وصال محمدخان
وزیراعلیٰ اوروزراکے بیانات سے صوبے کے عوام کنفیوژن کاشکارہیں کسی کی سمجھ میں نہیں آرہاکہ ماجراکیاہے؟حقیقی صورتحال کوچھپانے کی کوشش میں تیراہ کامعاملہ متنازعہ بنانے کی بچگانہ کوششیں ہورہی ہیں جس کافائدہ شدت پسندوں کوہورہاہے اوریہ سب کچھ محض سیاسی پوائنٹ سکورنگ کیلئے ہورہاہے۔فورسزنے نقل مکانی میں مددبھی کی موسمی شدت کے سبب نقل مکانی کیلئے دی گئی ڈیڈلائن میں دودن کی توسیع بھی دی گئی تازہ اطلاعات تک وہاں سے نقل مکانی جاری ہے جو 80فیصدسے زائدمکمل ہوچکی ہے کسی وجہ سے رہ جانیوالے بھی نکلناچاہتے ہیں کیونکہ یہ لوگ گزشتہ دوعشروں سے شدت پسندوں کوبرداشت کررہے ہیں پہلے وفاقی حکومت انہیں نظراندازکرتی رہی اب صوبائی حکو مت سیاست کاایندھن بنارہی ہے۔اس دوران بارشیں اوربرفباری بھی ہورہی ہے اورپوری وادی تیراہ میں جمانے والی سردی کاراج ہے۔فورسزآپریشن اوروہاں سے دہشتگردوں کے صفائے کیلئے پرعزم ہیں مگرسیاسی میدان میں اس پربیانات کاایک لامتناہی سلسلہ شروع کردیا گیاہے۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے تیراہ کادورہ کرکے لوگوں کی مشکلات پرمگرمچھ کے آنسوبہائے اورآپریشن کووفاق اورفوج کے سرتھوپ دیا۔صوبائی حکمران جماعت کے قائدین اوروزرا اپنے بیانات میں یہ تاثردینے کی کوشش کرتے ہیں جیسے آپریشن قیام امن کیلئے نہیں بلکہ کسی اورمقصدکیلئے کیاجارہاہو۔ وزیراعلیٰ کی جانب سے بارہایہ بیانات جاری ہوئے کہ اب تک 14ہزارسے زائدآپریشنزہوئے مگراس سے امن قائم نہیں ہوا۔اسلئے امن کیلئے آپریشن کی بجائے مذاکرات کاراستہ اپنایاجائے۔مگر وہاں پرتوہمہ اقسام کے دہشتگردگروہوں نے ڈیر ے جمالئے ہیں مقامی اورغیرملکی گروہ وہاں دندناتے پھررہے ہیں اور وفاقی یاصوبائی حکومتوں کوخاطرمیں نہیں لارہے۔شہریوں کی جان،مال اورعزت محفوظ نہیں مگرحکومتی غیرسنجیدگی سے معاملہ گھمبیر بنتاجارہاہے۔ایک بہت بڑے علاقے سے نقل مکانی خاصی حدتک مکمل کی جا چکی ہے،یہ کوئی کھیل تونہیں کہ اسے جیسے ہے جہاں ہے کی بنیادپرواپس لیاجائے۔اگروزیراعلیٰ آپریشن سے اتنے ہی الرجیک تھے تویہ رقم منظوری کے وقت روکاجاسکتاتھا۔4ارب روپے کی رقم کابینہ سے منظوری کے وقت انہیں معلوم نہیں تھاکہ یہ رقم کس مقصدکیلئے منظورکی جا رہی ہے اگروہ تیراہ کے نمائشی دورے کے بعدجان گئے ہیں کہ آپریشن تونقصان دہ ہے اوریہ نہیں ہوناچاہئے توچارسدہ،پشاور،کوہاٹ،ہری پور،ہزارہ،ایبٹ آباد،نوشہرہ مردان،لاہوراورکراچی کے دوروں کی بجائے تیراہ کابروقت دورہ کیاجاتاتومعلوم ہوجاتاکہ آپریشن نہیں ہوناچاہئے۔اب پلوں کے نیچے سے بہت ساپانی بہہ چکاہے اب آپریشن روکنے کے دھمکیاں بے وقت کی راگنی ہے۔2018ء تک یہ علاقہ وفاق کے زیرانتظام تھامگراسکے بعدیہ صوبے میں ضم ہوچکاہے اگروہاں پہلے شدت پسندی کاراج تھاتواس میں وفاقی حکومتیں قصور وارہیں اوراگر ضم ہونے کے بعدشدت پسنددندناتے پھر رہے ہیں تویہ صوبائی حکومت کی ناکامی اورناقص طرزحکومت کاشاخسانہ ہے۔اب زمینی حقیقت یہ ہے کہ اس علاقے میں دہشتگردقابض ہیں جنہیں وہاں کے باشندے مزیدبرداشت کرنے کیلئے تیارنہیں۔اسلئے تووہاں کے نمائندہ جرگہ ازخود نقل مکانی اور آپریشن پرآمادہ ہوا۔ جس سے واضح ہورہاہے کہ تیراہ کے لوگ ا ب شدت پسندی سے تنگ آچکے ہیں اور وہ بھی ملک کے دیگرحصوں کی طرح پرامن اورآسودہ زندگی گزارنے کے خواہاں ہیں۔وہ بھی اپنے علاقے میں سڑکیں،سکول،ہسپتال اور سرکاری دفاترچاہتے ہیں مگرصوبائی حکومت کے بیانا ت سے یوں لگ رہاہے جیسے وہاں کامسئلہ دہشتگردنہیں آپریشن ہے جسے رکناچاہئے۔ حالانکہ ایسانہیں صوبائی حکومت محض فوج کیخلاف سیاسی بیانیہ بنانے کی کوشش میں قومی سلامتی سے کھیلنے کی مرتکب ہورہی ہے۔وادی تیراہ کودہشتگردوں سے پاک کرنے کیلئے صوبائی حکومت کواپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئے۔کسی علاقے کی قسمت سے کھیلتے ہوئے شہریوں کے مصائب کو اپنی سیاست کیلئے استعمال کرنا ایک نارواطرزعمل ہے۔جیساکہ میں نے اوپرعرض کیاعلاقے کے حالات بگاڑنے میں وفاقی اورصوبائی حکومتوں کابرابرحصہ ہے اب اسے سنوارنابھی دونوں کی ذمہ داری ہے۔اب جبکہ آپریشن کافیصلہ کیاگیاہے تواسے بیان بازی کی بجائے سنجیدہ لیاجائے اورپوری قوت سے آپریشن کرکے علاقے کوصاف کیاجائے۔ آپریشنزہمیشہ کامیاب رہے ہیں اب تک ہونیوالا کوئی
فوجی آپریشن ناکام نہیں ہوا۔دہشتگردعام لوگوں پراپنی دھاک بٹھاسکتے ہیں انہیں یرغمال بناسکتے ہیں اوران پراپنی ناجائزرٹ قائم کرسکتے ہیں مگر پاک فوج اورسیکیورٹی فورسزکے سامنے انکی ایک نہیں چلتی۔اسلئے ہرآپریشن کے فوری بعدیہ فرارہوجاتے ہیں،گرفتارہوتے ہیں یا پھر مار دئے جاتے ہیں۔آپریشن کے بعدحالات معمول پرآنے تک محدودمدت کیلئے فورسزوہاں موجودرہتی ہیں اسکے بعدصوبائی حکومت اورسول انتظامیہ کاکام شروع ہوجاتاہے۔سوات اورملاکنڈڈویژن میں آپریشن کے بعدصوبائی حکومت نے ذمہ داری کامظاہرہ کیا۔ آپریشن کے فور ی بعدوہاں سول انتظامیہ کی رٹ بحال کی گئی،پولیس سٹیشنزتعمیرکئے گئے اورچیک پوسٹ بنائے گئے مگرپی ٹی آئی کی حکومتیں اول تو آپریشن کیخلاف پروپیگنڈاکرتی ہیں اوربعدمیں اپنی رٹ قائم کرنیکی بجائے علاقے کوحالات کے رحم وکرم پرچھوڑدیاجاتاہے۔ جس کے نتیجے میں دہشتگرددوبارہ آکر ریاست کوچیلنج کرنے لگ جاتے ہیں۔شمالی اورجنوبی وزیرستان میں یہی ہوااورتیراہ میں بھی یہی ہورہاہے جبکہ کچھ علاقوں میں تودہشتگردلاکرباقاعدہ آبادکئے گئے۔فوجی ترجمان کی بات بالکل درست ہے کہ یہاں دہشتگردوں کوسیاسی تعاون حاصل ہے۔ہم اگراس صوبے کودہشتگردی سے پاک دیکھناچاہتے ہیں،یہاں امن وامان کے قیام کے خواہاں ہیں توصوبائی حکومت کواپنی ذمہ داریا ں پوری کرنی ہونگی۔آپریشن کے بعدعلاقے میں ترقیاتی کام کرنے ہونگے،سڑکیں،سکولز،ہسپتال اورپولیس مراکزقائم کرنے ہونگے سرکاری دفاتربنانے ہونگے اورصوبائی حکومت کی رٹ بحال کرنی ہوگی اورخصوصاٍایسے اقدامات انتہائی ضروری ہیں جن سے دہشتگردوہاں دوبارہ آنے کی جرات نہ کریں۔یہ سب زیادہ مشکل نہیں بس صوبائی حکومت تیراہ آپریشن کوغیرسنجیدگی کی نذرنہ کرے۔ (ختم شد)
26 اضلاع میں ڈسٹرکٹ کمیٹیز آن دی اسٹیٹس آف ویمن کی نوٹیفکیشن جار
خیبر پختونخوا کمیشن برائے حیثیتِ خواتین کی چیئرپرسن ڈاکٹر ثمیرہ شمش کی قیادت اور سیکرٹری محترمہ شازیہ عطا کی مسلسل کاوشوں کے نتیجے میں طویل عرصے بعد ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت صوبہ خیبر پختونخوا کے 26 اضلاع میں ڈسٹرکٹ کمیٹیز آن دی اسٹیٹس آف ویمن کی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کیمطابق ضلع اپر چترال کیلئے قائم ڈسٹرکٹ کمیٹی آن دی اسٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن راشیدہ بی بی کو مقرر کر دیا گیا ہے۔ کمیٹی میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (فنانس اینڈ پلاننگ) بطور ایکس آفیشیو رکن اور ڈسٹرکٹ آفیسر سوشل ویلفیئر بطور ایکس آفیشیو رکن شامل ہوں گے، جبکہ دیگر ممبران میں اشرف گل، بی بی زینب، فرید نثار، امینہ، ہرائرہ بیگم اور الویٰنا رحمت شامل ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ کمیٹی خیبر پختونخوا کمیشن برائے حیثیتِ خواتین ایکٹ اور متعلقہ قواعد و ضوابط کے تحت خواتین کے حقوق کے تحفظ، ان کے مسائل کے حل، شکایات کی سماعت اور ضلعی سطح پر مؤثر نگرانی کے فرائض انجام دے گی۔
