Article regarding Jirgas

جرگے ہی جرگے

وصال محمدخان
جرگہ پختون روایات کا لازمی حصہ تصورہوتاہے۔دنیاکے جس خطے میں پختون قوم آبادہے اس پرصدیوں سے دوسری اقوام حملہ آورہوتی رہی ہیں،کبھی مغلوں نے حملہ کیا،کبھی سکھوں نے آگ وخون کادریاپارکرکے یہ علاقہ فتح کیاتوکبھی انگریزوں نے اسے تاج برطانیہ میں شامل کیا مگرکسی طالع آزمایاغاصب کو جرات نہیں ہوئی کہ وہ پختونوں کی عظیم روایت یعنی جرگے کاخاتمہ کرسکیں۔پختون معاشر ے میں یہ روایت صدیوں پرانی ہے جس کے تحت سنگین اورگھمبیرمسائل کاحل نکالاجاتاہے خصوصاًقبائلی معاشرے اسی جرگہ سسٹم کے تحت چلتے ہیں۔ خیبرپختونخواکے وسطی،جنوبی،شمالی اورہزارہ بیلٹ میں بھی جرگوں کی روایت موجودہے جس کے ذریعے خونی دشمنیاں دوستی میں بدل جاتی ہیں اورلوگ جرگوں کے طفیل قتل بھی معاف کردیتے ہیں۔خیبرپختونخواکے موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے برسر اقتدار آتے ہی صوبائی اسمبلی میں ایک جرگہ منعقدکیاجس میں تقریباًتمام سیاسی جماعتوں،قبائلی مشران،سابق اورموجودہ پارلیمنٹرینز اور اعلیٰ عہدیداروں نے شر کت کی۔صوبائی حکومت اسے اپنی بہت بڑی کامیابی قراردے رہی ہے اورگاہے بگاہے اس کاذکرخیربھی ہوتاہے کہ ہم نے عہدہ سنبھالتے ہی جرگہ منعقدکیاجرگہ تو منعقد کیا گیا اوراس کے ڈھول پیٹے گئے مگراس کاجواعلامیہ سامنے آیاتھااس پرکتناعملدر آمدہوا؟ 12نومبر 2025 کو سپیکر بابرسلیم سواتی کی سربراہی میں منعقدہونیوالے جرگے کااعلامیہ پیش خدمت ہے پڑھیں اورسوچیں کہ اس پرکتنا عملدرآمدہوااورکیایہ واقعی اپوزیشن لیڈرڈاکٹرعبادکے بقول نشستند،گفتنداوربرخاستندنہیں تھا؟”جرگہ شرکاء کی جانب سے تجاویزآنے پر سپیکر نے اعلامیہ پڑھ کر سنایاجس میں دہشت گردی کی مذمت کی گئی اورکہاگیا کہ دہشتگردی کے حوالے سے صوبائی اسمبلی کواعتمادمیں لیاجائے، داخلی سلامتی کی ذمہ داریاں پولیس اورسی ٹی ڈی کودی جائیں، ضرورت پڑنے پردیگراداروں سے معاونت لی جائے،غیرضروری چیک پوسٹیں ختم کی جائیں، شورش زدہ علاقوں میں معدنیات کی غیرقانونی منتقلی روکی جائے،پاک افغان تجارتی راستے کھو لے جائیں،افغان پالیسی میں صوبائی حکومت سے مشاور ت کی جائے، افغانستا ن کیساتھ جنگ کی بجائے سفارتکاری کوترجیح دی جا ئے، صوبائی حکومت اوراسمبلی نیشنل ایکشن پلان مرتب کریں،امن و امان کے حوالے سے صوبائی اسمبلی کی منظورشدہ قراردادوں پرعملدرآمد کیا جائے،،صوبائی حکومت پولیس اورسی ٹی ڈی کی مالی ضروریات پوری کرے، وفاقی اورصوبائی حکومتوں کے درمیان تناؤ ختم کیا جائے، مشتر کہ مفادات کونسل کااجلاس آئینی مدت کے مطابق بلایاجائے،غیرقانونی محصولات اوربھتہ خوری کے خاتمے کیلئے مربوط پالیسی بنائی جائے، صوبائی اسمبلی کو سیکیورٹی اداروں کی کارروا ئیوں اورقانونی بنیادوں پربریفنگ دی جائے،صوبائی سطح پرامن کیلئے فورسز قائم کی جائیں، مقامی حکومتوں کے استحکام اورمالی تحفظ کیلئے ترامیم کی جائیں،نیشنل فنانس کمیشن کوصوبائی فنانس کیساتھ منسلک کیا جائے، وفاق کے ذمے صوبے کی آئینی اور مالی حقوق کی مدمیں رقوم اداکی جائیں،آرٹیکل 151کے تحت بین الصوبائی تجارت پرعملدر آمد کیاجائے ”جرگے کے اعلامیہ اورسفارشا ت میں بیشتر نکات کا تعلق صوبائی حکومت سے ہے۔