حکمران جماعت صوبے میں کاروبارِزندگی معطل کروانے میں ناکام،ہڑتال سے عوام کااظہارلاتعلقی
وصال محمدخان
حکمران جماعت نے سٹریٹ موومنٹ کے تحت 8فروری کوملک بھرمیں شٹرڈاؤن اورپہیہ جام ہڑتال کی کال دے رکھی تھی۔دیگرصوبوں سے آمدہ اطلاعات کے مطابق کہیں بھی ہڑتال کی اس کال کواہمیت نہیں دی گئی جبکہ خیبرپختونخوامیں بھی دُکانیں معمول کے مطابق کھلی رہیں اورسڑکوں پرٹریفک رواں دواں رہی۔کچھ اضلاع میں ایم پی ایز،ایم این ایزنے مصروف چوراہوں میں عوامی اجتماعات منعقدکئے جس میں کارکنوں کی معمولی تعدادنے شرکت۔چندمقامات پرپی ٹی آئی کارکنوں نے زبردستی دکانیں اورشاہراہیں بند کروا نے کی کوششیں کیں جہا ں تاجروں اورمسافروں سے توتکراربھی ہوئی۔زبردستی دوکانیں بندکروانے اورتاجروں کیخلاف تشدد کی ویڈیوزبھی سوشل میڈیاکی زینت بنیں جبکہ صوابی میں اسی معاملے پرایف آئی آرزبھی درج کروائی گئیں۔بلاشبہ صوبے میں مجموعی طورپرپہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال کی کال کو مسترد کیاگیامگرحکمران جماعت اور سوشل میڈیاورکرزبضدہیں کہ ہڑتال کامیاب رہی۔دوسری جانب حکمران جماعت اند ر و نی طورپربھی انتشارکاشکارنظرآرہی ہے گزشتہ ہفتے صوبائی صدرجنیداکبرکی ایک آڈیولیک ہوئی جس میں وہ پارٹی سے شکوہ کناں ہیں کہ مجھے اسمبلی فلور پر بات کرنے نہیں دیا جاتا۔ معتبرذرائع کادعویٰ ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقا تیں کھلنے پر جنیداکبرکی صوبائی صدارت کاخاتمہ یقینی ہے۔انکی جگہ صوبائی وزیر میناخان آفریدی یا شاہد خٹک لے سکتے ہیں یہ دونوں سہیل آفرید ی کے انتہائی قریب سمجھے جارہے ہیں۔ حکمران جماعت ایک بارپھرتحریک کی باتیں کرنے لگی ہیں سوشل میڈیا پربازارگرم کیاگیاہے کہ سہیل آفرید ی کیلئے کنٹینرتیارہورہا ہے اورتحریک کاٹائٹل ہوگا آزادی یاموت۔گزشتہ چاربرسوں میں صوبائی حکو متو ں کووفاق کیخلاف تحریکوں کیلئے استعما ل کیاجارہاہے مگرہرتحریک کے نتائج توقعات کے برعکس اورپی ٹی آئی کیلئے ندامت کاباعث بن رہے ہیں۔ پرویز خٹک دورمیں علی امین گنڈاپورکی شہدوالی بوتل سمیت دوڑہویاگزشتہ تینوں وزرائے اعلیٰ کے ناکام لانگ مارچز ہو ں تمام کے نتائج خلاف توقع رہے اسکے باوجود حکمران جماعت تحریک سے بازنہیں آرہی۔ ایک بڑے مکتبہ فکرکاخیال ہے کہ یہ تحریکیں اورلانگ مارچز محض کار کنوں کومتحرک رکھنے کابہانہ ہے۔ اگرواقعی کسی تحریک کی تیاریاں ہورہی ہیں تواسکے خدوخال رمضان اور عیدکے بعدہی واضح ہونگے۔
پشاورہائیکورٹ نے گریڈ18اوراس سے اوپرپولیس افسران کے تقرروتبادلوں کااختیاروزیراعلیٰ کودینے کااقدام کالعدم قراردیدیاہے۔ یہ فیصلہ چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اورجسٹس محمداعجازخان پرمشتمل دورکنی بنچ نے جاری کیاہے۔عدالت نے خیبرپختونخواترمیمی ایکٹ 2024ء کوکالعدم کرکے آئی جی پی کے اختیارکوبرقراررکھاہے عدالت نے واضح کیاہے کہ”پولیس کوسیاسی اثرورسوخ کے تحت لاناآئین کی روح کے منافی ہے بلکہ یہ اقدام شہریوں کے بنیادی حقوق کیلئے بھی سنگین خطرہ ہے“۔۔28صفحات پرمشتمل فیصلے میں قراردیاگیاہے کہ ”2024ء کے ترامیم نے پولیس کی پیشہ ورانہ آزادی کوعملاًختم کردیاہے،گریڈ18اوراس سے اوپرکے افسران کی تعیناتی کووزیراعلیٰ کی منظور ی سے مشروط کرنااورانسپکٹرجنرل آف پولیس سے فیلڈکمانڈرزکی تقرری کاقانونی اختیارواپس لیناپولیس سٹرکچرکوکمزورکرنے کے مترا دف ہے،ان اقدامات کے نتیجے میں پولیس قانون کی عملداری کی بجائے سیاسی مفادات کی تابع بن جاتی ہے،آئین کے تحت ایگزیکٹیو کوپولیس
