News

پاک افغان سرحد پر شدید جھڑپیں، ’آپریشن غضب للحق‘ کا آغاز

133 افغان طالبان ہلاک، فضائی حملوں کی تصدیق، اقوام متحدہ کی تحمل کی اپیل

پشاور/اسلام آباد: پاکستان نے افغان طالبان کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کے بعد جمعرات کی شب ’آپریشن غضب للحق‘ (Righteous Fury) کا باقاعدہ آغاز کر دیا، جس کے نتیجے میں پاک افغان سرحد کے مختلف سیکٹرز میں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخوا کے چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ سیکٹرز میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔

وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق جوابی کارروائی میں 133 افغان طالبان جنگجو ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ دو پاکستانی سیکیورٹی اہلکار جان کی بازی ہار گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کے 27 مورچے تباہ اور 9 پر قبضہ کیا گیا۔ اس سے قبل سرکاری میڈیا مختلف اوقات میں ہلاکتوں کی تعداد 44، 58 اور 72 بھی بتاتا رہا، تاہم تازہ سرکاری موقف کے مطابق مجموعی ہلاکتیں 133 تک پہنچ چکی ہیں۔

سرکاری نشریاتی ادارے پاکستان ٹیلی وژن (PTV) کے مطابق پاک فضائیہ نے کابل، قندھار اور پکتیا میں افغان طالبان کی اہم عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پر ان شہروں میں فضائی حملوں کی تصدیق کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کابل میں دو بریگیڈ ہیڈکوارٹرز جبکہ قندھار میں ایک کور ہیڈکوارٹر اور ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر تباہ کیے گئے، اسی طرح اسلحہ ڈپو اور لاجسٹک بیس بھی نشانہ بنے۔ مزید برآں 80 سے زائد ٹینک، توپیں اور بکتر بند گاڑیاں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ فضائی کارروائی کے بعد پاک فضائیہ کے طیارے قندھار کی فضاؤں میں گشت کرتے رہے تاکہ مزید جارحیت روکی جا سکے۔ مہمند اور باجوڑ کے بعض سرحدی علاقوں میں افغان مورچوں سے پسپائی اور سفید جھنڈے لہرانے کی اطلاعات بھی سرکاری ذرائع نے جاری کیں، تاہم آزاد ذرائع سے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے مطابق افغان طالبان نے پاکستانی شہری آبادی کو نشانہ بنایا ہے، “افغان طالبان نے سنگین غلطی کی ہے، جس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔” وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ طالبان حکومت افغانستان کو “بھارت کی کالونی” بنا کر دہشت گردی برآمد کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے معمولات بہتر رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر اب “صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے”۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کی قیادت نے مسلح افواج کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے بھی کہا کہ پاکستان ہمسایوں سے امن چاہتا ہے مگر کسی بھی خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

سرحدی کشیدگی کے باعث طورخم بارڈر پر افغان خاندانوں کی واپسی کا عمل متاثر ہوا ہے اور متعدد خاندانوں کو لنڈی کوتل کے ہولڈنگ سینٹر واپس بھیج دیا گیا۔ سیکیورٹی صورتحال کے باعث سرحدی علاقوں میں شہریوں نے محفوظ مقامات پر پناہ لی۔

اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوتریس نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون، خصوصاً انسانی ہمدردی کے قانون کی سختی سے پابندی کریں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے بھی کشیدگی کم کرنے اور مکالمے کی اپیل کی ہے۔

ادھر ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان مکالمہ آسان بنانے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ تہران دونوں ممالک کے درمیان افہام و تفہیم اور تعاون کے فروغ میں کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں بھی سرحدی جھڑپوں کے دوران پاکستانی اہلکار شہید اور بڑی تعداد میں طالبان جنگجو ہلاک ہوئے تھے۔ اسلام آباد کا موقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے کالعدم تنظیموں، خصوصاً فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی)، کو سہولت میسر ہے، جس پر متعدد بار کابل سے کارروائی کا مطالبہ کیا جا چکا ہے۔