اُس جرگے کے اعلامیہ کوصوبائی حکومت ہی پش پشت ڈال چکی ہے جبکہ اب ایک اورجرگہ بلایاگیا۔بلکہ اب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی جلسہ بھی کرتے ہیں تواسکی تشہیرجرگے کے نام سے کی جاتی ہے۔ 2008ء انتخابی مہم میں اے این پی نے الیکشن مہم میں جرگوں کے ذریعے امن قائم کرنے کانعرہ لگایاجوووٹروں کوبھاگیااوراے این پی نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرلی حکومت قائم ہونے کے بعدحکومتی جرگے نے طالبان سے رابطہ کیا اورجر گے میں مسائل حل کرنیکی کوشش کی۔ حکومت کی جانب سے ان جرگوں کومیاں افتخارحسین اوربشیربلورلیڈکررہے تھے یہ جرگے ناکام ہونے پرمیاں افتخارحسین پرکئی حملے کئے گئے لیکن خداکوانکی حفاظت منظورتھی مگرانکے اکلوتے صاحبزادے کونشانہ بناکرقتل کردیاگیااوربعدمیں رسم قل کے دوران انکی رہائشگاہ پربھی حملہ کیاگیا۔جبکہ بشیربلوراگرچہ کئی حملوں میں محفوظ رہے مگرپشاورمیں ایک حملے کے دوران جان کی بازی ہارگئے۔اس طرح ثابت ہواکہ جرگہ اگرچہ پختون روایات کاحصہ ہے اوراس کے ذریعے امن قائم کیاجا سکتاہے بشرطیکہ فریقین جرگے کا ا حترام کر یں اور اسے اہمیت دیں۔وادی تیراہ کے ایک نمائندہ جرگے نے گزشتہ
برس میدان کے علاقے میں شدت پسندوں کیساتھ مذاکرات کئے اور انہیں قرآن پاک کاواسطہ دیکروہاں سے چلے جانے کی اپیل کی مگر شدت پسندوں نے نہ ہی جرگے کواہمیت دی اورنہ ہی انکی اپیل پرکان دھرے۔جرگے نے صوبائی حکومت کیساتھ معاہدہ کیاجس کے تحت وہاں سے لوگوں کاانخلاکرواکرٹارگٹڈ آپریشن کیاجائیگااور5اپریل تک علاقہ کلیئرکرکے لوگوں کوواپس بھیجاجائیگا۔ اس جرگے کی وزیراعلیٰ سمیت ضلعی انتظامیہ اوراعلیٰ حکام سے کم وبیش ساٹھ ملاقاتیں ہوئیں جس میں معاہدے کی تمام جزیات پراتفاق کیاگیا۔مگراچانک صوبائی حکومت نے اس معاہد ے سے روگردانی کی اور میدان کے علاقے سے نقل مکانی کووفاقی حکومت کے سرتھوپ دیا۔جس کے بعدیہ معاملہ متنازعہ ہوگیااوراب اس پربیان بازی کاسلسلہ جاری ہے۔گزشتہ ہفتے باڑہ سیاسی اتحادکے جرگے نے صوبائی حکومت کوشدیدتنقیدکانشانہ بنایا اسکے اگلے دن وزیراعلیٰ نے ایک جرگہ سجایا جس میں وہی باتیں دہرائی گئیں جوعوام سن سن کرہلکان ہوچکے ہیں مگرنئی بات یہ تھی کہ اب ہرضلع میں جرگہ منعقدکیاجائیگا۔چاروں جانب جرگے ہی جرگے ہورہے ہیں مگران میں ہونیوالے فیصلوں پرعملدرآمدنہیں ہورہا۔صوبائی حکومت کوجرگوں کاکھیل اورجرگے کیساتھ کھلواڑ کاسلسلہ بندکرناچاہئے۔جرگہ پختونوں کی ایک اعلیٰ روایت ہے اگراسکے کسی اعلامئے، تجاویزاورفیصلوں پرآپ عملدرآمدکے قائل نہیں توجرگوں کی روایت کاجنازہ نکالنے کی کیا ضرور ت ہے؟ صوبے کی عوام نے ووٹ دیکر صوبائی اسمبلی کی صورت میں ایک بہت بڑاجرگہ منتخب کیاہے جس میں پورے صوبے کے ہرکونے سے نمائندے موجودہیں۔ان سے فیصلے کروائیے اوران پرعملدرآمد کیجئے۔ جرگے کوبے وقعت کرنے کی نامعقول روش سے اجتناب برتئے۔