پرصرف عمومی پالیسی اورنگرانی کااختیارحاصل ہے جسے آئینی اصطلاح میں ’سپرانٹنڈنس‘کہاجاتاہے۔تاہم روزمرہ انتظامی امور تباد لے، تعیناتیاں اورفیلڈکمانڈجیسے معاملات میں مداخلت آئینی دائرۂ اختیارسے تجاوزہے،جب فیلڈکمانڈسیاسی منظوری کی محتاج ہو جائے تو شہر یو ں کے حق زندگی آرٹیکل9،منصفانہ ٹرائل کے حق آرٹیکل 10اورمساوات کے حق آرٹیکل25 کوشدیدخطرات لاحق ہو جاتے ہیں“۔ عدالت نے ریڈنگ ڈاؤن کے اصول کواپناتے ہوئے وزیراعلیٰ کے پولیس کو دئے جانیوالے ہدایتی اختیارات صرف پالیسی معاملات تک محدودکردئے اورواضح کیاکہ”ان اختیارات کوکسی بھی صورت انفرادی فیصلوں یا افسران کی تعیناتی اورتبادلوں تک وسعت نہیں دی جا سکتی“۔ حکومت مذکوہ فیصلے کیخلاف آئینی عدالت میں اپیل دائرکرنے کاارادہ رکھتی ہے ایڈوکیٹ جنرل شاہ فیصل اتمانخیل کے مطابق”ہائی کورٹ کافیصلہ غیرآئینی اورغیرقانونی ہے درخواست میں جن کوفریق بنایاگیاتھاانہیں سناہی نہیں گیااوریکطرفہ فیصلہ جاری کردیاگیا“۔ وزیر قانو ن آفتاب عالم نے فیصلے کوآئینی عدالت میں چیلنج کرنے کاعندیہ دیاہے ان کاکہناتھاکہ”فیصلہ منتخب جمہوری نمائندوں کے آئینی اختیا را ت کومجروح کرتاہے،آئین کاآرٹیکل 129 صوبے کی انتظامی اتھارٹی کو وزیراعلیٰ اورصوبائی کابینہ میں مرتکزکرتاہے،مذکورہ فیصلہ آئین پاکستا ن کے دیباچے، اساس اورجمہوری ڈھانچے کی روح سے متصادم ہے،فیصلہ نہ صرف منتخب نمائندوں کے آئینی اختیارات کو مجروح کر تا ہے بلکہ یہ انہیں عملاًغیرمؤثربنانے کی دانستہ کوشش بھی ہے“۔یادرہے پولیس ایکٹ 2017ء پرویزخٹک دورمیں منظور کروایا گیاتھا۔ جب ناصر درانی صوبے کے آئی جی پولیس تھے توطویل غوروخوض اورچھان پھٹک کے بعدیہ اختیارات ایگزیکٹوسے آئی جی کومنتقل کئے گئے تھے جو تحریک انصاف کے منشورکے عین مطابق تھااوراس پرخاصی دادسمیٹی گئی تھی کہ خیبرپختونخواکی پولیس کومثالی پولیس بنادیاگیاہے مگر گنڈا پور دور میں اسی ایکٹ میں ترامیم کرکے یہ اختیارات وزیراعلیٰ کومنتقل کردئے گئے یعنی جس کام کوانجام دینے پرشادیانے بجائے گئے تھے اور دیگر صوبوں کومطعون کیاگیاتھاکہ وہ یہ کارنامہ انجام دینے سے قاصرہیں پورے ملک میں صرف تحریک انصاف کی حکومت نے پولیس کو سیاسی مداخلت سے آزادکردیاہے مگرمحض چندسال بعدنہ صرف ایکٹ میں ترامیم کی گئیں بلکہ اب ہائیکورٹ کافیصلہ آئینی عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان بھی کیاگیاہے۔
کرکٹ بورڈکے چیئرمین محسن نقوی نے پشاورمیں پی ایس ایل کے میچزمنعقدکرانے کااعلان کیاہے جس سے صوبے کے شائقین کرکٹ میں خوشی کی لہردوڑگئی ہے۔پشاورمیں سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں نشاندہی کی گئی کہ صوبے کوبین الاقوامی کرکٹ مقابلوں اورپی ایس ایل میں نظراندازکیاجاتاہے جس پرمحسن نقوی نے رواں برس ہونیوالے مقابلوں کے میچزپشاورمیں منعقدکرانے کی یقین دہانی کروائی ہے محسن نقوی کاکہناتھاکہ قومی ٹیم میں 60فیصدکھلاڑیوں کاتعلق خیبرپختونخواسے ہے یہ صوبہ کرکٹ ٹیلنٹ سے مالامال ہے۔ای پیکس کمیٹی اور اسکے بعدسیکیورٹی کمیٹی کی میٹنگزکے حوالے سے محسن نقوی کاکہناتھاکہ پاکستان دہشتگردی کیخلاف حالت جنگ میں ہے ترلائی اسلام آباد کے امام بارگاہ حملے کے ملزمان کی گرفتاری میں پختونخوا پولیس نے اہم کرداراداکیاسی ٹی ڈی کی کارکردگی بھی قابل ستائش ہے۔یادرہے پشاورمیں ارباب نیاز سٹیڈ یم کانام گنڈاپورحکومت نے تبدیل کرکے عمران خان سٹیڈیم رکھ دیاہے۔صوبے میں میچزکے انعقادمیں یہ ایک بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔ فی الحال محسن نقوی کی جانب سے محض اعلان سامنے آیاہے اب دیکھیں اس پرعملدرآمدہوتاہے یایہ محض اعلان ثابت ہوتاہے کیونکہ صوبے میں امن وامان کی صورتحال کے پیش نظرکرکٹ میچزکاانعقاد مشکل دکھائی دے رہاہے۔ صوبائی حکومت کو محض اعلان پرشادیانے بجانے کی بجائے امن وامان پرتوجہ دیناہوگی۔
