CM KP Chairs Malakand Parliamentarians Meeting.

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی زیر صدارت ملاکنڈ ریجن کے پارلیمنٹرینز کا اجلاس

اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے سوات موٹروے فیز ٹو کے تعمیراتی کام کا باضابطہ آغاز کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات کی ہدایت کی۔ اجلاس میں شریک صوبائی وزیر سہیل آفریدی نے کہا کہ سوات موٹروے فیز ٹو کی تکمیل سے ملاکنڈ ریجن میں معاشی سرگرمیوں کو نمایاں فروغ ملے گا اور سیاحت و تجارت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ نے صوبائی ٹرانسمشن لائن منصوبے کے فیز ٹو میں درپیش مسائل کے حل کے لیے بھی نتیجہ خیز اقدامات کی ہدایت جاری کی۔ اس موقع پر سہیل آفریدی نے کہا کہ پن بجلی منصوبوں سے مکمل استفادہ کے لیے صوبائی ٹرانسمشن لائن منصوبے کی بروقت تکمیل ناگزیر ہے۔

اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے ارشد شریف یونیورسٹی آف انوسٹی گیٹو اینڈ ماڈرن جرنلزم پر عملی کام کے آغاز کے لیے اقدامات کرنے کی بھی ہدایت کی۔ اس کے علاوہ لائیو سٹاک یونیورسٹی پر کام تیز کرنے اور انجینئرنگ یونیورسٹی کو ڈی ایف سی اسکیم کے تحت جلد مکمل کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ریجن میں تکمیل کے قریب میگا پراجیکٹس کو مقررہ وقت پر مکمل کیا جائے جبکہ نئی ترقیاتی اسکیموں پر کام کا آغاز بھی یقینی بنایا جائے۔ اجلاس میں صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے مختلف ہسپتالوں کی ضرورت کے مطابق اپگریڈیشن سے اصولی اتفاق کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہائیڈل پراجیکٹس کی رائلٹی کے لیے نامزد اکاؤنٹس قائم کیے جائیں گے تاکہ رائلٹی کی رقم براہ راست متعلقہ اضلاع کی ترقی پر خرچ کی جا سکے۔ اجلاس میں رستم امبیلا روڈ، براول مستوج روڈ، دیر کیڈٹ کالج، تالاش بائی پاس اور چترال نرسنگ کالج سمیت دیگر منصوبوں کو نئے ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے سے اصولی اتفاق کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹرینز کو ہدایت کی کہ وہ 15 مارچ تک اپنے حلقوں میں مجوزہ ترقیاتی اسکیموں کی نشاندہی کریں، جبکہ آئندہ ہفتے سے ان منصوبوں کے حوالے سے فالو اپ اجلاسوں کا سلسلہ بھی شروع کیا جائے گا۔

Dr. Tahseen Bibi: An Example in the Field of Literary Research.