Article

خیبرپختونخواراؤنڈاَپ – تیراہ آپریشن

صال محمدخان
ضم قبائلی ضلع خیبرکے وادی تیراہ میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کی تیاریاں جاری ہیں مگران تیاریوں میں رخنہ اندازی کاسلسلہ بھی دوام پذیرہے۔ شہریوں کی نقل مکانی کے دوران برفباری شروع ہوگئی جبکہ ڈصوبائی حکومت بھی اپنے مشہورِزمانہ یوٹرنزسے رخنے ڈالنے کی کوشش میں مصروف ہے۔وادی تیراہ کے علاقے میدان میں کالعدم ٹی ٹی پی سمیت دہشتگردوں کے کئی گروہ سرگرم ہیں جنکی چیرہ دستیوں سے تنگ آکروہاں کے مشران نے ایک قومی جرگہ تشکیل دیاجس نے دہشتگردوں کیساتھ مذکرات بھی کئے اور انہیں قرآن پاک کاواسطہ دیکر اپیل بھی کی گئی کہ وہ علاقہ چھوڑکرچلے جائیں مگریہ تمام مشقیں بے سودثابت ہوئیں تو قومی جرگہ نے انتظامیہ سے آپریشن کی اپیل کردی۔ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ اورقومی جرگہ کے درمیان ایک معاہدہ عمل میں آیاجس کاذکرگزشتہ بارہاہو چکاہے کہ رضاکارانہ انخلا کرنیوا لے خاندانوں کوپچاس ہزارروپے ماہواردیاجائیگا،مکمل تباہ شدہ مکان کے مالک کو30لاکھ جبکہ جزوی نقصان والے مالک مکان کو 10 لاکھ روپے معاوضہ فراہم کیاجائیگااورآپریشن کے بعدعلاقے میں ترقیاتی کام بھی ہونگے۔اس معاہدے کے پیش نظرصوبائی حکومت نے متاثر ین کی امدادکیلئے 4ارب روپے جاری کئے جن کے بارے میں کہاجارہاہے کہ نصف رقم متاثرین میں تقسیم کی جاچکی ہے۔انخلاکے دورا ن برفباری کے سبب دودن کی توسیع دی گئی۔

