Peshawar: "CancerCon 18" conference held.

پشاور:3روزہ “کینسر کون 18” کانفرنس کا انعقاد

پشاور: سرجیکل آنکولوجی سوسائٹی پاکستان کے زیرِ اہتمام تین روزہ کینسر کانفرنس “کینسرکون 18” کا انعقاد پشاور میں کیا گیا، جس کی افتتاحی نشست پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ (PGMI) حیات آباد میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس 3 سے 5 فروری 2026 تک جاری رہے گی۔ اس حوالے سے خلیق الرحمٰن نے بتایا کہ کانفرنس کا بنیادی موضوع باہمی اشتراک کے ذریعے کینسر کے علاج میں بہتری لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کینسر جیسے پیچیدہ مرض کے مؤثر علاج کے لیے کثیر الجہتی اور مربوط حکمتِ عملی ناگزیر ہے، جس میں مختلف شعبہ جات کے ماہرین کا باہمی تعاون انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومتِ خیبر پختونخوا صوبے میں آنکولوجی سہولیات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، تاکہ مریضوں کو معیاری اور بروقت علاج کی سہولت فراہم کی جا سکے۔ کانفرنس میں ملک بھر سے معروف آنکولوجسٹس، سرجنز، معالجین اور طبی ماہرین شرکت کر رہے ہیں، جو کینسر کے جدید علاج، تحقیق اور مریضوں کی نگہداشت سے متعلق اپنے تجربات اور سفارشات پیش کریں گے۔ خلیق الرحمٰن کے مطابق کینسرکون 18 کے دوران مرتب کی جانے والی سفارشات صحت کے نظام میں بہتری اور کینسر کے مریضوں کے علاج کے معیار کو بلند کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔

Launch of the “Green Enrollment Campaign 2026” in Khyber Pakhtunkhwa.

خیبرپختونخوا میں “گرین انرولمنٹ کمپین 2026” کا آغاز

محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم، حکومتِ خیبرپختونخوا کے کانفرنس روم پشاور میں 03 فروری 2026 کو انرولمنٹ کمپین 2026 کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت صوبائی وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے کی۔ اجلاس میں اعلان کیا گیا کہ صوبے میں نئی انرولمنٹ مہم “گرین انرولمنٹ کمپین 2026” کے نام سے شروع کی جائے گی۔ صوبائی وزیر نے تمام متعلقہ اداروں اور حکام کو ہدایت کی کہ وہ اس مہم کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔ ارشد ایوب خان نے بتایا کہ اس مہم کے تحت تمام ضلعی تعلیمی افسران، تعلیمی فاؤنڈیشنز، پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی (PSRA)، نجی تعلیمی اداروں اور شراکت داروں کو ان کی اصل استعداد اور مستند اعداد و شمار کی بنیاد پر حقیقت پسندانہ اہداف دیے جائیں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مؤثر منصوبہ بندی، منظم حکمتِ عملی اور روزانہ کی بنیاد پر ڈیٹا کی نگرانی کے ذریعے یہ مہم پہلی بار سو فیصد نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی۔ اجلاس میں سیکریٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم محمد خالد، اسپیشل سیکریٹری مسعود احمد، منیجنگ ڈائریکٹر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن قیصر عالم، منیجنگ ڈائریکٹر مرجڈ ایریاز ایجوکیشن فاؤنڈیشن فریحہ، ڈائریکٹر جنرل ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی، ایجوکیشن ایڈوائزر میاں سعدالدین، چیف پلاننگ آفیسر زین اللہ، ڈائریکٹر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نعمانہ سردار، ڈائریکٹر ای ایم آئی ایس صلاح الدین، یونیسف کے نمائندگان اور لوکل ایجوکیشن گروپ کے اراکین شریک ہوئے، جبکہ صوبے بھر کے ضلعی تعلیمی افسران نے آن لائن شرکت کی۔

Important jirga on law and order in Orakzai District.

