وصال محمدخان
وادی تیراہ ضم قبائلی ضلع خیبرکادورافتادہ علاقہ ہے جہاں گزشتہ دوعشروں سے مختلف شکلوں میں دہشتگردقابض ہیں۔2013میں جب راقم نے وادی تیراہ کاسفرکیاتھااس وقت وہاں لشکراسلام نامی تنظیم قابض تھی۔جس نے اپنی مرضی کی حکومت قائم کررکھی تھی جوتنازعات کے فیصلے کرتی تھی،دیگرگروہوں سے علاقے کی حفاظت کرتی تھی،مدرسے قائم کئے گئے تھے،نسواراورسگریٹ سمیت ہر قسم کے منشیات کے استعما ل کی ممانعت تھی اورہرخاندان پرفرض تھاکہ وہ لشکراسلام میں یاتوایک فرد دیں یاپھرہرماہ مبلغ چھ ہزارروپے قابض تنظیم کی خدمت میں پیش کریں جسے جزیہ یاچندہ کانام دیاگیاتھا۔ہرقسم کی منشیات حتیٰ کہ سگریٹ اورنسوارپرپابندی تھی کسی فردسے سگریٹ برآمدہوتی تواسکے دونوں ہونٹ سی دئے جاتے تھے۔ اس دوران مجرم کچھ کھانے پینے اوربولنے سے قاصرہوتا۔نسواراستعمال کرنے والے کیلئے ایک جہازی سائز پیالے میں نسواراورپانی کامحلول بنالیاجاتااورپرہجوم مقام پریہ پیالہ’مجرم‘ کو پلایا جاتا۔ میں نے اس وقت کے بادشاہ سلامت کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ جناب منشیات پرآپ نے مکمل پابندی لگائی ہوئی ہے مگر چرس کے میلے لگتے ہیں جس میں اگرچہ چرس پینے یا اسے استعمال کرنے پرپابندی ہے مگراسے فروخت کرنے پرکوئی پابندی نہیں درس نامی قصبے کے میلے میں چرس کی بوریاں بھری پڑی ہیں۔ توحضرت کاجواب تھاکہ منشیات ایک لعنت ہے اسلئے ہم نے یہاں پابندی لگائی ہوئی ہے مگر چرس یہاں کی معیشت ہے جسے بندنہیں کیاجا سکتا۔یہ علااقہ چونکہ انتہائی دورافتادہ ہے راستے دشوارگزارہیں باڑہ کے راستے پہنچنا قدرے آسان ہے مگر2013ء میں باڑہ کاراستہ بند کیاگیاتھااسلئے ہمیں ہنگو،ٹل،پاراچنار،کرم اوراورکزئی ایجنسی سے ہوکرتیراہ تک پہنچنا پڑا تھا۔ میں نے توصرف درس نامی قصبے میں چرس اوراسلحے کاجمعرات بازاردیکھاتھاجس میں ہردوکاندارنے آٹھ دس بوریاں بھر کر چرس اپنے سامنے رکھی ہوئی تھی جیسے ہمارے ہاں اتوار یا جمعہ بازاروں میں آلواورپیازرکھے جاتے ہیں۔اسکے علاوہ جوفرداپنی بندوق فروخت کرنے کاخواہاں ہوتاوہ چٹائی بچھاکراس پراپنی بندوق اوراسکے ساتھ میگزین وغیرہ سجا کر رکھ دیتا۔قصہ مختصراس وقت وہاں پاکستانی قانون کی عملداری نہ ہونے کے برابرتھی۔جگہ جگہ لشکراسلام کے چیک پوسٹ قائم تھے جس میں ”مجاہدین“ کے پاس واکی ٹاکی کامواصلاتی سسٹم ہوتاتھاجس سے وہ ایکدوسرے کیساتھ رابطہ کرتے اور امیرمنگل باغ کی ہدایا ت ان تک پہنچتی۔ میں نے یہ علاقہ اگست2013ء میں دیکھاتھاجب مردان،نوشہرہ اورپشاورمیں گرمی اورحبس کاراج ہوتا ہے مگروہاں جاکررضائیوں کی ضرورت پڑی تھی۔اس وقت وہاں امن وامان موجودتھامنگل باغ موقع پرفیصلے صادرکیا کرتاتھا اوریہ روایت ہے کہ جہاں سزا وجزاکاعمل تیزہووہاں جرائم ختم ہوجاتے ہیں۔اسلئے وہاں جرائم کم یابالکل نہیں تھے۔بس یہ مسئلہ تھاکہ ریاست کے متوازی ایک حکومت قائم کی گئی تھی اور و ہاں کے لوگ اسی حکومت کے زیرنگیں تھے۔اس وقت سے لیکرآج تک وادی تیراہ دہشت گردو ں کامرکزبن چکاہے۔منگل باغ کیخلاف آپریشن ہواتوہ فرارہوکرافغانستان چلا گیا مگروادی تیراہ پر دیگرگروہوں نے اپنی عملداری قائم کر دی۔جن میں انصاراالاسلام،داعش اورالقاعدہ وغیرہ شامل ہیں۔