اس دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی دئگرصوبوں کے طوفانی دوروں سے فراغت پانے کے بعد تیراہ تشریف لے گئے اوروہاں سے انخلاکرنیوالے شہریوں کی تکالیف پربیانات جاری کئے۔جبکہ اسکے بعد انہوں نے صوبے میں جتنے بھی دورے کئے ان میں تیراہ آپریشن کوتنقیدکانشانہ بنایاگیا۔بلکہ اس معاملے پرصوبائی اسمبلی میں بھی دھواں دھارتقاریرکی گئیں جس کے پیش نظروفاقی حکومت بھی میدان میں آگئی اوروفاقی وزرانے پریس کانفرنسزکاسلسلہ شروع کردیا۔ جہاں تک آپریشن کی حقیقی صورتحال کاتعلق ہے تویہ اظہرمن الشمس ہے کہ وہاں سے نقل مکانی نہ ہی فوج کی خواہش پرہوئی اورنہ ہی اس میں وفاقی حکومت کاکوئی عمل دخل ہے۔ یہ خالصتاًوہاں کے قومی جرگے اورضلعی انتظامیہ کے درمیان معاملہ تھاجسے صوبائی حکومت بیانیہ بناکر فوج اوروفاق کے خلا ف استعمال کررہی ہے۔قومی سلامتی سے متعلق اس اہم ایشوپراب اتنی سیاست ہوچکی ہے اوراس قدرتندوتیز بیانا ت جاری ہوچکے ہیں کہ معاملہ الجھ کررہ گیا ہے۔تیراہ کے علاقے میدان میں آپریشن ناگزیرہوچکاہے یہ بات صوبائی حکومت بھی سمجھتی ہے مگر مخالفت سیاست کی خاطرہورہی ہے۔ بہر حال اب وہاں سے آمدہ اطلاعات کیمطابق 80فیصدسے زائد نقل مکانی ہوچکی ہے موسم کی صورتحا ل خراب ہے اور برفباری جاری ہے۔ آپریشن کیلئے برفبای والے موسم کاانتخاب بھی شکوک وشبہات کی زد میں ہے اوررقم کی منظور ی میں تاخیرپربھی سوالیہ نشان ثبت ہیں برفباری میں ہٹلرکی فوج روس سے شکست کھاچکی ہے حربی تاریخ کی یہ بہت بڑی مثال موجودہے مگرتیراہ میں برفباری والے موسم میں آپریشن کا فیصلہ کیاگیاجہاں نقل وحرکت ہی مشکل ہوجاتی ہے۔ڈی سی خیبر کا مراسلہ 28اکتوبر کو بھیجا گیامگررقم کی منظوری دوماہ بعددی گئی۔ رقم کی تقسیم میں بھی بے ظابطگیوں کے الزامات سامنے آرہے ہیں۔ وزیر دفاع کے مطابق تیراہ میں مکمل فوجی آپریشن نہیں ہورہابلکہ یہ بھی صوبے کے دیگرحصوں کی طرح ٹارگٹڈآپریشن ہے۔ آپریشن ٹارگٹڈہے یامکمل اسے مقررہ وقت میں سرانجام دینااب توممکن نہیں رہا اس پر سیاست چمکانے کی بجائے اسے جلدازجلدپایہء تکمیل تک پہنچانااشدضروری ہے۔