ضلع مہمند: اسکول بیگز کی تقسیم اور شجرکاری مہم کا انعقاد
ضلع مہمند: میاں منڈی میں الخیر ہائی سٹوڈنٹس اکیڈمی اینڈ انگلش لینگویج سنٹر کے زیر اہتمام ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں مستحق اور نادار طلبہ میں 150 اسکول بیگز تقسیم کیے گئے، جبکہ شجرکاری مہم کا بھی باضابطہ آغاز کیا گیا۔ تقریب میں نجی و سرکاری اسکولوں کے طلبہ، اساتذہ اور معززینِ علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر تعلیمی شعور کے فروغ کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی آگاہی کو اجاگر کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ یہ پروگرام ضلع یوتھ آفیسر، اصغر مہمند ویلفیئر فاؤنڈیشن، عمر علی ویلفیئر فاؤنڈیشن، سحر ویلفیئر فاؤنڈیشن اور پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے تعاون سے منعقد کیا گیا۔ تقریب میں کمانڈنٹ یوسف خیل، ایس پی انویسٹی گیشن زاہد عالم، ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر حارث خان، محکمہ جنگلات کے صدیق اللہ، چیئرمین طارق خان، امجد خان، اصغر مہمند، وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے گل بشیر شیراز، ملک ریحان شاہ، ملک اعظم اور مولانا عبدالحق سمیت دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔
مہمانانِ خصوصی نے اپنے خطابات میں الخیر ہائی سٹوڈنٹس اکیڈمی کی فلاحی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات معاشرے میں مثبت تبدیلی کا باعث بنتے ہیں اور تعلیم ہی قوموں کی ترقی کی بنیاد ہے۔ منیجنگ ڈائریکٹر امتیاز جاوید مہمند نے اعلان کیا کہ ضلع مہمند کے یتیم بچوں کو ادارے میں مفت داخلہ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یتیم اور مستحق طلبہ کو مفت تعلیم کے ساتھ یونیفارم اور کتب بھی فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ باوقار شہری بن سکیں۔ تقریب کے اختتام پر مہمانانِ گرامی نے پودے لگا کر شجرکاری مہم کا افتتاح کیا اور تعلیم و ماحولیات کے فروغ کے لیے ایسے اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ عوامی حلقوں نے اس پروگرام کو ضلع مہمند کے لیے ایک مثبت اور امید افزا قدم قرار دیا۔
کیپٹل سٹی پولیس پشاور کا رمضان المبارک کیلئے خصوصی سکیورٹی پلان تیار
کیپٹل سٹی پولیس پشاور نے رمضان المبارک کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے خصوصی سکیورٹی پلان ترتیب دے دیا ہے۔ اس حوالے سے سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد کی زیر صدارت ملک سعد شہید پولیس لائن میں اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا، جس میں چیف ٹریفک آفیسر ڈاکٹر زاہد اللہ، ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان، ایس ایس پی انوسٹی گیشن عائشہ گل، ایس ایس پی کوآرڈی نیشن خالد خان، ایس پی ہیڈکوارٹر علی گوہر خان سمیت ڈویژنل ایس پیز اور ایس ڈی پی اوز نے شرکت کی۔
