KP Food Safety Authority launches province-wide crackdown.

خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کا صوبہ بھر میں کریک ڈاؤن

فوڈ سیفٹی ٹیم کے رات گئے پشاور کے انڈسٹریل اسٹیٹ حیات آباد میں پانی، نمکو/پاپڑ اور کنفیکشنری یونٹس پر چھاپےما رے گئے۔ چھاپے کے دوران جعلی برانڈڈ منرل واٹر فلنگ یونٹ سیل، 500 لیٹر مس لیبلڈ پانی موقع پر تلف، 19 لیٹر مس لیبلڈ خالی بوتلیں ضبط۔ نمکو انڈسٹری سے 200 کلوگرام ایکسپائر نمک تلف، کنفیکشنری یونٹ میں نان فوڈ گریڈ کلر کے استعمال پر جرمانہ عائد۔ پشاور کے حسین ٹاؤن اور تحصیل ایریا میں گوشت کی دکانوں کی چیکنگ۔ دو دکانوں سے 150 کلوگرام سے زائد بوسیدہ و غیر معیاری گوشت اور قیمہ برآمد، موقع پر تلف، دکانیں سیل اور جرمانے عائد۔ چارسدہ فوڈ سیفٹی ٹیم کی شیرپاؤ بازار اور پڑانگ اڈہ میں فوڈ بزنسز کی انسپکشن۔ 2000 لیٹر غلط لیبل شدہ جوس گاڑی سے برآمد، ضبط کرکے جرمانہ عائد۔ مردان میں بکٹ گنج میں خفیہ اطلاع پر گھر کے اندر قائم اچار یونٹ پر چھاپہ۔ 500 کلوگرام غیر معیاری و مضر صحت اچار برآمد، تلف کرکے قانونی کارروائی شروع۔ نوشہرہ میں اکوڑہ خٹک بازار میں میٹ شاپس، مارٹس، بیکریز اور کریانہ اسٹورز کی تفصیلی انسپکشن۔

ڈائریکٹر جنرل کاشف اقبال جیلانی کیمطا بق حفظان صحت اصولوں کی خلاف ورزی پر بیکری یونٹ سیل، بھاری جرمانہ عائد۔ بیکری سے 200 کلوگرام غیر معیاری مٹھائیاں اور 60 لیٹر استعمال شدہ کوکنگ آئل برآمد، موقع پر تلف۔  سوات کے داخلی راستوں پر ناکہ بندی، فوڈ بزنسز کی چیکنگ جاری۔ 350 لیٹر ایکسپائر مشروبات، 4 کلوگرام دیگر ایکسپائر اشیاء اور 20 لیٹر غیر معیاری دودھ تلف۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں فوڈ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ کی مشترکہ کارروائیاں، مختلف بازاروں میں معائنے۔ 60 کلوگرام ملاوٹ شدہ دودھ برآمد، موقع پر ضائع۔ شہریوں کی صحت سے کھیلنے والوں کے خلاف فوڈ سیفٹی ایکٹ کے تحت سخت کارروائی ہوگی۔ ملاوٹ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کیا جائے، ڈی جی کی فوڈ سیفٹی ٹیموں کو ہدایت کی۔

Issuance of written contracts to teachers in private schools made mandatory.

نجی اسکولوں میں اساتذہ کو تحریری کنٹریکٹ جاری کرنا لازمی قرار

خیبرپختونخوا میں نجی تعلیمی اداروں کے لیے اساتذہ کے ساتھ باضابطہ تحریری معاہدہ کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ خیبرپختونخوا پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی (KP-PSRA) کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق صوبے بھر کے تمام نجی اسکول ہر نئے مقرر ہونے والے استاد کو تحریری کنٹریکٹ/اپائنٹمنٹ لیٹر جاری کرنے کے پابند ہوں گے۔

اتھارٹی کے ڈائریکٹر آپریشنز کی جانب سے جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ KP-PSRA ریگولیشنز 2018 کی متعلقہ شق کے تحت تقرری سے قبل تحریری معاہدہ کرنا قانونی تقاضا ہے۔ اتھارٹی کو موصول شکایات میں انکشاف ہوا تھا کہ بعض نجی اسکول اساتذہ کو بغیر باضابطہ معاہدے کے تعینات کر رہے ہیں، جس سے سروس معاملات اور تنخواہوں کے تنازعات میں پیچیدگیاں پیدا ہو رہی تھیں۔

