Charsadda Police takes action against encroachments and traffic laws

چارسدہ پولیس تجاوزات اور ٹریفک قوانین کیخلاف کارروائیاں

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چارسدہ محمد وقاص خان کی ہدایات پر ڈی ایس پی ٹریفک چارسدہ شہنشاہ گوہر خان کی نگرانی میں ضلع کے مختلف اہم روٹس مردان روڈ، نوشہرہ روڈ، تنگی روڈ اور پشاور روڈ کا تفصیلی دورہ کیا گیا۔ اس دوران ڈبل پارکنگ، تجاوزات اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔ کارروائی کے دوران سڑکوں کے کنارے اور فٹ پاتھوں پر سامان رکھ کر عوام الناس کے آمدورفت میں رکاوٹ بننے والے افراد کو ہٹایا گیا۔ مذکورہ افراد کو چوکی ٹریفک منتقل کیا گیا جہاں انہوں نے آئندہ راستہ عام اور فٹ پاتھ پر رکاوٹ نہ بننے کی یقین دہانی کروائی۔ تمام افراد کو سخت وارننگ جاری کی گئی۔ بعد ازاں ڈی ایس پی ٹریفک شہنشاہ گوہر خان نے سب جیل چارسدہ کے اردگرد موجود تجاوزات کا بھی جائزہ لیا اور جیل آفسران سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ٹریفک کی روانی، سیکیورٹی اور نظم و ضبط سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈی ایس پی ٹریفک شہنشاہ گوہر خان نے کہا کہ شہریوں کی سہولت اور ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے تجاوزات اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیاں بلا تفریق جاری رہیں گی۔ عوام سے اپیل ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کریں اور ٹریفک پولیس سے تعاون کریں۔

Fifth phase of drug-free Peshawar campaign to start from March 1

نشے سے پاک پشاور مہم کا پانچواں مرحلہ یکم مارچ سے شروع کرنے کا فیصلہ

صوبائی دارالحکومت پشاور کو منشیات کے عادی افراد سے مکمل طور پر پاک کرنے کے لیے نشے سے پاک پشاور مہم کے پانچویں مرحلے کا آغاز یکم مارچ سے کیا جائے گا۔ اس مرحلے میں شہر کی سڑکوں اور عوامی مقامات پر موجود بارہ سو (1200) کے قریب نشے کے عادی افراد کو تحویل میں لے کر منتخب بحالی مراکز منتقل کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی زیرِ صدارت منعقدہ اجلاس میں کیا گیا، جس میں ڈسٹرکٹ آفیسر سوشل ویلفیئر سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں شہر کو نشے کے عادی افراد سے مکمل پاک کرنے کے لیے تفصیلی لائحہ عمل طے کیا گیا۔
بحالی مراکز کے انتخاب کے لیے اشتہارات جاری کرنے کی ہدایت:
کمشنر پشاور ڈویژن نے ڈسٹرکٹ آفیسر سوشل ویلفیئر کو ہدایت کی کہ بحالی مراکز کے انتخاب کے لیے فوری طور پر اشتہارات جاری کیے جائیں تاکہ شفاف طریقے سے معیاری بحالی مراکز کا انتخاب ممکن بنایا جا سکے۔ معاہدے کے تحت پہلے مرحلوں میں علاج مکمل کرنے کے باوجود دوبارہ نشہ شروع کرنے والے افراد کو چار ماہ تک مفت علاج فراہم کیا جائے گا، جس کے لیے بحالی مراکز سے باقاعدہ معاہدہ طے پا چکا ہے۔
مشترکہ آپریشن کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نشے کے عادی افراد کے خلاف کارروائی کے لیے ضلعی انتظامیہ، پشاور پولیس، محکمہ سوشل ویلفیئر، محکمہ ایکسائز اور محکمہ اینٹی نارکوٹکس کنٹرول پر مشتمل خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔ یہ ٹیمیں مشترکہ آپریشن کے ذریعے شہر کے طول و عرض سے نشے کے عادی افراد کو تحویل میں لے کر بحالی مراکز منتقل کریں گی۔
تمام وسائل بروئے کار لانے اور رپورٹ طلب کرنے کی ہدایت:
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے واضح کیا کہ نشے سے پاک پشاور مہم کے پانچویں مرحلے کو ہر صورت نتیجہ خیز بنایا جائے گا۔ انہوں نے شہر کو نشے کے عادی افراد سے مکمل طور پر پاک کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کرتے ہوئے متعلقہ محکموں سے باقاعدہ کارکردگی رپورٹ بھی طلب کر لی۔ کمشنر پشاور ڈویژن کا کہنا تھا کہ اس مہم کا بنیادی مقصد شہریوں کو محفوظ، پُرسکون اور صحت مند ماحول فراہم کرنا ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

Wisal Muhammad Khan

خیبرپختونخواراؤنڈاِپ

وصال محمدخان
خیبرپختونخوامیں سردی کازورٹوٹ رہاہے،18فروری کویکم رمضان متوقع،آٹے کی قیمتیں بے قابو،
سرکاری آٹاسکیم مافیاکے ہتھے چڑھ گیا،آٹامنتخب ڈیلرزکی بجائے بازارمیں مہنگے داموں دستیاب
برف پگھل گئی،وزیراعظم شہبازشریف اوروزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ملاقات
وزیراعلیٰ سے نشترہال میں ایک طالبہ کاسوال،وزیراعلیٰ کاغیرتسلی بخش جواب
حکمران جماعت 8فروری کے پہیہ جام ہڑتال کی کامیابی کیلئے پرامید،کامیابی کے چانسزکم
حاجی غلام احمدبلورکی پشاورسے اسلام آبادہجرت،اے این پی کیلئے بڑانقصان
خیبرپختونخواکے میدانی علاقوں میں سردی کازورٹوٹ رہاہے۔ رمضان کی بھی آمدآمد ہے متوقع طورپر18فروری کوپہلاروزہ ہونے کا امکان ہے۔اس رمضان میں عوام کودیگراجناس سمیت آٹابھی مہنگے داموں خریدناپڑیگا۔حکومت نے سرکاری آٹاسکیم متعارف کروائی ہے جس کی قیمت 2220روپے مقررکی گئی تھی اورکہاگیاتھاکہ یہ آٹامنتخب ڈیلرزفروخت کرینگے۔ مگراب یہ آٹاعام دوکانوں اورریڑھیوں پر مقررہ قیمت سے کہیں زیادہ یعنی 26سوروپے میں دستیاب ہے۔مارکیٹ میں 20کلوتھیلے کاریٹ3ہزارسے اوپرہے۔حکومت نے اگر سرکاری آٹے کی سکیم شروع کردی ہے تواسکی کڑی نگرانی بھی ہونی چاہئے۔ عدم توجہی سے مافیااس سکیم کوبھی ہائی جیک کرچکاہے۔
وزیراعلی سہیل آفریدی کی وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات ہوچکی ہے۔گزشتہ ہفتے انہی صفحات پرذکرکیاجاچکاہے کہ وزیراعلیٰ نے وزیر اعظم کوخط لکھاتھاجس میں انکی توجہ واجبات کی عدم ادائیگی کی جانب مبذول کروائی گئی تھی۔شائداسی خط کے جواب میں وزیراعظم نے انہیں ملاقات کی دعوت دی۔مجموعی طورپردونوں جانب سے ملاقات کو خوشگوار قرار دیاگیا ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کاکہناتھاکہ سیاست پرکوئی بات نہیں ہوئی مگرکچھ ذرائع کادعویٰ ہے کہ ملاقات میں سیاسی باتیں ہوئی ہیں، معاملا ت کوبتدریج نارمل کرنے پراتفاق ہواہے اور یہ ملاقات کسی ڈیل کاپیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔ ملاقات پرپی ٹی آئی کے اندرونی حلقوں کامبہم مؤقف سامنے آیا ہے۔ ابھی سہیل آفریدی پر کھل کر کوئی تنقیدتونہیں ہوئی مگرکچھ حلقے معترض ہیں کہ اس بڑے اقدام سے قبل پارٹی کواعتمادمیں لیناضروری تھا۔مسلم لیگ ن کے صوبائی حلقے اس بات پرشاداں و فرحاں ہیں کہ جو لوگ وفاقی حکومت کوجعلی حکومت کہتے تھے اب اسی وزیراعظم سے ملاقا ت کررہے ہیں۔بہرحال وزیراعظم نے وزیراعلیٰ کو وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال کیساتھ رابطے میں رہنے کی ہدایت کردی ہے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی خد مت میں پہلے بھی بارہاعرض کیاجاچکاہے کہ وفاق سے تناؤبڑھانے میں صوبے کانقصان ہے۔ صوبائی بجٹ کا90 فیصدسے زائدانحصار وفاق پرہے۔رواں برس 2165 ارب کے صوبائی بجٹ میں صوبے کی اپنی آمدن 115ارب روپے متوقع ہے وفاق پراس قدر انحصار کرنیوا لے صوبے کوبے جامحاذآرائی زیب نہیں دیتی صوبے کے سنجیدہ وفہمیدہ حلقوں نے ملاقات کواہم پیشر فت قراردیا ہے اورکہاگیاہے کہ وزیراعلیٰ کووفاق کیساتھ سینگ آزمائی کی بجائے افہام وتفہیم سے معاملات حل کرنے کی کوشش کرتے رہناچاہئے۔
نشترہال پشاورمیں ینگ لیڈرزکنونشن کے دوران اس وقت دلچسپ صورتحال پیداہوگئی جب ایک طالبہ نے وزیراعلیٰ سے سوال کیاکہ جعلی حکومتیں ترقی کررہی ہیں لیکن خیبرپختونخوامیں 13سال سے اصلی حکومت ہونے کے باوجودصوبہ پسماندہ ہے؟آپ ِادھراُدھرکی باتوں کی بجائے یہ بتائیں کہ تیرہ سال میں صوبے کوکیادیا؟جوبھی ترقی ہوئی وہ ایم پی ایز،ایم این ایزکے گھروں اورحجروں تک محدودکیوں ہے؟ آپ نے صوبے میں ہونیوالی کرپشن پرکیاقدامات کئے؟دیگرصوبوں سے موازنہ میں ہماراصوبہ کہاں کھڑاہے؟جس کے جواب میں وزیر
اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہاکہ”میری بہن کاتعلق شائداے این پی یاکسی دیگرجماعت سے ہے،پہلے آپ ترقی کی تعریف واضح کریں،ہم نے صوبے کے نوجوان کوپندرہ سال میں یہ شعوردیاکہ وہ چیف ایگزیکٹیوسے سوال کررہے ہیں،اے این پی کی حکومت میں یہاں دھماکے ہو رہے تھے،نشترہال بندتھاجسے ہم نے کھلوایا،جنوبی پنجاب اورسندھ کی حالت بہت خراب ہے وہاں سکولوں میں مویشی باندھے جاتے ہیں جبکہ ہسپتالوں میں آوارہ کتے گھومتے نظرآتے ہیں“۔وزیراعلیٰ کے اس جواب پرصوبے کے سنجیدہ وفہمیدہ حلقو ں نے نا پسندیدگی کااظہارکیا ہے۔ وزیراعلیٰ کی طالبہ کیساتھ نوک جھونک کاواقعہ قومی میڈیاپر زیربحث رہنے کیساتھ سوشل میڈیاپربھی ٹاپ ٹرینڈرہا۔ 1948ء میں باچا خان کے بھائی ڈاکٹرخان صیب وزیراعلیٰ تھے توچارسدہ میں ایک شہری نے انکا گریبان پکڑکرپوچھاکہ آپ نے صوبے کیلئے کیاکیا؟ جس پر ڈاکٹر خان نے جواب دیا تھاکہ یہ کیاکم ہے کہ تم نے وزیراعلیٰ کاگریبان پکڑرکھا ہے؟ سہیل آفریدی نے اسی جواب کی بھونڈی نقالی کرنیکی کوشش کی ہے۔اے این پی ذرائع نے ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ”وزیراعلیٰ اے این پی سے خائف بھی ہیں مگر ہمارے اکابرین کی مثالیں بھی چربہ کررہے ہیں۔اے این پی کے دورمیں نشترہال بندنہیں تھاہال کاریکارڈملاحظہ کیاجائے تواس دورمیں دہشتگردی کے واقعات بڑھنے پرنشترہال میں سیاسی پروگرام منعقدہوتے تھے اسکے علاوہ ثقافتی پروگرامزبھی جاری رہے۔یہ امرقابل افسوس ہے کہ دہشتگردوں کوبھتہ دینے والے دہشتگردی کادلیری سے مقابلہ کرنیوالی جماعت اے این پی کیخلاف بیان بازی میں مصروف ہیں، دہشتگر د ی اوربم دھماکے اے این پی دورسے پہلے بھی تھے اوراب بھی جاری ہیں حالانکہ اب طالبان کی سیاسی ونگ برسراقتدارہے“۔
حکمران جماعت کی جانب سے 8فروری کے پہیہ جام اورشٹرڈاؤن ہڑتال کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔پارٹی اندازوں کے مطابق 8فروری کوپورے ملک کی طرح خیبرپختونخوامیں بھی ہڑتال ہوگی اس سلسلے میں پارٹی تنظیموں کوہدایات جاری کی جاچکی ہیں جنہوں نے تاجراورٹرانسپورٹ تنظیموں سے رابطے کئے ہیں۔وزیراعلیٰ نے سٹریٹ موومنٹ کاجوسلسلہ شروع کیاتھاوہ بھی مکمل ہوچکاہے۔ حکمران جماعت پرامیدہے کہ 8فروری کی ہڑتال کامیاب ہوگی مگریہ توقع ملک بھرمیں پوری ہوتی ہوئی نظرنہیں آرہی۔پنجاب کے بڑے شہروں میں اس دن بسنت منائی جائیگی جبکہ سندھ اوربلوچستان میں پارٹی کی تنظیمیں متحرک اورفعال نہیں۔ خیبر پختونخوامیں بھی پارٹی تنظیمی طورپر بکھری ہوئی نظرآرہی ہے مگریہاں کچھ جان ہے تویہ حکومت کے دم سے ہے ورنہ تنظیمی طورپرپارٹی کا یہاں بھی براحال ہے۔ایک اجلاس میں پارٹی کے اہم قائدین نے خیبرپختونخوابندکرنے پرتنقیدکی اورکہاکہ حکومتی معاملات غلط سمت میں جارہے ہیں ان حالات میں عوام پر ہڑتال کا بوجھ ڈالنااوریہ توقع رکھناکہ ہڑتال کامیاب ہوگی خام خیالی ہے۔بہرحال توقع کی جارہی ہے کہ پہیہ جام اورشٹرڈاؤن ہڑتال خیبر پختونخوا میں کسی حدتک کامیاب ہوگی جبکہ دیگرصوبوں سے وہ رسپانس ملنامشکل ہے جس کی توقع پارٹی قائدین لگائے بیٹھے ہیں۔
اے این پی کے سنیئرراہنمااوربزرگ سیاستدان حاجی غلام احمدبلورنے عملی سیاست سے کنارہ کش ہونے اورپشاورمیں اپنی رہائشگاہ فرو خت کرکے اسلام آبادمنتقل ہونے کااعلان کیاہے۔غلام احمدبلورکاشمارباچاخان اورعبدالولی خان کے قریبی ساتھیوں میں ہوتاہے۔انکی عمر 86برس ہے اوروہ پشاورکے تاریخی حلقے (سابقہ این اے ون)سے چارمرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوچکے ہیں۔اسی حلقے سے وہ سا بق وزیراعظم بینظیربھٹوکوبھی شکست سے دوچارکرچکے ہیں۔انکے بھائی بشیراحمد بلور کواس وقت خودکش حملے میں شہیدکیاگیاجب وہ صوبائی حکومت میں سنیئروزیرتھے۔انکے بھتیجے ہارون بلورکو2018انتخابی مہم کے دوران خودکش حملے میں شہیدکیاگیاجبکہ انکے اکلوتے بیٹے شبیر بلور1997ء انتخابات میں ایک لڑائی کی نذرہوگئے۔حاجی غلام بلورچارمرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے جبکہ وہ 1997ء میں نوازشریف اور 2008ء میں یوسف رضاگیلانی کابینہ میں وفاقی وزیررہے۔انکی پشاورسے ہجرت کواے این پی کیلئے بڑا دھچکا تصور کیا جارہاہے۔حاجی غلام بلورکاایک پوتاعظیم بلورہے جوگوہرایوب کانواسہ بھی ہے۔بشیربلورکی بہواورہارون بلورکی بیوہ ثمربلورمسلم لیگ ن میں شامل ہوچکی ہیں اس طرح سیاسی طورپرپانچ عشروں سے متحرک خاندان کا سیاسی شیرازہ بکھرچکاہے جو اے این پی کیلئے بہت بڑانقصان ہے۔

Wisal Muhammad Khan

آئی سی سی انڈین کرکٹ کونسل نہیں، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ہے

وصال محمدخان
پاک بھارت کرکٹ شائقین کیلئے یہ خبریقیناًخوش کن نہیں کہ پاکستان نے ٹی ٹوینٹی ورلڈکپ میں بھارت کیخلاف میچ نہ کھیلنے کافیصلہ کیاہے۔ اس فیصلے سے کرکٹ شائقین کے چہرے مرجھاچکے ہیں جسکی ذمہ داری بھارتی انتہاپسندقیادت پرعائدہوتی ہے۔پاک بھارت میچ سے محض بھارت میں چارہزارکروڑروپے کانقصان ہوگا۔یہ میچ 500ملین ڈالرزمالیت کاہوتاہے اوراس میچ کے دوران بھارت میں ٹی وی اشتہار کی قیمت 25سے40لاکھ بھارتی روپے فی 10سیکنڈز ہوتی ہے۔جس سے یہ چینلز 138کروڑبھارتی روپے کماتے ہیں ایک انداز ے کے مطابق حالیہ آئی سی سی ورلڈکپ کے 63فیصدریونیواسی ایک میچ سے حاصل ہوناتھا۔بھارتی براڈ کاسٹرز کی چیخیں نکل رہی ہیں کہ انہیں یہ میچ نہ ہونے سے بہت بڑانقصان ہوگا مگریہ نقصان کیوں ہوتاہے اس پرانکی گزبھرلمبی زبانیں خاموش ہیں آج بھارتی تجزیہ نگار کھیل کو سیا ست سے دوررکھنے باتیں کررہے ہیں مگراس وقت انکی زبانوں کولقوہ ہوجاتاہے جب بھارت پاکستان کیساتھ باہمی سیریز کھیلنے سے انکار کرتا ہے۔ پاکستان اوربھارت کے درمیان آخری سیریز2011-12میں ہوئی تھی یعنی ڈیڑھ عشرے سے دونوں ممالک کے درمیان باہمی سیریزبندہیں اوراسکی وجہ محض بھارتی انتہاپسندقیادت کی جھوٹی انا ہے۔کھیل ہمیشہ محبتوں کوپروان چڑھانے اورنفرتیں مٹانے کاکام کرتے ہیں مگربھارتی روئیوں نے کھیلوں کوبھی نہ صرف سیاست زدہ کردیاہے بلکہ اس میں نفرتوں کوبھی شامل کردیا ہے اوریہ نامعقول روئیے کئی عشروں سے جاری ہیں۔پاکستان میں آکرنہ کھیلنے کانارواوطیرہ توطویل عرصے سے ہے مگردنیاکے دیگرمیدانوں میں بھی مختلف طریقوں سے نفرت آمیز روئیے روارکھے جاتے ہیں۔دو ٹیموں کے ارکان کاایکدوسرے سے ہاتھ ملانے کی روایت صدیوں پرانی ہے۔ جسے گزشتہ برس بھارتی کھلاڑیوں نے پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ نہ ملاکر توڑدیا۔میدان میں انفرادی طورپرکھلاڑیوں کے نامناسب رو ئیے اور فقرہ بازی توعام سی بات ہے مگر ہاتھ ملانے سے انکارنے کرکٹ کے متوالوں کوبدمزہ کردیاہے۔ کرکٹ جوکہ جنٹلمین گیم کہلاتا ہے اسے بھارتی انتہاپسندہندوؤں کے نامناسب روئیوں نے نفرتوں کے کھیل میں تبدیل کردیاہے۔پاک بھارت میچ سے اگرآئی سی سی کو خطیر آمدن ہوتی ہے تواسکی وجہ صرف یہی ہے کہ بھارتی انتہاپسندقیادت کے روئیوں سے دونوں ممالک کے عوام ایکدوسرے سے اس قدرنفرت کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان کھیلا جانیوالا میچ لڑائی یاجنگ میں تبدیل ہوجاتاہے۔ دونو ں ممالک کے شہری کرکٹ سے بے انتہا رغبت رکھتے ہیں دونوں جانب کی آبادی بھی پونے دوکروڑکے قریب ہے اسلئے براڈکاسٹرز کو اشتہا ر ا ت کی مدمیں بہت بڑی رقم ہاتھ آتی ہے اوریہ انکے مفادمیں ہے کہ دوونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اورتناؤموجودہواوردونوں جانب سے گرماگرم بیانات کا سلسلہ جاری ہو یہ سلسلہ جاری رہیگاتومیچ کی ویلیوآسمان سے باتیں کریگی اورآئی سی سی سمیت براڈکاسٹرزاوربھارتی کرکٹ بورڈکواس مد میں بڑی رقم ملے گی یعنی ایک طرح سے پاکستان کیخلاف نفرت کوبھارت اورآئی سی سی دونوں کمائی کاذریعہ بنائے ہو ئے ہیں دونوں نفرت کے سوداگربنے ہوئے ہیں جوبھارت میں پاکستان کیخلاف نفرت بیچتے ہیں جس سے دونوں کے اکاؤنٹس بھرتے ہیں۔ پاکستان نے حالیہ ورلڈکپ میں بھارت کیخلاف میچ نہ کھیلنے کاجواعلان کیاہے اس کیلئے پاکستان کے پاس ٹھوس قانونی جوازموجودہیں اگر پاکستان ورلڈکپ میں بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلتااورآئی سی سی جوکہ اس وقت بھارت کے زیراثرکیابلکہ اسکے گھرکی باندی بن چکی ہے دونوں بھارتی میڈیاکے الوؤں کی خواہش پر پاکستان کیخلاف کوئی اوچھی حرکت کرتے ہیں،کوئی پابندی یاجرمانہ عائدکرتے ہیں تو اسکے خلاف عالمی فورمز پربھرپور اورمؤثر قانو نی جنگ لڑنے کیلئے پاکستان کاکیس مضبوط ہے۔دوعشروں سے بھارتی ٹیم پاکستان نہیں آرہی، ڈیڑھ عشرے سے دونوں ٹیسٹ ممالک کے درمیان باہمی سیریزنہ ہوسکی،آئی سی سی ٹورنامنٹس میں بھارتی ضدپراسکے میچ یواے ای منتقل ہو چکے ہیں،بھارتی کپتان کی پاکستانی کپتان اورکھلاڑیوں سے ہاتھ نہ ملانے اورپاکستانی عہدیدارسے ٹرافی وصولی سے انکاراوراس جیسے ان گنت دستاویزی ثبوت موجودہیں جن کے بل بوتے بھارت اورآئی سی سی کودھول چٹائی جاسکتی ہے۔آئی سی سی اگربھارتی روئیے کیخلاف سخت ایکشن لیتااوراس پرباہمی سیریزسے انکار پرپابندی عائدکی جاتی یااسکے رینکس کی تنزلی ہوتی یااسے بھاری جرمانہ عائدکیاجاتاتوآج پاکستان کوبھارت کیخلاف میچ سے انکارنہ کرناپڑتا۔پاکستان نے گزشتہ دوعشروں میں بھارت کیخلاف پہلی بارکوئی میچ کھیلنے سے انکارکیاہے جبکہ بھارت اسی عرصے سے پاکستان کیساتھ مختلف موواقع پرمیچ کھیلنے سے انکارکرچکاہے۔پاکستان نے خراب معاشی حالات میں ایک معقول رقم سے ہاتھ دھونے کادلیرانہ فیصلہ کیاہے۔اسکی وجہ اگرچہ بنگلہ دیش بنامگربھارت اسی قسم کاروئیہ پاکستان کیساتھ پہلے سے اپناتا چلا آرہاہے۔اسکے لیگ میں پاکستانی کھلاڑیوں پرپابندی ہے اسکے کھلاڑی پاکستانی لیگ نہیں کھیلتے اب انہوں نے بنگلہ دیش کیساتھ بھی وہی نفرت آمیزاورتحقیرآمیزروئیہ اپنانا شروع کردیاہے پہلے جن روئیوں کانشانہ صرف پاکستان بنتاتھااب اسکے ساتھ بنگلہ دیش کوبھی شامل کردیا گیاہے کوئی بعیدنہیں کہ مستقبل قریب میں سری لنکایادیگرممالک کوبھی اس کلب میں شامل کیاجائے۔یہ معاملہ محض پاکستان اوربنگلہ دیش تک محدودنہیں رہیگا اس کے دائرۂ کارمیں مزیدممالک کاآنایقینی ہے۔اسلئے آئی سی سی کے دیگرممبران بھی بھارتی روئیوں کے خلاف ٓآواز اٹھائیں اورپاکستان اوربنگلہ دیش کاساتھ دیں ان سب کی متحدہ آوازمؤثرہوگی اورآئی سی سی کویہ باورکروائیگی کی وہ انڈین کرکٹ کونسل نہیں، انٹر نیشنل کرکٹ کونسل ہے۔

Khyber Pakhtunkhwa U-21 Games 2026: Outstanding performance by young players from Chitral

خیبر پختونخوا انڈر-21 گیمز 2026: چترال کے کھلاڑیوں کی شاندار کارکردگی

خیبر پختونخوا انڈر 21 گیمز 2026 میں ضلع اپر اور لوئر چترال سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صوبے بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔ ایتھلیٹکس کے مقابلوں میں انڈر21 ویمن ایتھلیٹکس کیٹیگری میں ملاکنڈ ریجن نے چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس شاندار کامیابی میں مس سیدا انمول (چوئنج)، مہک مسکان (پرکوسپ) اور مہک (موغ، گرم چشمہ) نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملاکنڈ ریجن کے لیے گولڈ میڈلز اپنے نام کیے۔
اسی طرح خواتین فٹسال کے مقابلوں میں بھی ملاکنڈ ریجن نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے چیمپئن شپ جیت لی۔ اس ایونٹ میں مس مشودہ (بونی)، طیبہ (پراوک)، ثنا (پراوک)، عشرت سہیل (بونی)، اعراج ذوہیب (بونی)، علیزہ (بونی) اور عریشہ جبار (بونی) نے نمایاں کارکردگی دکھاتے ہوئے گولڈ میڈلز حاصل کیے۔ مزید برآں مردوں کے فٹبال مقابلوں میں بھی ملاکنڈ ریجن نے چیمپئن ٹرافی اپنے نام کی۔ اس کامیابی میں عارف اللہ، سہیل، ابو بکر اور منصور نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے خیبر پختونخوا فٹبال چیمپئن شپ 2026 کے ابھرتے ہوئے ستاروں کے طور پر اپنی شناخت قائم کی۔ ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عمران خان نے انڈر 21 گیمز 2026 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے تمام کھلاڑیوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ چترال کے نوجوان کھلاڑیوں نے اپنی محنت، لگن اور صلاحیتوں سے نہ صرف ضلع بلکہ پورے ملاکنڈ ریجن کا نام روشن کیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ مستقبل میں بھی نوجوانوں کو کھیلوں کے میدان میں آگے بڑھنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرتی رہے گی۔ چترال کے ان نوجوان کھلاڑیوں کی یہ شاندار کامیابیاں نہ صرف ضلع بلکہ پورے ملاکنڈ ریجن کے لیے فخر کا باعث ہیں اور اس بات کا ثبوت ہیں کہ چترال کے نوجوان کھیلوں کے میدان میں ایک روشن مستقبل رکھتے ہیں۔