عقیل یوسفزئی ( ڈھاکہ)
پاکستان میں سابق وزیراعظم عمران خان کی ” آنکھ” کی بیماری پر سیاست کچھ اس انداز میں جاری ہے کہ جیسے یہ اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ اور ایشو ہو تاہم پاکستان کا حصہ رہنے والے بنگلہ دیش میں بہت مثبت اور تعمیری پیشرفت جاری ہے اور سیاسی پارٹیاں اپنے ملک کو مستحکم اور مضبوط بنانے کے لیے سیاسی اختلاف سے بالاتر ہوکر نئی صف بندی میں مصروف عمل ہیں ۔
خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے 12 فروری کے پُرامن الیکشن کے نتیجے میں دو تہائی اکثریت حاصل کرلی ہے اور 17 سال تک جلا وطنی گزارنے والے ان کے بیٹے طارق الرحمان ملک کے طاقتور ترین وزیر اعظم بننے کی تیاری کرنے لگے ہیں ۔ اس پارٹی نے 300 ممبران اسمبلی کی پارلیمنٹ میں 210 سے زائد نشستیں حاصل کی ہیں ۔ جماعت اسلامی نے 77 سیٹیں لی ہیں جس کی بنیاد پر اس کے سربراہ شفیق الرحمن نے اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کا اعلان کردیا ہے ۔ جولائی 2025 کے دوران شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹنے والے ” اسٹوڈنٹس” کی پارٹی نے خلاف توقع صرف 6 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ آزاد ممبران کی تعداد محض 7 ہے ۔
15 برسوں تک آمرانہ حکومت کرنے والی بنگلہ دیش کی بانی جماعت عوامی لیگ نہ صرف سیاست اور پارلیمنٹ سے باہر ہوگئی ہے بلکہ اس کی وجہ سے بھارت کی تمام تر سرمایہ کاری بھی ڈوب گئی ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ بھارت نے نئی حکومت کے لیڈروں کے ساتھ بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے رابطے شروع کردیے ہیں کیونکہ بنگلہ دیش میں پہلی بار بھارت کے روایتی حریف پاکستان کی اہمیت اور مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ۔
اس صورتحال پر ڈھاکہ میں موجود ممتاز اینکر پرسن اور محقق عظمیٰ رومی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان مستقبل میں مثالی تعلقات کے قیام کے امکانات بڑھ گئے ہیں اور خطہ ایک بڑی تبدیلی سے گزرنے لگا ہے ۔ ان کے بقول ماضی کے پرتشدد واقعات کے باوجود 12 فروری کے الیکشن پُرامن طریقے سے منعقد ہوئے اور اب نئی حکومت کی تشکیل کا عمل جاری ہے ۔
ممتاز صحافی ماجد نظامی کے مطابق بنگلہ دیش ایک اہم مرحلے سے گزر رہا ہے اور اس تبدیلی کے جنوبی ایشیا کی سیاست اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے ۔
اسلام آباد میں موجود تجزیہ کار سعدیہ ستار کے مطابق پاکستان خطے میں اہم ملک کے طور پر سامنے آیا ہے جبکہ بھارت تنہائی سے دوچار ہونے لگا ہے ۔ ان کے بقول بنگلہ دیش میں ھارت کی پوری سیاسی ، سفارتی اور اقتصادی سرمایہ کاری ڈوبتی دکھائی دے رہی ہے جبکہ سینئر صحافی آصف نثار غیاثی کے مطابق پاکستان کو بنگلہ دیش کے پارلیمانی نظام سے سیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان کی سیاست پر بنگلہ دیش کے برعکس اشرافیہ کا قبضہ ہے ۔
( 14 فروری 2026 )
