Local News

مردان میں افغان شہریوں کے زیرِ انتظام غیر قانونی کاروبار بند کرنے کی ہدایت

 اسسٹنٹ کمشنر مردان نے تحصیل مردان کی حدود میں افغان شہریوں کے زیرِ انتظام غیر قانونی کاروباری مراکز کے خلاف کارروائی کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر آفس مردان کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق ایسے تمام کاروباری مراکز جو افغان شہریوں کی جانب سے بغیر قانونی اجازت کے چلائے جا رہے ہیں، انہیں فوری طور پر بند کر کے خالی کرایا جائے گا۔ اس سلسلے میں شہر کے تمام بازاروں کی تاجر یونینوں کے صدور کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ حکام کی ہدایات اور مروجہ قوانین کے تحت فیصلہ کیا گیا ہے کہ بغیر قانونی اجازت کے افغان شہریوں کے زیر انتظام کاروبار فوری طور پر ختم کیے جائیں۔ اس مقصد کے لیے مارکیٹ اور بازاروں کی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تین دن کے اندر تمام ایسے کاروباری مراکز بند کروا کر دکانیں خالی کرائیں۔

اسسٹنٹ کمشنر آفس نے ہدایت کی ہے کہ مقررہ مدت کے اندر اس فیصلے پر عملدرآمد کی رپورٹ بھی جمع کرائی جائے۔ مراسلے کے مطابق ہدایات پر عمل نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ افراد اور سہولت کاروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

مزید برآں اس حوالے سے ممکنہ آپریشن کے دوران پولیس کی معاونت کے لیے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سٹی مردان کو بھی مراسلے کی کاپی ارسال کی گئی ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر مناسب پولیس نفری فراہم کی جا سکے۔

National News

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ناقابل قبول ہے، پاکستان بزنس فورم پشاور

پشاور: پاکستان بزنس فورم پشاور نے ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عوام اور کاروباری طبقے پر مزید معاشی بوجھ قرار دیا ہے۔

پاکستان بزنس فورم پشاور کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب عوام پہلے ہی شدید مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ فورم کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے بالخصوص غریب اور متوسط طبقہ شدید متاثر ہوگا جبکہ کاروباری سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

فورم نے اپنے بیان میں کہا کہ خیبرپختونخوا پہلے ہی قدرتی آفات اور دہشت گردی کے باعث معاشی مشکلات کا شکار رہا ہے اور صوبے میں صنعت و تجارت کے مواقع محدود ہیں۔ مزید برآں افغانستان کے ساتھ سرحدی بندشوں کے باعث کاروباری سرگرمیاں پہلے ہی متاثر ہو چکی ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے تاجروں کو خاطر خواہ ریلیف فراہم نہیں کیا جا رہا۔

بیان میں کہا گیا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی میں مزید اضافے کا سبب بنے گا جس سے عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہو جائے گی۔ فورم کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ ٹیکسوں میں اضافے کے بجائے عوام کو ریلیف فراہم کرے اور معاشی استحکام کے لیے عملی اقدامات کرے۔

پاکستان بزنس فورم پشاور نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر نظرثانی کی جائے اور عوام و کاروباری طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

9th and 10th grade exams in Peshawar

میٹرک امتحانات: 2000 سے زائد پاکٹ گائیڈز برآمد

پشاور: حالیہ میٹرک امتحانات کے دوران نقل کے رجحان کی روک تھام اور امتحانی نظام میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ پشاور نے نقل مافیا کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

صوبائی حکومت کے احکامات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر (سٹی) ذیشان نجیب نے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر سید بشارت حسین کے ہمراہ ہشتنگری کے علاقے میں واقع سٹیشنری اور فوٹو اسٹیٹ دکانوں کا معائنہ کیا۔

کارروائی کے دوران 2000 سے زائد “پاکٹ گائیڈز” برآمد کی گئیں جو مبینہ طور پر امتحانات میں نقل کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں۔ اس دوران غیر قانونی مواد فروخت کرنے کے الزام میں متعدد دکانداروں کو گرفتار کیا گیا جبکہ بعض دکانوں کو سیل بھی کر دیا گیا۔

