Manahel Akbar won silver and bronze medals.

مناہل اکبر نے چاندی اور کانسی کا تمغہ اپنے نام کر لی

مالم جبہ میں سنو اسپورٹس مقابلہ میں چترال کی  مناہل اکبر نے مالم جبہ میں منعقدہ سنو سپورٹس مقابلوں میں چاندی اور کانسی کا تمغہ جیت لی۔ 13 اور 14جنوری کو مالم جبہ میں منعقدہ سنو سپورٹس مقابلے میں ملک بھر سے کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔ مناہل نے سنو بورڈنگ کے سلالم اور جوائنٹ سلالم ایونٹ میں دو چاندی کے تمغے حاصل کیے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے اسکیئنگ میں ایک کانسی کا تمغہ بھی اپنے نام کیا۔
Aqeel Yousafzai

خود کو دہرانے والی تاریخ؟

عقیل یوسفزئی
1971 میں متحدہ پاکستان میں لسانی اور سیاسی دوریاں پیدا کی گئیں تو اس کے نتیجے میں شیخ مجیب الرحمٰن کی قیادت میں بھارت اور بعض دیگر کی سہولت کاری کے ذریعے بنگلہ دیش کے قیام کا راستہ ہموار کیا گیا مگر کچھ ہی عرصے بعد نہ صرف اپنے ہی بنگالیوں نے شیخ مجیب کو بچوں اور فیملی سمیت بے دردی سے قتل کردیا بلکہ جولائی 2025 کے دوران ان کی بیٹی کو عوامی بغاوت کے ردعمل میں بھارت بھاگنا پڑا اور 12 فروری کے الیکشن سے ان کی پارٹی بنگلہ دیش عوامی لیگ انتخابی عمل سے باہر رکھی گئی۔
تقریباً 13 کروڑ کے ووٹرز والے ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں صرف دو مقامات پر تشدد کے واقعات ہوئے باقی تمام پراسیس پُرامن رہا ۔ نہ کسی نے احتجاج کیا نہ کسی نے الزامات لگائے ۔ نامزد وزیراعظم طارق الرحمان اپوزیشن لیڈر شفیق الرحمن ( جماعت اسلامی) سے ملے ، گلدستوں کا تبادلہ ہوا اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ حکومت اور اپوزیشن بنگلہ دیش کو مل کر استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے ۔
مودی اور شہباز شریف سمیت متعدد عالمی لیڈروں نے نامزد وزیراعظم طارق الرحمان کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے کرکے نہ صرف یہ کہ مبارک باد پیش کی بلکہ خطے کے استحکام کے لیے مل کر آگے بڑھنے کا عزم بھی ظاہر کیا ۔ چند گھنٹوں بعد خالدہ ضیا کے اس بیٹے کی قیادت میں ایک نئے بنگلہ دیش کی بنیاد رکھی جائے گی جو کہ شیخ حسینہ واجد کی فسطائیت کے باعث 17 سال تک جلاوطن رہا ۔
دوسری جانب آج کا بھارت ماضی کے مقابلے میں سیاسی ، دفاعی اور سفارتی سطح پر کافی کمزور ہوکر رہ گیا ہے ۔ تاریخ کی جبر نے جہاں ایک طرف شیخ مجیب الرحمٰن کی طرح اندرا گاندھی اور اس کے جانشین راجیو گاندھی کو اپنوں ہی کے ہاتھوں قتل کروایا تو آج کا بھارت مودی جیسے انتہا پسند کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے۔
اب آتے ہیں پاکستان کی طرف جہاں ایک قید لیڈر کے ایشوز کو لیکر ایک بار پھر نہ صرف یہ کہ ملک کو عدم استحکام اور انتشار کی بھینٹ چڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے بلکہ خود کو مقبول اور قومی پارٹی کہلانے والی پی ٹی آئی لسانی اور صوبائی کارڈ استعمال کرنے پر اتر آئی ہے ۔ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کو ” امتیازی سلوک” کے سلوگن کے ذریعے وفاق اور ریاست کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے اور بنگالیوں کی طرح پشتونوں کو مزاحمت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ پشتونوں کی شناخت کو اگر عالمی سطح پر طالبان وغیرہ کے ساتھ جوڑنے کی مہم جوئی جاری ہے تو دوسری جانب پی ٹی آئی کو ایک پشتون سیاسی قوت کے طور پر سامنے لانے کی کوشش جاری ہے حالانکہ زمینی حقائق اس صورتحال اور تاثر سے مختلف ہیں۔
اس پر ستم یہ کہ گزشتہ تین چار دنوں سے صوبائی حکومت کی قیادت میں جنگ زدہ خیبرپختونخوا کو پورے ملک سے کاٹنے کی کوشش کی گئی جس کے نتیجے میں صوبے کے عوام کو شدید نوعیت کی مشکلات سے دوچار ہونا پڑا اپر سے اس تاثر کو بھی تقویت ملی کہ پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ کے لیے نہ صرف خیبرپختونخوا کو استعمال کیا جارہا ہے بلکہ مختلف قومیتوں اور صوبوں کے درمیان بنگلہ دیش کے طرز پر منافرت بھی پیدا کی جارہی ہے تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کہیں اس”مہم جوئی” کا انجام شیخ مجیب الرحمٰن اور عوامی لیگ کی طرح تو نہیں ہونے والا کیونکہ” پیٹرن” پہلے سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