سہیل آفریدی کے بیانات،سوشل اورنیشنل میڈیاپرتذکرے،صوبے کے دورے
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بیانات سوشل اورنیشنل میڈیاکی زینت بنے رہتے ہیں۔سٹریٹ موومنٹ اور8فروری کے پہیہ جام ہڑتال کی تیاریوں کیلئے انکے دوروں کاسلسلہ بھی جاری ہے۔انہوں نے صوبائی اسمبلی سے خطاب کے دوران کہاکہ بندکمروں میں آپریشن کا فیصلہ کیاگیاجوہمیں منظور نہیں،میرے وزیراعلیٰ بننے کی راہ میں روڑے اٹکائے گئے،جب ناکامی ہوئی توگورنرراج کی باتیں سامنے آئیں، اب مجھے قتل کرنیکی سازش ہورہی ہے، پی ڈی ایم حکومت نے دہشت گردلاکریہاں آبادکئے،14ہزارچھوٹے اور 22بڑے آپریشنزامن قائم کرنے میں ناکام رہے،میں چیختا چلاتا رہاکہ اس موسم میں آپریشن درست نہیں مگرمیری ایک نہیں سنی گئی،آپریشن کامقصد دہشتگردوں کی سرکوبی نہیں بلکہ مجھے زِچ کرناہے۔ اپوزیشن لیڈرڈاکٹرعباداللہ نے انکی تقریر کامدلل جواب دیتے ہوئے کہا کہ اداروں کی جانب سے دئے گئے بریفنگز میں وزیراعلیٰ بھی موجود تھے وہ کس منہ سے ثبوت مانگ رہے ہیں؟،آپ بیشک عاشق بنے رہیں مگرخدارااس صوبے کے وزیر اعلیٰ بنکرمسائل حل کریں اوراونرشپ لیں۔اپوزیشن کے دیگر ارکان کاکہناتھا کہ وزیراعلیٰ جوش خطابت میں حقائق مسخ کررہے ہیں۔انہوں نے بطور وزیر اعلیٰ اپنے پورے ووٹ لئے اورپارٹی قائدین نے تسلیم کیاکہ کسی جانب سے کوئی مداخلت نہیں ہوئی اگرمداخلت ہوتی تو وزیر اعلیٰ کواپنے پارٹی کے پورے ووٹ نہ ملتے،صوبائی حکومت کی موجودہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے اگرگورنرراج لگے توعوام اسے بسروچشم قبول کرینگے، قتل کرنیکی دہائی سستی شہرت کیلئے ہے، اس طرح کی دہائیاں بانی پی ٹی آئی بھی دیتے رہے مگر جرات کامظاہرہ کرتے ہوئے قتل کرنیوا لوں یاسازش کرنیوالوں کے نام ہی بتادیں،خیبرپختونخوامیں دہشتگردپی ڈی ایم نہیں تحریک انصاف حکومت میں لاکر آباد کئے گئے۔ 14 ہزارچھوٹے اور22بڑے آپریشنزامن قائم کرنے میں اسلئے ناکام رہے کہ صوبائی حکومت نے آپریشن کے بعداپنی رٹ قائم کرنیکی کوشش نہیں کی،فیصلے سب ہی بندکمروں میں ہوتے ہیں کیاتیراہ آپریشن کافیصلہ صوبائی حکومت نے کسی جلسے میں کیا؟خودہی بندکمروں میں فیصلے کرتے ہیں اورانہیں حیران کن طورپر دوسروں کے کھاتے میں ڈالکربرلاذمہ ہوجاتے ہیں۔دوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اعلان کیاہے کہ وہ اتوارکوآفریدی قوم کا جرگہ بلائینگے اوراگرانہوں نے آپریشن کی منظوری نہیں دی تومیں خودنقل مکانی کرنیوالوں کوواپس لیکر جاؤں گا۔تجزیہ کاروں کاکہناہے کہ یہ تمام بیانات سیاسی ہیں اوران کے ذریعے سیاست چمکانے کی کوشش ہو رہی ہے۔

صوبائی حکومت کی عوامی خدمت کے حوالے سے کوئی کارکردگی نہیں اسلئے پارٹی کوزندہ رکھنے کیلئے بے سروپابیانات دئے جارہے ہیں۔تیراہ ٓاپریشن کوبیان بازی کے ذریعے متنازعہ بناکرعلاقے اورعوام کی قسمت سے کھلواڑ کا سلسلہ بندہوناچاہئے۔صوبائی حکومت کوذمہ داری کامظاہرہ کرناہوگا، اور امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کاتدارک کرناہوگا۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وزیراعظم شہبازشریف کولازم آئینی رقوم کی عدم ادائیگی پر خط لکھ ارسال کیاہے۔ جس میں واضح کیاگیاہے کہ وفاقی منتقلیوں کی مسلسل تاخیرسے صوبے کومالی مشکلات کاسامناہے جس سے گورننس،بجٹ پرعملدرآمداورخدمات کی فراہمی متاثرہورہی ہے۔ قابل تقسیم پول سے 658ارب کی بجائے صرف604ارب روپے موصول ہوئے۔اس شارٹ فال سے ترقیاتی اورسماجی منصوبوں کی بروقت تکمیل متاثرہوئی ہے۔

