Wisal Muhammad Khan

صحت پرسیاست

وصال محمدخان
گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدرکوفرینڈآف کورٹ بناکراس ہدایت کیساتھ اڈیالہ جیل بھیجاکہ وہ وہاں کا جائزہ لیکرعدالت میں رپورٹ پیش کریں۔اس پر بعض حلقوں کی جانب سے اعتراض اٹھایاگیاکہ عدالت نے بانی کے وکیل کوہی اس مقصد کیلئے کیوں نامزدکیااوراس میں وزن بھی ہے۔بہرحال سلمان صفدر رنے اڈیالہ جیل کادورہ کیااورانکی بنائی گئی رپورٹ کیمطابق انہوں نے تین گھنٹے تک بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی۔ان تین گھنٹوں میں انہوں نے جومحسوس کیا،جودیکھااسکی رپورٹ بناکرعدالت میں پیش کر دی۔ رپورٹ خاصی طویل ہے مگراسکی چیدہ چیدہ باتوں میں بتایاگیاہے کہ بانی کیساتھ کسی قسم کاکوئی نارواسلوک نہیں ہورہا۔انہیں کھانے پینے کی کوئی کمی نہیں، انہیں من پسندکھانے باقاعدگی سے ملتے ہیں،ورزش کی سہولیات میسرہیں،ٹی وی موجودہے،اخبارباقاعدگی سے ملتے ہیں،انکے پاس 100کتابیں موجودتھیں اورقرآن مجیدکی تلاوت ان کامعمول ہے۔انکی رہائشی حالت) livin condition)کی اس رپورٹ میں تفصیل سے ذکرکیاگیاہے اوراس حوالے سے گزشتہ اڑھائی برسوں سے جوپروپیگنڈاکیاجارہاہاتھاکبھی امریکہ سے کوئی حضرت انکشاف فرماتاکہ اڈیالہ جیل میں گٹربندہے ایک صاحب نے اس حوالے سے سوشل میڈیاپر خاصی تفصیل بھی جاری کردی مگر بعد ازا ں ثابت ہواکہ یہ بے سروپاباتیں تھیں۔انکی ”قیام وطعام“کے حوالے سے جوانتہائی خراب تصویرکشی ہوتی تھی ”عدالتی دوست“کی پیش کردہ رپورٹ نے انکی واضح تردیدکردی ہے۔انکی لیونگ کنڈیشن اچھی ہے اورکچھ سہولیات انہیں حکومت نے فراہم کی ہیں جبکہ وہ اپنی جیب سے بھی رقم خرچ کر رہے ہیں جوجیلوں کامعمول ہے۔وہاں حکومت ”روٹی کپڑااورمکان“فراہم کرتی ہے باقی سہولیات یااضافی اخراجات خودبرداشت کرنے پڑتے ہیں۔انہیں آلودہ پانی فراہم کرنے کابھی بڑاڈھنڈوراپیٹاگیامگررپورٹ بتارہی ہے کہ انہیں نیسلے واٹر مل رہاہے۔ورزش کیلئے مشینیں اورچہل قدمی کیلئے جگہ دستیاب ہے۔مگرانکی دائیں آنکھ میں مسئلہ ہے اوراسکی نظر85فیصدتک ختم ہوچکی ہے۔اس معاملے کواچھال کرپی ٹی آئی نے احتجاج کاسلسلہ شروع کردیاجس کے تحت وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کے پی ہاؤس اورمحمودخان اچکزئی وغیرہ نے اسلام آبادیں دھرنادیدیاجبکہ دیگرکارکنوں اورراہنماؤں نے خیبرپختونخوامیں سڑکیں اورشاہراہیں بندکردیں۔جس سے عوام کوگوناگوں مسائل ومشکلات کاسامناکرناپڑاپہلے ہی روزاراستوں کی بندش سے ایک خاتون کی موت واقع ہوگئی جبکہ ہزاروں بزرگ خواتین وحضرات کوشدیدتکلیف کاسامناکرناپڑا۔شعورکے دعویداروں نے سڑکیں بندکرکے صوبے کوخوراک کی سپلائی بھی روک دی جس سے آٹے کاتھیلا35سوروپے تک پہنچ گیااوراگریہ سلسلہ جاری رہتاتوصوبے میں قحط جیسی صورتحال پیداہونے کااندیشہ تھا۔