Basic Recruit Course concludes at Police Training College Hangu.

پولیس ٹریننگ کالج ہنگو میں بیسک ریکروٹ کورس اختتام پذیر

 پولیس ٹریننگ کالج ہنگو میں بیسک ریکروٹ کورس کے اختتام پر شاندار پاسنگ آوٹ پریڈ کا انعقاد، کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج رضوان منظور کی بطور مہمان خصوصی شرکت،
پولیس ٹریننگ کالج ھنگو میں آج بیسک ریکروٹ کورس مکمل کرنیوالے ریکروٹس کی شاندار پاسنگ آوٹ پریڈ کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروقار تقریب میں کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج ھنگو رضوان منظور نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ خانزیب خان مہمند ڈی پی او ھنگو، عبدالبصیر خان ڈپٹی کمشنر ھنگو، مزمل خان ڈپٹی کمانڈنٹ پی ٹی سی، طارق عمر ایس پی ایڈمن، طارق عثمان چیف لاء انسٹرکٹر اور ارشد حسین کنٹرولر آف ایگزامینیشن سمیت کالج کے لاءانسٹرکٹرز اور مختلف کورسز کے زیرِ تربیت جوانوں بھی تقریب میں کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔ پاسنگ آوٹ پریڈ میں مجموعی طور پر 527 جوانوں اور خواتین نے کامیابی سے تربیت مکمل کی۔ مہمانِ خصوصی کی پریڈ گراونڈ میں آمد پر فن فیئر بگل بجایا گیا جبکہ پریڈ کمانڈر شفیق خان نے معزز مہمان کو جنرل سلامی پیش کی۔ بعد ازاں تلاوتِ کلامِ پاک سے تقریب کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔
جمشید خان ریزرو انسپکٹر نے پاس آوٹ ہونے والے جوانوں سے حلفِ وفاداری لیا جبکہ کمانڈنٹ پی ٹی سی نے پریڈ کا معائنہ کیا اور پاس آﺅٹ ہونے والے جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی کورس مکمل کرنے کے بعد ایک ریکروٹ پولیس فورس کا فعال اور ذمہ دار رکن بن جاتا ہے۔ آج آپ نے بطور کانسٹیبل اپنی سروس کا پہلا اہم سنگِ میل عبور کیا ہے۔ آنے والے وقتوں میں آپ کی محنت، لگن، قوانین سے آگاہی اور ان پر عمل پیرا ہونے کی صلاحیت آپ کو ترقی کی منازل تک پہنچائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ، قانون کی بالادستی اور پیشہ ورانہ دیانت داری پولیس افسران کا طرہ امتیاز ہونا چاہئے ، جس پر ہر جوان کو ہر حال میں عمل کرنا ہوگا۔ انہوں نے پاس آوٹ ہونے والے جوانوں کو نظم و ضبط، فرض شناسی اور ایمانداری کے ساتھ اپنی خدمات سرانجام دینے کی تلقین بھی کی۔ آخر میں پریڈ نے مارچ پاس کرتے ہوئے سلامی کے چبوترے پر معزز مہمانِ گرامی کو سلامی پیش کی۔ شاندار پاسنگ آﺅٹ پریڈ خیبر پختونخوا پولیس فورس کی پیشہ ورانہ تربیت اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کی بھر پور عکاسی کررہی تھی۔

News

پشاور ہائی کورٹ کا پی ٹی آئی کو فوری سڑکیں کھلوانے کا حکم

پشاور:پشاور ہائی کورٹ میں سڑکوں کی بندش کے خلاف دائر درخواست پر ایک ہی دن میں دوبارہ سماعت ہوئی۔ یہ سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔

عدالت عالیہ کے حکم پر چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس خیبر پختونخوا عدالت میں پیش ہوئے جن سے جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ کتنے دنوں سے سڑکیں بند ہیں، جس پر آئی جی پی نے بتایا کہ گزشتہ تین روز سے مختلف مقامات پر راستے بند ہیں۔

عدالت نے سوال اٹھایا کہ کیا سڑکوں کی بندش قانون کی خلاف ورزی نہیں؟ آئی جی پی نے جواب دیا کہ بعض مقامات موٹروے کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ پشاور سے باہر جانا مشکل ہو چکا ہے اور وکلاء بھی دیگر اضلاع سے نہیں پہنچ پا رہے۔

جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ صوبے میں پہلے ہی دہشت گردی کا مسئلہ ہے، ایسے میں عوام پر رحم کیا جائے۔ انہوں نے پوچھا کہ کن افراد کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، جس پر آئی جی پی نے بتایا کہ 16 میں سے 10 پوائنٹس کھول دیے گئے ہیں۔

عدالت نے پولیس کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جہاں کارروائی نہیں کرنی ہوتی وہاں پولیس تماشائی بنی رہتی ہے اور جہاں چاہیں 3 ایم پی او کے تحت گرفتاریاں کر لیتی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ حکمران جماعت اپنے ہی عوام کو تکلیف دے رہی ہے۔

جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ لوگ مر رہے ہیں، مگر حکام کو اس کی فکر نہیں۔ انہوں نے حکم دیا کہ آج سے ہی ہر صورت موٹروے اور دیگر سڑکیں بند ہونے سے روکی جائیں۔

آئی جی پی نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ آج ہی سڑکیں کھول دی جائیں گی۔ بعد ازاں عدالت نے درخواست پر سماعت ملتوی کر دی۔

The Peshawar High Court took strict notice of PTI’s road blockades.

پشاور ہائی کورٹ کا پی ٹی آئی کی سڑکوں کی بندش پر سخت نوٹس

پشاور ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سڑکیں بند کرنے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس اور چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کو ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کر لیا۔ پی ٹی آئی کی جانب سے سڑکوں کی بندش کے خلاف دائر آئینی درخواستوں پر سماعت 17 فروری 2026 کو پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فرح نے کی۔

یہ درخواستیں صبیحہ شاہد، طارق افغان اور یوسف علی کی جانب سے دائر کی گئی تھیں، جن میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج کے دوران سڑکیں بند کیے جانے سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور روزمرہ زندگی مفلوج ہو چکی ہے۔ درخواست گزاروں کے وکلاء نے عدالت سے امن و امان کی بحالی کی استدعا کی۔ سماعت کے دوران جسٹس اعجاز انور نے مسلسل چھٹے روز بھی سڑکوں کی بندش پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت کی عدم کارروائی پر سوال اٹھایا۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں اور قیمتی جانوں کا ضیاع بھی ہو چکا ہے۔ اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل نے عدالت سے مہلت طلب کرتے ہوئے کہا کہ وہ متعلقہ ڈیٹا مرتب کر رہے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ انہیں سماعت سے قبل ہی ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے اور وہ کسی سیاسی جماعت کی نمائندگی نہیں کر رہے۔ عدالت نے صوبے میں اب تک کی گئی قانونی کارروائی، درج ایف آئی آرز کی تعداد اور دیگر تفصیلات طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ موجودہ صورتحال میں عوام شدید متاثر ہو رہے ہیں۔بعد ازاں عدالت نے آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کو طلب کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر مکمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