ڈاکٹر تحسین بی بی ادبی تحقیقی میدان میں ایک مثال

رضوان لونگین
اعلیٰ تعلیم کا حصول نہ صرف خواتین کی علمی اور فنی صلاحییتوں کو نکھارتا ہے بل کہ ان کی معاشی اور معاشرتی خود مختاری کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔دورِ حاضر میں خواتین طب، آئی ٹی اور تدریس جیسے اہم شعبوں میں اپنا مقام بنانے میں کامیاب رہی ہیں۔پاکستانی معاشرے میں اگرچہ گزشتہ دہائیوں میں خواتین کی اعلیٰ تعلیم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم تحقیقی قیادت کے مناصب پر ان کی موجودگی اب بھی محدود سمجھی جاتی ہے۔ ایسے تناظر میں خیبر پختونخوا کے ہزارہ ڈویژن سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر تحسین بی بی کی علمی پیش رفت ایک اہم مثال کے طور پر سامنے آتی ہے۔ انھیں حال ہی میں ادبی خدمات کے اعتراف میں نیشنل ایوارڈ دیا گیا، جو ان کی تحقیقی اور تدریسی خدمات کابا ضابطہ اعتراف ہے۔
ڈاکٹر تحسین بی بی ہزارہ ڈویژن کی پہلی خاتون ہیں جنہوں نے اردو ادب میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ انھوں نے 2014ء میں نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویج اسلام آباد سے پی ایچ ڈی مکمل کی۔ ایم فل اور ایم اے اُردو میں اُن کی تعلیمی کار کردگی نے انھیں تحقیق کی طرف متوجہ کیا۔ ان کا تعلیمی سفر بتدریج علمی ارتقاء کی مثال ہے، جس میں تخصص، مطالعہ اور تحقیقی مہارت کی مسلسل ترقی شامل ہے۔ ایسے خطے سے تعلق رکھنے والی خاتون کا پی ایچ ڈی تک رسائی حاصل کرنا، جہاں خواتین کی اعلیٰ تعلیم کے مواقع ماضی میں محدود رہے ہوں، سماجی تبدیلی کے ایک اشاریے کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
تدریسی اعتبار سے وہ اس وقت قرطبہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی، پشاور میں بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر اور سربراہ شعبہ اُردو خدمات انجام دے رہی ہیں۔اس سے قبل وہ ویمن یونیورسٹی صوابی اور ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ میں بھی تدریسی ذمہ داریاں ادا کر چکی ہیں۔ان کی تدریسی حکمت عملی تحقیق پر مبنی تدریس (Research-Oriented Teaching)کے اصولوں سے ہم آہنگ ہے، جس میں طلبہ کو متن کی قرات، تجزیہ اور تنقیدی مطالعے کی تربیت دی جاتی ہے۔ان کی نگرانی میں متعدد ایم فل اور پی ایچ ڈی اسکالرز تحقیق کر رہے ہیں جب کہ درجنوں طلبہ اپنے مقالہ جات مکمل کرچکے ہیں۔اس طرح وہ نہ صرف خود تحقیق کر رہی ہیں بل کہ عملی سرمائے کی افزائش میں بھی حصہ لے رہی ہیں۔ان کے عملی شاخت کا بنیادی حوالہ ان کی عملی اور تحقیقی کا وشوں کامرکزی میدان رہا ہے۔ انھوں نے افسانوی متون کو سماجی و سیاسی سیاق میں رکھ کر ان کے موضوعاتی اور فکری ابعاد کا جائزہ لیا ہے۔تقسیمِ ہند کے بعد کے افسانے میں سیاسی جبر، طبقاتی کشمکش، دیہی زندگی اور سماجی تبدیلی جیسے موضوعات پر ان کا کام اُردو تنقید میں ایک منظم اضافے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے ان کے تحقیقی مقالات میں حوالہ جاتی استناد، متن کے مفاہیم اور نظریاتی ڈھانچہ کا استعمال ہے۔
اُردو افسانے کے علاوہ انھوں نے اقبال شناسی، تا نیثی مباحث، مابعد جدیدیت، بیانیہ کی ساخت، معاصرِ ناول اور ترجمہ نگاری جیسے موضوعات پر بھی تحقیق کی ہے۔ ان کی تصانیف ”پاکستانی اُردو افسانے میں سیاسی شعور(۷۴۹۱ء تا ۱۱۰۲ء)“ اُردو افسانے کے سیاسی مطالعے کو ایک منظم تاریخی تناظر فراہم کرتی ہے۔ اسی طرح ”جامعات میں اُردو تحقیق: اصول و طریق کار“ تحقیق کے منہج اور عملی مراحل پر ایک مفصل رہنمائی فراہم کرتی ہے، جو جامعاتی سطح پر مفید حوالہ سمجھی جاتی ہے۔”تصوراتِ اقبال“ میں انھوں نے فکرِ اقبال کے منتخب تصورات کا توضیحی اور تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے۔انھیں ہائرایجوکیشن اور پاکستان اکیڈمی ادبیات کی جانب سے تحقیقی منصوبوں کے لیے فنڈنگ بھی حاصل ہوئی۔فنڈنگ پراجیکٹس کسی بھی محقق کی علمی ساکھ اور تحقیقی معیار کا ایک اشاریہ سمجھا جاتا ہے، کیوں کہ ان کی منظوری باقاعدہ جائزے کے بعد دی جاتی ہے۔قومی اور بین الاقوامی کانفرنسز میں ان کی شرکت اور بیرونِ ملک جرائد میں مقالات کی اشاعت ان کی عملی سرگرمیوں کے تسلسل کو ظاہر کرتی ہیں۔
انتظامی سطح پر انھوں نے ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمیشن، اکیڈمک کو نسل ممبر اور بورڈآف اسٹڈیز کنونیئر کے طور پر خدمات انجام دی ہیں۔یہ ذمہ داریاں اس امر کی نشان دہی کرتی ہیں کہ وہ تدریس و تحقیق میں فعال ہیں بل کہ نصابی منصوبہ بندی، تحقیقی معیار اور تعلیمی پالیسی کے امور میں بھی شریک رہی ہیں۔ ایک خاتون محقق کا ان مناصب تک پہنچنا ادارہ جاتی سطح پر خواتین کی نمائندگی کے تناظر میں انتہائی اہمیت کاحامل ہے ۔ حال ہی میں انھیں ادبی خدمات کے اعتراف میں نیشنل ایوارڈ سے بھی نوازا گیاہے۔اس اعزاز کواُن کی مجموعی کا کردگی، تحقیقی تسلسل اور تدریسی خدمات کے اعتراف کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ اس نوعیت کے قومی اعزاز ات نہ صرف فردِ واحد کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں بل کہ یہ پیغام بھی دیتے ہیں کہ خواتین کی علمی خدمات کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا جارہا ہے۔
ڈاکٹر تحسین بی بی کی عملی زندگی اس امر کی مثال ہے کہ خواتین تحقیق اور تنقید کے میدان میں موثر اور پائیدار کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ان کی پیش رفت کو محض انفرادی کامیابی کے طور پر نہیں بل کہ خواتین کی اعلیٰ تعلیم اور علمی قیادت کے وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔اس نوعیت کی مثالیں تعلیمی اداروں اور پالیسی ساز حلقوں کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرتی ہیں کہ خواتین تحقیق میں شمولیت قومی علمی سرمائے کے فروغ کا اہم ذریعہ ہے۔