News

پاک فوج کے شہداء کے لواحقین کے اعزاز میں پُروقار تقریب

پشاور: پاک فوج کے عظیم شہداء کے لواحقین کے اعزاز میں ایک پُروقار اور باوقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے سال 2024 اور 2025 کے شہداء کے اہلِ خانہ نے شرکت کی۔

تقریب میں کور کمانڈر پشاور نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور شہداء کے لواحقین سے ملاقات کر کے وطنِ عزیز کے لیے دی جانے والی لازوال قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ تقریب کے آغاز پر شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کا اہتمام کیا گیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کور کمانڈر پشاور نے کہا کہ “شہداء ہمارا فخر ہیں اور ان کی قربانیاں وطن کی سلامتی اور بقا کی ضامن ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی قوم کبھی اپنے شہداء اور ان کے اہلِ خانہ کی قربانیوں کو فراموش نہیں کر سکتی۔

کور کمانڈر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک فوج اور پوری قوم شہداء کے خاندانوں کے ساتھ ہر مشکل گھڑی میں کھڑی رہے گی اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

تقریب کے اختتام پر کور کمانڈر پشاور نے شہداء کے لواحقین میں تحائف تقسیم کیے اور ان کے حوصلے، صبر اور قربانی کو سراہا۔