ذرائع کے مطابق راشیدہ بی بی کی چیئرپرسن شپ میں یہ ڈسٹرکٹ کمیٹی خواتین سے متعلق امور میں فعال اور مؤثر کردار ادا کرے گی اور ضلعی سطح پر خواتین سے متعلق پالیسیوں اور قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہو گی۔ ماہرین کے مطابق کمیٹی کا قیام خواتین کی فلاح و بہبود، بااختیاری اور انصاف کی فراہمی کی جانب ایک اہم اور دیرپا قدم ہے۔
پشاور: CSS مقابلہ جاتی امتحان 2026 (تحریری) کا انعقاد
پشاور: CSS مقابلہ جاتی امتحان 2026 (تحریری) کے انعقاد کے لیے انتظامی و سکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی. CSS مقابلہ جاتی امتحان 2026 (تحریری) کے شفاف، منظم اور پرامن انعقاد کے لیے انتظامی معاونت سے متعلق ایک اہم اجلاس کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں متعلقہ محکموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس کے آغاز پر کمشنر پشاور ڈویژن نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور اجلاس کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ CSS امتحان کے دوران تمام انتظامی، سکیورٹی اور ٹریفک انتظامات کو مؤثر انداز میں یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے نمائندے نے فورم کو امتحانی شیڈول، امتحانی مراکز اور انتظامی ضروریات پر بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ مجوزہ امتحانی مراکز انفراسٹرکچر، نشستوں کی گنجائش، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات کے لحاظ سے موزوں ہیں۔ انہوں نے امتحانی مراکز، امتحانی مواد اور امیدواروں کی سکیورٹی کے لیے فول پروف انتظامات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے امتحانی مراکز پر مرد و خواتین پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کا مطالبہ کیا۔ FPSC نمائندے نے امتحانی پرچوں کی اسٹرونگ روم سے امتحانی مراکز اور بعد ازاں جنرل پوسٹ آفس (GPO) تک محفوظ ترسیل کے لیے دو مخصوص سکیورٹی گاڑیوں کی فراہمی کی بھی درخواست کی۔ اجلاس میں تمام متعلقہ اداروں کے مابین مؤثر رابطہ کاری کے لیے فوکل پرسنز کی نامزدگی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
تفصیلی مشاورت کے بعد درج ذیل فیصلے کیے گئے:
پولیس امتحانی مراکز کی سکیورٹی، پرچوں کی محفوظ ترسیل اور امتحانی مدت کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے جامع سکیورٹی پلان تیار کرے گی۔ تمام متعلقہ محکمے FPSC اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ رابطہ کاری کے لیے اپنے فوکل پرسنز نامزد کریں گے اور ان کے رابطہ نمبرز فوری طور پر فراہم کیے جائیں گے۔ انتظامیہ امتحانی پرچوں کی محفوظ اور بروقت ترسیل کے لیے FPSC کے ایس او پیز کے مطابق دو سکیورٹی گاڑیوں کا بندوبست کرے گی۔ ٹریفک پولیس امتحانی مراکز کے اطراف ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے، رش سے بچاؤ اور امیدواروں کی سہولت کے لیے خصوصی ٹریفک پلان پر عملدرآمد یقینی بنائے گی۔ اجلاس کے اختتام پر کمشنر پشاور ڈویژن نے اس عزم کا اظہار کیا کہ CSS مقابلہ جاتی امتحان 2026 کے انعقاد کے لیے تمام انتظامات باہمی تعاون اور مکمل شفافیت کے ساتھ یقینی بنائے جائیں گے۔


