وصال محمدخان
امریکہ اوراسرائیل نے تمام بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے ایران پرحملہ کیاہے جس کے پہلے ہی ہلے میں ایران کے سپریم لیڈر86سالہ علی خامنہ ای سمیت دیگراعلیٰ حکام کونشانہ بنایاگیا۔ گزشتہ برس بھی اسرائیل نے تمام بین الاقوامی قوانین کوروندکر ایران پر حملہ کیاتھا اورپہلے ہی ہلے میں ایران کی فوجی قیادت اورایٹمی سائنسدانوں کونشانہ بنایاگیاتھاجبکہ اس بارسپریم لیڈرکووزارت دفاع حکام سمیت ٹارگٹ کیاگیا؎۔ایران پرگزشتہ حملے کے دوران بھی قطرمیں ایران امریکہ مذاکرا ت جاری تھے،صدرٹرمپ نے مثبت اشارے بھی دئے مگر اسرائیل چونکہ ایران کی تباہی کے درپے تھااسلئے اس نے مذاکرات کے نتیجے سے پہلے ہی بلااشتعال حملہ کردیا۔اُس بار روزہ جنگ میں ایران کی جانب سے منہ توڑجواب ملنے پراسرائیل کی چیخیں آسمان کوچھورہی تھیں اوروہ درپردہ جنگ بندی کیلئے مراجارہاتھا۔صدرٹرمپ نے ایرانی ایٹمی تنصیبات پرحملہ کرکے جنگ بندی کروائی اوراس کا کریڈ ٹ لیکرخودکونوبل امن پرائز کیلئے ’اہل‘ثابت کیا،جن ایٹمی تنصیبا ت کوصدرٹرمپ ختم کرنے کادعویٰ کرچکے ہیں جن کیلئے امریکہ سے براہِ راست جہازآئے جس کے نقشے نشرکئے گئے کہ وہ کسی ملک کی فضائی حدوداستعمال کئے بغیرایران پہنچیں گے ان مشہورِزمانہ طیاروں نے امریکہ سے پروازبھری اور”لائیو“حملہ کرکے ایرانی ایٹمی تنصیبات تباہ کرنے کادعویٰ کیااسکے بعدایران نے خانہ پری کرتے ہوئے قطرکے امریکی اڈے العدیدپرحملہ کیااس فیس سیونگ حملے کے بعدجنگ بندی عمل میں آئی مگراب صدرٹرمپ حالیہ حملے کیلئے کبھی ایرانی حملے توکبھی ایٹمی دھماکے کاجوازپیش کرتے ہوئے نظرآتے ہیں یہ امر باعث حیرت ہے کہ جب ایران کی ایٹمی تنصیبات کچھ اسرائیل اورکچھ امریکہ نے بنفس نفیس اپنی نوعیت کے منفردبم چلاکر تباہ کیں انہی کوجواز بنا کر ایران پرمشترکہ حملہ کیاگیا۔ایران کی تباہی اسرائیل کی دیرینہ آرزو ہے گزشتہ برس کے 12 روزہ جنگ میں اسرائیل کواندازہ ہواکہ سولو فلائٹ سے ایران زیرنہیں ہوگا اسلئے اس نے امریکہ کوساتھ ملانے کا فیصلہ کیا۔ٹرمپ اورنتن یاہوکے علاوہ پوری دنیااس جنگ کی مخالف مگر امریکی طاقت کے سامنے بے بس ہے۔اسرائیل چونکہ ایک غاصب اورتشددپسندریاست ہے وہ توسیع پسندانہ عزائم رکھتاہے اس نے فلسطین پرقبضہ کرکے ایک ناجائزریاست قائم کی اوراس میں اردن،مصراورلبنان کی زمینیں شامل کرکے توسیع دی مستقبل کیلئے وہ گریٹر اسرائیل کے مکروہ منصوبے پرعمل پیرا ہے اسلئے اس نے ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرکے مہلک اسلحے کے انبارلگادئے مگراسے خطے میں تو کیادنیامیں بھی فوجی لحاظ سے مستحکم کوئی مسلمان ملک منظورنہیں۔اسی لئے اس نے امریکی مددسے عراق،لیبیااورشام جوکہ خوشحال اورقابل ذکرفوجی قوت کے حامل ملک تھے انہیں تہنس تہنس کردیاگیا،انکی تمامترترقی کوملیامیٹ اور سٹرکچرکوتباہ کیاگیا،خانہ جنگی کے منصو بے لانچ کر کے لاکھوں معصوم اوربیگناہ شہریوں کاخون بہایا گیا۔خطے میں اسرائیل کیلئے کسی بھی شکل میں چیلنج کی حیثیت اختیار کرسکنے والے ممالک کوتباہ وبربادکیاگیااورانہیں ٹکڑوں میں تقسیم کردیاگیا۔