Wisal Muhammad Khan

افغانستان میں فتنۃالخوارج اورافغان طالبان کیخلاف پاکستان کی کارروائیاں

وصال محمدخان
خیبرپختونخواراؤنڈاَپ
افغانستان میں فتنۃ الخوارج کے خلاف پاک فوج کی کارروائیوں کے ردعمل میں سرحدپارسے کئی مقامات پرحملے کئے گئے۔پاک فوج نے نہ صرف ان حملوں کوپسپاکیابلکہ منہ توڑجواب بھی دیدیا۔وفاقی وزیراطلاعات عطاتارڑکے مطابق ایک مقام پرزمینی حملے کی کوشش کی گئی جبکہ 12مقامات پرفائرریڈکیاگیاساری رات جاری رہنے والی اس جھڑپ میں افغان طالبان اورفنتۃ الخوارج کے40کارندے جہنم واصل کئے گئے۔مجموعی طورپرافغان طالبان رجیم کے500تک کارندے ہلاک جبکہ 7سوسے زائدزخمی ہوئے آپریشن غضب للحق کے دوران افغانستان میں 56مقامات کومؤثرطورپرفضائی کارروائی کانشانہ بناگیامدرجن بھراسلحہ ڈپوزتباہ کئے گئے 192 ٹینک، بکتر بندگاڑیا ں اورآرٹلری گنزتباہ کی گئیں افغان طالبان کے188چیک پوسٹس تباہ ہوئیں جبکہ30 سے زائدپرقبضہ کرکے وہاں سبزہلالی پرچم لہرادیا گیا۔ افغانستان کے حالات سے خیبرپختونخوا1979ء سویت یونین جارحیت کے دوران سے براہ راست متاثرہورہاہے۔افغان مہاجرین آئے جن کے سبب یہاں کی معیشت اورمعاشرت دونوں بری طرح متاثرہوئیں،یہ خطہ بم دھماکوں سے سویت افغان جنگ کے دوران روشنا س ہواجبکہ خوکش حملے دہشت گردی کیخلاف امریکی جنگ میں شروع ہوئے جس سے تاحال پورے پاکستان میں کم وبیش ایک لاکھ افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جن میں خیبرپختونخواسے 70 ہزار افرادکی شہادتیں شامل ہیں۔خیبرپختونخواہرمصیبت میں افغانوں کیلئے بیس کیمپ کاکرداراداکرتارہاجبکہ ہرجنگ میں یہ متاثربھی سب سے زیادہ ہوا۔اب بھی طالبان رجیم کی جانب سے ملحقہ سرحدوں پرحملے ہورہے ہیں۔جس سے پورے صوبے کے معمولات پرتوکوئی خاص فرق نہیں پڑامگرسرحدی علاقوں میں جہاں حملے ہورہے ہیں وہاں کے لوگ نقل
مکانی پرمجبورہیں کچھ علاقوں کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے جبکہ سکول اورکالج بھی بندکردئے گئے ہیں۔سربراہ اے این پی ایمل ولی خان نے چترال میں متاثرین کی حالت زارپر تشویش کااظہارکرتے ہوئے وفاقی اورصوبائی حکومتوں سے فوری اقدامات کامطالبہ کیا ہے۔ان کاکہناتھاکہ سرحدی علاقے ارونداورملحقہ علاقوں کے مکین بے گھرہوکردروش اورلوئرچترال کے مختلف علاقوں میں پناہ لینے پرمجبور ہوچکے ہیں،ان خاندانوں کوسنگین صورتحال کاسامناہے،انہیں بنیادی سہولیات،خوراک اورطبی امدادمیسرنہیں،دروش میں عارضی طورپرایک کالج کے دوہالزمتاثرین کیلئے مختص کئے گئے ہیں جہاں مردوخواتین ایک ہی جگہ پرقیام پذیرہیں جونامناسب ہے،اے این پی لوئرچترال کے ذمہ داران اورخدائی خدمتگارآرگنائزیشن اپنی مددآپ کے تحت متاثرین کی مددکررہے ہیں تاہم محدودوسائل کے سبب یہ کوششیں ناکا فی ہیں۔وفاقی اورصوبائی حکومتیں سیاسی مصلحتوں سے بالاترہوکرمتاثرہ خاندانوں خصوصاًخواتین اوربچوں کیلئے ہنگامی بنیادوں پرریلیف پیکیجزکااعلان کریں مشکل وقت میں اپنے شہریوں کوتنہانہ چھوڑنااورجان ومال کے تحفظ کویقینی بناناریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔
افغان مہاجرین کی واپسی کوعارضی طورپرموقوف کردیاگیاہے۔گزشتہ ہفتے مہاجرین کیخلاف پولیس کی جانب سے کریک ڈاؤن کے دوران ہزاروں افغان مہاجرین گرفتارکئے گئے مگرسرحدبندہونے کے سبب انکی واپسی ممکن نہ تھی جبکہ جیلوں میں پہلے ہی گنجائش سے زیادہ قیدی موجود ہیں۔اسلئے خیبرپختونخواحکومت نے سرحدیں کھلنے تک افغان مہاجرین کوگرفتارنہ کرنے کافیصلہ کیاہے،مہاجرین کی گرفتاری پرتحریک انصاف کی مقامی قیادت اورراہنماؤں کی جانب سے تشویش کااظہارکیاگیاتھااور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے مطالبہ کیاگیاتھاکہ رمضان المبارک کے پیش نظرافغان مہاجرین کوڈی پورٹ نہ کیاجائے ذرائع کے مطابق اس مطالبے پرافغان مہاجرین کی زبردستی ملک بدری اور گرفتاریوں کاعمل روک دیاگیاہے۔