اعلامیے کے مطابق ہر کنٹریکٹ میں سروس کی تمام شرائط و ضوابط واضح طور پر درج ہونا لازمی ہوگا، جن میں تقرری کی نوعیت، تنخواہ اور پے اسٹرکچر، فرائض و ذمہ داریاں، اوقاتِ کار، رخصت کی تفصیل، معاہدے کی مدت اور تجدید یا برطرفی کی شرائط شامل ہوں گی۔ ہدایت کی گئی ہے کہ معاہدہ تقرری کے وقت جاری کیا جائے، جس پر اسکول انتظامیہ اور متعلقہ استاد دونوں کے دستخط ہوں۔ ایک کاپی استاد کو فراہم کی جائے جبکہ دوسری اسکول ریکارڈ میں محفوظ رکھی جائے تاکہ سرکاری معائنہ کے دوران پیش کی جا سکے۔

اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ ہدایات پر من و عن عملدرآمد نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دریں اثنا، ماہر قانون عباس خان سنگین نے کہا ہے کہ اگر نجی اسکول انتظامیہ اساتذہ کو کم تنخواہ دے یا تنخواہوں میں غیر قانونی کٹوتی کرے تو متاثرہ اساتذہ اتھارٹی کے پاس شکایت درج کرا سکتے ہیں اور عدالت سے بھی رجوع کر سکتے ہیں۔ تعلیمی حلقوں نے اس اقدام کو اساتذہ کے حقوق کے تحفظ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

Chitral: Snow leopard attacks a herd of ibex, claims local hunter.

چترال: برفانی چیتے کا آئی بیکس کے ریوڑ پر حملہ، مقامی شکاری کا دعویٰ

چترال بونی سے تعلق رکھنے والے مقامی شکاری شکیل حسین نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے پیر کی سہ پہر بونی گول کے پہاڑی علاقے میں ایک برفانی چیتے کو آئی بیکس کے ریوڑ پر حملہ کرتے دیکھا۔ شکیل حسین کے مطابق وہ ٹرافی ہنٹنگ کے سلسلے میں آئی بیکس کی تلاش میں تھے کہ تقریباً ساڑھے چار بجے انہیں ایک برفانی چیتا پہاڑی ڈھلوان پر موجود ریوڑ کی جانب جھپٹتا نظر آیا۔ ان کے بقول اس موقع پر بونی گول کے وائلڈ لائف واچر علی نواز اور کمیونٹی واچر یوسف علی شاہ بھی موجود تھے اور وہ اپنے دو دیگر ساتھیوں سمیت اس منظر کے عینی شاہد رہے۔

انہوں نے بتایا کہ چیتا کافی فاصلے پر تھا، جس کے باعث واقعے کی ویڈیو بنانا ممکن نہ ہو سکا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ برفانی چیتے کو اپنے قدرتی ماحول میں شکار کرتے دیکھنا ایک غیر معمولی اور یادگار تجربہ تھا۔ واضح رہے کہ برفانی چیتا دنیا بھر میں نایاب اور خطرے سے دوچار جنگلی حیات میں شمار ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی تعداد میں کمی کی بنیادی وجوہات میں مسکن کی تباہی، غیر قانونی شکار اور ماحولیاتی تبدیلیاں شامل ہیں۔ چترال اور گرد و نواح کے بلند پہاڑی سلسلے اس نایاب جانور کے اہم قدرتی مسکن سمجھے جاتے ہیں، جہاں اس کی موجودگی حیاتیاتی تنوع کے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہے۔

Malakand’s Pharmacy (C) candidates still await the Category B exam after 13 years.