1991ء میں عراق پرہونیوالے ہر حملے کے بعدیہ بھی بتاناضروری سمجھاجاتاتھاکہ عراق کو دس،بیس، تیس یاچالیس سال پیچھے دھکیل دیاگیاہے۔بالکل اسی فارمولے پرعمل پیراہوکر لیبیا،شام،یمن،لبنان اورفلسطین کوصدیوں پیچھے دھکیلا جا چکا ہے ان تمام ممالک کوتباہ وبرباد کرنے کے بعداسرائیل کی خونخوار نظریں اب ایران کاطواف کررہی ہیں۔ امریکہ کی مدداسے ہمہ وقت حاصل رہتی ہے گزشتہ برس کے بارہ روزہ جنگ میں یہ تاثرقائم کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ اسرائیل نے امریکہ کے بغیرایران کے خلاف جنگ چھیڑدی ہے مگرحالات وواقعات سے ثابت ہواکہ یہ بھی مشترکہ منصوبہ تھا اس وقت صدرٹرمپ نے ایک مبہم کرداراداکرکے جنگ بندی کروائی مگر اب دنیاکا”جرگہ مشر“باقاعدہ فریق بن کراپنی مصالحت کاروالی حیثیت بھی گنواچکے ہیں۔اب نتن یاہواورصدرٹرمپ یک جان دوقالب بن چکے ہیں اورروزایران پرایک نیامہلک حملہ کر کے اس پرفخریہ شادیانے بجائے جاتے ہیں۔وہ کسی جنگی اصول یا بین الاقوامی قانون کوبھی خاطرمیں نہیں لارہے۔سکولوں، طبی عملے اورشہری آبادی کودھڑلے سے نشانہ بنایاجارہاہے جس میں بچے بوڑھے اورخواتین لقمہ اجل بن رہی ہیں جبکہ ایران کی ریاستی سٹرکچرکوبھی تباہ کیاجارہاہے۔ اسرائیل اپنے اعدادوشماربتارہاہے کہ اس نے ایران کے تین ہزاردفاعی اہداف کونشانہ بنایاہے جبکہ عصرحاضرکے انکل سام صدرٹرمپ بتاتے نظرآتے ہیں کہ اس نے چارہزاراہداف کونشانہ بنایا ہے عام آدمی انگشت بدنداں ہے کہ ایران کے پاس کتنی دفاعی تنصیبات ہیں جو ختم ہونے میں نہیں آرہیں؟ایران کوئی امریکہ یاسویت یونین تونہیں جس کے پاس لاکھوں دفاعی تنصیبات ہوں۔یہ دنیاکی 16ویں درجے کا ملک ہے اوپرسے گزشتہ چارعشروں کی اقتصادی پابند یو ں نے اسکی معاشی کمرتوڑکررکھ دی ہے مزاحمت کی جوسکت موجودبھی تھی اسے پابندیوں سے تباہ کروادیاگیاہے 500جہازوں کی ائر فورس موجودہے مگریہ تقریباًناکارہ اورغیرفعال ہوچکاہے اب ایران کی جانب سے معمولی مزاحمت سامنے آرہی ہے جسے بڑھاچڑھاکر مہلک حملوں کیلئے جوازکے طورپرپیش کیاجارہاہے۔ایران کیساتھ تمام معاملات گفت وشنیدکے ذریعے حل کئے جاسکتے تھے اوریہ کوشش عمان میں جاری بھی تھی مگرنتن یاہواوراسرائیل چونکہ متشدداورناجائزریاست ہے اسلئے اس نے مذاکرات کی بجائے جنگ کوترجیح دی۔حالیہ جنگ سے اگرچہ ایران کوخاصانقصان ہواہے مگرامریکہ کایہ نقصان بھی کم نہیں کہ اب مشرق وسطیٰ میں اسکی محافظ والی حیثیت مشکوک ہوچکی ہے۔امریکہ مشرق وسطیٰ کے ممالک سے ہزاروں ارب ڈالرزدفاع کے نام پہ لوٹ چکاہے مگریہ ان کادفاع کرنے میں ناکام رہا۔ جنگ کے خاتمے پرمشرق وسطیٰ کاامریکہ کی بجائے دیگرذرائع کی جانب متوجہ ہونا نوشتہء دیوارہے۔صدرٹرمپ اورنتن یاہو نے ایک غیرضروری اور تباہ کن جنگ چھیڑکرنہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیاکے امن،معیشت اوروجودکوداؤپرلگادیاہے۔ اوریہ دونوں جنگی جرائم کے بھی مرتکب ہورہے ہیں۔دنیاکی امن پسندقوتوں کوشترمرغ کی طرح ریت میں سر دبانے کی بجائے کھل کرسامنے آناہوگا،ورنہ ٹرمپ یاہو کی جوڑی کے ہاتھوں دنیاکی تباہی کاآغازہوچکاہے۔
