Aqeel Yousafzai

خطے کو درپیش جنگی صورتحال کا ایک جائزہ

عقیل یوسفزئی
سیکیورٹی ذرائع اور پاکستان کے وزیر اطلاعات عطاء تارڑ کے مطابق افغانستان کے سرحدی علاقوں میں پاکستان کا ” آپریشن غضب للحق” کسی وقفے کے بغیر جاری ہے جبکہ دوسری جانب خیبرپختونخوا کے 5 اضلاع میں سیکیورٹی فورسز نے مختلف آپریشنز کیے ہیں جس کے نتیجے میں 14 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے ۔
جاری کردہ حکومتی تفصیلات کے مطابق جاری آپریشن کے دوران اب تک 583 سے زائد افغان اہلکاروں کو ہلاک جبکہ 797 کو زخمی کردیا گیا ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ان کارروائیوں کے دوران افغانستان میں 65 سے زائد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے ۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر افغان وزیر دفاع کی دھمکی کے جواب میں کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد پاکستان کے خلاف جنگ اور حملوں کا آغاز کردیا گیا اور یہ کہ افغان حکومت سے مذاکرات یا مصلحت کا کوئی فایدہ نہیں ہے ۔
چینی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ افغانستان میں اس کے سفیر نے روں ہفتے دوسری بار افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے ساتھ ملاقات کی جس میں پاکستان کے ساتھ جاری کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔ سینئر صحافی نجم سیٹھی کے مطابق ترکی اور قطر کے مقابلے میں افغانستان میں چین کا اثر ورسوخ بہت زیادہ اور اہم ہے تاہم پاکستان مزید کسی مذاکراتی عمل کے موڈ میں نظر نہیں آتا کیونکہ اس کو اس قسم کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ افغان حکومت اور طالبان وغیرہ کو نہ صرف بھارت بلکہ اسرائیل کی سرپرستی بھی حاصل ہے ۔ نامور تجزیہ کار ابصار عالم کے بقول پاکستان نے نہ صرف کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے بلکہ یہ واضح پالیسی بھی اختیار کی ہے کہ ” اہداف” کی حصول تک آپریشن جاری رہے گا اور یہ کہ فورسز نے گزشتہ روز کی کارروائیوں میں نہ صرف ایک درجن سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے بلکہ بنوں کی ایک معصوم لڑکی کو بہیمانہ سلوک کا نشانہ بنانے والے دو دہشت گردوں کو بھی ٹھکانے لگادیا ہے ۔
دوسری جانب گزشتہ روز آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا میں مختلف کارروائیاں کرتے ہوئے 13 خوارج کو ہلاک کردیا ہے جبکہ ان کے قبضے سے بھاری اسلحہ اور بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جن اضلاع میں خوارج کو ہلاک کردیا گیا ہے ان میں ڈیرہ اسماعیل خان ، بنوں ، جنوبی وزیرستان ، خیبر اور باجوڑ شامل ہیں ۔
پاکستان کی بارڈر سیکیورٹی فورسز نے گزشتہ دو دنوں کے دوران بھی مختلف افغان سرحدی علاقوں کو بمباری کا نشانہ بنایا جبکہ چمن سیکٹر میں دراندازی کی کوشش کرنے والے ایک گروپ کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ایک درانداز کو ہلاک جبکہ دو تین کو زخمی کردیا گیا ۔ ہلاک درانداز کی لاش کو جذبہ خیر سگالی کے تحت افغان حدود میں چھوڑ دیا گیا ۔
اتوار کی شب اور صبح پاکستان کے ایک اور پڑوسی ایران کے مختلف جنگی محاذ بھی گرم رہے ۔ اگر ایک جانب اسرائیل اور امریکہ نے تہران میں ایک ریفائنری کو تباہ کردیا اور ایران نے اسرائیل کے حفصہ شہر پر میزائل استعمال کرتے ہوئے تباہی مچائی تو اس نے اسی روز بحرین میں اس امریکی اڈے یا مرکز کو نشانہ بنایا جس کو ایران پر حملے کے لیے استعمال کیا گیا تھا ۔ اس صورتحال نے نہ صرف جنگی شدت میں مزید اضافہ کردیا بلکہ پورے خطے میں پانی کی قلّت کا بحران بھی پیدا کردیا ۔ ایران نے واضح کردیا ہے کہ وہ اسرائیل اور امریکہ کے خلاف مزید چھ ماہ تک جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو دوسری طرف امریکی میڈیا سمیت دنیا کے اکثر تجزیہ کاروں نے امریکی اور اسرائیلی پوزیشن کو انتہائی کمزور قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دونوں اتحادی ممالک فرسٹریشن سے نکلنے کے لیے ایران پر ایٹمی ہتھیاروں سے حملے کرنے کے آپشن پر غور کرنے لگے ہیں تاہم چین ، ترکی ، ملائشیا اور سوئٹزرلینڈ نے امریکہ کو اس قسم کے حملوں سمیت مزید کارروائیوں سے باز رہنے کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح انداز میں پیغام دیا ہے کہ دنیا کو ایک بڑی جنگ میں دھکیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔
یوں کہا جاسکتا ہے کہ پورے خطے میں جنگوں اور کارروائیوں کا سلسلہ نہ صرف یہ کہ جاری ہے بلکہ اس میں مزید شدت واقع ہونے کا خطرہ ہے ۔