Wisal Muhammad Khan

خیبرپختونخواراؤنڈاَپ: صوبے کوتین بڑے مسائل کاسامنا

وصال محمدخان
خیبرپختونخواکے باشندوں کواس وقت تین بڑے اورسلگتے ہوئے مسائل کاسامناہے۔سب سے بڑامسئلہ امن وامان اوردہشتگردی ہے۔ جس سے خصوصی طورپرجنوبی اورضم قبائلی اضلاع متاثرہورہے ہیں۔وہاں آئے روزسیکویرٹی فورسزپرحملے ہورہے ہیں جن میں عام شہریوں سمیت پولیس اور فوج کے جوان بھی شہیدہورہے ہیں۔دوسرابڑامسئلہ آٹے کاہے۔گزشتہ تین ماہ سے صوبے میں آٹے کی بے قابوقیمتیں اب تین ہزار روپے فی 20کلوگرام تک پہنچ چکی ہیں۔آٹے کی بڑھتی قیمتوں کے سبب نانبائی بھی احتجاج پرمجبورہیں ان کا کہناہے کہ جب آٹے کاتھیلا 14سوروپے میں ملتاتھااس وقت روٹی کی قیمت 20روپے تھی اب یہ تھیلا3ہزارروپے تک پہنچ چکا ہے مگرروٹی کے نرخ وہی پرانے ہیں۔ نرخ بڑھانے پرانتظامیہ چھاپے مارتی ہے اوربھاری جرمانے عائدکئے جاتے ہیں مگرآٹے کی قیمتیں کم کرنے پرتوجہ نہیں دی جا رہی۔تیسرابڑامسئلہ صوبائی حکومت کاہے جوبانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے سرگرم ہے اس سلسلے میں وزیراعلیٰ پنجاب اور سندھ کے بعداب خیبر پختونخواکے دوروں پرہیں۔ ان دوروں کامقصد8فروری کے احتجاج اورسٹریٹ موومنٹ کی تیاریاں ہیں۔امن وامان اور دہشتگردی کا مسئلہ حکومت پس پشت ڈال چکی ہے، آٹے کے بحران اورقیمتوں میں ہوشربااضافہ بھی دردسرنہیں بلکہ حکومت کی ترجیحات میں بانی کی رہائی، سٹریٹ موومنٹ،عوامی رابطہ مہم اورفوج کیخلاف بیان بازی شامل ہے۔نقل مکانی کرنیوالوں کی مشکلات پرمگرمچھ کے آنسوبہائے جارہے ہیں آپریشنزکی غلط سلط اعدادوشمارکے ذریعے یہ ثابت کرنیکی کوشش کی جاتی ہے کہ آپریشنزدہشتگردی کاحل نہیں مگرحل کیاہے اسکابھی کوئی جواب نہیں؟ ذمہ دارذرائع کے مطابق تیراہ ٓاپریشن سے قبل نمائندہ جرگہ اور انتظامیہ کے درمیان50سے زائدنشستیں ہوئیں جن میں وزیر اعلیٰ کیساتھ 4ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔مگر اسکے باوجودقومی سلامتی سے متعلق اس سنجیدہ معاملے کوسیاسی بیان بازی کامحوربنادیا گیا ہے اوریہ تاثردینے کی کوششیں ہورہی ہیں جیسے آپریشن ضرورت نہیں، مشغلہ ہے۔ وزیراعلیٰ نے تیراہ کے دورے میں بھی آپریشن کی مخالفت کی حالا نکہ یہ آپریشن نمائندہ جرگہ کیساتھ ایک معاہدے کے بعدعمل میں آیاہے جس کے تحت مقامی باشندے وہاں سے نقل مکانی کرینگے اور ہر خاندان کوماہانہ 50ہزارجبکہ آپریشن کے دوران متاثرہونیوالے مکانات کے مالکان کومعاوضہ بھی فراہم کیاجائیگا۔گزشتہ ہفتے وزیراعلیٰ کی سربراہی میں ضلع خیبرکے عمائدین اور مشران پرمشتمل ایک جرگہ منعقدہوا۔جس میں ضلع خیبراوروادی تیراہ میں امن وامان کی صورتحال اور تیراہ سے نقل مکانی کرنیوا لوں کودرپیش مشکلات پرتفصیلی غوروخوض ہوا۔اس موقع پروزیراعلیٰ کاکہناتھاکہ”حکومت تیراہ متاثرین کوبے یار و مدد گارنہیں چھوڑے گی، انکی ہرممکن مددکی جائیگی،قبائلی عوام نے ملک کیلئے بیش بہاقربانیاں دی ہیں،گھربارچھوڑے ہیں انکی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا“۔ صوبائی حکومت نے فیصلہ کیاہے کہ وہ عوام کوسرکاری آٹاسستے نرخوں پرفراہم کریگی۔تفصیلات کیمطابق پنجاب کی جانب سے آٹے اورگندم کی نقل وحمل پرپابندی کے بعدصوبائی حکوت نے سرکاری آٹافراہم کرنے کافیصلہ کیاہے۔حکومت فلو ر ملزکوگندم فراہم کریگی ملزکو20کلوگرام کاتھیلا 2190 روپے میں پڑیگاجووہ عوام کو 2220روپے میں فراہم کریں گے سرکاری آٹے کیلئے سبزرنگ کے تھیلے استعمال کئے جائیں گے متعلقہ ڈیلرزاپنی دوکانوں پربینرزآویزاں کرنے کے پابندہونگے جن پرلکھاہوگا”حکومت خیبر پختونخوا کا آٹا2220روپے تھیلادستیاب ہے“صوبے کے سنجیدہ وفہمیدہ حلقوں کاکہناہے کہ اس سے بہترہوتا صوبائی حکومت فلورملزکو 10 لاکھ ٹن گندم فراہم کرتی اس سے آٹے کی قیمتیں خودبخودکم ہوجاتیں۔حکومتی گوداموں میں وافر گندم موجودہے جبکہ 80فیصدفلورملز گندم کی عدم دستیابی کے باعث بندپڑی ہیں۔
صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان نے وزیراعلیٰ کومشورہ دیاہے کہ وہ ضد،انااورشخصیت پرستی سے بالاترہوکروزیراعظم سے رابطہ کریں۔ رکن اسمبلی پیپلزپارٹی احمدکنڈی کاکہناتھا کہ صوبائی اسمبلی میں ہونیوالے جرگے کی قراردادمیں ایک نکتہ یہ بھی تھاکہ وفاق اورصوبے میں تناؤ کم کیاجائیگا،وزیراعلیٰ خاصے عرصے سے غائب ہیں وہ اسمبلی آئیں تاکہ ہم مل کرآئندہ کالائحہء عمل طے کریں وفاق اگراپوزیشن کودیوارسے لگا رہی ہے توصوبائی حکومت بھی ایساہی کررہی ہے۔وزیرقانون آفتاب عالم نے مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ غیرقانونی طورپرمسلط حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں ہونگے،تیراہ آپریشن کے ذریعے وزیراعلیٰ کونیچادکھانے کی کوششیں ہورہی ہیں صوبائی کابینہ نے ایکشن ان ایڈسول پاورآرڈیننس کے خاتمے کی منظوری دی ہے جس کے بعدوفاق یافوج کے پاس آپریشن کااختیارنہیں رہا۔حکومتی ارکان ڈاکٹرامجداورعدیل ملک کاکہناتھاکہ ادارے ہمارے خلاف پریس کانفرنس کرتے ہیں کیایہ سیاسی پریس کانفرنس نہیں؟جس پراپوزیشن ارکان نے کہاجس کے خلاف بیان بازی ہورہی ہواس نے جواب تودیناہوتاہے۔احمدکنڈی نے وقفہ سوالات میں کہاکہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران زکوٰۃ کمیٹیو ں کی عدم فعالیت کے سبب 2ارب2کروڑ 18لاکھ روپے مستحقین میں تقسیم نہ ہوسکے۔اگرزکوٰۃ کمیٹیاں فعال ہوتیں تومستحقین کو ان کاحق ملتا۔محکمے کی جانب سے جواب میں بتایاگیاکہ2020-21کے دوران 3ارب 78کروڑ 62 لاکھ روپے جاری کئے گئے، جن میں سے3ارب23کروڑکی رقم 2لاکھ 66ہزار195مستحقین میں،2021-22میں 1ارب17کروڑ 94لاکھ روپے جاری ہوئے جن میں سے94 کروڑسے زائدکی رقم82ہزار108مستحقین میں تقسیم کی گئی۔ لیکن 3 2022-2اور2023-24ء میں زکوٰۃ کمیٹیاں فعال نہ ہونے کے سبب زکوٰۃ کی تقسیم نہ ہوسکی۔ جبکہ2024-25میں 2ارب 2کروڑ 18 لاکھ 69ہزار روپے جاری ہوئے۔ جن میں سے32 ہزار 240 مستحقین میں 84کروڑ87لاکھ37ہزارروپے تقسیم کئے گئے۔
عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے باچاخان کی38ویں اور عبدالولی خان کی 20ویں برسی کی مناسبت سے ہفتہء باچاخان 2026ء کے تقریبات کاباقاعدہ افتتاح پارٹی کے مرکزی صدرایمل ولی خان نے کیا۔اس موقع پران کاکہناتھاکہ تیراہ کا مسئلہ سنجیدہ اورسنگین ہے،یہ گارنٹی کون دیگاکہ وہاں سے دہشتگردمقامی باشندوں کے روپ میں نہیں نکلیں گے؟پنجاب میں تحریک لبیک کیخلاف آپریشن ہوا،سندھ میں ڈاکوؤں کیخلاف بھی آپریشنزہوتے ہیں مگروہاں سے نقل مکانی نہیں کروائی جاتی۔توکیانقل مکانی کاعذاب صرف پختونوں کیلئے ہے؟ صوبے پرنوسربازاورڈرامہ بازمسلط ہیں جنہوں نے خودہی آپریشن کی منظوری دی اوراب ڈرامے کررہے ہیں۔ہماری دورِحکومت میں ملاکنڈڈویژن میں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن ہوا مگر ہم نے عوام کوخیموں میں نہیں ڈالابلکہ معینہ مدت میں فوری طورپرواپس بھجوادیا۔عمران خان اورنوازشریف دونوں کی پالیسیاں پختونوں کے خلاف ہیں۔جبکہ یہاں برسراقتدارٹولہ قوم کی فکرکرنے کی بجائے ایک سزایافتہ قیدی کی رہائی کیلئے فکرمندہے حالانکہ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ رہائی عدالتوں سے ہی ممکن ہے۔اگرانہیں آپریشن قبول نہیں تواستعفیٰ دیکر اقتدارکولات کیوں نہیں ماردیتے؟یہ سب انکی آشیربادسے ہورہاہے رات کوڈیلزاوردن کوڈرامے بازیوں سے عوام باخبرہیں۔جہاں ضروری ہووہاں ٹارگٹڈآپریشن ہوناچاہئے مگرہم لوگوں کونقل مکانی کے عذاب میں مبتلاکرنے کیخلاف ہیں۔