مالاکنڈ ڈویژن: فارمیسی ‘سی’ پاس امیدواروں کا 13 سال سے ‘کیٹیگری بی’ میں شمولیت کا مطالبہ

مالاکنڈ ڈویژن میں 2013ء کے دوران میڈیکل سٹورز سے وابستہ افراد کیلئے فارمیسی کونسل آف پاکستان کی جانب سے فارمیسی (C) کا خصوصی امتحان منعقد کیا گیا۔ جس میں امیدواروں کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ فارمیسی سی پاس کرنے والے افراد مستقبل میں کیٹیگری بی کے امتحان میں شرکت کے اہل ہوں گے۔ تاہم 2026ء تک تیرہ برس گزر جانے کے باوجود کیٹیگری بی کے امتحانات منعقد نہ ہو سکے، جس پر متاثرین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

متاثرہ امیدواروں کے مطابق انہوں نے باقاعدہ امتحان دے کر فارمیسی سی کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا، فیسیں جمع کروائیں اور حکام کی یقین دہانی پر مستقبل کی منصوبہ بندی کی، لیکن طویل انتظار کے باوجود انہیں کیٹیگری بی امتحان میں شرکت کا موقع فراہم نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس تاخیر سے نہ صرف ان کا قیمتی وقت ضائع ہوا بلکہ مالی وسائل بھی خرچ ہوئے۔ ضلع چترال سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد نے بتایا کہ وہ بھی اس پالیسی سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق اب انہیں بتایا جا رہا ہے کہ فارمیسی سی کا سرٹیفکیٹ میڈیکل اسٹور چلانے کے لیے قابلِ قبول نہیں، جس سے ان کی پیشہ ورانہ حیثیت اور روزگار خطرے میں پڑ گیا ہے۔

متاثرین کا مؤقف ہے کہ اگر یہ سرٹیفکیٹ غیر قانونی یا ناقابلِ قبول تھا تو اسے جاری کیوں کیا گیا اور امیدواروں کو کیٹیگری بی میں شامل کرنے کی یقین دہانی کیوں کرائی گئی؟ ان کا کہنا ہے کہ طویل عرصہ گزر جانے کے باعث ان کی عمر میں بھی اضافہ ہو چکا ہے، جس کے باعث اب وہ نہ کسی تعلیمی ادارے میں داخلہ لے سکتے ہیں اور نہ نئے امتحانات کی تیاری کر سکتے ہیں۔ متاثرہ افراد نے سیاسی قیادت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فارمیسی کونسل آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ فارمیسی سی پاس امیدواروں کے سرٹیفکیٹس کو کیٹیگری بی کے مساوی تسلیم کیا جائے یا خصوصی بنیادوں پر انہیں کیٹیگری بی میں شامل کرنے کا فوری اور واضح فیصلہ کیا جائے۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے اپیل کی ہے کہ اس دیرینہ مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لے کر منصفانہ اور قابلِ عمل حل نکالا جائے تاکہ چترال سمیت پورے مالاکنڈ ڈویژن کے متاثرہ خاندانوں کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔

14

خود کش حملوں کے جواب میں پاکستانی سٹرایکس

21 اور 22 فروری 2026 کی درمیانی شب پاکستان ائیر فورس نے افغانستان کے تین سرحدی صوبوں ننگرہار ، خوست اور پکتیکا میں ائیر سٹرایکس کیے جس کے دوران نصف درجن مقامات کو نشانہ بنایا گیا جن کے بارے میں انٹلیجنس رپورٹس یہ تھیں کہ وہاں کالعدم ٹی ٹی پی کے ٹھکانے یا جنگجو تھے ۔ ان حملوں کے نتیجے میں 70 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ۔ پاکستان کا موقف رہا کہ مارنے والوں کی اکثریت ان دہشت گردوں کی تھی جو کہ پاکستان پر حملوں میں ملوث رہے ہیں تاہم افغان عبوری ذمہ داران اور طالبان حسب معمول یہ کہتے پائے گئے کہ حملوں کے نتیجے میں بچوں اور خواتین سمیت عام لوگوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ پاکستانی میڈیا پر بعض ان جانے پہچانے طالبان کمانڈروں کی تصاویر بھی شیئر کی گئیں جن کو ان حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا ۔
یہ حملے جس رات کیے گئے اس سے ایک روز قبل خیبرپختونخوا کے علاقے بنوں میں ایک فوجی قافلے پر خود کش حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں لیفٹیننٹ کرنل گلفراز سمیت تین فوجی اہلکار شہید ہوگئے تھے ۔ اس واقعے کا ردعمل اتنا شدید سامنے آیا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اسی روز پشاور پہنچ گئے جہاں انہوں نے اس واقعے سمیت سیکیورٹی صورتحال پر اعلیٰ حکام سے بریفنگ لی اور اہم احکامات جاری کیے جن میں یقیناً مذکورہ فضائی کارروائیوں کا فیصلہ بھی شامل تھا ۔ اس سے قبل اسی مہینے جہاں ایک طرف اسلام آباد کے ایک مضافاتی علاقے میں واقع ایک امام بارگاہ کو داعش نے خودکش حملے کا نشانہ بناتے ہوئے 70 سے زائد نمازیوں کو شہید کیا گیا وہاں باجوڑ میں ایف سی کو خودکش حملے کا نشانہ بناتے ہوئے ایک بچی سمیت تقریباً ایک درجن اہلکاروں کو شہید کیا گیا ۔ اسی روز ضلع شانگلہ اور بنوں ہی میں تقریباً نصف درجن پولیس اہلکاروں کو شہید کیا گیا تھا ۔
معتبر ذرائع کے مطابق پاکستان نے اسلام آباد خود کش حملے کے بعد افغانستان میں موجود طالبان ٹھکانوں کو 2025 کی طرح نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا تھا تاہم بعض دوست ممالک کی درخواست پر ایسا کرنے سے گریز کیا گیا تاہم اب کے بار حتمی فیصلہ کیا گیا کہ جب بھی پاکستان پر کوئی ایسا حملہ کیا جائے گا جس کی پلاننگ یا ریکروٹمنٹ افغانستان میں کی گئی ہو پاکستان افغانستان میں موجود ان مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرے گا جہاں اس کی انٹلیجنس رپورٹس کے مطابق طالبان وغیرہ کے ٹھکانے موجود ہیں ۔
بنوں حملے کی ذمے داری حافظ گل بہادر گروپ نے قبول کی تھی اس لیے وزیرستان سے متصل افغان صوبے پکتیکا کو 2025 کی طرح پھر سے نشانہ بنایا گیا اور کہا گیا کہ دو تین اہم کمانڈرز سمیت درجنوں حملہ آوروں کو ہلاک کردیا گیا ہے ۔
ان حملوں کے لیے ایف 16 جیٹ طیارے استعمال کیے گئے ۔ افغان عبوری حکومت کے مختلف عہدے داروں نہ نہ صرف ان کارروائیوں کی مذمّت کی بلکہ یہ بھی کہا کہ مناسب وقت پر پاکستان کو جواب دیا جائے گا ۔
ان حملوں سے دو تین دن قبل پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے کھل کر کہا تھا کہ اگر افغانستان نے حملہ آور گروپوں کی سرپرستی نہیں چھوڑی تو پاکستان افغانستان کے اندر کارروائیوں میں ہچکچاہٹ سے کام نہیں لے گا ۔ بنوں خودکش حملہ نے ان ائیر سٹرایکس کا راستہ ہموار کیا جس کے نتیجے میں جہاں ایک طرف 70 سے 90 افراد کی جانیں گئیں وہاں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں مزید تلخی واقع ہوئی ۔
حملوں سے اگلے دن جہاں وزیراعظم شہباز شریف ، وفاقی وزراء اور اعلیٰ فوجی حکام نے مانسہرہ میں بنوں حملے میں شہید ہونے والے لیفٹیننٹ کرنل گلفراز کی نماز جنازہ میں شرکت کی وہاں پاکستان کے صدر مملکت آصف علی زرداری نے ایک تفصیلی بیان میں جاری دہشتگردی اور افغانستان کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان دوحہ معاہدے کے وعدوں کے برعکس کالعدم ٹی ٹی پی ، داعش خراسان ، القاعدہ اور سنٹرل ایشین دہشت گرد گروپوں کا مرکز بنا ہوا ہے اور ان گروپوں کو افغان عبوری حکومت کی سرپرستی حاصل ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغان سرزمین مسلسل پاکستان کے خلاف ہونے والے دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال ہوتی آرہی ہے اس لیے پاکستان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مزید تحمل سے کام لینے کی بجائے کوئی بھی انتہائی اقدام اٹھائے ۔ صدر زرداری کے بقول اقوام متحدہ کی مختلف رپورٹس بھی بار بار اس بات کی نشاندھی کرتی رہی ہیں کہ افغانستان دہشتگردی کے مرکز میں تبدیل ہوگیا ہے مگر اس کے باوجود نہ صرف یہ کہ پاکستان پر وہاں سے مسلسل حملے جاری رہے بلکہ افغانستان کی عبوری حکومت دہشت گردوں کی سہولت کاری اور سرپرستی سے بھی باز نہیں آئی ۔