لوکل کونسل ایسوسی ایشن اورتحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے تحصیل میئرزاورچیئرمینز نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے ملاقات کے بعد احتجاج کی کال واپس لے لی ہے۔اس موقع پروزیراعلیٰ سہیل آفریدی کاکہناتھاکہ بلدیاتی نظام کے تسلسل کیلئے متفقہ لائحہء عمل تیارکیاجائیگا، سپیکرصوبائی اسمبلی کوحکومتی اوراپوزیشن ارکان اسمبلی پرمشتمل کمیٹی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے،کمیٹی کااجلاس اسی ہفتے طلب کیاجائیگا،جس میں نئے بلدیاتی انتخابات تک موجودہ نظام برقراررکھنے کی تجویزپرغورہوگا،کمیٹی لوکل کونسل بورڈکے نامزداراکین کامؤقف بھی سنے گی وزیر اعلیٰ کی یقین دہانی پرلوکل کونسل ایسوسی ایشن نے ہڑتال اوراحتجاج کی کال واپس لینے پرآمادگی ظاہرکردی ہے۔یادرہے 2021ء میں بننے والے بلدیاتی اداروں کی مدت 15مارچ کوختم ہورہی ہے مگربلدیاتی نمائندوں نے یہ مدت فنڈز اوراختیارات کی عدم فراہمی کیخلاف سڑکو ں اورچوکوں میں احتجاج کرتے ہوئے گزارا۔ذرائع کیمطابق صوبائی حکومت نے 15مارچ کوبلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے پرنئے انتخابات منعقدہونے تک اختیارات ڈپٹی کمشنرزکودینے کافیصلہ کیاہے جس کے پیش نظربلدیاتی نمائندوں نے اپنے دفاترسے واپسی کا آغاز کردیاہے۔نئے انتخابات تک موجودہنمائندوں کوکام جاری رکھنے کی تجویزبھی سامنے آئی ہے۔
قومی ٹی ٹوینٹی کرکٹ کپ کی میزبانی پشاورسے راولپنڈی منتقل ہونے کے بعددوبارہ پشاورمنتقل کی گئی ہے۔پشاورکے عمران خان کرکٹ سٹیڈیم پر پی ایس ایل کے سی ای اونے اعتراضات لگادئے تھے۔جبکہ محکمہ کھیل خیبرپختونخوانے اسے جدیدطرزکے معیارکے مطابق مکمل
تیارقراردیاتھا۔صوبائی حکومت کی جانب سے پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی سے رابطہ کرنے پرکپ منتقلی کافیصلہ واپس لیاگیا۔
خیبرپختونخواحکومت کے رمضان پیکیج پرشدیدتنقیدکاسلسلہ جاری ہے۔تفصیلات کے مطابق رمضان المبارک کے دوران ناداراورمستحق افرادکی مددکیلئے 13ارب روپے رمضان پیکیج کااعلان کیاگیاتھا۔نصف مہینہ گزرنے کے باوجودیہ امدادمستحقین کی پہنچ سے دورہے۔ جماعت اسلامی شمالی کے امیراورپرویزخٹک دورکے سنیئروزیرعنایت اللہ خان کاس حوالے سے کہناتھاکہ ”عوام کے خون پسینے کی کمائی سے 13ارب رمضان پیکیج کااعلان کیاگیاتھامگراس سے غریب اورمستحق افرادکی بجائے تحریک انصاف کے ایم این ایز،ایم پی ایزاورمنظورنظر افراد مستفید ہو رہے ہیں، رمضان پیکیج میں کرپشن کابازارگرم کرکے پی ٹی آئی حکومت خیانت کی مرتکب ہورہی ہے اس بدترین کرپشن اور اقرباپروری کیخلاف جماعت اسلامی عیدکے بعداحتجاجی تحریک چلائے گی“۔سیااسی سماجی اورصحافتی حلقے حکومت کے رمضان پیکیج پر سوالات اٹھارہے ہیں۔اعلان کے مطابق پیکیج سے مستحق اورنادارخاندانوں کوو12500روپے فراہم کرنے تھے۔مگراس کیلئے کوئی شفاف نظام وضع کرنے کی بجائے ایم پی ایزکی فراہم کردہ لسٹوں پررقم تقسیم کرنے کافیصلہ کیاگیاہے یعنی حکومت کی نظرمیں ناداراورمستحق وہی افرادہونگے جن کی نشاندہی پی ٹی آئی کے عہدیداراورارکان اسمبلی کرینگے۔پیکیج کرپشن اوراقرباپروری کے سنجیدہ الزامات کی زد میں ہے یہ معاملہ سنجیدہ توجہ کامتقاضی ہے۔
پشاورہائیکورٹ نے ریڈیوپاکستان حملہ کیس میں سپیکرصوبائی اسمبلی کی جانب سے تشکیل شدہ انکوائری کمیٹی کیخلاف پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کی رٹ درخواست خارج کرتے ہوئے قراردیاہے کہ مقننہ اور ایگزیکٹیوباڈیز اندرونی معاملات کوریگولیٹ کرنیکی اہل ہیں۔ عوامی مفادکے کیسزمیں انکوائری آئینی ہے اس کیس میں ابھی انکوائری فائنل نہیں ہوئی اورنہ ہی کیس پراثراندازہونے کاکوئی موادپیش جا سکا درخواست گزار متعلقہ فورم سے ریلیف حاصل کرسکتے ہیں۔رٹ میں مؤقف اپنایاگیاتھاکہ 9اور10مئی کے پرتشددواقعات کے دوران ریڈیوپاکستان کی عمارت کو آگ لگائی گئی ملزمان کیخلاف انسداددہشتگردی کے تحت مقدمات قائم کئے گئے ہیں مقدمے میں ارکان اسمبلی بھی بطورملزمان نامزدہیں 12دسمبرکوسپیکرکی جانب سے تشکیل شدہ کمیٹی میں وہی ارکان بھی شامل ہیں جوکیس پراثراندازہوسکتے ہیں۔ جسٹس صاحبزادہ اسداللہ اورجسٹس انعام اللہ پرمشتمل بنچ نے قراردیاکہ کیس پراثراندازہونے کاکوئی موادعدالت کے سامنے پیش نہیں کیا گیامتعلقہ عدالت کواپناکام کرنے دیاجائے۔