آپریشن ردالفساداورنیشنل ایکشن پلان کے بعدکچھ عرصہ کیلئے دہشتگرد اس علاقے سے نکل گئے تھے مگرچونکہ صوبائی حکومت یہاں اپنی ذمے داریاں پوری کرنے سے قاصررہی۔پرویزخٹک نے تو طالبا ن کودفاتر کے علاوہ اور بھی بہت کچھ دینے کابرملااعلان کررکھاتھا،انکے بعدمحمودخان بھی ہومیوپیتھک قسم کے وزیراعلیٰ تھے وہ اس بات پر نازاں تھے کہ بانی نے ان پراعتمادکر کے وزارت اعلیٰ جیسااہم عہدہ سونپاہے،علی امین گنڈاپوربھی امن وامان میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے تھے جبکہ سہیل آفریدی کاسٹانس بھی طالبان کے حوالے سے عمران خان سے مختلف نہیں۔گزشتہ تین حکومتوں کی عدم توجہی سے لشکراسلام کے سربراہ کی مبینہ موت کے بعد تیراہ میں ہمہ اقسام کی تنظیمیں وجودمیں آگئیں جنہوں نے وہاں کے عوام کویرغمال بنالیا۔ ایک اندازے کیمطابق تیراہ کے میدان علاقے میں 6ہزارتک شدت پسندموجودہیں۔گزشتہ برس کے آخری سہ ماہی میں وہاں کے ایک نمائندہ جرگہ کے ارکان اورعوام قرآن پاک لیکردہشتگردوں کے پاس گئے کہ خدارا ہمارا علاقہ خالی کیاجائے۔جس کاکوئی خاطرخواہ اثرنہ ہوا۔اسکے بعد جرگہ نے صوبائی انتظامیہ کیساتھ روابط استوارکئے اورایک رپورٹ کیمطابق اس جرگہ نے انتظامیہ کیساتھ 50سے زائد ملاقاتیں کیں جن میں چارملاقاتیں وزیراعلی سہیل آفریدی کیساتھ بھی شامل ہیں۔جس میں جرگے کی جانب سے کہاگیاکہ شدت پسندوں کیخلاف آپریشن سے عام لوگ بھی متاثرہوتے ہیں اسلئے یہاں کے عوام کونکال کرآپریشن کیاجائے۔اس سلسلے میں جرگہ اورانتظامیہ کے درمیان ایک معاہدہ عمل میں آیا۔اس دوران صوبائی انتظامیہ آن بورڈتھی فورسز نے علاقے کوخالی کروانے اوروہاں سے شہریوں کی نقل مکانی میں مددکی۔ معاہدے کے تحت 25جنوری تک وہاں سے نقل مکانی ہونی تھی۔اسکے بعد آپریشن شروع کیاجائیگااور 5اپریل تک علاقہ کلیئرکرواکرلوگوں کوواپس بھیجاجائیگااوروہاں پرترقیاتی کام بھی ہونگے۔اسی معاہد ے کے تحت وہاں آپریشن کافیصلہ کیاگیا۔پہلے مرحلے میں نقل مکانی کا سلسلہ جاری تھاکہ اس دوران تیراہ میں برفباری شروع ہوگئی۔ اس شدیدسردی میں راستے بندہوگئے اورنقل مکانی کرنامشکل ہوگیا۔صوبائی حکومت مصیبت زدہ شہریوں کوسہولیات دینے کی بجائے تیراہ آپریشن پربیان بازی میں مصروف ہوگئی ہے۔وزیراعلیٰ چونکہ سٹریٹ موومنٹ کے تحت صوبے کے مختلف اضلاع کادورہ کررہے ہیں وہ جہاں بھی خطاب کرتے ہیں تیراہ آپریشن کے حوالے سے گولہ باری ضرورفرماتے ہیں۔(جاری ہے)
فوجی کارروائیوں کے نتائج اور تیراہ پر پوائنٹ اسکورنگ
عقیل یوسفزئی
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں کوئی نیا فوجی آپریشن نہیں ہورہا اور اس ضمن میں خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت غلط بیانی سے کام لے رہی ہے تاہم سیکیورٹی فورسز اور وفاقی حکومت تیراہ سمیت ان تمام علاقوں میں انٹلیجنس بیسڈ آپریشنز جاری رکھیں گی جن کو دہشت گردی کا سامنا ہے ۔
