خیبرپختونخوا میں بارشوں سے جانی و مالی نقصان، 9 افراد جاں بحق، 47 زخمی
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) خیبرپختونخوا نے 25 مارچ سے اب تک ہونے والی بارشوں کے باعث صوبے کے مختلف اضلاع میں جانی و مالی نقصانات کی ابتدائی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق بارشوں کے نتیجے میں گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے 9 افراد جاں بحق جبکہ 47 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق افراد میں 8 بچے اور ایک خاتون شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 26 مرد اور 21 بچے شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ بارشوں کے باعث مجموعی طور پر 6 گھروں کو جزوی نقصان بھی پہنچا ہے۔
ادارے کے مطابق یہ حادثات صوبے کے دو اضلاع بنوں اور شمالی وزیرستان میں پیش آئے۔ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے آپس میں رابطے میں ہیں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین کو فوری امدادی سامان فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے، جبکہ سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بنوں میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو جلد از جلد مالی امداد فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ امدادی سرگرمیوں کو مزید تیز کیا جائے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کی جائے۔ ادارے کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع میں بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے اور اس کا امکان ہے کہ یہ سلسلہ منگل تک جاری رہے گا۔
پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بلا ضرورت سفر سے گریز کریں، حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں اور حکومتی اداروں کی جانب سے جاری کردہ الرٹس اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق ادارے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے اور عوام کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع، موسمی صورتحال سے آگاہی اور دیگر معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
بلدیاتی ایکٹ 2013 کو اصل صورت میں بحال کرنے کا مطالبہ
بلدیاتی ایکٹ 2013 کو اصل صورت میں بحال کیا جائے، سابق ناظمین کا صوبائی حکومت سے مطالبہ
پشاور: ال ناظمین نیبر ہڈ کونسل اور ویلج کونسل آرگنائزنگ کمیٹی ضلع پشاور نے صوبائی حکومت سے بلدیاتی ایکٹ 2013 کو اس کی اصل صورت میں بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ تبدیلیوں کے باعث بلدیاتی نظام مؤثر انداز میں کام نہیں کر پا رہا۔
پشاور پریس کلب میں پیر کے روز منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آرگنائزنگ کمیٹی کے سرپرست اعلیٰ امان اللہ خان نے سابق ناظم قیصر خان فاروقی اور دیگر سابق بلدیاتی نمائندوں کے ہمراہ کہا کہ 2015 سے 2019 تک کا دور بلدیاتی نظام کے حوالے سے سنہری اور ترقیاتی دور تھا، تاہم بعد ازاں اس نظام میں تبدیلیوں کے باعث نچلی سطح تک ترقیاتی عمل متاثر ہوا۔
امان اللہ خان کا کہنا تھا کہ 2019 کے بلدیاتی انتخابات میں شکست کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے بلدیاتی ایکٹ میں ترامیم کر کے منتخب نمائندوں کے اختیارات محدود کر دیے، جس کے نتیجے میں ترقیاتی فنڈز کی فراہمی رک گئی اور بلدیاتی نظام عملی طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا۔
سابق ناظم قیصر خان فاروقی نے کہا کہ دو درجاتی نظام متعارف کرانے کے بعد ضلع کی سطح کو ختم کر کے تحصیل کی سطح پر نظام منتقل کر دیا گیا، جس سے بلدیاتی ڈھانچے کی افادیت متاثر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے باعث مقامی حکومتوں کا نظام اپنی اصل روح کے مطابق کام نہیں کر سکا۔
پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران بندوبستی اور قبائلی اضلاع کے لیے مجموعی طور پر 156 ارب 40 کروڑ روپے مختص کیے گئے، تاہم ان میں سے صرف 3 ارب 60 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔ ان کے مطابق مالی سال 2023-24، 2024-25 اور 2025-26 میں مختص ترقیاتی فنڈز کا بڑا حصہ بھی جاری نہیں کیا گیا جس کے باعث بلدیاتی نمائندے چھوٹے ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے سے بھی محروم رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دو برسوں سے بلدیاتی نمائندوں کو اعزازیہ بھی جاری نہیں کیا گیا، جو منتخب نمائندوں کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔
ال ناظمین آرگنائزنگ کمیٹی کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت فوری طور پر بلدیاتی ایکٹ 2013 کو اس کی اصل صورت میں بحال کرے اور بلدیاتی اداروں کو ان کے اختیارات اور فنڈز فراہم کیے جائیں، بصورت دیگر وہ احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔
خیبرپختونخوا حکومت کی نان ایشوز پر سیاست
عقیل یوسفزئی
خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت اور حکمران جماعت پی ٹی آئی صوبے کی سیکیورٹی صورتحال سمیت دیگر درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی اپنی ذمہ داریوں سے لاتعلق دکھائی دیتی ہے اور وزیر اعلیٰ کی تمام توجہ نئے وزراء کی ” سیلیکشن” اور نام نہاد رہائی تحریک پر مرکوز ہے کیونکہ ایک میں ان کو ” بہت کچھ ” ملنے کی توقع ہے تو دوسرے مجوزہ ایونٹ میں وہ پارٹی کے اندر پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ کرسکتے ہیں ۔
گزشتہ روز بنوں میں پولیس پر حملہ کرتے ہوئے ایک اے ایس آئی کو شہید جبکہ تین پولیس اہلکاروں کو زخمی کردیا گیا ، کرم اور خیبر میں بھی ایسے واقعات یا حملے ہوئے جبکہ باجوڑ کے مختلف علاقوں پر افغانستان کی چیک پوسٹوں سے فائرنگ کی گئی مگر ان تمام واقعات سے صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کی لیڈر شپ لاتعلق رہی ۔ وزیر اعلیٰ نے پھر سے نہ صرف پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں ڈیرے ڈالے بلکہ انہوں نے یہاں کے درجنوں سٹاف ممبرز کو محض اس لیے فارغ کیا کہ انہوں نے پی ٹی آئی ہی کے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی میزبانی کی تھی ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی دوسروں کے ساتھ لڑنے کی بجائے آپس میں لڑنے لگی ہے اور وزیر اعلیٰ سمیت ٹاپ لیڈر شپ کو فرسٹریشن کی صورتحال کا سامنا ہے ۔
اس سے قبل پارٹی کے اس اجلاس میں چند ہی ممبران نے شرکت کی جس میں وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت نام نہاد رہائی فورس کی پلاننگ کی جانی تھی جو اس جانب اشارہ ہے کہ پی ٹی آئی نے وزیر اعلیٰ سے جو توقعات وابستہ کی تھیں موصوف ان توقعات پر پورا اترنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے اور غالباً اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ پارلیمانی پارٹی کی بجائے اپنے چند وزراء اور ٹولے کے ” وزیر اعلٰی” رہ گئے ہیں ۔