ضلعی انتظامیہ نے امتحانی مراکز کے قریب واقع فوٹو اسٹیٹ دکانوں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ “مائیکرو فوٹو اسٹیٹ” یا کسی بھی ایسے مواد کی نقل سے گریز کریں جو نقل کے رجحان کو فروغ دے سکتا ہو۔

ڈپٹی کمشنر پشاور کیپٹن (ر) ثناء اللہ خان نے کہا کہ طلبہ کا اصل سرمایہ ان کی محنت ہے اور ضلعی انتظامیہ ہر صورت امتحانی نظام کو شفاف بنانا چاہتی ہے تاکہ محنتی طلبہ کا حق ضائع نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ نقل کا کلچر نہ صرف تعلیمی معیار کو متاثر کرتا ہے بلکہ معاشرے کی بنیادوں کو بھی کمزور کرتا ہے۔

ضلعی انتظامیہ پشاور نے عوام، والدین، اساتذہ اور طلبہ سے اپیل کی ہے کہ وہ نقل کے خاتمے کے لیے انتظامیہ سے تعاون کریں اور اس قومی ذمہ داری کی ادائیگی میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس مقصد کے لیے امتحانی عمل کی نگرانی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر اپنی رپورٹس پیش کریں گی، جبکہ مزید کارروائیاں بھی جاری رہیں گی تاکہ تعلیمی نظام میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جا سکے۔

Local News KP

خیبر پختونخوا کابینہ کا تعلیم، صحت اور کفایت شعاری سے متعلق اہم فیصلوں کی منظوری

پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 50 واں اجلاس منعقد ہوا جس میں 28 نکاتی ایجنڈے اور چار نکاتی اضافی ایجنڈے پر تفصیلی غور کے بعد متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔ صوبائی حکومت کی کفایت شعاری پالیسی کے تحت کابینہ اجلاس مکمل طور پر بذریعہ ویڈیو لنک منعقد کیا گیا جس میں کابینہ اراکین کے علاوہ چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز اور متعلقہ انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد فیصلوں کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے بتایا کہ کابینہ نے ضم شدہ اضلاع کے لیے یونیورسٹی آف ایپلائیڈ اینڈ ماڈرن سائنسز کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ اس مقصد کے لیے صوبائی وزیر بلدیات کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو اس اسٹیٹ آف دی آرٹ یونیورسٹی کے قیام سے متعلق تفصیلات کو حتمی شکل دے گی۔

انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے کفایت شعاری پالیسی کے تحت زرعی یونیورسٹی میں معاون عملے کی 55 خالی آسامیوں کو ختم کرنے کی منظوری بھی دی جس سے صوبائی حکومت کو ماہانہ تقریباً 90 لاکھ روپے کی بچت ہوگی۔ اسی طرح اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں پوسٹنگ اور ٹرانسفرز سے متعلق نئی گائیڈ لائنز کی اصولی منظوری دی گئی جس سے دور افتادہ علاقوں کے کالجوں میں تدریسی اور انتظامی عملے کی کمی کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔

کابینہ نے محکمہ اوقاف کے لیے بعض ضروری اخراجات کی مد میں 229 ملین روپے گرانٹ اِن ایڈ کی مشروط منظوری دی جبکہ موجودہ بحرانی صورتحال کے پیش نظر گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے سرکاری افسران کی دو دن کی بنیادی تنخواہوں میں رضاکارانہ کٹوتی کی تجویز سے اصولی اتفاق کرتے ہوئے محکمہ خزانہ کو اس سلسلے میں افسران کی رضامندی حاصل کرنے کا طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومت نے کفایت شعاری پالیسی کے تحت سرکاری گاڑیوں کے پی او ایل اخراجات میں مجموعی طور پر 60 فیصد تک کمی کی ہے۔

صحت کے شعبے میں اہم فیصلوں کے تحت کابینہ نے سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہاسپٹلز کو میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوشن (ایم ٹی آئی) کا درجہ دینے اور خیبرپختونخوا میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوشنز اپیلیٹ ٹریبونل رولز 2020 میں ضروری ترامیم کی منظوری دی۔ اس کے علاوہ تھیلیسمیا میں مبتلا نادار بچوں کے علاج کے لیے فاطمید فاؤنڈیشن کو ایک کروڑ روپے گرانٹ اِن ایڈ فراہم کرنے، صوبے کے مختلف ہسپتالوں میں 598 پیڈ انٹرنی نرسوں کی آسامیوں کی تخلیق اور تیمرگرہ میڈیکل کالج کو فعال بنانے کے لیے 993 ملین روپے گرانٹ اِن ایڈ کی منظوری بھی دی گئی۔

کابینہ نے خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن کے سات نئے نان آفیشل ممبران کی تعیناتی کی منظوری دی جبکہ کھیلوں کے فروغ کے لیے پاروا، ڈیرہ اسماعیل خان میں تحصیل اسپورٹس کمپلیکس کے قیام کے لیے زمین کی خریداری کی نان اے ڈی پی اسکیم منظور کی گئی۔ مزید برآں ویل چیئر کرکٹ میں خیبرپختونخوا کے کھلاڑیوں کو مالی معاونت اور پشاور میں منعقدہ نیشنل باڈی بلڈنگ چیمپئن شپ کی اسپانسرشپ کے لیے خصوصی گرانٹ اِن ایڈ کی منظوری بھی دی گئی۔

تعلیم کے شعبے میں کابینہ نے بطور پائلٹ پراجیکٹ بعض سرکاری اسکولوں میں میٹرک ٹیک اور انٹر ٹیک پروگرامز متعارف کرانے کی منظوری دی۔ اس دو سالہ منصوبے پر 450 ملین روپے لاگت آئے گی اور اس کے تحت صوبے کے 70 سرکاری اسکولوں کو سینٹر آف ایکسیلنس کا درجہ دیا جائے گا جبکہ 1650 طلبہ کو جدید تکنیکی مہارتوں کے حصول کے لیے اسکالرشپس فراہم کی جائیں گی۔

اجلاس میں چیف سیکرٹری آفس کے سروس ڈیلیوری یونٹس میں مارکیٹ بیسڈ سیلری پالیسی کے تحت سات عملے کی تعیناتی، الیکٹریسٹی رولز 1937 کے تحت مختلف فیسوں کی ادائیگیوں کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے استعمال اور مدائن ہائیڈرو پاور اسٹیشن منصوبے کو ورلڈ بینک پروگرام سے نکال کر متبادل آپشنز پر عملدرآمد کی منظوری بھی دی گئی۔

مزید برآں کابینہ نے خیبرپختونخوا ایکسائز ڈیوٹی آن منرلز لیبر ویلفیئر ایکٹ 2021 میں ترامیم کی منظوری دی جبکہ لوئر چترال کے سرحدی علاقے ارندو میں حالیہ کشیدگی کے باعث اندرونی طور پر نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے لیے قائم کیمپ میں سہولیات کی فراہمی کے لیے ضلعی انتظامیہ کو مزید 20 ملین روپے فراہم کرنے کی منظوری دی گئی۔

کابینہ نے آئندہ مون سون سیزن کے دوران ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کشتیوں اور دیگر ضروری آلات کی خریداری کی مد میں محکمہ ریلیف کو 785 ملین روپے جاری کرنے کی منظوری بھی دی۔ اس کے علاوہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے لیے بجٹ اسٹریٹجی پیپر 2026-27 کی منظوری اور پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا 27 مستحق مریضوں کے علاج کے لیے مالی معاونت کی منظوری بھی دی گئی۔

Khyber Pakhtunkhwa Rains

شدید بارشوں اور ممکنہ سیلاب کے پیشِ نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت

شدید بارشوں، ممکنہ سیلاب اور تیز آندھی کے پیشِ نظر ریسکیو 1122 ایبٹ آباد نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122 ایبٹ آباد حفیظ رحمٰن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شہری غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچنے کے لیے احتیاطی اقدامات اپنائیں۔

انہوں نے شہریوں کو ہدایت کی کہ نشیبی علاقوں اور ندی نالوں کے قریب جانے سے اجتناب کریں اور کمزور عمارتوں، کچی دیواروں اور درختوں کے قریب کھڑے ہونے سے بھی پرہیز کریں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بجلی کے کھمبوں اور لٹکتی ہوئی تاروں سے دور رہیں تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

ریسکیو 1122 کے مطابق شہری گاڑی چلاتے وقت خصوصی احتیاط برتیں اور پانی سے بھرے راستوں سے گزرنے سے حتی الامکان گریز کریں۔

ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر نے کہا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ریسکیو 1122 سے رابطہ کیا جائے تاکہ بروقت امدادی کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کی معمولی سی احتیاط کسی بڑے نقصان سے بچنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

بیان کے مطابق ریسکیو 1122 ایبٹ آباد کی ٹیمیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

KP Roundup

خیبرپختونخواکی صورتحال

وصال محمدخان

خیبرپختونخوامیں بارشوں کی تباہ کاریاں،خواتین اوربچوں سمیت21افرادجاں بحق،60سے زائدزخمی

گزشتہ ہفتے صوبے کے میدانی اضلاع میں ہونیوالی بارشوں سے خاصاجانی اورمالی نقصان ہوا۔5روزتک جاری رہنے والی بارشوں سے 21 افرادجاں بحق جبکہ60سے زائدزخمی ہوئے۔جاں بحق ہونیوالوں میں 16بچے،4خواتین اورایک مردجبکہ زخمیوں میں 25 مرد، 7 خوا تین اور28بچے شامل ہیں۔جبکہ12مکانات بھی منہدم ہوئے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق یہ نقصانات بنوں،ایبٹ آباد،شمالی وزیرستان، بٹگرام،باجوڑ،اپردیراورکوہاٹ میں ہوئے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق ریسکیواوردیگرٹیمیں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق حالیہ بارشیں 4اپریل تک جاری رہنے کاامکان ہے۔

عمران خان رہائی فورس رہائی موومنٹ میں تبدیل،وزیراعلیٰ کی جانب سے رجسٹریشن کاآغاز
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے عمران رہائی موومنٹ کیلئے رجسٹریشن کاباقاعدہ آغازکردیاہے گزشتہ ہفتے پی ٹی آئی کے صوبائی دفتر پشاورمیں ایک اجتماع کاانعقادکیاگیاجس میں کارکنوں کی قابل ذکرتعدادنے شرکت کی۔تقریب سے خطاب میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کاکہناتھاکہ ہمارے قائدناکردہ گناہوں کی سزاکاٹ رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ رہائی موومنٹ میں 10لاکھ افرادرجسٹرکئے جائیں گے جوبانی کی رہائی یقینی بنائیں گے۔ گزشتہ ہفتے بھی انہی سطورمیں عرض کیاگیاتھاکہ پی ٹی آئی اوروزیراعلیٰ سہیل آفریدی بانی کی رہائی کیلئے مروجہ طریقہ کارکی بجائے انہیں زبردستی رہاکروانے کیلئے کوشاں ہیں۔اس سے قبل صوبائی حکومت کی نگرانی میں کئی باراسلام آباد اورپنجاب پرچڑھائی کی ناکام کوششیں ہوئیں جن کا کوئی نتیجہ کیابرآمدہوناتھااُلٹادرجنوں کارکن یاتوزخمی ہوئے یاپھرپنجاب اوراسلام آبادپولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوئے مگرپارٹی اورچندراہنما اب بھی بضدہیں کہ وہ بانی کوکسی احتجاج یازورزبردستی کے ذریعے رہاکروائیں گے۔

رہائی فورس کیخلاف وفاقی آئینی عدالت میں درخواست،وزیراعلیٰ اوروفاق سے جواب طلب

مجوزہ فورس یا موو منٹ پرپارٹی کے اندرسے بھی اختلافات کی خبریں سامنے آئیں جبکہ اب وفاقی آئینی عدالت نے بھی فورس کی تشکیل پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اوروفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیاہے۔درخواست گزارکے وکیل نے رہائی فورس کے حوالے سے دستاویزا ت پیش کیں اور عدالت کوبتایا”سہیل آفریدی کہتے ہیں کہ ہمارامقابلہ ڈاکوؤں سے ہے،جس قسم کے بیانات دئے جارہے ہیں اس سے واضح ہورہاہے کہ یہ فورس امن عامہ اورعوام کی جان ومال کے لئے خطرہ ہے“۔آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دئے کہ سزا یافتہ فردکی رہائی کیلئے ایسی فورس نہیں بننی چاہئے، جبکہ جسٹس باقرنجفی نے استفسار کیا کہ کیا صوبائی کابینہ فورس تشکیل کی اجازت دے چکی ہے؟جس پروکیل نے بتایاکہ کابینہ نے اجازت نہیں دی۔ تین رکنی آئینی بنچ نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اوروفاق کونوٹس جاری کرتے ہوئے 10 روز میں جواب طلب کیااور کہا”وفاقی حکومت یقینی بنائے کہ فورس کی تشکیل میں آئین وقانون کی خلاف ورزی نہ ہو“۔رہائی فورس جس کانام اب تبدیل کرکے رہائی موومنٹ رکھ لیاگیاہے اس پرپارٹی کے اندرونی اختلافات بھی کھل کرسامنے آچکے ہیں پی ٹی آئی کے اندرونی حلقے سوال اٹھارہے ہیں کہ کیافورس کیلئے جمع کیاگیا ڈیٹامحفوظ ہے؟اگریہ ڈیٹاغلط استعمال ہواتواسکی ذمہ داری کس پرعائدہوگی اور اس کیلئے کون جواب دہ ہوگا؟ جس طرح وزیراعلیٰ سہیل آفریدی فورس کانام تبدیل کرکے موومنٹ رکھنے پرمجبورہوئے اسی طرح یہ منصوبہ ختم ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ پی ٹی آئی اوراسکے قائدین کواب سمجھ لیناچاہئے کہ عمران خان کی رہائی کسی پرتشدداحتجاجی تحریک سے نہیں قانونی اورعدالتی راستے سے ممکن ہے۔چونکہ بانی کی قانونی پوزیشن کمزورہے اسلئے پارٹی شارٹ کٹ کی تلاش میں ہے۔

صوبے کومحاصل میں 100ارب روپے شارٹ فال کاسامنا،مشیرخزانہ مزمل اسلم
مشیرخزانہ مزمل اسلم نے کہاہے کہ صوبے کے محاصل میں 100ارب روپے تک کاشارٹ فال متوقع ہے اسلئے بجٹ میں جو157ارب روپے کاسرپلس ظاہرکیاگیاتھااب یہ رقم بچاناممکن نہیں۔صوبائی اسمبلی میں پری بجٹ2026-27ء پر بحث کاآغازکرتے ہوئے مشیر خزانہ کا کہناتھاکہ جاری بجٹ میں آمدن کاتخمینہ2119ارب جبکہ اخراجات کاتخمینہ1962ارب روپے لگایاگیاتھا۔ہم بجٹ وفاق سے مشاور ت کے بغیراپنے اخراجات اوروسائل کے تحت تیارکرتے ہیں آئی ایم ایف نے محاصل کی مدمیں پنجاب کو750،سندھ کو 370، بلو چستان کو 155 جبکہ خیبرپختونخواکو220ارب روپے کاٹارگٹ دیاتھااگرہم آئی ایم ایف کی مرضی سے بجٹ بناتے تو ہمارا سرپلس 220 ارب روپے ہوتا۔صوبے کا93فیصدریونیووفاق سے آتاہے وفاق کی کارکردگی متاثرہوئی اسلئے صوبے کے محاصل بھی متاثرہوئے۔ وفاق نے امسال 14ہزار130ارب روپے کاٹیکس ٹارگٹ رکھاتھامگریہ ٹارگٹ پوراہوتاہوانظرنہیں آرہااسلئے صوبے کوبھی40ارب روپے کم ملے مجموعی طورپر9ماہ میں 75ارب روپے کم ملے ہیں۔پری بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے اپوزیشن کیساتھ حکومتی ارکان نے بھی حکومت کوآڑے ہاتھوں لیاارکان اسمبلی کاکہناتھاکہ”بیوروکریسی کابنایاہوابجٹ ایوان میں پیش کرکے منتخب ارکان سے منظوری لی جاتی ہے، نجا نے حکومت کون چلارہاہے؟ترقیاتی بجٹ کابینہ میں تقسیم ہوجاتاہے جبکہ دیگرارکان محروم رہ جاتے ہیں، دیرموٹروے کیلئے گزشتہ برس بھی رقم مختص کی گئی مگرمنصوبہ مسلسل تاخیرکاشکارہے،صوبے کومالی طورپرمستحکم کرنے کیلئے اپنے وسائل اورآمدن میں اضافے کی ضرورت ہے، ہائیڈ رو پراجیکٹس پرکام کاآغازہوناچاہئے،گزشتہ برس سوات بائی پاس کیلئے45کروڑروپے مختص کئے گئے مگرسڑک کانام ونشان موجود نہیں، ترقیاتی منصوبوں میں پہلے محکمے والے کمیشن لیتے تھے اب پشاورمیں ہی کمیشن لیاجاتاہے،خواتین ارکان نے کہاکہ گرلزسکولوں اور کالجوں کو سنگین مسائل کا سامنا ہے، نئے گرلزسکولز اورکالجز بنانے کی اشدضرورت ہے،آئندہ بجٹ میں خواتین کیلئے سکیموں کوشامل کیا جائے، ووکیش نل سینٹرز اور کمیونٹی سکولز قائم کئے جائیں اورزراعت پرتوجہ دیکرکاشتکاروں کوسبسڈی دی جائے“۔مشیرخزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں خواتین ارکان کی تجاویز شامل کئے جائینگے،حکومتی ارکان کی تنقیدپرخوشی ہورہی ہے رمضان پیکیج کی تقسیم پراعتراضات سامنے آئے ہم نے رمضان پیکیج کے تحت 10لاکھ63ہزارافرادکی مددکی۔

خیبرپختونخواکی معیشت بھی خلیج جنگ سے متاثر،محکموں کے25ارب سے زائدکے فنڈزروک لئے گئے
خلیج جنگ کے بداثرات سے خیبرپختونخوابھی محفوظ نہ رہ سکا۔ صوبائی حکومت نے مختلف محکموں کے اے ڈی پی اورجاری اخراجات کی مد میں 25ارب روپے سے زائدکے فنڈزروک لئے ہیں۔محکمہ خزانہ ذرائع کے مطابق مارچ میں وفاق سے55تا60ارب روپے ملنے تھے مگرصرف17ارب روپے موصول ہوئے۔پاک افغان سرحدکی بندش سے بھی صوبے کو9ارب روپے کی آمدن سے محروم ہوناپڑا۔ مشیر خزانہ کے مطابق حکومت خلیج جنگ کی معیشت پراثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔ معاشی حالات کے پیش نظرآئندہ کالائحہء عمل طے کیاجائیگا۔

غیرقانونی افغانوں کی واپسی کیلئے بارڈعارضی طورپرکھول دیاگیا،یہ سلسلہ جاری رہیگا
طورخم بارڈرافغان شہریوں کی بیدخلی کیلئے کھولاگیا۔امیگریشن حکام کے مطابق 11افغان شہری ڈی پورٹ کرکے افغان فورسز کے حوالے کئے گئے جبکہ مزید157افغان شہری لنڈی کوتل ہولڈنگ سینٹرمنتقل کئے گئے ہیں جہاں سے انہیں مرحلہ وارواپس بھیجا جائیگا۔ ذرائع کے مطابق اس سے قبل26مارچ کوبھی افغانیوں کی بیدخلی کیلئے سرحدکھولاگیاتھاتاہم افغان فورسزکی جانب سے فائرنگ کے بعد دوبارہ بند کردیا گیا۔حکام کاکہناہے کہ موجودہ صورتحال میں صرف ڈی پورٹیشن کیلئے بارڈرمحدودپیمانے پرکھولاگیاہے۔