افغان اور بھارتی میڈیا نے ان پاکستانی حملوں کو سویلین پر حملوں کی مہم چلاتے ہوئے انہیں جارحیت قرار دیا جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے بھی حسب سابق ریاست کے دفاع کی بجائے وہی بیانیہ دہرایا جو کہ افغان اور بھارتی میڈیا چلاتا رہا ۔ یوں ایک بار پھر ان قوتوں کے درمیان ایک مضبوط نیکسس دیکھنے کو ملا ۔
پاکستان کے سیکورٹی حکام یہ موقف پیش کرتے رہے کہ جب تک افغانستان کی سرزمین پر حملہ آور گروپوں کی سرپرستی حاصل رہتی ہے تب تک پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں امن قائم نہیں ہوسکتا کیونکہ کالعدم ٹی ٹی پی اور القاعدہ وغیرہ کے علاوہ بلوچستان پر ہونے والے حملوں میں ملوث بی ایل اے کو بھی افغانستان سے مدد ملتی آرہی ہے ۔ 2025 کے دوران خیبرپختونخوا میں مختلف فوجی کارروائیوں کے دوران تقریباً 190 ایسے دہشت گرد ہلاک کئے گئے جو کہ افغانی تھے اور ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے دو تین بار ان کی تعداد سے متعلق تفصیلات بھی دیں ۔ دو حملوں کے دوران تو افغانستان کے ایک صوبے کے گورنر اور ایک اور اہم افغان عہدے دار کے بیٹوں کو بھی ہلاک کردیا گیا ۔ اسی طرح بلوچستان کے علاقے ژوب کی پاک افغان سرحد پر جب 50 سے زائد دہشت گردوں کے ایک گروپ کو نشانہ بنایا گیا تو ان میں سے دو درجن سے زائد افغان باشندے نکل آئے جن کی لاشیں افغانستان کی حدود میں پھینک دی گئیں ۔
دوسری جانب نومبر 2025 میں انکشاف ہوا کہ القاعدہ کے سربراہ سیف العدل تقریباً 400 القاعدہ جنگجووں اور اہلکاروں کے ہمراہ مختلف راستے استعمال کرتے ہوئے افغانستان پہنچ گئے ہیں ۔ یہ رپورٹس بھی سامنے آئیں کہ انہوں نے صوبہ ننگرہار کو اپنا مرکز بنادیا ہے اور انہوں نے ضلع خیبر سے کچھ فاصلے پر واقع مشہور زمانہ تورا بورا کی غاروں اور ٹھکانوں کو پھر سے آباد کرنا شروع کردیا ہے ۔ یہ بھی کہا گیا کہ سیف العدل نے افغانستان پہنچنے کے بعد قندھار میں رہائش پزیر افغان طالبان کے سربراہ مولوی ہیبت اللہ سے بھی ملاقاتیں کیں اور وہ ننگرہار آنے سے قبل دو تین دنوں تک ہیبت اللّٰہ کے ساتھ قیام پذیر رہے ۔
جنوری 2026 کو اقوام متحدہ کی ایک جائزہ رپورٹ میں کہا گیا کہ افغانستان میں القاعدہ سمیت 25 کے لگ بھگ گروپ موجود ہیں جن میں سے 15 پاکستان پر حملوں میں ملوث ہیں ۔ ایک امریکی رپورٹ میں اسی عرصے کے دوران کہا گیا کہ القاعدہ پھر سے افغانستان میں منظم اور متحرک ہونے لگی ہے ۔ مذکورہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا افغانستان میں کہ القاعدہ کے جنگجووں کی تعداد 600 سے تجاوز کرگئی ہے ۔ انہیں چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ نے ضلع خیبر کے شورش زدہ علاقے ” تیراہ” میں ایک مجوزہ آپریشن کو لازمی قرار دیا تاہم صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کی مخالفت اور مزاحمت اور موسمیاتی مسائل کے باعث اسے مؤخر کیا گیا کیونکہ ضلع خیبر کی سرحدیں نہ صرف یہ کہ افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے ساتھ ملی ہوئی ہیں بلکہ خیبر کے حالات سے صوبائی دارالحکومت پشاور کی سیکیورٹی بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے ۔
