹ سمیت نچلے و میدانی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ بارش اور برفباری کے نتیجے میں ناران، کاغان، کالام اور چترال سمیت بالائی علاقوں میں سڑکوں پر پھسلن اور بندش کا خدشہ ہے، جبکہ مسلسل بارش اور برفباری کے باعث لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر حساس علاقوں میں ندی نالوں اور برساتی نالوں کی مسلسل نگرانی کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے نے تمام ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور پیشگی حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ سیاحوں کو بالائی اور برفباری والے علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق شہری آندھی، گرج چمک اور برفباری کے دوران محفوظ مقامات پر رہیں، جبکہ کسان اور مویشی پال حضرات فصلوں اور جانوروں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کریں۔ صوبائی ایمرجنسی آپریشن سنٹر مکمل طور پر فعال ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں عوام پی ڈی ایم اے کی فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
ضم اضلاع کے انڈر 16 گیمز کا 9 فروری سے باقاعدہ آغاز
انڈر 16 گیمزکا باضابط افتتاح وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا جمرود سپورٹس کمپلیکس میں کریں گے۔ گیمز میں کرکٹ، فٹ بال، والی بال، باسکٹ بال اور ہاکی کے مقابلے شامل ہیں۔ جس میں ایک ہزار سے زائد کھلاڑی مدمقابل ہوں گے۔ان خیالات کا اظہار ڈائریکٹر سپورٹس قبائلی اضلاع نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ قبائلی اضلاع کے کھلاڑیوں کیلئے انڈر 16 گیمز کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ جس کا بنیادی مقصد گراس روٹ لیول سے نوجوان کھلاڑیوں کو مواقع فراہم کرنا اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارنا ہے تاکہ یہ کھلاڑی مستقبل میں ملک و قوم کا نام روشن کر سکیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ دوسرے مرحلے میں مختلف کھیلوں کے ٹیلنٹ ہنٹ اور ٹیلنٹ گرومنگ پروگرامز کا بھی اجرا کیا جائے گا، جس کے ذریعے قبائلی اضلاع کے کھلاڑیوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کو سامنے لا کر انہیں مزید بہتر انداز میں تیار کیا جائے گا۔عمر ارشد خان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی خصوصی ہدایات پرمشیر کھیل خیبرپختونخوا تاج محمد ترندکی سربراہی میں تمام ضم اضلاع میں جدید سہولیات سے آراستہ سپورٹس کمپلیکسز پر کام جاری ہے، جن میں سے 6 سپورٹس کمپلیکس تقریباً مکمل ہو چکے ہیں جبکہ دو کو سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) میں شامل کیا گیا ہے۔ اسی طرح 39 مقامات پر مختلف کھیلوں کی سہولیات دستیاب ہیں۔انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ضم اضلاع خواتین گیمز، انٹر مدارس گیمز اور مائنارٹی گیمز کا بھی انعقاد کیا جائے گا تاکہ تمام طبقات کو مساوی بنیادوں پر کھیلوں کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ڈائریکٹر سپورٹس نے بتایا کہ ضم اضلاع انڈر 16 گیمز کے پہلے مرحلے میں تمام اضلاع میں مقابلے منعقد کیے گئے اور ڈویڑنل سطح پر باقاعدہ ٹرائلز کے ذریعے کھلاڑیوں کا شفاف انتخاب عمل میں لایا گیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ انڈر 16 گیمز کے کرکٹ مقابلے حیات آباد سپورٹس کمپلیکس پشاور، فٹ بال مقابلے طہماس خان فٹ بال گراو ¿نڈ، ہاکی اور باسکٹ بال کے مقابلے پشاور سپورٹس کمپلیکس جبکہ والی بال کے مقابلے پی ایس بی ہال پشاور میں منعقد ہوں گے۔
میرانشاہ اور میرعلی میں 12 سال بعد پہلی بار برف باری
شمالی وزیرستان میں طویل عرصے کے بعد برف باری ہوئی۔ جس سے موسم نہایت خوشگوار ہو گیا۔ تاہم سردی کی شدت میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ برف باری شروع ہوتے ہی بچے اور نوجوان گھروں سے باہر نکل آئے اور برف کے ساتھ کھیل کر اس حسین منظر سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ برف باری دیکھ کر شہری خوشی سے نہال نظر آئے، جبکہ سردی بڑھنے کے باعث گرم کپڑوں اور دیگر موسمی اشیاء کے استعمال میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ دوسری جانب محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند دنوں میں مزید سرد موسم رہنے کا امکان ہے جبکہ بالائی علاقوں میں برف باری کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔


