ایک نئے بنگلہ دیش کا جنم؟
عقیل یوسفزئی کا ڈھاکہ سے تجزیہ
12 فروری 2026 کو جنوبی ایشیا کے اہم ملک بنگلہ دیش میں اس کی تاریخ کا سب سے اہم الیکشن ہونے جارہا ہے جس میں 300 عام نشستوں کے لیے 12 کروڑ ووٹرز ڈال سکیں گے ۔ اگلے مرحلے میں کامیاب ہونے والی پارٹیوں کی جانب سے 50 مخصوص نشستوں پر نامزد امیدواروں کا انتخاب کریں گی ۔ اب کے بار پہلی بار ایک منفرد تجربے کی بنیاد پر محض ایک ” سوال” پر ریفرنڈم کا انعقاد بھی کیا جارہا ہے ۔ بلاواسطہ طور پر اٹھانے والے ” سوال” کا پس منظر یہ ہے کہ بنگلہ دیش کو ” بھارت” کی مبینہ طور پر نکلنے کی کتنی ضرورت ہے ؟
یہ الیکشن ایسے وقت میں منعقد ہورہے ہیں جب بنگلہ دیش اس ملک کی بنیاد رکھنے والی پارٹی عوامی لیگ کے خلاف ایک غیر متوقع عوامی اور سیاسی ردعمل کے پراسیس سے گزر رہا ہے اور عوامی مزاحمت کے باعث نہ صرف یہ کہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد بھارت میں پناہ لے چکی ہے بلکہ اس کی پارٹی عملاً اس پراسیس کا حصہ بھی نہیں ہے ۔ شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ عوام کے علاوہ پڑوسی ممالک اور پوری دنیا کی نظریں ان انتخابات پر لگی ہوئی ہیں ۔ ماضی میں متعدد بار برسر اقتدار رہنے والی بنگلہ دیش نیشنل پارٹی خالدہ ضیا کے بیٹے طارق الرحمان کی قیادت میں پھر سے ” بنگلہ دیش فرسٹ” کے نعرے ( سلوگن) کے ساتھ لیڈنگ پوزیشن میں نظر آرہی ہے جبکہ ماہرین کی رائے ہے کہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش دوسری پارلیمانی طاقت کے طور پر سامنے آئے گی ۔ اسی تناظر میں کہا جاسکتا ہے کہ 12 فروری کے الیکشن کے نتیجے میں ان دونوں پارٹیوں کی مخلوط حکومت قائم ہونے جا رہی ہے ۔ یہ دونوں پارٹیاں نہ صرف پاکستان کی حامی رہی ہیں بلکہ یہ بنگلہ دیش میں بھارتی بالادستی یا عمل دخل کی شدید مخالفت بھی کرتی آرہی ہیں اسی کا نتیجہ ہے کہ اگر ایک جانب دہلی کو سخت تشویش لاحق ہے تو دوسری جانب اسلام آباد غیر رسمی طور پر بہت خوش دکھائی دے رہا ہے ۔
الیکشن کمیشن آف بنگلہ دیش کے مطابق پُرامن اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام اقدامات کیے گئے ہیں جبکہ چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر یونس کی زیر قیادت عبوری یا نگران حکومت نے سیکیورٹی صورتحال پرامن رکھنے کے لیے سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے دیگر اقدامات کے علاوہ فوج سمیت دیگر اداروں کے تقریباً 7 لاکھ سیکیورٹی اہلکار تعینات کردیے ہیں کیونکہ حکومت کو خدشہ ہے کہ بھارتی ریاست اور اس کی حامی قوتیں الیکشن پراسیس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرسکتی ہیں ۔ بنگلہ دیش میڈیا کے مطابق اس پولنگ پراسیس میں 12 کروڑ سے زائد ووٹرز حصہ لے سکتے ہیں جن میں 60 فی صد سے زائد نوجوان ہیں ۔ انہی نوجوانوں نے چند ماہ قبل شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹ کر ایک نئے بنگلہ دیش کے قیام کا راستہ ہموار کردیا ہے اور غالباً اسی کا نتیجہ ہے کہ بی این پی اور جماعت اسلامی نے نئی نسل کو نہ صرف انگیج کرنے کی پالیسی اختیار کی بلکہ نوجوانوں کو بڑی تعداد میں ٹکٹ بھی جاری کیے ۔
پاکستان سمیت دنیا بھر کے میڈیا پرسنز ، مبصرین اور تجزیہ کار کل کے انتخابات کے کوریج اور مانیٹرنگ کے لیے ڈھاکہ پہنچ گئے ہیں کیونکہ یہ الیکشن پورے خطے کے مستقبل کے منظر نامے میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ۔