YouTube Thumbnail VoKp Editorial new

درپیش چیلنجز اور پی ٹی آئی کا ریاست مخالف پروپیگنڈا عقیل یوسفزئی

کالعدم ٹی ٹی پی نے ماہ جنوری ( 2026 ) کے دوران پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا پر کرایے گئے حملوں کی تفصیلات جاری کی ہیں جبکہ بلوچستان میں دو تین دنوں کے دوران ہونے والے ایک درجن سے زائد حملوں کے دوران جہاں ایک طرف 140 سے زائد حملہ آوروں کو ہلاک کردیا گیا وہاں 30 سے زائد سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کو بھی شہید کیا گیا تاہم پی ٹی آئی اس تمام صورتحال کے باوجود ریاست مخالف پروپیگنڈا اور پالیسیوں پر عمل پیرا دکھائی دی ۔
کالعدم ٹی ٹی پی کے میڈیا سیل نے 31 تاریخ کو دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوری کے مہینے میں 245 حملے کیے ہیں ۔ ان حملوں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں اور دیگر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے تاہم خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اسی روز ( 31 جنوری) کو جمرود میں جرگہ کے نام پر منعقدہ جلسے سے اپنے خطاب میں تیراہ سمیت پورے خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی صورتحال کی خرابی کی ذمہ داری پھر سے ریاستی اداروں پر ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ چیف ایگزیکٹیو کے طور پر کسی کو آپریشن کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ انہوں نے اپنے خطاب میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں حملے کرانے والوں کی مذمّت کرنے کی تکلیف ہی گوارا نہیں کی حالانکہ جس وقت وہ جمرود میں خطاب کررہے تھے اس وقت ملکی اور عالمی میڈیا بلوچستان میں ہونے والے حملوں اور فورسز کی کارروائیوں کو بریکنگ نیوز کے طور پر چلارہا تھا اور اقوام متحدہ ، امریکہ ، چین ، سعودی عرب اور دیگر ممالک ، پلیٹ فارمز سے پاکستان کے ساتھ اظہار یکجھتی کے پیغامات میڈیا پر چل رہے تھے ۔
اپر سے پی ٹی آئی کے لیڈروں اور بیرون ملک مقیم یوٹیوبرز بلوچستان کے معاملے پر اس کے باوجود طنزیہ تبصرے کرتے دکھائی دیے کہ فورسز نے 12 علاقوں میں ریکارڈ کارروائیاں کرتے ہوئے ڈیڑھ سو حملہ آوروں کو ہلاک کردیا تھا ۔
بے تکی باتیں کرنے والی پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کو اس نازک وقت پر تنقید کا نشانہ بنانے کے علاؤہ تمسخر کا نشانہ بنانے سے بھی گریز نہیں کیا جبکہ پارٹی نے 30 سے زائد سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کی شہادت کی رسمی مذمت بھی نہیں کی جس سے یہ بات پھر سے ثابت ہوگئی کہ پی ٹی آئی ریاست مخالف پروپیگنڈا اور پالیسی سے باز نہیں آرہی ۔
بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق بلوچستان میں تین دنوں کے دوران 17 سیکیورٹی اہلکاروں اور 30 شہریوں کو حملوں کے دوران شہید کیا گیا تاہم پی ٹی آئی اور اس کے صوبائی حکمران اس موقع پر بھی پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ سے باز نہیں آئے ۔ شاندار گلزار نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کا تمسخر اڑانے سے چند روز قبل یہ ” انکشاف” بھی کیا تھا کہ تیراہ آپریشن اس لیے کیا جارہا ہے کہ امریکہ وہاں پر باگرام ائیر بیس جیسا سسٹم بنانا چاہ رہا ہے ۔ ان کے اس بات پر ان کا زبردست مذاق اڑایا گیا مگر وہ اپنی بے تکی باتوں اور بیانات سے باز نہیں آئی نہ ہی پارٹی کی قیادت نے ان کی ایسی باتوں کا کوئی نوٹس لیا ۔
عین اسی عرصے کے دوران بانی پی ٹی آئی کے ایک اسپتال میں کرایے گئے علاج کو ملک کا سب سے بڑا ایشو قرار دیتے ہوئے اسے پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کیا گیا اور پاکستان کے میں سٹریم میڈیا نے بھی تقریباً ایک ہفتے تک اس ” نان ایشو” کو سب سے بڑا مسئلہ بناکر پیش کیا ۔
انہی دنوں ضلع خیبر خصوصاً وادی تیراہ کے ایشو پر باڑہ سیاسی اتحاد کے زیر اہتمام ایک جرگے کا انعقاد کیا گیا جس میں تمام پارٹیوں کے نمائندوں اور قبائلی عمائدین شریک ہوئے تاہم پی ٹی آئی نے اس جرگے کی شکایات اور تجاویز کا نوٹس لینے کی بجائے حقائق مسخ کرتے ہوئے اسے عسکری جرگہ کا نام دیا اور اس کے خلاف بھرپور پروپیگنڈا مہم چلائی حالانکہ اس دوران یہ اطلاعات گردش کرتی رہیں کہ متاثرین تیراہ کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے مختص کردہ 4 ارب روپے کے فنڈز میں بڑے پیمانے پر کرپشن کیا گیا ہے اور متاثرین کی بجائے پی ٹی آئی کے کارکنوں میں کروڑوں روپے تقسیم کیے گئے ہیں مگر صوبائی حکومت جوابدہی کی بجائے حسب معمول ریاست مخالف پروپیگنڈا میں مصروف عمل رہی۔