اجلاس میں رمضان المبارک کے دوران سکیورٹی اور ٹریفک انتظامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے، جن میں حساس مقامات اور عبادت گاہوں کا سکیورٹی آڈٹ، افطاری، تراویح اور سحری کے اوقات میں پولیس گشت میں اضافہ، تجارتی مراکز میں لیڈیز پولیس کی تعیناتی، پیدل گشت اور خصوصی ناکہ بندیوں کو مضبوط بنانا شامل ہے۔ مزید برآں سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشنز میں وسعت دینے اور ہوائی فائرنگ و غیر قانونی اسلحہ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق رمضان المبارک کے دوران رش والے علاقوں اور گنجان بازاروں میں اضافی نفری تعینات کی جائے گی، جبکہ بکتر بند گاڑیاں، ابابیل اسکواڈ، سٹی پٹرولنگ فورس اور اسپیشل رائیڈرز اسکواڈز حساس مقامات پر ہمہ وقت گشت کریں گے۔ سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید احمد نے کہا کہ پشاور پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے، اور رمضان المبارک کے دوران شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا اولین ترجیح ہے۔
ایبٹ آباد میں آر ٹی آئی، صحافتی اخلاقیات اور غلط معلومات پر پینل ڈسکشن کا انعقاد
ایبٹ آباد معلومات تک رسائی (RTI)، صحافتی اخلاقیات اور غلط معلومات کے بڑھتے ہوئے چیلنجز پر تبادلہ خیال کے لیے ٹرسٹ فار ڈیموکریٹک ایجوکیشن اینڈ اکاؤنٹیبلیٹی (TDEA) کے “سیف، فری اینڈ ایفیکٹو میڈیا” پراجیکٹ کے تحت ویلفیئر ایسوسی ایشن جرید کے تعاون سے دی ملینیم یونیورسل کالج ایبٹ آباد میں طلبہ و طالبات کے لیے ایک پینل ڈسکشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں 50 سے زائد طلبہ نے شرکت کی۔
پینل میں مختار جاوید (ایگزیکٹو ڈائریکٹر واج)، شہزادہ محمد اسامہ غزالی (پراجیکٹ مینیجر سیف میڈیا)، محمد ہارون تنولی (نمائندہ نیو نیوز)، خرم غیاث خان ایڈووکیٹ (صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن پشاور بینچ ایبٹ آباد) اور اسماء فیاض (طالبہ کامسیٹس یونیورسٹی ایبٹ آباد) شامل تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مختار جاوید نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور نشست کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ڈی ای اے کا یہ پراجیکٹ ضلع ایبٹ آباد میں سرکاری معلومات تک عوامی رسائی کو مؤثر بنانے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق معلومات کی پیشگی فراہمی سے غلط معلومات اور ڈس انفارمیشن کے پھیلاؤ میں کمی آتی ہے اور باخبر شہریوں کا فروغ ممکن ہوتا ہے۔
اسماء فیاض نے آر ٹی آئی کے موضوع پر تفصیلی پریزنٹیشن دی، جبکہ محمد ہارون تنولی نے صحافیوں کی جانب سے دائر کردہ آر ٹی آئی درخواستوں اور درپیش مشکلات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ قوانین کے باوجود بروقت اور مستند معلومات کا حصول اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ پراجیکٹ مینیجر شہزادہ محمد اسامہ غزالی نے کہا کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 19-A اور خیبر پختونخوا آر ٹی آئی ایکٹ 2013 کے تحت ہر شہری کو معلومات تک رسائی کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ان قوانین سے آگاہی حاصل کر کے درست معلومات کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں۔
نشست کے دوران طلبہ نے مختلف سوالات کیے جن کے تفصیلی جوابات دیے گئے۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ حقائق پر مبنی معلومات کے حصول اور جعلی خبروں کے خلاف مؤثر کردار ادا کریں گے۔ تقریب کے اختتام پر ادارے کی سربراہ مس ثمن شمیم نے ویلفیئر ایسوسی ایشن جرید اور منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ آر ٹی آئی قوانین کو عوامی فلاح کے لیے استعمال کریں۔



