Editorial

خیبرپختونخوا حکومت کی نان ایشوز پر سیاست

عقیل یوسفزئی
خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت اور حکمران جماعت پی ٹی آئی صوبے کی سیکیورٹی صورتحال سمیت دیگر درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی اپنی ذمہ داریوں سے لاتعلق دکھائی دیتی ہے اور وزیر اعلیٰ کی تمام توجہ نئے وزراء کی ” سیلیکشن” اور نام نہاد رہائی تحریک پر مرکوز ہے کیونکہ ایک میں ان کو ” بہت کچھ ” ملنے کی توقع ہے تو دوسرے مجوزہ ایونٹ میں وہ پارٹی کے اندر پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ کرسکتے ہیں ۔
گزشتہ روز بنوں میں پولیس پر حملہ کرتے ہوئے ایک اے ایس آئی کو شہید جبکہ تین پولیس اہلکاروں کو زخمی کردیا گیا ، کرم اور خیبر میں بھی ایسے واقعات یا حملے ہوئے جبکہ باجوڑ کے مختلف علاقوں پر افغانستان کی چیک پوسٹوں سے فائرنگ کی گئی مگر ان تمام واقعات سے صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کی لیڈر شپ لاتعلق رہی ۔ وزیر اعلیٰ نے پھر سے نہ صرف پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں ڈیرے ڈالے بلکہ انہوں نے یہاں کے درجنوں سٹاف ممبرز کو محض اس لیے فارغ کیا کہ انہوں نے پی ٹی آئی ہی کے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی میزبانی کی تھی ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی دوسروں کے ساتھ لڑنے کی بجائے آپس میں لڑنے لگی ہے اور وزیر اعلیٰ سمیت ٹاپ لیڈر شپ کو فرسٹریشن کی صورتحال کا سامنا ہے ۔
اس سے قبل پارٹی کے اس اجلاس میں چند ہی ممبران نے شرکت کی جس میں وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت نام نہاد رہائی فورس کی پلاننگ کی جانی تھی جو اس جانب اشارہ ہے کہ پی ٹی آئی نے وزیر اعلیٰ سے جو توقعات وابستہ کی تھیں موصوف ان توقعات پر پورا اترنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے اور غالباً اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ پارلیمانی پارٹی کی بجائے اپنے چند وزراء اور ٹولے کے ” وزیر اعلٰی” رہ گئے ہیں ۔