ضلع اورکزئی میں امن و امان کے حوالے سے اہم جرگہ

ضلع اورکزئی میں کمانڈنٹ اورکزئی سکاؤٹس کی صدارت میں ایک اہم جرگہ منعقد ہوا، جس میں ڈپٹی کمشنر، ضلعی انتظامیہ اور علاقے کے معتبر مشران و عمائدین نے شرکت کی۔ جرگے کا مقصد ضلع میں امن و قانون کی صورتحال کو بہتر بنانا اور عوامی سطح پر حفاظتی اقدامات کو مزید مضبوط بنانا تھا۔ اس موقع پر کمانڈنٹ اورکزئی سکاؤٹس نے مقامی مشران کو ہدایت کی کہ کسی بھی دہشتگرد یا مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع سیکیورٹی فورسز کو دی جائے۔ انہوں نے خاص طور پر زور دیا کہ نوجوانوں اور بچوں کو دہشتگرد گروہوں سے دور رکھنے کے لیے مؤثر رہنمائی اور تربیت فراہم کی جائے، جبکہ گاؤں، بازاروں اور جنگلات میں کسی بھی مشکوک یا غیر ملکی شخص کی موجودگی فوری طور پر متعلقہ اداروں کو رپورٹ کی جائے۔
کمانڈنٹ نے کمیونٹی پر واضح کیا کہ دہشتگرد عناصر کو کسی قسم کی سہولت، خوراک یا پناہ فراہم کرنا ناقابلِ قبول ہے اور اس سے علاقے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام اور سیکیورٹی اداروں کے باہمی تعاون سے ہی پائیدار امن ممکن ہے۔ جرگے کے دوران مقامی کمیونٹی کے ساتھ اتحاد و یکجہتی قائم رکھنے اور ضلع میں امن و امان کی صورتحال کو مستحکم بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ اس موقع پر مشران اور عمائدین نے انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ بھرپور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

Abbottabad: Key meeting on education and rural development projects.

ایبٹ آباد ہزارہ ڈویژن میں تعلیمی و دیہی ترقی منصوبوں بارے اہم اجلاس

کمشنر ہزارہ ڈویژن فیاض علی شاہ کی زیرِ صدارت ہزارہ ڈویژن میں ماڈل اسکولز، ماڈل ویلیجز اور 765 کے وی نیشنل گرڈ کمپنی کے سوشل سپورٹ پروگرام کے تحت ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ہزارہ ڈویژن کے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (F&P) اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز (میل و فیمیل) نے شرکت کی، جبکہ شرکاء کو سیکرٹری ٹو کمشنر ہزارہ ڈاکٹر عبد الوجید کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔کمشنر ہزارہ نے ماڈل اسکولز کے قیام سے متعلق ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ جن اسکولوں کو ماڈل اسکول قرار دیا گیا ہے، وہاں اہل، قابل اور تجربہ کار پرنسپلز اور اساتذہ کی پروفائلنگ مکمل کر کے بروقت تعیناتی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہر تحصیل میں قائم ماڈل اسکولز کی نگرانی متعلقہ ضلعی افسران کریں گے، جبکہ نیشنل گرڈ کوریڈور سے ایک کلومیٹر کے اندر واقع اسکولوں اور دیہات میں سوشل سپورٹ فنڈز کے ذریعے ماڈل اسکولز کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کیا جائے گا۔کمشنر نے واضح کیا کہ ماڈل اسکولز کے قیام کا بنیادی مقصد سرکاری اسکولوں کے طلبہ کو نجی اسکولوں کے طلبہ کے ساتھ مؤثر مسابقت کے قابل بنانا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے تعلیمی معیار کی بہتری، جدید آئی ٹی اور کمپیوٹر لیبز، آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی کلاسز، طلبہ کے لیے طبی سہولیات، نفسیاتی کونسلنگ، اعتماد سازی اور موٹیویشنل سرگرمیوں کا اہتمام کیا جائے گا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر ہزارہ نے اعلان کیا کہ ہزارہ ڈویژن کے ہر ضلع میں ایک ماڈل گاؤں قائم کیا جائے گا، جس کا مقصد کمیونٹی کے زیرِ انتظام، ماحول دوست اور خود کفیل دیہات کا قیام ہے۔ ان ماڈل ویلیجز کے ذریعے عوام کو باعزت معیارِ زندگی فراہم کیا جائے گا، جنگلات، آبی ذخائر اور قدرتی مناظر کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا، جبکہ مقامی سطح پر پائیدار روزگار کے مواقع بھی پیدا کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ماڈل گاؤں مستقبل میں خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع کے لیے قابلِ تقلید مثال بنیں گے۔کمشنر ہزارہ نے مزید کہا کہ ماڈل ویلیجز کی ترقی میں مقامی کمیونٹی کو براہِ راست شامل کیا جائے گا اور چھوٹے مگر مؤثر اقدامات کے ذریعے صحت، تعلیم، صاف پانی، صفائی ستھرائی اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ منصوبوں کی پائیداری کے لیے کمیونٹی پر مشتمل کوآرڈینیشن کمیٹیاں قائم کی جائیں گی، جبکہ ماڈل ویلیجز سے اسکولوں میں بچوں کے داخلے کا باقاعدہ آغاز بھی کیا جائے گا۔اجلاس میں کمشنر ہزارہ نے ہدایت کی کہ نیشنل گرڈ کوریڈور کے سوشل سپورٹ پروگرام کی تمام اسکیموں کو فوری طور پر حتمی شکل دے کر کمشنر آفس کے ساتھ شیئر کیا جائے تاکہ مزید مشاورت کے بعد حتمی تجاویز پاور ڈویژن کو ارسال کی جا سکیں۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ہزارہ ڈویژن میں تعلیم، دیہی ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون سے مؤثر اور عملی اقدامات جاری رکھیں گے۔

Peshawar: Under-21 Games launched.

پشاور سپورٹس کمپلیکس میں خیبرپختونخوا انڈر 21 گیمز کا باقاعدہ آغاز

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پشاور سپورٹس کمپلیکس میں انڈر 21 گیمز کا با ضابطہ آغاز کر دیا۔  گیمز میں صوبے کے سات ریجنز سے 5000 میل و فیمیل کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں۔ 38 گیمز میں مرد جبکہ 18 گیمز میں خواتین کھلاڑی مد مقابل ہونگے۔ کھلاڑیوں میں جو جذبہ دکھائی دے رہا ہے اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ مقابلہ دلچسپ ہوگا۔ پشاور: ہم نے مزید کھیلوں کے مقابلے منعقد کرنے ہیں اور بندوق کی بجائے کھیلوں کو فروغ دینا ہے۔ عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم تیار ہے ، اس بار پی ایس ایل میچز کو پشاور ہوسٹ کرے گا۔  تمام ٹیموں نے بھرپور مقابلہ کرنا ہے، خیبرپختونخوا کی تمام ٹیموں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ ہم نے زیادہ سے زیادہ مثبت سرگرمیوں کا انعقاد اور کھیلوں کے میدانوں کو آباد کرنا ہے۔ ہم نے بہترین ٹیلنٹ کو آگے لانا ہے اور کرکٹ کی طرح دیگر کھیلوں میں بھی ملک و صوبے کا نام روشن کرنا ہے۔ کھلاڑیوں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہے، اختتامی تقریب میں ضرور شرکت کرونگا۔

Under the leadership of the DPO Hangu, the polio campaign continues for the third day

ڈی پی او ہنگو کی قیادت میں پولیو مہم تیسرے روز بھی جاری

پولیو ٹیموں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ ڈی پی او ہنگو خان زیب مہمند کی خصوصی ہدایات پر ایس پی انویسٹیگیشن صنوبر خان، تمام ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز مختلف حساس علاقوں میں پولیو ٹیموں کی سیکیورٹی کا وقتاً فوقتاً جائزہ لے رہے ہیں۔ اس موقع پر سیکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی جا رہی ہیں۔ ڈی پی او ہنگو کا کہنا ہے کہ پولیو ٹیموں کی حفاظت پولیس کی اولین ترجیح ہے، اور اس قومی فریضے کی انجام دہی کے لیے تمام افسران اور اہلکار بھرپور جذبے اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ اپنی ڈیوٹیاں انجام دے رہے ہیں۔ ضلع بھر کے تمام تھانہ جات اور چوکیات کی حدود میں ناکہ بندیاں، گشت اور چیکنگ کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ حساس علاقوں میں اضافی نفری بھی تعینات کی گئی ہے۔ پولیس کی مؤثر حکمتِ عملی اور بھرپور سیکیورٹی انتظامات کے باعث پولیو مہم پُرامن ماحول میں کامیابی سے جاری ہے۔