Dry weather and rising temperatures expected in the plains of KP.

خیبر پختونخوا کے میدانی علاقوں میں موسم خشک اور درجہ حرارت میں اضافے کا امکان

صوبے میں آئندہ ہفتے تک دن کے اوقات میں درجہ حرارت معمول سے 6 سے 8 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کی پیشگوئی۔ چترال، دیر، سوات، شانگلہ، بونیر اور ملحقہ اضلاع میں 6، 7 اور 9 سے 12 مارچ کے دوران تیز ہواوں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا بھی امکان۔ خشک موسم کے باعث آبی ذخائر اور بارانی علاقوں میں گندم کی فصل کو نقصان کا خدشہ۔ درجہ حرارت میں اضافے سے پانی کی طلب اور بخارات کی شرح بڑھنے کا امکان۔ پی ڈی ایم اے کی ضلعی انتظامیہ کو پیشگی اقدامات اور ہنگامی تیاریوں کی ہدایت۔ سیاحوں کو موسمی صورتحال کے پیش نظر غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت۔ دریاؤں اور برساتی نالوں کی نگرانی بڑھانے اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی بھی ہدایت۔ ریسکیو 1122 اور متعلقہ اداروں کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے کی ہدایت۔ پہ ڈی ایم اے کا ایمرجنسی اپریشن سنٹر مکمل فعال ہے عوام کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پی ڈی ایم اے ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