سڑکوں کی بندش کیخلاف پشاورہائیکورٹ میں صوابی کے ایک شہری یوسف علی،معروف وکیل طارق افغان اورایک خاتون صبیحہ شاہد نے درخواستیں دائر کیں جن میں مؤقف اپنایاگیاکہ تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج کے دوران سڑکیں بندکئے جانے سے عوام کوشدیدمشکلات کاسامنا ہے اورروزمرہ زندگی مفلوج ہوچکی ہے۔ درخواستوں کی سماعت منگل کے روزجسٹس اعجازانوراورجسٹس فرخ جمشیدپرمشتمل ڈویژن بنچ نے کی۔سماعت کے دوران معززبنچ نے چیف سیکرٹری اورآئی جی پولیس کوطلب کرلیااورانکی سرزنش کی کہ چارروزسے صوبے کی شاہراہیں بند ہیں،لوگ راستوں کی بندش سے مررہے ہیں ایمبولینسزکوراستہ نہیں دیاجارہااورآزادنہ آمدورفت کاحق چھیناجارہاہے۔جسٹس اعجازانورنے آئی جی پولیس سے استفسارکیاکہ کتنے دن سے سڑکیں بندہیں؟جس پرآئی جی نے جواب دیاکہ تین دن سے مختلف پوائنٹس پرسڑکیں بند ہیں۔جسٹس اعجازانورنے پوچھاکیایہ قانون کی خلاف ورزی نہیں؟آپ نے کیاکارروائی کی؟آئی جی نے جواب دیاکہ یہ موٹروے کے دائرہ اختیارمیں آتاہے جب تک موٹروے ہمیں ریفرنس نہ بھیجے ہم ایف آئی آرنہیں کرسکتے۔جسٹس اعجازانورنے چیف سیکرٹری سے استفسار کیاکہ آپ نے کیاکارروائی کی؟ایکشن لینے کے وقت آپ خاموش تماشائی بن جاتے ہیں۔حکمران جماعت اپنے صوبے کے لوگوں کوتکلیف دے رہی ہے،عوام آپ لوگوں کوگالیاں دے رہے ہیں ان کاسامناکریں،احتجاج کریں مگراسکے دوران عام لوگوں کو
تکلیف نہ دیں پوراپاکستان کھلاہواہے مگرآپ نے اپنے ہی صوبے کوبندکردیاہے۔آئی جی نے کہا ہم دودن میں رپورٹ جمع کرواتے ہیں جس پرعدالت نے حکم دیتے ہوئے کہاکہ دودون نہیں آج سے ہی سڑکیں کھلوائیں،آج سے یقینی بنائیں کہ موٹروے بندنہیں کرنے دینگے۔آئی جی نے سڑکیں کھولنے کی یقین دہانی کروائی توسماعت ملتوی کردیگئی۔آئی جی نے ضلعی پولیس افسران کوسڑکیں کھولنے کے احکامات جاری کردئے ہیں۔پشاورہائیکورٹ کایہ اقدام مستحسن ہے وزیراعلیٰ اورصوبائی حکومت سے بھی جواب طلبی ہونی چاہئے۔ حکمران جماعت کوہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔ جس صوبے میں اسکی حکومت ہے جہاں کی عوام نے انہیں منتخب کرکے اقتدارتک پہنچایا اسکی سڑکیں بندکرواکرپورے ملک سے رابطہ منقطع کروادیاگیا جس سے رمضان المبارک کیلئے آنیوالی اشیائے خوردونوش کی گاڑیاں سڑکوں پرکھڑی ہیں۔صوبے میں اشیائے خوردونوش کی قلت اورمہنگائی دوگنی ہونے کاخدشہ ہے۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بھی چاردن سے اسلام آبادمیں برا جمان ہیں جو افسوسناک صورتحال ہے۔حکمران جماعت اوروزیراعلیٰ کو اپنے طرزعمل اورطرزسیاست پرنظرثانی کرنے کی ضرورت ہے ان الٹی سیدھی حرکات سے صوبے کی عوام میں حکومت کے خلاف اشتعال پیداہورہاہے اگریہ نارواروش نہ بدلی گئی توشہری حکومت کیخلاف سڑکوں پرآنے کیلئے مجبورہونگے اوریہ احتجاج حکومت کے کنٹرول سے باہرہوسکتاہے۔ جس صوبے کی عوام نے اقتدارسونپااسی صوبے کویرغمال بناناکہاں کی سیاست ہے اوریہ احتجاج کاکونساطریقہ ہے؟