Aqeel Yousafzai

بلوچستان میں فورسز کی بھرپور کارروائیاں

عقیل یوسفزئی
جنوری 2026 کے ابتدائی تین ہفتے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں کافی بہتر ثابت ہوئے اور کہا جانے لگا کہ شاید حالات میں بہتری واقع ہورہی ہے تاہم جنوری کے آخری تین دنوں کے دوران بلوچستان پر کچھ ایسے منظم طریقے سے حملے کیے گئے جس کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔
کالعدم بی ایل اے نے کویٹہ سمیت صوبے کے تقریباً 12 جبکہ کالعدم ٹی ٹی پی نے ایک علاقے پر ترتیب وار حملے کیے اور سیکیورٹی مراکز یا اہداف کو نشانہ بنایا ۔ ان حملوں کے نتیجے میں 40 کے لگ بھگ سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کو شہید جبکہ درجن بھر کو زخمی کردیا گیا ۔ درجنوں سرکاری گاڑیوں اور متعدد عمارتوں کو نذر آتش کیا گیا جبکہ تین خودکش حملے بھی کیے گئے ۔ حملوں میں 4 خواتین نے بھی حصہ لیا جن کو ہلاک کردیا گیا ۔
سیکورٹی فورسز نے اتنی بڑی تعداد میں حملوں کو ناکام بنانے کے کوئیک رسپانس دیتے ہوئے تین دنوں کے دوران 180 دہشت گردوں کو مختلف مقامات اور علاقوں میں ہلاک کردیا ۔ یہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی حالیہ تاریخ کی سب سے زیادہ ہلاکتیں قرار پائی جبکہ سرچ آپریشنز کا سلسلہ کسی وقفے کے بغیر جاری رہا ۔
بلوچستان کے وزیر اعلیٰ اور کور کمانڈر کویٹہ نے اس غیر معمولی صورتحال کو خود فرنٹ پر رہتے ہوئے خود لیڈ کیا جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ہنگامی طور پر اگلے دن کویٹہ پہنچ گئے جہاں تینوں اہم ریاستی عہدے داروں نے صوبے کی سیکیورٹی صورتحال سے متعلق اہم فیصلے کیے اور وزیر اعلیٰ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہزار سال لڑنے کی صلاحیت اور ہمت رکھتے ہیں ۔
وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ان منظم حملوں کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے اور اتنی بڑی پلاننگ کسی ریاستی سرپرستی اور سہولت کاری کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ بھارت نے سرکاری طور پر اس الزام کو مسترد کیا تاہم مین سٹریم بھارتی میڈیا نے کھل کر ان حملوں کا کریڈٹ لیا اور ان حملوں پر خصوصی بلیٹن اور پروگرامز ڈیزائن کرکے پیش کیے ۔
پاکستان کے مین سٹریم میڈیا نے دوسری اطلاعات کے علاؤہ یہ بھی بتایا کہ ان حملوں میں امریکی ساختہ جدید اسلحہ استعمال کیا گیا جس سے ثابت یہ ہوتا ہے کہ افغانستان کی عبوری حکومت یا طالبان حکمران کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر کے علاؤہ بلوچ مزاحمت کاروں کو بھی وہ اسلحہ فراہم کرتے آرہے ہیں جو کہ امریکہ نے انخلا کے دوران وہاں چھوڑ دیا تھا اور جس کی مالیت 7 ارب ڈالرز سے زیادہ بتائی جاتی ہے ۔