بنوں خودکش حملہ آور پاکستان کی فضائی کارروائیوں سے دو دن قبل پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واشنگٹن میں غزہ پیس بورڈ کے اجلاس کے دوران امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بھی اہم ملاقات کی جس میں دیگر معاملات کے علاؤہ پاکستان کی سیکورٹی صورتحال بھی زیر بحث آئی ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مارکو روبیو نے پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں ہر درکار امریکی تعاون کی یقین دھانی کرائی ۔ دوسری جانب چین ، ترکی اور سعودی عرب بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے کوشش کرتے رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کو کم کیا جائے تاہم ان ممالک کو بوجوہ کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی ۔ کشیدگی کے بنیادی مسئلہ یعنی کراس بارڈر ٹیررازم کے معاملے پر اگر ایک طرف پاکستان زیرو ٹاولرنس کی پالیسی پر عمل پیرا رہا تو دوسری جانب افغان طالبان سرے سے یہ بات تسلیم کرنے کو تیار ہی نظر نہیں آئے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے ۔ ان کا موقف رہا کہ دہشت گردی پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اور یہ کہ افغانستان میں صرف وہ لوگ پناہ گزین ہیں جو کہ ان کے بقول فوجی کارروائیوں سے سرحدی افغان علاقوں میں منتقل ہوگئے تھے ۔ افغان حکام ان لوگوں کو ” مہمان” قرار دیتے رہے تاہم وہ اس حقیقت کو جھٹلاتے رہے کہ عمران خان کے دور حکومت میں پاکستان سے جانے والے وفود کابل میں باقاعدہ نور ولی محسود اور دیگر کمانڈروں کے ساتھ مذاکرات اور ملاقاتیں کرتے رہے ۔ یہاں تک کہ 2025 کے آخر میں پاکستان نے انٹلیجنس رپورٹس کے تناظر میں نور ولی محسود کو کابل میں نشانہ بنانے کی باقاعدہ کوشش بھی کی جو کہ حملے سے کچھ ہی دیر قبل گاڑی بدلنے کے باعث کامیاب نہ ہوسکی ۔ اسی طرح جماعت الاحرار کے بانی عمر خالد خراسانی کو دو دیگر کمانڈروں کے ہمراہ افغانستان ہی میں نشانہ بنایا گیا تھا جس کا الزام جماعت الاحرار کی جانب سے نور ولی محسود گروپ پر ڈالا جاتا رہا جس پر لمبے عرصے تک دونوں گروپوں میں سخت کشیدگی بھی رہی ۔
فروری کے تیسرے ہفتے کے دوران اس قسم کی اطلاعات بھی موصول ہوتی رہیں کہ خیبرپختونخوا کے دو تین قبائلی علاقوں اورکزی ، خیبر اور وزیرستان میں نور ولی محسود گروپ اور جماعت الاحرار کے درمیان بعض معاملات پر باقاعدہ جھڑپیں ہوئیں ۔ اگر چہ کالعدم ٹی ٹی پی رسمی طور پر جھڑپوں کی ان اطلاعات کو پاکستان کے ریاستی پروپیگنڈے کا نام دیتی رہی تاہم متعلقہ حلقوں کو یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ نور ولی محسود گروپ اور جماعت الاحرار کے درمیان کافی عرصے سے بعض فیصلوں اور پالیسیوں پر اختلافات چلے آرہے ہیں ۔ افغانستان پر ہونے والے حملوں نے جہاں پاک افغان کشیدگی میں مزید اضافے کا راستہ ہموار کیا وہاں ان کارروائیوں نے کسی مجوزہ مذاکراتی عمل یا کوشش کے امکانات بھی لمبے عرصے تک ختم کردیے ۔ اس تمام تر تناظر میں بجا طور پر یہ خدشہ ظاہر کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی کاؤنٹر ٹیررازم پالیسی اور افغان مخالف اقدامات میں آیندہ چند مہینوں کے دوران مزید شدت پیدا ہوگی ۔
( 23 فروری 2025 )