Aqeel Yousafzai

ایک طرف دہشت گردی دوسری جانب احتجاج

عقیل یوسفزئی
گزشتہ دو دنوں کے دوران خیبرپختونخوا کے تین مختلف علاقوں باجوڑ ، بنوں اور شانگلہ میں پولیس اور ایف سی کو بدترین حملوں کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں تقریباً 16 افراد کو شہید کیا گیا جن میں ایک بچی بھی شامل ہے مگر صوبائی حکومت اس عرصے کے دوران بانی پی ٹی آئی کے ” آنکھ ” کے ایشو پر چار دنوں سے سڑکوں پر احتجاج کرنے میں مصروف عمل رہی جس کے نتیجے میں نہ صرف وہ ان حملوں سے لاتعلق رہی بلکہ پی ٹی آئی نے وزیر اعلیٰ کی قیادت میں پانچ چھ مقامات پر اپنے ہی صوبے کو شاہراہوں کے ذریعے دوسرے صوبوں اور علاقوں سے کاٹنے کا عجیب و غریب پریکٹس بھی اپنایا جس کے باعث ہائی کورٹ کو چیف سیکرٹری اور آئی جی پی کو طلب کرکے سڑکیں کھولنے کا حکم جاری کیا ۔
باجوڑ میں بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے ایف سی کے چیک پوسٹ پر خود کش حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک بچی اور 10 سیکورٹی اہلکار شہید ہوگئے ۔ بنوں کے علاقے میریان میں بھی پولیس پر حملہ کیا گیا ۔ شانگلہ کے نواحی علاقے میں 4 پولیس اہلکاروں کو شہید کیا گیا تاہم فورسز نے کارروائیاں کرتے ہوئے مجموعی طور پر 18 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کردیا جن میں ایک اہم کمانڈر بھی شامل ہے ۔
خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت نے اس ہنگامی صورتحال کو بھی ڈیل کرنے کی بجائے ریاست مخالف پروپیگنڈا کے ذریعے پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی حالانکہ ان حملوں کے بعد وزیر اعلیٰ کو چیف ایگزیکٹو کے طور پر پشاور آکر حکمت عملی اپنانی چاہیے تھی کہ مزید حملوں کے خطرے سے کیسا نمٹا جائے ۔
اس رویے کے بعد وہ تمام خوش فہمی اور امیدیں پھر سے دم توڑ چکی ہیں جو کہ گزشتہ ہفتے اپیکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیر اعلیٰ کے اس بیان کے بعد پیدا ہوگئی تھیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایک پیج پر رہ کر اپنا کردار ادا کریں گے ۔ ایک بار پھر یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ پی ٹی آئی اور اس کی صوبائی حکومت کو خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال بہتر بنانے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔

Action plan set for quality food in Ramadan.

رمضان میں معیاری خوراک کی فراہمی کیلئے ایکشن پلان مرتب

حکومت خیبرپختونخوا کے رمضان پلان 2026 پر عملدرآمد کیلئے فوڈ اتھارٹی نے خصوصی ہدایات نامہ جاری کردیا۔ ڈائریکٹر جنرل فوڈ سیفٹی اتھارٹی نے فیلڈ ٹیموں کو ھدایات نامہ جاری کردیا۔ فیلڈ ٹیمیں ملاوٹ، مضر صحت اور غیر معیاری خوراک کے خلاف سخت کارروائی ھر صورت یقینی بنائے۔ رمضان بازاروں، ہول سیل مارکیٹس، دودھ شاپس اور بیکریوں کی خصوصی نگرانی کی جائے۔

ڈی جی فوڈ اتھارٹی کا کہنا تھا کہ تیار کھانوں اور افطار آئٹمز کی سخت چیکنگ، لیبارٹری ٹیسٹنگ کو ترجیح دی جائے۔ دودھ، گھی و آئل، مصالحہ جات، مشروبات، گوشت اور مرغی کے گوشت کے نمونوں کے لیبارٹری ٹیسٹ پر خصوصی توجہ دی جائے۔ فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پر فوری فوڈ سیفٹی ایکٹ کے تحت سخت قانونی کارروائی کریں۔ مؤثر کاروائیوں کیلئے ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کیساتھ باضابطہ رابطہ رکھا جائے۔ شکایات کے فوری ازالے کو اولین ترجیح دی جائے۔ ڈویژنل ڈپٹی ڈائریکٹرز، فیلڈ آپریشنز کی نگرانی ھر صورت یقینی بنائیں ، فوڈ اتھارٹی افطار کے اوقات میں خصوصی انسپیکشن ڈرائیو کا اہتمام کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ کی ھدایت کیمطابق رمضان پلان 2026 پر فوری عملدرآمد کیا جائے گا۔ رمضان پلان پر عملدرآمد میں کوتاہی برتنے والے ٹیموں کیخلاف سخت کارروائی ہوگی۔