دوسری جانب عین انہی دنوں افغانستان سے اس کے ایک اور پڑوسی ملک تاجکستان پر ایک اور دہشت گرد حملے کی کوشش کی گئی تاہم بارڈر سیکیورٹی فورسز نے 3 حملہ آوروں کو ہلاک کردیا ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ افغانستان کی سرزمین سے تاجکستان میں گزشتہ دو مہینوں کے دوران پانچواں حملہ تھا ۔ ہلاک شدگان میں دو افغان شہری اور ایک ازبک تھا ۔
اس تمام عرصے کے دوران جہاں ایک طرف بلوچ اور پشتون مزاحمت کاروں کو افغان عبوری حکومت کی سہولت کاری میسر رہی وہاں بھارت بھی کھل کر افغان حکومت اور افغان طالبان کے راستے دہشت گرد گروپوں کی معاونت کرتا رہا جس کے بارے میں متعدد مغربی ممالک کے میڈیا نے خبریں چلائیں ۔
بلوچستان پر ہونے والے حملوں پر دوست ممالک کے علاؤہ اقوام متحدہ ، او آئی سی اور دیگر عالمی فورمز نے بھی شدید ردعمل کا اظہار کیا اور پاکستان کو ہر ممکن تعاون کی یقین دھانی کرائی تاہم اس نازک موقع پر بھی پی ٹی آئی اور اس کے یوٹیوبرز نے پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ کرتے ہوئے حملوں کو ریاستی اداروں کی ناکامی قرار دیتے ہوئے نہ صرف ریاست مخالف پروپیگنڈا کیا بلکہ دہشتگردی کے ان خوفناک واقعات کو بلوچوں کے حقوق کا جنگ قرار دینے کی باقاعدہ مہم بھی چلائی ۔
حملوں کے بعد پورے صوبے میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کیا گیا جبکہ کویٹہ سے جانیوالی ریل سروس کو بھی معطل کردیا گیا ۔ پنجاب پولیس اور دیگر اداروں نے بلوچستان کے ساتھ پنجاب کے ملحقہ علاقوں پر سیکیورٹی سخت کردی کیونکہ خدشہ تھا کہ دہشت گرد سرچ آپریشنز سے بچنے کے لیے پنجاب میں داخل ہوسکتے ہیں ۔ اس سے چند ہفتے قبل کویٹہ میں موجود فرنٹیئر کور کے ہیڈکوارٹر پر بھی خودکش حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں متعدد دہشت گرد ہلاک اور بعض سیکیورٹی اہلکار شہید اور زخمی ہوئے ۔
فرنٹیئر کور کویٹہ پر ہونے والے اس بڑے حملے کی پشاور کی ایف سی ہیڈکوارٹر اور وانا کیڈٹ کالج پر ہونے والے ان حملوں کے تناظر میں دیکھا گیا جن کے دوران اسٹوڈنٹس سمیت سینکڑوں سیکیورٹی اہلکاروں کو شہید کرنے کی پلاننگ کی گئی تھی اور اگر فورسز نے کوئیک رسپانس نہیں دی ہوتی تو وانا اور پشاور میں اے پی ایس کے طرز پر سانحات ہو جاتے ۔
سال 2025 کے دوران ٹی ٹی پی اور بی ایل وغیرہ نے فورسز کے علاوہ عام شہریوں کو بڑی تعداد میں شہید کرتے ہوئے نشانہ بنایا جبکہ علماء کو بھی نہیں بخشا گیا اور جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے متعدد اہم رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا جن میں مولانا سمیع الحق کے جانشین اور سابق رکن قومی اسمبلی مولانا حامد الحق بھی شامل تھے جن کو جمعہ کے روز دارالعلوم حقانیہ میں خود کش حملے کے دوران شہید کیا گیا ۔ علماء کو نشانہ بنانے میں داعش خراسان نے مرکزی کردار ادا کیا جس کو ایک بڑی تھریٹ کے طور پر لیا گیا تاہم بلوچستان کو خیبرپختونخوا کے برعکس کسی ایک گروپ کی بجائے بیک وقت مختلف مذہبی اور لسانی دہشت گرد گروپوں کے حملوں کا چیلنج رہا جس نے معاملات کو کافی پیچیدہ بنائے رکھا ۔