اس صورتحال پر دیگر حلقوں کے علاوہ قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر اور تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود اچکزئی نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہا کہ عمران خان کی بیماری سے متعلق غیر ضروری پروپیگنڈا کیا گیا بلکہ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے پی ٹی آئی کی اہم قیادت کے ساتھ ہونے والی ایک ملاقات میں پارٹی کی پروپیگنڈا مشینری کو بھی کھل کر تنقید کا نشانہ بنایا اور یہاں تک کہا کہ اگر پارٹی کی سرگرمیاں صرف سوشل میڈیا تک محدود رہتی ہیں تو ان سمیت دیگر کے لیے بھی پی ٹی آئی کا دفاع کرنا مشکل ہو جایے گا ۔
اس تمام صورتحال پر اظہار تشویش کرتے ہوئے ملک کے اہم لیڈروں اور ممتاز تجزیہ کاروں نے سخت تنقید کی ۔ اے این پی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کراچی میں اپنے ایک خطاب میں مطالبہ کیا کہ ان تمام کرداروں کو سزائیں دی جائیں جو کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے ہزاروں دہشت گردوں کو واپس لانے سمیت سہولت کاری فراہم کرتے رہے ہیں ۔ وفاقی وزیر امیر مقام نے اپنے ردعمل میں کہا کہ خیبرپختونخوا کے سرکاری وسائل ریاست مخالف سرگرمیوں اور پروپیگنڈا کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں اور صوبائی حکومت آمن کے قیام سے لاتعلق ہے ۔ سابق وزیر اعلیٰ آفتاب خان شیرپاؤ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کی پالیسیوں کی وجہ سے خیبرپختونخوا میدان جنگ میں تبدیل ہوکر رہ گیا ہے اور عوام کو سخت بے چینی کا سامنا ہے ۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت کو واقعی فوجی کارروائیوں میں آن بورڈ نہیں لیا جارہا تو وزیر اعلیٰ مستعفی ہو جائیں ۔ مولانا فضل الرحمان نے تو یہاں تک کہا کہ جس علاقے ( ڈی آئی خان) میں ان کا گھر ہے وہاں شام کے بعد طالبان وغیرہ کی حکمرانی ہوتی ہے ۔
اسی تناظر میں اپنے تبصرے میں ممتاز اینکر پرسن عاصمہ شیرازی نے کہا کہ یہ بات کافی تشویشناک ہے کہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی 8 فروری کو خیبرپختونخوا کو سیل کرنے کی کوشش اور پلاننگ کررہی ہیں ۔ ان کے بقول تیراہ آپریشن کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ہوئے اس پر پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ کی گئی ۔
سینئر صحافی طلعت حسین نے کہا کہ پی ٹی آئی اپنی دشمنی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور یہ ” اعزاز” کسی اور پارٹی کو حاصل نہیں ہے ۔
ممتاز اینکر پرسن بتول راجپوت نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے ایک جلسے میں خطاب کرتے ہوئے اپنے قتل کا ذکر کرتے ہوئے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اگر ایسی کوئی بات اور خدشہ ہے تو وزیر اعلیٰ کو وفاقی حکومت سے رابطہ کرنا چاہیے ۔ ان کے بقول اگر ایک جانب خیبرپختونخوا کو مسلسل حملوں کا سامنا ہے تو دوسری جانب بلوچستان میں بی ایل اے وغیرہ کی جانب سے ایسی جنگ کا سامنا ہے جس کے ہینڈلرز بیرون ملک بھیٹے پراکسیز کا حصہ بنے ہوئے ہیں ۔
تجزیہ کار حسن خان کے مطابق خیبرپختونخوا کو سنگین سیکیورٹی چیلنجز کے باوجود بیڈ گورننس اور کرپشن کے تناظر میں تجربہ گاہ میں تبدیل کردیا گیا ہے اور پی ٹی آئی صوبے کی اونرشپ لینے کو تیار نہیں ہے ۔
یہ تمام توڑ پھوڑ ایک ایسے وقت میں جاری رہی جب عالمی میڈیا پاکستان کے پڑوسی ملک ایران پر مجوزہ امریکی حملے کی رپورٹس جاری کرنے میں مصروف عمل رہا اور عالمی میڈیا افغانستان اور بھارت کی پاکستان مخالف گٹھ جوڑ کے بعد ایران میں کسی متوقع تبدیلی یا عدم استحکام کو پاکستان کے لیے ایک اور بڑے خطرے کی نشاندھی میں مصروف رہا ۔بلوچستان میں کرایے گئے منظم حملوں کو بھی ملکی اور غیر ملکی ماہرین اسی تناظر میں دیکھتے رہے مگر خود کو مقبول پارٹی قرار دینے والی پی ٹی آئی اس نازک صورتحال میں بھی نہ صرف ریاست مخالف سرگرمیوں میں مصروف عمل رہی بلکہ پشتون کارڈ استعمال کرنے کے خطرناک پریکٹس کے علاوہ جنگ زدہ خیبرپختونخوا کے سرکاری وسائل بھی سیاسی مقاصد کی حصول کے لیے استعمال کرتی رہی ۔