اسلام آباد میں عطاء تارڑ اور اختیار ولی خان کے ہمراہ پریس بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوج یا وفاقی حکومت نے تیراہ سے کسی کو بے دخل کرنے یا منتقل کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ یہ تمام صورتحال صوبائی حکومت کی ایک نوٹیفکیشن کے باعث بنی جبکہ اس تاریخی حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ صدیوں سے سردی کے موسم میں تیراہ سے لوگ نچلے علاقوں میں منتقل ہوتے آرہے ہیں اور اب کے بار بھی ایسا ہوا ۔ وزیر دفاع کے بقول تیراہ میں نہ صرف 500 کے لگ بھگ دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں بلکہ یہاں 12 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر پوست کی کاشت بھی ہوتی ہے جس سے دہشت گرد بھی فایدہ اٹھاتے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبائی حکومت نقل مکانی کی پراسیس میں ملوث نہیں تو 4 ارب روپے کا بجٹ کیوں مختص کیا گیا ۔
جس روز وزیر دفاع یہ پریس کانفرنس کررہے تھے اسی دن خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے روایتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ تیراہ کے معاملے پر اتوار کے روز جمرود اسٹیڈیم میں ایک جرگہ منعقد کرنے جارہے ہیں جس میں ” بند کمروں” میں ہونے والے فیصلوں کو مسترد کیا جائے گا ۔ ان کے بقول ان کی حکومت کے خلاف سازش ہورہی ہے اور یہ کہ 24 رکنی تیراہ کمیٹی یا جرگہ میں صوبائی حکومت ، پی ٹی آئی کا کوئی نمائندہ شامل نہیں تھا ۔
اس سے قبل خیبرپختونخوا اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ درجنوں فوجی آپریشنز کے ذریعے امن قائم نہیں کیا جاسکا اور آپریشن نتائج دینے میں ناکام رہے ۔
تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ عوامی حلقوں کے علاوہ اے این پی ، پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ن ، جے یو آئی اور جماعت اسلامی سمیت اکثر پارٹیاں پی ٹی آئی اور اس کی صوبائی حکومت پر دہشت گردوں کی سرپرستی کا الزام لگاتی رہی ہیں اور اب یہ بات سب کو معلوم ہوچکی ہے کہ پی ٹی آئی نہ صرف ریاست مخالف ایجنڈے پر عمل پیرا ہے بلکہ یہ اس افغان عبوری حکومت کی وکالت بھی کرتی آرہی ہے جس نے کالعدم گروپوں کو پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کھلے عام استعمال کرنے کی اجازت دے رکھی ہے ۔
جہاں تک اس بیانیہ کا تعلق ہے کہ فوجی آپریشنز نتائج دینے میں ناکام رہے ہیں یہ برخلاف حقائق بیانیہ ہے ۔ ماضی میں شمالی اور جنوبی وزیرستان متعدد بار ریاستی رٹ سے باہر ہو کر طالبان وغیرہ کے قبضے میں چلے گئے تھے اور وہاں متوازی حکومتیں قائم کی گئی تھیں تاہم فوجی کارروائیوں کے باعث ریاستی رٹ قائم کی گئی اور اب وزیرستان سمیت خیبر پختونخوا میں ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں ماضی کی طرح طالبان وغیرہ کے ٹھکانے موجود ہو۔ دہشت گرد افغانستان سے دراندازی کرتے ہوئے حملے تو کرتے ہیں مگر ان کو نہ صرف یہ کہ روزانہ کی بنیاد پر فورسز کی جانب سے نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ افغانستان میں بھی 2025 کے دوران متعدد بار ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ۔
سال 2025 کے دوران خیبرپختونخوا کے تین قبائلی اضلاع کرم ، باجوڑ اور مہمند کے بعض علاقوں میں طالبان نے حملوں کے علاؤہ عوام کو ” یرغمال” بناکر ٹھکانے قائم کیے اور انہوں نے جرگوں کے مذاکرات کے باوجود جب نکلنے سے انکار کیا تو فورسز نے ریکارڈ وقت میں آپریشن کرکے یہ علاقے کلیئر کیے اور آج ان علاقوں میں کافی حد تک امن قائم ہے ۔
اس سے قبل جب سوات سمیت ملاکنڈ ڈویژن کے متعدد علاقوں میں پاکستان کا جھنڈا اتارا گیا اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے ہوئے ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو وہاں اس وقت کی عسکری قیادت ، وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت نے ایک پیج پر رہتے ہوئے ریکارڈ وقت میں پاکستان کی تاریخ کا کامیاب ترین آپریشن کرکے نہ صرف امن قائم کیا بلکہ 20 لاکھ سے زائد متاثرین کو زبردست پیکجز دیکر ان کی واپسی اور بحالی کو بھی ممکن بنایا ۔اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہے کہ فوجی آپریشنز نتائج دینے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں ۔
دہشت گردی کی حالیہ لہر کے دو تین اسباب بہت واضح ہیں ۔ ایک تو یہ کہ اس میں اضافہ اگست 2021 کے دوران افغانستان میں طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد ہوا کیونکہ افغان طالبان نے کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر کو نہ صرف پاکستان پر حملہ آور ہونے کی سرپرستی کی بلکہ ان کو امریکہ اور نیٹو کا چھوڑا ہوا اسلحہ بھی فراہم کیا ۔
دوسری وجہ یہ رہی کہ بانی پی ٹی آئی کے دور اقتدار میں ان کی خصوصی ہدایت پر ان ہزاروں دہشت گردوں کو افغانستان سے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں منتقل کیا گیا جو کہ فوجی آپریشنز کے نتیجے میں پاکستان سے بھاگ گئے تھے ۔ اسی طرح فوج اور دیگر اداروں کے زیر تحویل سینکڑوں ہزاروں دہشت گردوں کو بھی رہائی دلائی گئی جنہوں نے بعد میں پُرانی سرگرمیاں دوبارہ شروع کیں ۔
گزشتہ 12 برسوں سے شورش زدہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی برسر اقتدار ہے مگر یہ پارٹی پرو طالبان ، پرو افغانستان پالیسیوں پر عمل پیرا رہی اور اس کی صوبائی حکومتوں نے ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کی بجائے پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ اور بلیک میلنگ کے لیے دہشتگردی کی کھل کر سرپرستی کی جس کے باعث معاملات الجھتے رہے اور موجودہ صوبائی حکومت بھی اسی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری متعدد بار دوٹوک انداز میں یہ واضح کر چکے ہیں کہ فوج ایک وفاقی ادارہ ہے اور اس کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے ۔
تیراہ سمیت متعدد علاقوں میں اس تمام عرصے کے دوران انٹلیجنس بیسڈ آپریشنز ہوتے رہے ہیں تاہم وزیر اعلیٰ اور ان کی حکومت کی ” سوئی” تیراہ پر اس لیے اٹکی ہوئی ہے کہ یہاں کی دہشت گردی ، منشیات فروشی اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے کاروبار اور سرگرمیوں کے ساتھ وزیر اعلیٰ سمیت پی ٹی آئی کے متعدد لیڈروں کے ذاتی مفادات جڑے ہوئے ہیں ۔
اس تمام صورتحال کے تناظر میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست مخالف بیانیہ اور پروپیگنڈا ترک کرتے ہوئے عوام میں ابہام پیدا کرنے کی بجائے اپیکس کمیٹی کا اجلاس بلاکر حقیقت پسندانہ فیصلے کئے جائیں ۔

